کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ختم

علی حسن سمند طور


وہ جمعے کا روز تھا جب اچانک خبر آئی کہ حیرت انگیز طور پہ دنیا بھر میں موجود تیل کے تمام کنووں میں اچانک کوئی خرابی ہو گئی ہے اور کسی کنویں سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں نکل پا رہا۔ وہ تیل کہ جس سے دنیا کا کاروبار چل رہا تھا، لاکھوں سال پہلے گزر جانے والے جانوروں اور درختوں سے بننے والا تیل، بس اچانک ہی بند ہو گیا تھا۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ تیل نکالنے کے عمل میں یہ خرابی دنیا بھر میں بیک وقت واقع ہوئی تھی۔ سعودی عرب میں، کویت میں، ایران میں، وینزویلا میں، سائبیریا میں، اور دیگر مقامات پہ جہاں جہاں تیل کے کنویں تھے وہاں ہر طرح کے جتن کیے گئے کہ تیل نکالنے کا عمل پھر شروع ہو سکے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ ہر جگہ ایک جیسی ترکیبیں استعمال کی گئیں۔ پمپ بدلے گئے ، پائپ کو صاف کرنے کا کام ہوا مگر ہر تدبیر ناکام رہی اور تیل نکالنے کا کام دوبارہ شروع نہ ہو پایا۔ یہ خبر جب ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچی تو کھلبلی مچ گئی۔ کیا تیل کے ہر کنویں میں تیل موجود تھا، اور بس نکل نہیں پا رہا تھا یا تیل کے ذخائر کے متعلق اندازے بالکل غلط ثابت ہوئے تھے اور سارے کنویں اچانک خشک ہو گئے تھے ؟ لوگوں میں بلا کی بے چینی تھی۔ عوام الناس کے اضطراب کو رفع کرنے کے لیے سربراہان ممالک نے بیانات جاری کرنے شروع کیے ۔ شروعات روس کے صدر نے کی۔ انہوں نے ٹیلی وژن سے نشر کیے جانے والے ایک خطاب میں روسیوں کو یقین دلایا کہ تیل نکالنے کے عمل میں واقع ہونے والا خلل محض وقتی تھا۔ کہ تیل کے کنووں پہ کام کرنے والے تمام انجینئیر اور تکنیکی عملہ رات دن کام میں مصروف تھے ۔اور یہ کہ امید تھی کہ پیر تک یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور کاروبار دنیا کی رگوں میں ایک بار پھر تیل دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ پھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اسی نوعیت کا بیان دیا۔ مختلف ممالک کے سربراہان نے بھی اپنے اپنے ملک کی رعایا کو یقین دلایا کہ تیل کے کنووں میں ابھی بہت تیل باقی تھا اور خرابی تیل کشی کے عمل میں تھی۔ کہ مصیبت عارضی تھی اور مسئلہ پیر تک حل ہو جائے گا۔

اس بحران کا فوری اثر تو یہ ہوا کہ تیل کے دام اچانک چڑھ گئے ۔ پیٹرول بہت مہنگا ہو گیا۔ جن لوگوں کے پاس تیل موجود تھا، گاڑیوں کی ٹنکیوں میں یا دوسرے طریقوں سے ، وہ پیر کا انتظار کرنے لگے ۔ انہوں نے خود کو اطمینان دلایا کہ پریشانی کی کوئی بات نہ تھی۔ کہ وہ لوگ بے وقوف تھے جو مہنگے داموں تیل خرید رہے تھے ۔ پیر تک گتھی سلجھی تو تیل کی قیمتیں بھی خود بخود نیچے آ جائیں گی۔

سنیچر گزرا، اتوار گزرا، اور پھر پیر کا روز آگیا۔ مگر وہ خوش خبری نہ آئی کہ جس کا سب کو انتظار تھا۔ یہ خبر آئی کہ بہت کوشش کے باوجود کسی بھی جگہ تیل نکالنے کے عمل میں خرابی رفع نہ کی جا سکی تھی۔ اب تو لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔ تیل کی قیمت ہوش ربا ہو گئی۔ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ان ممالک میں جہاں قانون کی حکمرانی کمزور تھی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے ریفائنریوں پہ دھاوا بول دیا۔ دنیا کی معیشت ذرا سی دیر میں بیٹھ گئی۔ اشیائے خورد و نوش سمیت ہر چیز کے دام آسمان چھونے لگے ۔ کرنسی نوٹ قریباً بے معنی ہو گئے ۔ لوگ اپنی اپنی ضرورت کے حساب سے آپس میں چیزوں کا تبادلہ کرنے لگے ۔

 

آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آپ کے سامنے یہ تاریخ کیوں دہرا رہا ہوں، کہ آخر آپ نے بھی تو یہ تمام حالات دیکھے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ گو تیل کے اچانک اختتام سے متعلق ہر شخص کی کہانی بالکل جدا اور بے حد دلچسپ ہے ، میں دنیا کے ان چند لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے تیل سے اڑنے والے ہوائی جہاز کی آخری آخری سواری کی ہے ۔ اس بات کو نیل گائے کے ناپید ہونے کے عمل سے واضح کرنا چاہوں گا۔ جب نیل گائے ہمارے علاقے میں ناپید ہوئی تو ایک مقامی شخص تھا جس نے آخری بار نیل گائے کا گوشت کھایا تھا۔ بس اسی طرح ہمارے علاقے میں مجھے یہ امتیاز حاصل ہے کہ میں ان آخری لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے ناپید ہونے والے تیل سے اڑنے والے ہوائی جہاز کی سواری کی تھی۔

 

جس روز یہ خبر آئی کہ دنیا بھر کے تیل کے کنووں سے تیل نکلنا اچانک بند ہو گیا تھا اس روز میں سان فرانسسکو  میں  ٹیکسی چلا رہا تھا۔ نہ جانے کیسے مجھے یہ احساس ہوا کہ معاملہ کچھ سنگین ہے اور آسانی سے حل نہ ہو پائے گا۔ اپنی چھٹی حس سے پانے والے اشارے کو قبول کرتے ہوئے میں نے ایک جاننے والے ٹریول ایجنٹ کو فون ملا دیا۔

"سلیم بھائی، مجھے فوری طور پہ پاکستان جانا ہے ؟ مجھے جلد از جلد کب کا ٹکٹ مل سکتا ہے ؟" میں نے فون کر کے پوچھا۔ سوہنی دھرتی ٹریول ایجنسی کے مالک سلیم بھائی سے میری پرانی جان پہچان تھی۔

سلیم نے میری آواز میں موجود گھبراہٹ کو بھانپتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔

"کیوں شہزادے ، سب خیر تو ہے ؟ پاکستان میں سب لوگ خیریت سے ہیں نا؟"

سلیم کا یہ سوال بہت مناسب تھا کیونکہ مجھ جیسے نوکری پیشہ لوگ پاکستان اچانک اسی وقت بھاگتے ہیں جب ان کا کوئی چاہنے والا یا تو قریب المرگ ہوتا ہے یا اچانک گزر گیا ہوتا ہے ۔

میں نے سلیم بھائی کو یقین دلایا کہ پاکستان میں سب خیریت ہے ۔

تو پھر میں اچانک پاکستان کیوں جانا چاہتا تھا۔ سلیم بھائی نے مجھ سے پوچھا۔

اس نوعیت کا سوال ایک ٹریول ایجنٹ کے منہ سے کچھ اچھا نہیں لگتا۔ ٹریول ایجنٹ کو تو بس ٹکٹ بیچنے سے مطلب ہونا چاہیے ۔ لوگ جتنی جلدی جلدی ادھر ادھر جائیں اتنا ہی ٹریول ایجنسی کے لیے اچھا ہے ۔ مگر سلیم بھائی سے دیرینہ شناسائی کی وجہ سے ان کو مجھ سے اس قسم کا سوال پوچھنے کا حق تھا۔

"میں فوری طور پہ پاکستان اس لیے جانا چاہتا ہوں کیونکہ میں یہاں اٹک نہیں جانا چاہتا۔"

"اس بات کا کیا مطلب ہے ، شہزادے ؟" سلیم بھائی نے بہت اطمینان سے پوچھا۔

"اس بات کا یہ مطلب ہے کہ مجھے فورا پاکستان پہنچا دو اس سے پہلے کہ جو جہاں ہے وہیں جم کر رہ جائے ۔" میں نے بھی اطمینان سے جواب دیا۔

"یار، تم کن پہیلیوں میں باتیں کر رہے ہو؟ صاف صاف بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو۔" اب سلیم جھنجھلا گیا تھا۔

میں نے سلیم بھائی کو یقین دلایا کہ اگر وہ مجھے فوری طور پہ پاکستان کا ایک ٹکٹ دلا دیں تو میں ان کے دفتر آ کر انہیں پوری بات سمجھا دوں گا۔

اور یوں مجھے اتوار کی رات سان فرانسسکو سے روانہ ہونے کا ٹکٹ مل گیا۔ ہونے والی بکنگ کے حساب سے میں منگل کی صبح کراچی پہنچ رہا تھا۔ میں نے بہت دم لگایا کہ مجھے ایسی پرواز مل جائے کہ میں پیر کے روز ہی کراچی پہنچ جاؤں مگر سلیم بھائی یہ کرشمہ نہ دکھا پائے ۔ وہی "تمام فلائٹیں بالکل بک چل رہی ہیں" والی بات سننے کو ملی۔

جس وقت میں سان فرانسسکو سے دبئی کے لیے روانہ ہوا اس وقت تک یہی خبر تھی کہ دنیا بھر کے تیل نکالنے والے ادارے پیر کی صبح لوگوں کو خوش خبری دیں گے ، اور "پیر کی صبح" کا وہ وقت ابھی کہیں نہ آیا تھا۔

 

جب جہاز دبئی میں اترا تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ مجھے اطمینان ہوا کہ اب اگر تیل کا آخری قطرہ بھی ختم ہو گیا اور دنیا بھر میں بچ جانے والے تیل کے ذخائر پہ ہر جگہ کی فوج نے قبضہ بھی کر لیا اور اس صورتحال میں شہری ہوا بازی اچانک ختم بھی ہو گئی تو میں کسی نہ کسی طرح دبئی سے کراچی پہنچ سکتا تھا۔ ہوائی جہازوں کی مکمل چھٹی ہو جانے کی صورت میں یا تو کوئی بادبانی کشتی مجھے دبئی سے کراچی پہنچا دے گی یا پھر میں خلیج فارس سے عراق اور پھر ایران سے گدھے یا گھوڑے پہ سواری کرتا ہوا واپس کراچی پہنچ جاؤں گا۔

 

اپنی کہانی یہاں تک لکھنے کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ آپ بقیہ بات کو آگے تک مکمل کر سکتے ہیں۔ کہ کس طرح تیل کے بچ جانے والے ذخائر "دفاعی ضروریات" کی مد میں استعمال کرنے کے فیصلے دنیا بھر میں کیے گئے تھے ۔ کس طرح ہوائی جہاز، بسوں، اور ٹرینوں کی آمد و رفت میں خلل واقع ہوا تھا۔ میری دبئی سے کراچی والی پرواز منسوخ ہو گئی تھی۔ دبئی کے ہوائے اڈے پہ دو دن گزارنے کے بعد مجھے اسلام آباد کی ایک پرواز میں چڑھایا گیا۔ پھر میں اسلام آباد سے کراچی سائیکل سے پہنچا تھا۔ اور میں نے اس پوری مدت میں انسانی درندگی اور ایثار کے ایسے ایسے نمونے دیکھے کہ جنہیں لکھنے کے لیے بہت وقت چاہیے ۔ میں کراچی پہنچا تو وہاں افراتفری کا عالم تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شہروں میں خوراک عنقا ہونے والی تھی۔ اور اسی لیے میں اپنے ماں باپ اور دو چھوٹی بہنوں کے ساتھ کراچی سے باہر نکل گیا۔ ہمارے پاس دو سائیکلیں تھیں۔ میں نے کچھ اور سامان کا انتظام کر لیا تھا کہ اپنے لیے ایک چھوٹی سی پون چکی بنا سکوں۔ ہم لوگ اپنے دور پرے کے ایک ایسے رشتہ دار کے پاس پہنچ گئے جن کے پاس پانچ ایکڑ کا ایک فارم تھا۔ اسی جگہ ہم نے اپنا کھانا اگا کر، اپنے لیے پانی صاف کر کے ، تھوڑی بہت بجلی بنا کر اپنا گزارا کیا ہے ۔ اور اب اس بات کو سال بھر ہونے کو آیا ہے ۔ اب جا کر دنیا توانائی کے اس اچانک بحران سے باہر نکل رہی ہے ۔ متبادل توانائی ذرائع پہ تیزی سے کام ہوا ہے ۔ مواصلات کا نظام پوری طرح بحال ہو گیا ہے ، جہاز بھی اڑنا شروع ہو گئے ہیں، لوگوں کو کھانا بھی مل رہا ہے ، مگر ہر شے گراں ہے اور سب سے خوش حال شخص وہ خیال کیا جاتا ہے جو خوراک اور توانائی کی اپنی ضروریات خود پوری کر سکے ۔