کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

زہر

علی حسن سمند طور


سرہانے پڑے الارم ریڈیو کی آواز سن کر رابعہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ یہ ریڈیو اس نے ایک روز پہلے ہی خریدا تھا اور رابعہ اس کی آواز کی عادی نہیں تھی۔ ریڈیو کی طرف غور سے دیکھنے کے بعد رابعہ پھر لیٹ گئی، اس نے ہاتھ بڑھا کر ریڈیو کی آواز گھٹا دی۔ اس وقت صبح کے چھ بجے تھے ۔ اگر وہ چھ بجے کے بجائے سوا چھ بجے بھی بستر چھوڑے تو باآسانی ناشتہ کر کے ، تیار ہو کر آٹھ بجے تک اپنی کلاس میں پہنچ سکتی تھی، رابعہ نے اپنے آپ کو سمجھایا۔ رابعہ بستر پہ پڑی چھ بجے کی خبریں سنتی رہی۔ کھڑکی پہ پڑا پردہ ہوا کے زور سے پھولا ہوا تھا اور کھڑکی سے آنے والی سمندر کی ہوا کمرے میں بھر گئی تھی۔ ریڈیو سے نشر ہونے والی خبروں میں رابعہ کے لیے سب سے دلچسپ خبر ایک شہابچے سے متعلق تھی۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ایک شہابچہ جو مکمل طور پہ منجمد شورے کے تیزاب پہ مشتمل تھا چند ہفتوں میں زمین سے صرف ڈیڑھ لاکھ میل کے فاصلے سے گزرے گا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ کئی ممالک کے سائنس دان اس شہابچے پہ مستقل نظر رکھے ہوئے تھے کیونکہ اس زہریلے جسم فلکی کا زمین سے اس قدر قریب سے گزرنا بہت خطرناک تھا۔ اگر یہ شہابچہ زمین کی کشش ثقل میں آ کر زمین کی فضا میں داخل ہو گیا تو تیزاب سے بنا یہ بھاری ٹکڑا ذرا سی دیر میں بخارات بن کر پوری دنیا کی فضا کو زہر آلود کر دے گا۔ اگر ایسا ہوا تو ہوا میں گھلنے والا یہ زہر زمین پہ بسنے والی ہر قسم کے حیاتی نمونے کو موت کی نیند سلا دے گا۔ ریڈیو پہ خبریں ختم ہوئیں اور گانے شروع ہو گئے ۔ مگر رابعہ زہریلے شہابچے کے متعلق سوچتی رہی۔ کیا واقعی یہ تیزابی شہابچہ زمین سے ٹکرا جائے گا؟ رابعہ نے اپنے آپ سے سوال کیا۔

ایسا بعید القیاس ہے ۔ یہ جسم فلکی تو ڈیڑھ لاکھ میل کے فاصلے سے گزرے گا۔ ہمارے عہد کے یہ سائنس دان کچھ کچھ دنوں بعد یونہی دنیا والوں کو پریشان کرتے رہتے ہیں، اس نے اپنے آپ کو سمجھایا۔

رابعہ نے کچھ دیر بعد گھڑی کی طرف دیکھا۔ سوا چھ بج چکے تھے ۔ وہ جمائی لیتی ہوئی اٹھی اور کالج کے لیے تیار ہونے لگی۔

رابعہ ٹھیک وقت پہ کالج پہنچ گئی۔ آٹھ بجے والی کلاس کے بعد اس کے پاس ایک گھنٹہ خالی تھا۔ پھر فلکیات کی کلاس تھی۔ رابعہ نے وقفے کا ایک گھنٹہ لائبریری میں گزارا اور پھر فلکیات کی کلاس میں پہنچ گئی۔ فلکیات کے پروفیسر کو تیزابی شہابچے میں گہری دلچسپی تھی۔ کلاس کے پورے دورانیے میں اسی متعلق گفتگو ہوتی رہی۔ کس درجہ حرارت پہ شورے کے تیزاب کی کثافت کیا ہوتی ہے اور اس شہابچے میں کس قدر تیزاب موجود تھا؟ جس وقت یہ شہابچہ زمین کے پاس سے گزر رہا ہو گا اس وقت دوسرے اجسام فلکی کہاں کہاں ہوں گے اور ان کی باہمی کشمکش شہابچے پہ کس طرح سے اثر انداز ہو گی؟ اسی نوعیت کے تجزیوں میں کلاس کا پورا وقت نکل گیا۔

فلکیات کی کلاس کے بعد رابعہ کی چھٹی ہو گئی۔ وہ گھر آ گئی۔

جیسے جیسے دن گزرتے گئے زہریلے شہابچے کا شور بڑھتا گیا۔ ہر روز اخباروں اور رسائل میں اس متعلق کئی مضامین ہوتے ۔ ماہرین فلکیات ٹی وی پہ اس متعلق بحث کرتے نظر آتے ۔ دنیا بھر کی رسد گاہوں میں کام کرنے والے سائنس دان اس جسم فلکی پہ نظر رکھے ہوئے تھے ۔

چند ہفتوں کے بعد سائنس دانوں نے ایک اور تشویشناک خبر دی۔ زہریلا شہابچہ اب زمین سے ڈیڑھ لاکھ میل کے فاصلے سے نہیں بلکہ صرف اسی ہزار میل کے فاصلے سے گزرے گا۔ یہ پیش رفت بہت خطرناک تھی۔ اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا تھا کہ زمین کی کشش شہابچے کو اپنی طرف گھسیٹ لے گی اور شہابچہ زمین کے مدار میں داخل ہو جائے گا۔

اب ہر محفل میں لوگ اس متعلق ہی باتیں کرتے نظر آتے ۔ بہت سے دین دار لوگوں کا خیال تھا کہ قیامت سر پہ کھڑی تھی۔ یہ مذہبی لوگ اب اور زور و شور سے عبادت میں مشغول ہو گئے تھے ۔ دنیا بھر کے سائنس دان اس قدرتی آفت سے بچنے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے ۔ کیا زمین سے ایسے خلائی جہاز بھیجے جائیں جو شہابچے کو ایٹمی ہتھیاروں سے تباہ کرنے کی کوشش کریں؟ کیا ایسی کوشش کامیاب ہو گی؟ شہابچے کو زمین سے کتنے فاصلے پہ تباہ کرنے کی کوشش کی جائے ؟ کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ شہابچہ تو تباہ ہو جائے مگر دھماکے سے نکلنے والا ایٹمی فضلہ رفتہ رفتہ زمین کی کشش میں آ جائے گا؟ ایسی صورت میں ایٹمی فضلہ ہمارے سروں پہ برسا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے ؟

پھر اخباروں میں یہ تجزیے شائع ہونے لگے کہ اگر شہابچہ زمین سے ٹکرا گیا تو کیا ہو گا۔ شورے کا تیزاب کس طرح ہوا میں حل ہو گا۔ پھر وہی فضا جو زندگی کی پالن ہار ہے ہماری موت کا سامان بن جائے گی۔ ایک پر مغز تجزیے میں بتایا گیا تھا کہ شہابچے کے زمین سے ٹکرانے کے دو دن کے اندر زمین پہ بسنے والے سارے انسان اور جانور مر جائیں گے ۔ سمندری حیات کچھ دن تو پانی میں گھلی آکسیجن سے کام چلائے گی مگر پھر وہ بھی فضا میں موجود تیزاب کی مار کھانے لگے گی۔ ہفتے دو ہفتے میں ہر طرح کی سمندری حیات بھی ختم ہو جائے گی۔ اگر اسی وقت خلا سے کوئی مخلوق زمین پہ آئے تو اسے شہر شہر، بستی بستی، قریہ قریہ انسانوں اور جانوروں کی لاشیں بکھری ہوئی ملیں گی۔

اب ہر طرف اس ناگہانی آفت سے بچنے کی ترکیبیں کی جا رہی تھیں۔ ٹی وی پہ ایسے ماسک کے اشتہارات آنے لگے جن کو لگانے سے انسان کی جان بچ سکتی تھی۔ وہ ماسک دھڑا دھڑ بکنے لگے ۔ مگر پھر معتبر سائنس دانوں کی طرف سے اخبارات میں تردید شائع ہوئی کہ کسی قسم کا ماسک لگانا محض ایک وقتی حل تھا۔ شہابچے میں اس قدر تیزاب تھا کہ وہ دنیا کی فضا کو مکمل طور پہ آلودہ کر دے گا اور کسی قسم کا بھی ماسک کچھ ہی دیر میں بے کار ہو جائے گا۔ مسئلے کا بہتر حل یہی تھا کہ شہابچے کو زمین کی فضا میں داخل ہونے سے ہی روک دیا جائے ۔ پھر سائنس دانوں کا ایک اور گروہ اور طرح کی تراکیب سوچنے لگا۔ اس متعلق گفتگو ہونے لگی کہ تیزابی شہابچے کو زمین سے باہر تباہ کرنے کی کوششوں کے ساتھ حیاتی نمونوں کو دنیا سے برآمد کر کے ایسی جگہ لے جایا جائے جہاں زندگی نئے سرے سے شروع کی جا سکے ۔ ترکیب یہ تھی کہ ایک خلائی جہاز نوح بنایا جائے جس میں زندگی کے چیدہ چیدہ نمونے بھر کر اس جہاز کو زمین سے باہر بھیج دیا جائے ۔ مگر زمین سے باہر کہاں؟ نئی بستی بسانے کے لیے کس سیارے ، کس چاند کا انتخاب کیا جائے ؟ کیا ہمارے پاس اتنا وقت تھا کہ ایسی کسی بستی کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کر سکیں؟

اور اسی دوران ان حالات کے بارے میں سوچتے ہوئے رابعہ کو اپنی بے چارگی پہ بہت غصہ آیا۔ اس کی عمر صرف انیس برس تھی۔ یہ وہ وقت تھا کہ رابعہ زندگی کے مزے اٹھاتی۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کے سپنوں کا شہزادہ ایک روز آئے اور اسے گھوڑے پہ بٹھا کر اپنے ساتھ لے جائے ۔ اور وہ دنیا کی سیر کرنا چاہتی تھی۔ جن ممالک، جن خطوں کا حال وہ کتابوں میں پڑھتی تھی، ان جگہوں پہ جا کر وہ وہاں رہنے والوں کا مشاہدہ کرنا چاہتی تھی۔ مگر اب اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا تھا کہ رابعہ کے یہ سارے ارمان اس کی عنقریب ختم ہونے والی زندگی کے ساتھ گھٹ کر مر جائیں گے ۔ اپنے حالات پہ غصہ ہونے کے بعد وہ اپنے اوپر ترس کھانے لگی۔ اس نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ اور اسی آہ و زاری کے دوران بہت دور سے گھنٹی کی ایک آواز آئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔

رابعہ کی آنکھ کھل گئی۔ اف، کس قدر بھیانک خواب تھا۔ رابعہ بستر پہ پڑی پڑی اس خواب کے متعلق سوچنے لگی۔ اس نے شکر کیا کہ وہ زندہ تھی اور مستقبل قریب میں کوئی زہریلا شہابچہ زمین کی فضا کو زہر آلود نہیں کرنے والا تھا۔ رابعہ نے زور کا سانس لیا تو ہوا میں موجود ایک خاص قسم کی بو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ ان دنوں رابعہ چھٹیاں منا رہی تھی۔ الارم اس نے اس وجہ سے لگایا تھا کہ وہ صبح اٹھ کر ساحل سمندر پہ جا سکے ۔ وہاں اسے ایک اہم کام سے جانا تھا۔ رابعہ ہمت کر کے بستر سے اٹھ گئی۔ غسلخانے میں جا کر چند چھینٹے منہ پہ مارنے کے بعد وہ ساحل سمندر کی طرف نکل کھڑی ہوئی۔ جیسے جیسے رابعہ ساحل کے قریب پہنچ رہی تھی ویسے ویسے فضا میں تیل کی بو بڑھتی جا رہی تھی۔ اور وہ بو اس وجہ سے تھی کہ تیل لے جانے والا ایک جہاز کراچی کی بندرگاہ کے قریب اتھلے پانی میں پھنس گیا تھا۔ پہلے اس جہاز میں کئی جگہ سوراخ ہوئے اور ان سوراخوں سے تیل رسنا شروع ہو گیا۔ اور صرف ایک روز پہلے جہاز دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ جہاز میں لدا تمام کثیف تیل سمندر کے پانی میں مل گیا تھا۔ رابعہ دوپٹے سے ناک بند کیے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ سمندر کا پانی تیل کی ملاوٹ سے سیاہ پڑ گیا تھا۔ وہ مچھلیاں جو اپنے ماحول میں زہر کی ملاوٹ سے ہراساں تھیں، اب اس زہر سے شکست کھا کر دم توڑ گئیں تھیں۔ رابعہ ایک جگہ جھک کر تیل میں لتھڑی ان مردہ مچھلیوں کا معائنہ کرنے لگی جو ساحل پہ قطار سے پڑی تھیں۔