کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سائے کا سفر

عوض سعید


سہ پہر کی ساعتیں  تیزی سے  شام کے  دھندلکے  میں  تبدیل ہو رہی تھیں او ر فضا میں  ایک سوگوار سی اداسی رچی بسی تھی۔ پوسٹ مین ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ بڑی بے  چینی سے  برآمدے  میں  ٹہل رہا تھا۔ گذشتہ ایک ہفتے  سے  وہ خط کے  انتظار میں  اپنی سدھ بدھ کھو چکا تھا، آج اسے  احساس ہو رہا تھا کہ اگر خط نہ آئے  تو وہ مر جائے  گا۔

          اس نے  جیب سے  گولڈ فلیک کی ڈبیہ نکالی اور سگریٹ سلگا کر دھوئیں  کے  مرغولے  بناتا رہا، اُس کے  چہرے  پر کرب و انتشار کی گہری لکیریں  یوں  نمایاں  تھیں  جیسے  وہ غم و اندوہ کی سلگتی ہوئی بھٹی سے  ابھی ابھی باہر نکلا ہو۔

          ذرا سی آہٹ پر اسے  پوسٹ مین کا گمان ہوتا تھا، کسی نے  سائیکل چلاتے  ہوئے  گھنٹی بجائی اور وہ دوڑتا ہوا دروازے  تک آیا لیکن وہاں  کوئی ناٹے  قد کا آدمی کسی احمد رضا کا پتہ پوچھ رہا تھا۔

          اس کے  منہ میں  ابھی تک سگریٹ جل رہی تھی،سگریٹ کی آخری پور کو منہ میں  دبائے  وہ ادھر ادھر بے  معنی انداز میں  ٹہل رہا تھا۔ جب اس کے  ہونٹوں  سے  سگریٹ کا آخری حصہ بے  طرح چمٹ گیا تو اسے  احساس ہوا کہ اس کے  ہونٹ لحظہ بہ لحظہ جل رہے  ہیں، اس نے  جھلا کر سگریٹ باہر پھینک دی اور ایک تازہ سگریٹ جلا کر اسی طرح ٹہلنے  لگا۔

          دور سے  خاکی وردی پہنے  کوئی بوڑھا ایک زنگ آلود سائیکل پر چڑھا اس کی طرف آ رہا تھا، وہ دور سے  کسی وظیفہ یاب فوجی کی طرح لگ رہا تھا۔

          اُس نے  سوچا، شاید آج بوڑھے  کو شام کی ڈاک تقسیم کرنے  میں  دیر ہو گئی ہو،جیسے  جیسے  وہ قریب آ رہا تھا اس کا دل ایک انجانے  خوف سے  دھڑک رہا تھا۔

          پھر اچانک اسے  یوں  لگا جیسے  خاکی وردی میں  ملبوس بوڑھا پوسٹ مین کا روپ دھارے  اس کے  دروازے  پر کھڑا ہے۔

          ’’ پوسٹ مین۔‘‘ کسی نے  آواز دی۔

          وہ تیزی سے  سیڑھیاں  پھلانگتا ہوا دروازے  کے  قریب آیا، اس دوران پوسٹ مین خط پھینک کر آگے  جا چکا تھا۔

          اب اس کے  پیروں  کے  نزدیک ایک پتلا لفافہ پڑا تھا۔

          اس نے  کانپتے  ہاتھوں  سے  لفافہ چاک کیا۔

          ’’ سالگرہ مبارک ہو‘‘         ’’ عرشی‘‘

          تو گویا آج اس کا برتھ ڈے  ہے  ؟ ! وہ منہ ہی منہ میں  بڑبڑایا۔

          اُس کے  ہونٹوں  پر تلخ مسکراہٹ بکھر گئی، اس کے  ذہن کے  سارے  دریچے  ایک ایک کر کے  کھلنے  لگے۔

          کسی وقت وہ اپنا برتھ ڈے  بڑے  شاندار انداز میں  منایا کرتا تھا، اس کے  وہ قریبی دوست احباب، وہ لڑکیاں  جن کا قرب اسے  حاصل تھا ہر سال یکجا ہوتی تھیں۔

          لیکن وقت کے  ناگ کو ڈستے  دیر نہیں  لگتی، حالات سے  کہیں  زیادہ مزاج کی نرگسیت نے  اسے  بہت جلد اپنے  ساتھیوں  سے  جدا کر دیا اور وہ ریشم کے  کیڑے  کے  مانند اپنے  ہی خول میں  بند ہو کر رہ گیا۔

          وہ لڑکیاں  جو رنگ برنگی تتلیوں  کی مانند اس کی شخصیت کا طواف کرتی تھیں  ایک خاص موڑ پر پہنچ کر اس سے  جدا ہو گئیں  لیکن وہ شا کرہ کو اپنی زود آشنا طبیعت کے  باوجود بھلا نہ سکا، وہ مدت تک اس کے  ذہن سے  چمٹی رہی، لیکن پھر بھی اسے  اپنا نہ سکا۔ پھر شا کرہ نے  اپنی توہین کا انتقام اس طرح لیا کہ ایک دن اس نے  اپنے  آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  ختم کر دیا۔

          جب اسے  شا کرہ کے  مرنے  کی خبر ملی تو وہ مہینوں  کھویا کھویا سا رہا، پھر رفتہ رفتہ اس نے  شا کرہ کو بھی اور لڑکیوں  کی طرح اپنے  ذہن سے  نکال پھینکا۔

          آج جب اسے  عرشی کا خط ملا تو اسے  لگا جیسے  وہ عارف نہیں  اس کی شخصیت کا کوئی اور روپ ہے، عرشی سے  ملنا تو کجا اس نے  آج تک اس کی صورت بھی نہ دیکھی تھی،پھر یہ عرشی کون ہے  ؟ اس نے  سالگرہ کی مبارک باد اسے  کیوں  لکھ بھیجی ہے  ؟

          لیکن وہ آج ان باتوں  کی تہہ میں  جانا نہیں  چاہتا تھا، وہ اب اپنی عمر کے  چالیسویں  زینے  پر قدم رکھ چکا تھا، جب اُس نے  مڑ کر ماضی کے  چہرے  کو دیکھا تو وہاں  سوائے  زخمی یادوں  کے  کچھ نہ تھا۔

          عرشی، کتنا خوبصورت نام ہے، کتنی شعریت ہے  اس نام میں، اسے  اچانک یوں لگا جیسے  وہ واقعی کبھی عرشی کا محبوب رہا ہو۔

          اس نے  اپنے  ذہن میں  عرشی کا ایک خاکہ کھینچا، کتابی چہرہ، بڑی بڑی خمار آلود آنکھیں، پتلے  پتلے  عنابی ہونٹ، ستواں  سی ناک، گھنی سایہ دار پلکیں۔

          وہ اس کے  زانو پر سر جھکائے  لیٹا ہوا ہے، وہ اپنی لانبی لانبی خوبصورت انگلیوں  سے  آہستہ آہستہ اس کے  بالوں  کی گرہیں  کھول رہی ہے۔

          کبھی کبھی وہ اسے  لپٹا کر چوم بھی رہا ہے، وہ شرم کے  مارے  سرخ ہوئی جا رہی ہے، گو اس کی زندگی میں  کئی خوبصورت لڑکیاں  آئی تھیں، نزہت، فرزانہ، طیبہ،شا کرہ۔ لیکن عشق کی آگ میں  جل مرنے  سے  پہلے  وہ اپنی شخصیت ہی کی آگ میں تپ کر کندن بن چکا تھا۔

          آج اسے  اپنی زندگی بڑی بکواس لگ رہی تھی۔

          چالیس برس یوں  ہی گزر گئے، اور دس برس یوں  ہی گزر جائیں  گے۔

          پھر ایک دن لوگ اسے  اس تنگ و تاریک کمرے  میں  پھینک آئیں  گے  جہاں  سے  آج تک کوئی۔۔۔

          ’’ نہیں  نہیں  ایسا نہیں  ہو گا۔‘‘ اس کے  منہ سے  ایک درد ناک چیخ نکل گئی۔

          اس نے  خود کو سنبھالنے  کی کوشش کی مگر لگتا تھا جیسے  کوئی طوفان آنے  والا ہے  جو اس کی شخصیت کے  ہر تار و پود کو جڑسے  اکھاڑ پھینکے  گا۔

          چالیس برس۔ چودہ  ہزار چار سو دن، اور اتنی ہی بد صورت راتیں  کیا یہ عذاب جہنم سے  کچھ کم نہیں  ہے  ؟ مگر دوسرے  ہی لمحے  اس نے  مندی مندی آنکھوں  سے  دیکھا۔ عرشی راج ہنس کے  پروں  پر بیٹھی ہوا میں  اڑتی ہوئی اس کی حویلی کے  گرد منڈلا رہی ہے، وہ اسے  ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے، اس کے  دونوں  ہاتھ ہوا میں  معلق ہیں  مگر عرشی اس کی رسائی سے  دور ہے۔

          پھر اس نے  اپنے  آپ کو جھنجھوڑا، کہیں  یہ خواب تو نہیں  ہے۔ نہیں  نہیں، خواب نہیں  ہے، ابھی تو اس نے  نیند کے  ماتھے  پر سجدہ بھی نہیں  کیا ہے۔

          پھردفعتااًس کے  کانوں  نے  موٹر کی گڑ گڑاہٹ کی گنج سنی، جیپ سے  ایک نوجوان گرے  کلر کے  سوٹ میں  ملبوس منہ میں  پان دبائے، ٹائی کی گرہ ٹھیک کرتا ہوا اس انداز سے  گھر میں  داخل ہوا کہ وہ بھونچکا سا رہ گیا۔

          ’’ آپ کی تعریف ؟‘‘

           مدتوں  بعد ایک نہایت فرسودہ جملہ سننے  کو ملا۔

          یہ کہہ کر پھر ایک بار اجنبی نے  ٹائی کی گرہ ٹھیک کی اور آرام کرسی پر دراز ہو کر جوتے  کے  تسمے  کھولنے  لگا، پھر پاتابے  کھینچتے  ہوئے  اس نے  در و دیوار کا ہولے  ہولے  جائزہ لیا۔

          ’’بھئی ! اس کمرے  سے  لگا ہوا ایک اور کمرہ بھی ہوتا تھا، پتہ نہیں  کب کس نے  اسے  ڈھا دیا۔ میں  بھی کتنا بیوقوف ہوں، یہ بات مجھے  تم سے  نہیں پوچھنی چاہیے  تھی۔ ارے  یہ تو عرشی کا خط ہے۔‘‘ اس نے  میز پر رکھے  خط کو حیرانی سے  اٹھاتے  ہوئے  کہا ’’ یہ خط یہاں  کیسے  آ گیا۔۔۔ ؟‘‘

          ’’ یہ خط میرے  نام آیا ہے، کیا خط کی پیشانی پر میرا نام نہیں  دیکھ رہے  ہو ؟‘‘

          وہ جواباً قہقہہ مار کر ہنسا۔ ’’ کیا یہ نام میرا نہیں  ہو سکتا ؟‘‘  ’’ ہرگز نہیں۔‘‘

          اس نے  اس احتجاج کی ذرہ برابر پرواہ نہ کی اور اطمینان سے  خط کو اپنی جیب میں  رکھ کر جیپ کار کی طرف بڑھا۔ اب وہ اجنبی پر حملہ اور ہونے  کے  بجائے  آہستہ آہستہ یوں  جا رہا تھا جیسے  کسی نے  اس پر سحر کر دیا ہو۔۔۔ !

٭٭٭