کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تیسرا ٹکٹ

عوض سعید


’’ یہ بچہ کس کا ہے  ؟ یہ بچہ کس کا ہے  ؟‘‘ ہجوم کو چیرتی ہوئی ایک بھاری بھرکم آواز نے  اُس کے  قدم روک لیے، اُس نے  پلٹ کر اپنے  بیوی کی طرف دیکھا،لیکن اس کا چہرہ رد عمل سے  بالکل خالی تھا۔

          ہجوم جس تیزی سے  بڑھتا جا رہا تھا اسی تیزی سے  گھٹتا بھی جا رہا تھا،ایک زمانے  کے  بعد وہ اپنی بیوی کے  ساتھ باہر نکلا تھا تھوڑی سی خوشیاں  سمیٹنے  کے  لیے، ان دونوں  نے  ایک چھوٹا موٹاسا تفریحی پروگرام بنایا تھا کسی اچھے  سے  ہوٹل میں  کھانا کھانا اور پکچر دیکھنا۔

          آدمی جب راستہ طے  کرتا ہے  تو کبھی کبھار اس کے  پاؤں  تلے  کنکر آ جاتے  ہیں  جنھیں  ٹھوکر لگا کر وہ آگے  بڑھ جاتا ہے۔

          اس کی بیوی نے  کنکھیوں  سے  اس کے  چہرے  کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں  اطمینان کرتی ہوئی وہ قدموں  کی ایک ایک چاپ کو گننے  لگی لیکن وہ اندر ہی اندر جیسے  کچھ سوچ رہی تھی۔

          ’’ کھانا کہاں او ر کس ہوٹل میں  کھائیں گے  ؟‘‘ اس کے  شوہر نے  خاموشی کو توڑتے  ہوئے  کہا۔

          ’’کسی بھی ہوٹل میں۔‘‘

          بیوی کے  اس نپے  تلے  جواب کے  بعد اسے  آگے  کچھ کہنے  کی ہمت نہ ہوئی، وہ بغیر کچھ سوچے  سمجھے  اطمینان سے  سامنے  والے  ریستوران میں  داخل ہوا۔

          ہوٹل میں  کئی کیبن تھے او ر بیشتر کیبن خالی تھے، کیبن سے  پردہ اٹھا کر اس نے  رومال سے  کرسیوں  کی گرد صاف کی اور اپنی بیوی کے  سامنے  مینو رکھ کر ایک سگریٹ سلگائی۔

          ’’ آپ نے  ہوٹل کا انتخاب کیا بھی تو۔۔۔‘‘

          ’’ تم ہی نے  تو کہا تھا نا کہ کسی بھی ریستوراں  میں  کھانا کھالیں  گے۔‘‘

          ’’ کہا تو تھا مگر گھر سے  نکلتے  وقت ہمارے  ذہن میں  کسی اچھے  ریستوراں  کا خاکہ تھا۔‘‘

          ’’ انسان کی سوچ لا محدود ہے او ر خاکے  تو مٹتے  ہی رہتے  ہیں۔‘‘

          ’’ آپ مجھے  بور کر رہے  ہیں، یہ ہوٹل ہے  ؟ دیکھیے  مینو پر بھی چائے  کے  دھبے  ہیں  ؟‘‘

          ’’ ہماری طرح کسی دل جلے  نے  مینو دیکھنے  کے  بعد اپنی حیثیت کو پہچان کر شاید اس پر چائے  انڈیل دی ہو۔

          بات آگے  بڑھنے  سے  پہلے  دیو ہیکل ویٹر نے  کیبن میں  داخل ہو کر ایک دیوار سی کھڑی کر دی۔ اُس کی بیوی نے  پھر ایک بار اپنے  شوہر کی طرف دیکھا لیکن وہ چپ چاپ بیٹھا تھا جیسے  وہ ویٹر سے  خائف ہو گیا ہو۔

          اُسے  تھوڑی دیر پہلے  کا ایک واقعہ بے  طرح ستا رہا تھا، ایک نامعلوم سی خلش، ایک بے  نام سی چبھن اسے  پریشان کیے  ہوئے  تھی۔ ہوا یوں  تھا کہ اس کا ایک دوست جس سے  اس نے  مدتوں  پہلے  کچھ روپے  ادھار لیے  تھے  جسے  وہ عمداً بھولے  ہوئے  تھا آج اتفاقاً اس کے  ہاں آ گیا تھا، اس کا دوست لمبی چوڑی باتیں  کیے  جا رہا تھا لیکن اس کی باتوں  سے  اندازہ ہوتا تھا کہ وہ آگے  کچھ کہنا چاہتا ہے او ر اس ایک بات کو اگلنے  کے  لیے  اسے  سینکڑوں  غیر ضروری باتیں  کرنی پڑ رہی ہیں۔ جب باتوں  کا ذخیرہ ختم ہو گیا تو اس نے  بجائے  رخصت ہونے  کے  خالی خالی نگاہوں  سے  اسے  دیکھا تھا۔

          اُس کے  دوست سے  کہیں  زیادہ آج وہ اضطراری کیفیت سے  دوچا ر تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس کادوست کچھ کہے  مگر وہ کچھ نہیں  کہہ رہا تھا۔ پھر پتہ نہیں  اس کی زبان پر تالا کس طرح کھل گیا۔ ’’مجھے  کچھ روپوں  کی ضرورت ہے، کل پر سوں  لوٹا دوں  گا۔‘‘

          وہ اطمینان سے  اپنے  ساتھی کا محاسبہ کرنے  لگا، وہ اپنے  دوست کا مقروض ہے،شاید اس لیے  وہ اس بہانے  پیسے  لینا چاہتا ہے، وہ صاف صاف بھی تو کہہ سکتا تھا کہ یار تم میرے  مقروض ہو، میں  نے  عین آڑے  وقت میں  کچھ روپے  دیے  تھے، اب تم میرے  پیسے  لوٹا دو، تم بھول گئے  ہو لیکن میں  نے  اُسے  نہیں  بھلایا ہے۔

          ’’ پیسے  لینے  والا اکثر بھول جاتا ہے  لیکن جس آدمی کی جیب سے  پیسے  نکلتے  ہیں  وہ اس منظر کو کبھی نہیں  بھول سکتا۔‘‘

          وہ اس طرح کی ساری باتیں  اپنے  دوست کی زبان سے  سننا چاہتا تھا مگر معاملہ اس کے  بالکل برعکس تھا، اُس نے  اپنا مدعا دہرایا بھی نہ تھا۔

          ’’ یار کچھ عجیب کڑکی ہے، یقین جانو میرے  ہاں صرف سوا روپیہ ہے، کل پرسوں  تک تو تمھارے  ہاں  بھی کچھ روپے  آ ہی جائیں  گے، مناسب سمجھو تو ایک روپیہ ہی رکھ لو۔‘‘

          شاید اسے  یہ تجویز پسند نہ آئی، اس لیے  اُس نے  بدقت تمام کہا۔ ’’ ایک روپیہ لے  کر میں  کیا کروں  گا ؟ رہنے  دو شاید یہ پیسے  تمھارے  کسی کام آ جائیں۔‘‘

          ’’ کام تو میرے  بھی نہیں  آئیں  گے۔‘‘

          ’’ تو پھر وہ روپیہ ہی لا دو۔‘‘

          دفعتاً کھڑکی سے  ایک سایہ ابھرا اور وہ اندر چلا گیا۔ دو منٹ بعد جب وہ لوٹا تو اس کے  ہاتھ میں  ایک روپیہ بھی نہیں  تھا اور وہ گھگھیاتے  ہوئے  اپنے  دوست سے  کہہ رہا تھا ’’ اس روپے  کو شاید جیب سے  میری بیوی نے  نکال لیا ہے، نہیں  نہیں  میں  بھول رہا ہوں، گھر آتے  ہی وہ روپیہ میں  نے  اسے  دے  دیا تھا شاید خرچ میں  آ گیا ہو۔

          ’’ عجیب کرب، بے  چارگی، انتشار سے  گزر رہے  ہیں  ہم لوگ اور گنوار پن کایہ عالم ہے  کہ ہم جھوٹ بھی سلیقے  سے  نہیں  کہہ سکتے۔ یہ کہہ کر وہ جیسے  اس کے  منہ پر طمانچہ مارکر چلا گیا۔

          ’’ کیا سوچ رہے  ہیں  آپ، چائے  ٹھنڈی ہو چکی ہے۔‘‘

          جیسے  وہ خواب سے  چونکا۔ مگر وہ کھانا۔‘‘

          ’’ کھانا وانا میں  نے  نہیں  منگوایا۔‘‘

          ’’ کیوں  ؟‘‘

          ’’ بس یوں  ہی۔‘‘

          ’’ کوئی دوسرا ہوٹل دیکھیں۔‘‘

          ’’ دوسرا بھی ایسا ہی ہو گا۔‘‘

          ’’ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔‘‘

          ’’ اب رہنے  بھی دیجیے۔‘‘

          ہوٹل کے  سارے  کیبن لوگوں  سے  بھرے  ہوئے  تھے، صحن میں  چند لوگ یا تو چائے  کی چسکیاں  لے  رہے  تھے  یا سموسے  کھا رہے  تھے، کچھ لوگ آج کے  مسائل پر فاضلانہ انداز میں  باتیں  کیے  جا رہے  تھے۔

          ’’تیسری جنگ چھڑ گئی تو کیا ہو گا ؟‘‘

          ’’ سب مر جائیں  گے۔‘‘

          ’’ تو کیا اب جی رہے  ہیں  ؟‘‘

          ’’ جی تو رہے  ہیں او ر ساتھ ساتھ سموسے  بھی کھا رہے  ہیں،آئے  تو تھے  کچھ اور ہی ارادے  سے۔‘‘

          ’’ سب لوگ ہنسنے  لگے۔‘‘

          اُس کی بیوی نے  اپنے  شوہر کو کھویا کھویا سا دیکھ کر طنز بھرے  انداز میں  کہا۔ ’’ آپ کا سا ڈل آدمی میں  نے  شاید ہی دیکھا ہو، دیکھو ! لوگ باتیں  بھی کر رہے  ہیں او ر آپ ہیں  کہ بت بنے  بیٹھے  ہیں۔‘‘

          اُس نے  اپنی بیوی کے  اس طنز کا کوئی جواب نہیں  دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اب وہ دونوں  تیز تیز قدم ڈالتے  پروگرام کے  مطابق سنیما ہاؤس جا رہے  تھے۔ شام کے  ڈھلتے  ہی بڑے  بازار کی رونق میں  اضافہ ہو گیا تھا، نئے  نئے  ماڈل کی موٹریں  تیزی سے  سڑک کے  سینے  پر دوڑ رہی تھیں او ر لوگ باگ مختلف دوکانوں  میں  گھسے  ہوئے  شاپنگ کر رہے  تھے، کچھ ایسے  بھی تھے  جو حسرت سے  دوکان کے  چمکتے  ہوئے  شیشوں  میں  اپنے  عکس ہی کو دیکھ کر مسکراتے  ہوئے  آگے  بڑھ رہے  تھے او ر بعض سجی سجائی دوکانوں  کی مختلف چیزوں  کو الٹ پلٹ کر یوں  ہی دیکھ رہے  تھے  جیسے  وہ یہاں  واقعی کچھ خریدنے  ہی کے  خیال سے  آئے  ہوں۔

          سنیما ہاؤس ابھی کافی دور تھا اور ہر بس اسٹاپ پر ایک لمبا سا کیو لگا ہوا تھا، کیو کی الجھن سے  بچنے  کے  لیے  وہ پیدل ہی جا رہے  تھے، وہ چاہتے  تو ٹیکسی بھی لے  سکتے  تھے  لیکن پتہ نہیں  ان دونوں  کو پیدل چلنے  میں  کس قسم کی لذت کا احساس ہو رہا تھا۔

          لیکن بڑی سڑک پار کرنے  کے  بعد اب آپ کو ٹیکسی کا خیال آیا، یہ بات تو آپ کو پہلے  ہی کہنی چاہیے  تھی۔‘‘

          ’’ میں  اب تک یہی سمجھتا رہا کہ تم پیدل چلنے  کے  موڈ میں  ہو۔‘‘

          ’’ آپ کی شخصیت ہی کچھ عجیب سی ہے، وہ بات جو کسی کے  ذہن میں  نہیں  آتی پتہ نہیں  کس طرح آپ کے  ذہن میں  آ جاتی ہے  ؟

          ’’ یہی تو میری انفرادیت ہے  ؟

          وہ اس کٹیلے  جملے  کو جیسے  پی گیا۔

          اب وہ دونوں  پھر چپ چاپ سڑک سے  گزر رہے  تھے۔

          ’’ مجھے  معاف کیجیے  کبھی کبھی مجھ سے  گستاخی ہو جاتی ہے او ر آپ بھی چپ چاپ میری باتوں  کو پی جاتے  ہیں، آپ مجھے  غلطی پر ٹوکتے  بھی تو نہیں۔

          اب وہ سنیما کے  احاطے  میں  داخل ہو چکے  تھے، وہ پکچر جس کے  ارادے  سے  وہ یہاں  آئے  تھے  وہ کل ہی جا چکی تھی اور اس کی جگہ ایک دوسری نئی فلم کا بورڈ سنیما کے  گیٹ پر لٹکا ہوا تھا۔ پکچر غالباً ابھی ابھی شروع ہوئی تھی، اس کی بیوی نے  بکنگ ونڈو کے  قریب پہنچ کر فرسٹ کلاس کے  تین ٹکٹ خریدے۔

          ’ یہ دو کے  بجائے  تم نے  تین ٹکٹ کیوں  خریدے ‘‘ اس کے  شوہر نے  حیرانی سے  پوچھا۔

          ’’ یہ تیسرا ٹکٹ میں  نے  منے  کے  لیے  لیا ہے  جو کبھی ہمارے  ساتھ پکچر دیکھا کرتا تھا، کم از کم ہمیں  یہ احساس تو رہے  کہ وہ آج بھی ہماری ہر چھوٹی سی چھوٹی خوشی میں  شامل ہے۔‘‘

          یہ کہہ کر اس نے  اپنے  شوہر کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں  کی خلاؤں  میں  عجیب سی اداسی تیر رہی تھی۔

٭٭٭