کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کھانا تیار ہے

علی حسن سمند طور


اس وقت رات کے دو بجے تھے اور محمود اپنے کمپیوٹر کے اسکرین پہ اس روبوٹ کو دیکھ رہا تھا جو زحل کے چاند ٹائٹین کی سطح پہ تیزی سے دوڑ رہا تھا۔

"جائے خدا تنگ نیست" محمود نے اپنے آپ سے کہا اور ٹائٹین سے آنے والی تازہ بہ تازہ رنگین ویڈیو کے سحر میں ڈوبا رہا۔ ٹائٹین کی سطح پہ دریا بھی تھے اور بالکل اس طرح کی پہاڑیاں بھی جو یہاں زمین پہ نظر آتی ہیں۔ سیارہ گاڑی سے بھیجی جانے والی تصاویر اور ویڈیو کا زمین تک پہنچنے کا دورانیہ تقریباً آدھ گھنٹے کا تھا۔ مگر کیونکہ سیارہ گاڑی اپنے اوپر نصب مختلف کیمروں سے مستقل تصویریں کھینچ رہی تھی اور ویڈیو بنا رہی تھی اس لیے محمود کے کمپیوٹر اسکرین پہ بھی یہ نمائش مستقل چل رہی تھی۔ محمود تازہ ویڈیو اور تصاویر دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی تاریخ پہ نظر دوڑا رہا تھا کہ انسان کو گاڑی بنانے سے ہوائی جہاز بنانے تک کتنا عرصہ لگا ۔ اور پھر ہوائی جہاز بنانے کے بعد خلا میں قدم رکھنے تک کتنا عرصہ لگا۔ اور اب یہ عالم تھا کہ دنیا کے کئی ممالک فعال اور کامیاب خلائی پروگرام چلا رہے تھے۔ باقاعدگی سے ایسی سیارہ گاڑیاں خلا میں بھیجی جا رہی تھیں جو راکٹ کے ذریعے دوسرے سیاروں اور ان کے گرد گھومتے چاند تک پہنچتیں اور پھر ان عجیب و غریب دنیاؤں میں دوڑتیں اور وہاں کی تصاویر اور ویڈیو ہمارے سیارے کو روانہ کرتیں۔

دراصل دوسرے سیاروں تک انسان کی پہنچ کی بحث پچاس سال پہلے زور و شور سے ہو چکی تھی۔ یہ نصف صدی پہلے کی بات ہے کہ جب امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے پے در پے ایسی سیارہ گاڑیاں بھیجی تھیں جنہوں نے مریخ کا چپہ چپہ چھانا تھا اور وہاں کی تصاویر دنیا کو بھیج کر جنگ و جدل میں جکڑے انسانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ پھر جب کچھ اور دہائیاں گزریں، انسان کی اجتماعی عقل میں اضافہ ہوا، اور جنگ کے مہیب بادل زمین سے چھٹنا شروع ہوئے تو خوشحالی کا دائرہ وسیع ہوا اور ایک ایک کر کے دنیا کے بہتیرے ممالک خلائی مہم جوئی میں شامل ہو گئے۔ اور اب تو یہ عالم تھا کہ شاید ہی کوئی دن جاتا کہ جب کسی دوسرے سیارے، کسی دوسرے چاند سے گھنٹوں لمبی ویڈیو موصول نہ ہوئی ہوتی کہ دنیا والے اس تماشے کو دیکھ کر اپنے چھوٹے موٹے غم بھلا دیتے۔

پانچ دہائی قبل جب امریکہ نے 'جذبہ' اور 'موقع' نامی سیارہ گاڑیاں مریخ تک پہنچائیں اور ان خودکار گاڑیوں نے پٹ پٹ تصاویر کھینچ کر دنیا کو ارسال کرنا شروع کیا تو خلا میں دلچسپی رکھنے والوں کے درمیان بحث شروع ہوئی کہ کیا وقت آگیا تھا کہ ان سیارہ گاڑیوں کے پیچھے پیچھے انسان بھی جلد از جلد مریخ پہ پہنچ جائے۔ مگر بہت مباحثے کے بعد فلکیاتی حلقوں میں یہ اتفاق رائے پیدا ہوا کہ ابھی دوسرے سیاروں تک جانے کے لیے انسان کی تیاری مکمل نہ تھی۔جن جگہوں پہ سیارہ گاڑیاں بھیجی جا رہی تھیں وہاں فضا اور دوسرے حالات، زندگی کے موافق نہ تھے۔ زمین سے ارب ہا میلوں کے فاصلے پہ واقع ان سیاروں اور قمر کی دنیا بظاہر بہت پر تحیر معلوم دیتی تھی اور وہاں سے آنے والی تصاویر انسان کے اندر کے مہم جو کو فوری طور پہ کمر باندھنے کے لیے تیار کرتی تھیں مگر درحقیقت اس اجنبی ماحول میں انسانی زندگی سہل ہرگز نہ تھی۔ نہ وہاں کشش ثقل ہماری دنیا جیسی تھی اور نہ وہاں کی فضا ایسی تھی جیسی یہاں ہے۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ انسان کو ان ساحر مقامات پہ جانے کی کوئی جلدی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان جگہوں تک بہت تیاری کے بعد پہنچنا چاہیے۔نئی حکمت عملی کے تحت پہلے مرحلے میں سیارہ گاڑیوں کو ان نئی زمینوں سے متعلق ہر قسم کی معلومات انسان کو پہنچانا تھیں۔ اور پھر اگلے مرحلے میں روبوٹ کی ایک دوسری کھیپ کو ان مقامات پہ انسانوں کے لیے قابل رہائش عمارات بنانا تھیں اور مہم جوئی کے لیے وہاں پہنچنے والوں کے لیے کھانے پینے کے انتظامات کرنے تھے۔ان ہی دنوں ایک اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا تھا:

"پھر جب انسان خلا نوردی کے لیے زمین سے باہر نکلے تو ہمارے شمسی محلے میں جگہ جگہ ایسے مقامات ہوں جہاں انسان کے رہنے کے لیے پر تکلف انتظامات ہوں۔ ہمارے نظام شمسی میں یہ خلائی سرائے جا بجا ہوں کہ ہم ان میں سے کسی بھی سرائے میں جا کر رہ جائیں اور جب ہمارا دل گھبرا جائے تو ہم وہاں سے آگے بڑھ جائیں۔"

پھر یہ بھی طے پایا تھا کہ اگر کسی سیارے، کسی چاند پہ زندگی کا کوئی بھی نشان ملا تو انسان فوری طور پہ اس جگہ کو تنہا چھوڑ دے گا اور اس جسم فلکی کے حیاتی نمونوں کو اپنے طور پہ ارتقا کے مراحل طے کرنے دے گا۔

پھر جب درجنوں ممالک کی سیارہ گاڑیاں مختلف سیاروں اور چاند پہ دوڑنے لگیں تو یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمارے نظام شمسی میں دور دور تک زندگی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اب میدان صاف تھا۔ انسان کو اپنے گھر سے نکل کر ان دنیاؤں کا سفر کرنا تھا اور ان مقامات پہ اپنے لیے رہائش کے انتظامات کرنے تھے۔

اتنی رات گئے محمود جس سیارہ گاڑی کو ٹائٹین پہ دوڑتا دیکھ رہا تھا وہ نائجیریا کے خلائی ادارے کی بھیجی ہوئی تھی۔ محمود کا تعلق زراعت کے شعبے سے تھا۔ وہ زراعت میں خود کاری کے سلسلے میں کام کر رہا تھا۔

محمود نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ اب صبح کے تین بج گئے تھے۔ اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔

"یہ کائنات کس قدر دلکش جگہ ہے۔ میرا تو دل نہیں کرتا کہ میں سونے کے لیے لیٹوں۔" اس نے اپنے آپ سے کہا، مگر پھر خود ہی کمپیوٹر سے ہٹ کر اپنی خواب گاہ کی طرف چل پڑا۔

اگلی صبح جب محمود کی آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا۔ دن کے دس بج گئے تھے۔ گیارہ بجے اس کی ایک ویڈیو کانفرینس تھی۔ گھڑی کے الارم سے جڑی کافی مشین چل چکی تھی اور اب تازہ کافی کی خوشبو پورے گھر میں پھیل گئی تھی۔ محمود نے غسل خانے میں جا کر منہ پہ پانی کا چھینٹا مارا۔ جب وہ ہلکا سا ناشتہ کر کے فارغ ہوا تو ساڑھے دس بج چکے تھے۔

اپنے معمولات سے فارغ ہونے پہ محمود ایک بار پھر اس کرسی پہ بیٹھ گیا جو اس کا مکمل دفتر تھی۔ کرسی کے سامنے ایک بڑا اسکرین کمپیوٹر سے جڑا ہوا تھا۔ محمود آنکھیں بند کر کے کرسی پہ بیٹھ گیا اور اس نے زبانی احکامات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ کمپیوٹر اسکرین روشن ہو گیا اور اسپیکر سے ابھرنے والی مشینی آواز محمود کو اس کے احکامات کے جواب میں ہونے والے اقدامات سے مطلع کرنی لگی۔ اسی مصروفیت میں گیارہ بج گئے اور ویڈیو کانفرینس شروع ہو گئی۔ محمود کے سامنے موجود اسکرین پہ کانفرینس کے دو شرکا ظاہر ہوئے۔ یہ لوگ دنیا کے مختلف حصوں سے اس کانفرینس میں شمولیت کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر شخص محمود کو بھی اسی طرح اپنے سامنے اسکرین پہ دیکھ رہا تھا۔ تینوں کے درمیان رسمی کلمات کا تبادلہ ہوا۔ وہ سب اپنی اپنی زبانوں میں باتیں کر رہے تھے اور کمپیوٹر ان کی باتوں کا ترجمہ کر کے ہر شخص کو اس کی اپنی روزمرہ میں کہی جانے والی بات کا ما فی الضمیر بیان کر رہا تھا۔

پھر پاپوا نیو گنی سے شامل شخص نے بولنا شروع کیا۔

"زراعت ایک پرانا عمل ہے اور گو کہ اس عمل میں مشین کا استعمال آئی سی انجن بننے کے بعد شروع ہو گیا تھا مگر انسان نے اس عمل میں خود کاری کی طرف بہت دیر سے توجہ دی۔ یہاں پاپوا نیو گنی میں ہم نے کئی سبزیوں کی کاشت کاری میں خودکاری کی طرف کام کیا ہے۔ مثلاً ترئی کی کاشت میں ہماری خود کار کاوش کو دیکھیں۔"

اسکرین پہ ترئی کی ایک بیل ظاہر ہوئی۔ 

"پہلے مرحلے میں ہم نے ترئی کی بیل کو اس جالی پہ یوں لگایا کہ بیل میں لگنے والا پھل جالی کے سوراخوں سے نیچے گر جائے۔"

اسکرین پہ ایک کے بعد ایک ایسی تصاویر ابھریں جن میں ترئی کے بیل کی افزائش کے کئی مراحل دکھائے گئے تھے۔ پھر ایک تصویر میں وہ منظر تھا کہ ترئی کی بیل یوں لگی تھی کہ پھل جالی سے نیچے لٹک رہی تھے اور باقی بیل مع پتوں کے جالی کے اوپر تھی۔ ایک تصویر جالی کے نیچے سے لی گئی تھی اور اس تصویر میں دور تک لٹکنے والے پھل بہت بھلے لگ رہے تھے۔

"پھر دوسرے مرحلے میں ہم نے پھل اتارنے کے عمل کو بھی خود کار کر دیا۔ یہ تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔"

ایک کے بعد ایک مزید تصاویر اسکرین پہ نمودار ہوئیں۔ ان تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح وہ جالی جس پہ ترئی کی بیل ڈالی گئی تھی قینچی دار خانوں سے مل کر بنی تھی۔ تصاویر میں ترئی کی بیل کی نشو نما، پھل لگنے، اور پھل بڑا ہونے کے عمل کو دکھایا گیا تھا۔ یہ تصاویر بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں جس کی وجہ سے اس تسلسل پہ ویڈیو کا سا گمان ہوتا تھا۔ پھر نمائش کے آخر میں ایک مختصر ویڈیو میں قینچی والی جالی کو بند ہوتے دکھایا گیا تھا۔ جب قینچی والی جالی بند ہوئی تو ساری توریاں کٹ کر نیچے گر گئیں۔ توریاں ایک ایسی سطح پہ گریں جو دھات کی چادر نظر آتی تھی۔ یہ چادر ڈھلوان شکل میں تھی۔ چنانچہ پھل اس سطح پہ گرتے ساتھ ہی لڑکھنا شروع ہو گئے اور ایک رخ پہ لڑھکتے ہوئے ایک بوری میں جا گرے۔

"تو آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی بیل کی نشو نما کی جا سکتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والا پھل بلا انسانی مداخلت کے کاشت کیا جا سکتا ہے۔ شکریہ۔" پاپوا نیو گنی سے شامل شخص نے اپنی گفتگو ختم کی تو کانفرینس کے باقی دو شرکا نے تالیاں بجا کر اس کی گفتگو اور تجربات کی داد دی۔ 

"سبزیوں کی کاشت کاری میں خودکاری کی طرف یہ پیش رفت بہت اہم ہے۔ ہم مختلف گھاس، جن میں تقریباً سارے اناج شامل ہیں، کی بڑی سطح پہ خود کار کاشت کاری کا کام تو بہت پہلے کر چکے تھے مگر اب میکسیکو کے ایک ادارے نے گھاس کی کاشت کاری میں چھوٹی مشینوں پہ کام کیا ہے۔ اس ادارے سے کوئی شخص آج کی کانفرینس میں شامل نہیں ہو سکا ہے مگر امید ہے کہ اگلی کانفرینس میں وہ ضرور شرکت کریں گے۔" محمود نے کانفرینس کے ناظم کی حیثیت سے باقی دو شرکا کو اس صورت حال سے آگاہ کرنا ضروری خیال کیا۔ 

اب ویڈیو کانفرینس میں بوٹسوانا سے شامل شخص بولنا شروع ہوا۔

"ہم نے زراعت اور باغ بانی میں خود کاری کے جو تجربات کیے ہیں وہ اس متعلق ہیں کہ مشین یہ کیسے تعین کرے کہ کوئی وقت بیج بونے کے لیے صحیح گھڑی ہے۔ کہ اس موقع پہ بیج ڈالے جائیں اور پھر ان پہ پانی ڈال کر پودوں کی نشو نما کی جائے۔ تو ہم نے یہ چھوٹا سا موسمیاتی اسٹیشن کمپیوٹر کے ساتھ جوڑا ہے۔ اور اس طرح ہمارا کمپیوٹر مستقل موسم کا تجزیہ کرتا ہے اور موسمی حالات کے حساب سے فیصلہ کرتا ہے کہ کونسا وقت بیج کو زمین میں ڈالنے کے لیے موزوں ہے۔ یہ تصاویر ملاحظہ فرمائیں جو اس عمل کی وضاحت کر رہی ہیں۔ یہ دیکھیے کہ کس طرح سوکھے ہوئے بیج اس خانے میں موجود ہیں۔"

اسکرین پہ ایک کے بعد ایک تصاویر ابھرنا شروع ہوئیں۔ ان تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ کمپیوٹر درجہ حرارت، ہوا میں نمی اور دوسرے عوامل کا مستقل جائزہ لے رہا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے کہ بیج ڈالنے کے لیے صحیح وقت آن پہنچا ہے۔ پھر ایک کمپریسر کی مدد سے ہوا کا جھکڑ چلایا جاتا ہے جو خانے میں رکھے گئے بیجوں کو دور دور تک پھیلا دیتا ہے۔ پھر فوارہ چلنا شروع ہوتا ہے جو ان بیجوں کی آبیاری کرتا ہے۔

بوٹسوانا کے شریک کی گفتگو پندرہ منٹ میں ختم ہوئی۔ اس گفتگو کے دوران سینکڑوں تصاویر اور درجنوں مختصر ویڈیو کی مدد سے مختلف بیجوں کو زمین میں لگانے اور ان کی آب پاشی پہ کیے گئے تجربات دکھائے گئے تھے۔ ان تصاویر کی نمائش ختم ہونے پہ باقی دو شرکا نے تالیاں بجا کر بوٹسوانا سے شامل شخص کے تجربات کو سراہا۔

اب محمود کے بولنے کی باری تھی۔

"ہم یہاں آزاد جنوبی ایشیا میں جو کام کر رہے ہیں وہ اس متعلق ہے کہ کس طرح روبوٹ چل کر کسی جگہ جائے اور وہاں ہل چلانے کے علاوہ ایک نئے فارم کو ترتیب دینے کا کام کرے۔ مثلاً کھیتوں کے لیے کچھ اور قسم کے انتظامات کی ضرورت ہے اور سبزیوں کے لیے اور طرح کے۔ تو ہمارا یہ روبوٹ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ ہمارے احکامات کے متعلق کھیت یا باغات کے انتظامات کرے۔"

ایک دفعہ پھر اسکرین پہ پے درپے تصاویر ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ ویڈیو اور تصاویر میں ایک روبوٹ کو دوڑتے بھاگتے اور پھر ایک جگہ رک کر زمین میں لکڑیاں گاڑتے، کیاریاں لگاتے دکھایا گیا تھا۔

تو اس پورے سلسلے کو اس طرح سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ہم یہاں آزاد جنوبی ایشیا میں جو کام کر ہے ہیں وہ سیارہ زمین سے باہر خودکار کاشت کاری کے سلسلے میں اولین نوعیت کا کام ہے۔ پھر اس کے بعد بوٹسوانا والے جو کام کر رہے ہیں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بیج ڈالے جائیں گے اور ان کو پانی دیا جائے گا۔ اور پھر پاپوا نیو گنی اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے اداروں کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پودوں کی نشو نما کی جائے گی اور فصل کاٹی جائے گی۔"

محمود نے اپنی بات ختم کی۔

"تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ٹائٹین پہ فصل اگانے کے لیے تیار ہیں؟" پاپوا نیو گنی کے شخص نے مسکرا کر پوچھا۔

"نہیں، ابھی نہیں۔" محمود نے جواب دیا۔ "ابھی ہمیں آج پیش ہونے والی تمام ٹیکنالوجیوں کے سنبدھ سے یہیں زمین پہ مکمل خودکار باغ اور کھیت کے تجربات کرنے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی کے الحاق کا یہ تجربہ صحرائے تھر میں کریں گے۔ آپ لوگوں کی گفتگو کے ساتھ ہی مجھے آپ کے تجربات کی تمام مسلیں بھی مل گئیں ہیں۔ اب ہمیں یہاں تجربہ کرنا ہے کہ آیا یہ روبوٹ اس بات کا اہل ہے کہ خود چلتا ہوا کسی بیابان میں کوسوں دور جائے، ہم دور بیٹھ کر اس کو احکامات دیتے رہیں، اور یہ روبوٹ ایک مکمل خودکار کھیت اگا لے۔ پھر آپ یہ بات بھی غور کریں کہ ہمارے اس سیارے پہ زندگی کو پنپتے کروڑوں سال ہو گئے ہیں۔ اس سیارے کی مٹی میں یہ طویل تاریخ حلول کر گئی ہے۔ ہم اس عمل کو اوپری مٹی یعنی ٹاپ سوائل کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر دوسری دنیاؤں میں زندگی کی ایسی کوئی تاریخ موجود نہیں ہے۔ وہاں نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کے سلسلے میں ہمیں سب سے بڑی مشکل یہی درپیش ہو گی۔ کسی بالکل بنجر زمین پہ اوپری مٹی کی ایک موٹی سطح کیسے بنائی جائے، یہی ہمارا سب سے چیلنج ہے۔ تو اس سلسلے میں بھی ہم نے کام کیا ہے۔ ہم ایسے تجربات کر رہے ہیں کہ ہمارا روبوٹ کسی ریتیلی جگہ پہ جائے گا اور اپنے ساتھ لے جانے والی اوپری مٹی کو اس ریتیلی مٹی کے صغیر قطعے میں ملا کر اس چھوٹی جگہ پہ تیزی سے اگنے والی ایک فصل تیار کرے گا۔ پھر اس فصل کو کاٹ کر اسے وہیں مٹی میں ملا دیا جائے گا۔ پھر اس نئی مٹی پہ ایک اور فصل بوئی جائے گی۔ اس وقت تک اس چھوٹے قطعے میں اوپری مٹی آدھے انچ سے گہری ہو چکی ہو گی۔ پھر اس چھوٹے سے قطعے کا رقبہ رفتہ رفتہ بڑھایا جائے گا۔ اس طرح پے درپے فصلیں اگا کر مٹی کو جاندار سے جاندار بنایا جائے گا۔ اور پھر اپنے کام کی فصلیں اگائی جائیں گی۔"

ویڈیو کانفرینس کے باقی دو شرکا نے محمود کے دلائل کی تائید کی۔ اور کانفرینس اپنے اختتام تک پہنچی۔

مگر اگلے دن سے محمود کے بے حد مصروف دن شروع ہو گئے۔ محمود اور اس کے ساتھی اپنے روبوٹ کے ساتھ عملی تجربات کر رہے تھے۔ پاپوا نیوگنی، بوٹسوانا، اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے ماہرین ویڈیو کی مدد سے ہر موقع پہ ان لوگوں کے ساتھ تھے۔ انہیں ہر ہر قدم پہ مشکلات پیش آئیں۔ پہلے روبوٹ کےسوفٹ وئیر میں کوئی نقص ہو گیا اور روبوٹ اپنی جگہ جم کر کھڑا ہو گیا۔ پھر روبوٹ کے ہاتھوں کی حرکت میں کئی دشواریاں سامنے آئیں۔ مگر رفتہ رفتہ کر کے یہ تمام مسائل حل ہوتے گئے۔ روبوٹ کا ایک زرخیز زمین پہ کھیت لگانے کا تجربہ کامیاب رہا تو یہ کوششیں شروع ہوئیں کہ روبوٹ کس طرح کسی بنجر زمین پہ ایک نیا ایکو سسٹم بنا کر وہاں کھیت لگا دے۔ اور دو تین ماہ میں یہ کامیاب تجربات بھی مکمل ہوئے کہ روبوٹ کسی بالکل ریتیلی زمین پہ جا کر اپنے ساتھ لے جانے والی اوپری مٹی کی مدد سے ایک چھوٹے ٹکڑے پہ زراعت کرتا۔ پھر زرعی اراضی کا رقبہ رفتہ رفتہ کر کے بڑھایا جاتا اور پھر کچھ ہی مدت میں ایک بڑے خطے کو کاشت کاری کے لیے موزوں بنا لیا جاتا۔ اب یہ آزمائی ہوئی ٹیکنالوجی ٹائٹین پہ کام کرنے کے لیے تیار تھی۔

اور پھر وہ دن بھی آیا جب محمود اور اس کے ساتھیوں نے نہایت اشتیاق سے اس راکٹ کو دنیا سے روانہ ہوتے دیکھا جو اوپری مٹی کے پانچ کلوگرام نمونے کے ساتھ خودکار زراعت میں ان کی ٹیکنالوجی لے کر ٹائٹین کی طرف اڑ رہا تھا۔ بے کراں خلا میں راکٹ کے سفر کے دوران بھی یہ لوگ ٹیکنالوجی کو بہتر کرنے کا کام کرتے رہے اور مستقل نت نئے کمپیوٹر پروگرام راکٹ کی طرف روانہ کرتے رہے۔ ہمارے اس سیارے پہ وہ اگست کا دوسرا ہفتہ تھا جب محمود اور اس کے ساتھیوں کی بھیجی ہوئی آدم ثانی نامی خلائی گاڑی ٹائٹین پہ بحفاظت اتر گئی۔ اس خلائی گاڑی کو سب سے پہلے ٹائٹین کی اجنبی اور زندگی سے بے زار فضا کو زمین کی فضا کے متبادل بنانا تھا۔ اس سلسے میں روبوٹ نے سب سے پہلے ایک گرین ہاؤس بنایا جہاں شمسی توانائی سے چلنے والے ایک کمپریسر کے ذریعے ہوا کو کو دبا کر اسے کثیف بنایا گیا اور گرین ہاؤس کے اندر چھوڑا گیا۔ پھر دوسرے آلات کی مدد سے گرین ہاؤس کے اندر کی فضا میں مختلف گیسوں کے تناسب کو زمینی فضا کے تناسب پہ لایا گیا۔ اب اس موافق فضا میں سطح ٹائٹین پہ موجود اوپری مٹی کی بڑھوتری کا کام شروع ہوا۔ اور یوں ٹائٹین پہ خود کار زراعت کا یہ منصوبہ ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا تھا۔ آگے تک کرنے والے تمام کاموں کے سلسلے میں مکمل عقل مشینوں کے پاس موجود تھی۔ محمود اور اس کے ساتھیوں نے آدم ثانی کے دنیا سے روانگی سے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ اپنے آپ کو اچنبھا دینے کے لیے وہ منصوبے کے اس مرحلے پہ خلائی گاڑی سے زمین تک کے مواصلاتی رابطے کو مکمل طور پہ بند کر دیں گے۔ کہ یہ مواصلاتی سلسلہ اس وقت بحال کیا جائے گا جب خلائی گاڑی پہلی کارآمد فصل کی کٹائی کا کام مکمل کر لے گی۔

وہ اگست چودہ اور پندرہ کی درمیانی شب تھی جب آدم ثانی کا زمینی اسٹیشن سے مواصلاتی رابطہ اچانک قائم ہوا اور ٹائٹین پہ موجود خلائی گاڑی کے روبوٹ نے مستقل ایک کلمے کو بار بار دھرانا شروع کیا۔

"کھانا تیار ہے۔ کھانا تیار ہے۔"

محمود خوشی سے اچھل پڑا۔ آدم ثانی نے بھنڈی، پیاز، اور ٹماٹر کی کامیاب کاشت کاری کے بعد شمسی چولھے کی مدد سے تین لوگوں کے لیے ترکاری تیار کر لی تھی۔