کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہر کام وقت پہ

علی حسن سمند طور


آج دفتر سے گھر کی طرف واپس جاتے ہوئے میں ذیشان سے اپنی دیرینہ دوستی کے بارے میں  سوچ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ زندگی کس قدر تیزی سے گزر جاتی ہے ۔ یہ کل کی بات معلوم دیتی ہے کہ ذیشان اور میں محلے کے اسکول میں ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔ ذیشان کا پورا نام ذیشان نور صدیقی تھا اور ان دنوں بچے ذیشان کو اسی طرح اس کے پورے نام سے پکارتے تھے ۔ شام کے وقت میں ذیشان کو کھیلنے کے لیے بلانے اس کے گھر جا کر گیٹ کی کنڈی کھٹکھٹاتا اور زور سے آواز لگاتا، "ذیشان نور صدیقی۔" اس آواز پہ سب سے پہلے ذیشان کی ماں جھانک کر باہر دیکھتی اور پھر کچھ ہی دیر بعد ذیشان کھیلنے کی پوری تیاری کے ساتھ باہر نکلتا۔

ذیشان طبیعت میں مجھ سے بہت مختلف تھا۔ وہ ہر کام وقت پہ بلکہ اکثر و بیشتر وقت سے پہلے ہی کر لیا کرتا تھا۔ میں کبھی ٹھیک وقت پہ اسکول نہ پہنچ پایا جب کہ ذیشان اسکول کا گھنٹہ بجنے سے پانچ دس منٹ پہلے ہی وہاں پہنچا ہوتا۔ ذیشان اسکول سے ملا ہوا کام بھی وقت سے پہلے مکمل کر کے جمع کرا دیا کرتا تھا۔

میرے متعلق شاید یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ میرا دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شروع ہی سے میری طبیعت ایسی تھی کہ میں کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں کرتا تھا اور وقت کی پابندی تو مجھے بہت ہی بری لگتی تھی۔ میں ہر کام اپنی مرضی سے ، اپنے حساب اور اپنی سہولت سے کرنا چاہتا تھا۔

میٹرک کے امتحان میں ذیشان نے بہت اچھے نمبر حاصل کیے ۔ میری کارکردگی بھی اتنی بری نہیں رہی۔ نمبروں میں کسی قدر ذیشان سے پیچھے رہ جانے کے باوجود میرا داخلہ بھی اس کالج میں ہو گیا جہاں ذیشان کا داخلہ ہوا تھا۔ اسکول کی طرح کالج میں بھی ذیشان نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہاں بھی وہ ہر کام باقی طلبا سے پہلے کر لیا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح ریاضی کا مطالعہ کرتے ہوئے میں بہت مشکل سے چوتھائی کتاب ختم کر پایا تھا کہ ذیشان نے مجھے خبر دی کہ وہ اپنے گھر پہ آنے والے ایک رشتہ دار کی مدد سے پوری کتاب ختم کر چکا تھا اور اب اسباق کو دہراتا ہوا چوتھائی کتاب تک پہنچا تھا۔ پہلے سال کے امتحان کے بعد جب میں تھک چور کر آرام کر رہا تھا تو ذیشان دوسرے سال کی کتابیں ختم کرنے میں لگا ہوا تھا۔

انٹر کے امتحان میں بھی ذیشان نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس کا داخلہ شہر کے بہترین انجینئیرنگ کالج میں ہو گیا۔ اب کی بار میں ذیشان سے بہت پیچھے رہ گیا اور بہت تگ و دو کے بعد ایک پولی ٹیکنک میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوا۔ ذیشان اور میں الگ الگ درس گاہوں میں پڑھ رہے تھے مگر ایک محلے میں رہنے کی وجہ سے اب بھی باقاعدگی سے ملا کرتے تھے ۔ اس وقت تک میری طبیعت پڑھائی سے اچاٹ ہو چکی تھی۔ اب میری پوری کوشش ہوتی کہ نصاب کی کتابیں صرف اس قدر پڑھوں کہ امتحان پاس کر لوں۔ کسی قسم کی شاندار کامیابی حاصل کرنے کی خواہش میرے اندر موجود نہ تھی۔ یہی وہ وقت تھا کہ میں نے ادھر ادھر کی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ سلسلہ ابن صفی کی جاسوسی کتابوں سے شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے سنجیدہ ادب تک پہنچ گیا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ذیشان انجینئیرنگ کے آخری سال میں تھا تو ایک دن چند کاغذات ہاتھ میں لیے میرے پاس آیا تھا۔

"کیا تم نے آئی ٹوئنٹی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ؟ کیا تمھاری آئی ٹوئنٹی آنے والی ہے ؟" ذیشان نے مجھ سے پوچھا۔

"یہ آئی ٹوئنٹی کیا ہوتی ہے اور یہ کہاں سے آتی ہے ؟" میں نے بے ساختہ پوچھا۔

میری اس بات پہ ذیشان کے چہرے پہ ایسے تاثرات ابھرے کہ جیسے اسے میری جہالت پہ دلی افسوس ہوا ہو۔

ذیشان نے مجھے وہ کاغذات دکھائے جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ اس کا داخلہ امریکہ کی ایک اچھی جامعہ میں ہو گیا تھا۔ ساری کاغذی کاروائی مکمل ہو چکی تھی۔ امتحان کا آخری پرچہ دینے کے بعد ذیشان کو فورا امریکہ کوچ کر جانا تھا۔ میں ایک دفعہ پھر ذیشان سے بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ مگر ذیشان میرے لیے مشعل راہ تھا۔ میں نے اسی وقت ذیشان سے امریکہ میں داخلہ لینے کا پورا طریقہ کار سمجھا۔ پولی ٹیکنک سے پڑھنے کے بعد امریکہ جانا کسی قدر مشکل تھا مگر نا ممکن نہ تھا۔

انجئنئیرنگ کا آخری امتحان دینے کے بعد ذیشان حسب ارادہ و منصوبہ امریکہ روانہ ہو گیا۔ میں کافی عرصہ کراچی میں ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا۔ مگر میں بھی ڈھیٹ تھا۔ ایک پرانی گاڑی کی طرح ہانپتا کانپتا ہر جگہ پہنچ ہی جاتا تھا۔ میں بھی ذیشان کے پیچھے پیچھے امریکہ پہنچ گیا۔ جس وقت میں نے ایک کمیونٹی کالج میں پڑھائی شروع کی اس وقت ذیشان انجینئیرنگ میں ایم ایس کی سند حاصل کرنے والا تھا۔ اور انہیں دنوں اس کی شادی بھی ہو گئی۔ اس نے مجھے فون پہ بتایا کہ پڑھائی ختم کرنے سے پہلے شادی کرنے کے پیچھے یہ مصلحت تھی کہ اسٹوڈینٹ ویزا پہ بیوی فورا امریکہ آ سکتی تھی جب کہ دوسری طرح کے ویزوں پہ مشکلات تھیں۔ جیسے تیسے پڑھائی ختم کرنے کے بعد جب تک میں امریکہ میں ملازمت تلاش کرتا، ذیشان کے گھر ایک بچہ بھی ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کے ساتھیوں میں ذیشان پہلا لڑکا تھا جس کے گھر بچہ ہوا تھا۔

ذیشان اور میں دو مختلف شہروں میں تھے ، مگر یہ اس کی بڑائی تھی کہ وہ فون پہ مجھ سے مستقل رابطہ رکھتا تھا۔ اسی کی زبانی مجھے اپنے دوسرے پرانے ساتھیوں کی شادیوں اور ان کے گھر ہونے والے بچوں کے متعلق خبریں ملتیں رہیں۔ میں طبیعتاً آوارہ تھا اس لیے ازدواجی زندگی کی ذمہ داری سے بھاگتا رہا۔ مگر ایک دفعہ جب میں اپنے والدین سے ملنے کراچی گیا تو مجھے پکڑ کر میری بھی شادی کر دی گئی۔

اپنی بیوی شازیہ کو امریکہ لانے میں مجھے بہت سے مسائل درپیش آئے مگر کئی سالوں کے انتظار کے بعد وہ بالاخر امریکہ پہنچ ہی گئی۔ شازیہ کے امریکہ پہنچنے پہ ہم دونوں امریکہ کی سیر کے لیے نکلے ۔ ہم بیس دن کے سفر کے بعد نیویارک پہنچے اور پھر شمالی ریاستوں سے ہوتے ہوئے واپس ٹیکسس پلٹے ۔ اسی سفر میں ہم ذیشان کے گھر بھی ٹھہرے ۔ اس وقت تک ذیشان کے تین بچے ہو چکے تھے ۔ وہ بچے اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ میں انہیں دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ ذیشان ایک دفعہ پھر مجھے سے بہت آگے نکل گیا تھا۔ رات کے کھانے کے بعد ذیشان اور میں بہت دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ ذیشان کی خواہش تھی کہ بچوں کو ایک حد تک امریکہ میں تعلیم دلانے کے بعد انہیں پاکستان لے جایا جائے تاکہ وہ روایتی پاکستانی گھرانے کے آداب سے واقف ہو سکیں۔ مستقبل میں بہت آگے تک ذیشان کے منصوبے بہت پختہ تھے ۔ بڑا لڑکا کب کالج پہنچے گا۔ لڑکی کی شادی کب کرائی جائے گی۔ ذیشان ریٹائرمنٹ کے بعد سوشل سیکیورٹی کی رقم سے کس طرح پاکستان میں گزرا کرے گا۔ غرض کہ زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جو اس کے خیال اور تجزیے سے محروم رہا ہو۔ اور اس کے مقابلے میں میری زندگی تھی، الل ٹپ۔ ذیشان کی منصوبہ بندی دیکھ کر میں اپنے آپ کو لعنت ملامت کرتا رہا کہ میں اس قدر لا ابالی کیوں ہوں، مگر پھر میں نے اپنے آپ کو اس خیال سے بہلا لیا کہ ذیشان دنیا کے ان معدودے خاص لوگوں میں ہے جو ہر کام کو وقت پہ اور مکمل منصوبہ بندی سے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب کہ میں ایک عام آدمی ہوں کہ کہ جس طرف حالات کا تھپیڑا لے چلتا ہے ، چل پڑتا ہوں۔ اس خیال میں یہ طمانیت تھی کہ میں تنہا نہیں ہوں بلکہ دنیا کے اکثر لوگ میری طرح کے بے وقوف اور غیر منتظم ہیں۔

امریکہ کی اچھی طرح سیر کرنے کے بعد میں واپس اپنی نوکری پہ پہنچ گیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ شازیہ کو بھی رفتہ رفتہ امریکہ سمجھ میں آگیا۔ اس نے ڈرائیوری سکھانے والے ایک اسکول میں ملازمت کر لی۔

وقت گزرتا گیا۔ پھسلتی ریت کی طرح ماہ و سال ہاتھوں سے نکلتے رہے ۔ ایک دن ذیشان کا فون آیا کہ وہ حسب منصوبہ پاکستان منتقل ہو رہا تھا۔ اس نے امریکہ میں اپنا گھر بیچ کر کراچی میں ایک گھر خریدا تھا اور باقی رقم اپنے بہنوئی کے ساتھ ایک کاروبار میں لگا دی تھی۔ ذیشان پاکستان چلا گیا اور میری زندگی امریکہ میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے گزرتی رہی۔ میں ہر سال دو سال سردیوں میں پاکستان ضرور جاتا تھا۔ اور جب بھی میں وہاں پہنچتا تو میری ملاقات ذیشان اور اس کے گھر والوں سے لازما ہوتی۔ ذیشان پاکستان میں بہت زیادہ خوش تو نہیں تھا مگر وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کے خیال سے وہیں رہنا چاہتا تھا۔

میں پچھلی سردیوں میں تین سال کے وقفے کے بعد پاکستان گیا تھا۔ کراچی پہنچنے کے دوسرے دن ہی میں ذیشان سے ملنے گیا۔ بظاہر وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہٹا کٹا نظر آیا تھا۔

مگر اگلے روز صبح ہی صبح مجھے ذیشان کے چھوٹے لڑکے نعمان کا فون موصول ہوا۔ نعمان اسپتال سے بات کر رہا تھا۔ ذیشان کا انتقال ہو چکا تھا۔ میں نعمان کی یہ بات سن کر سکتے میں آگیا۔

"کیسے ؟ کیوں؟" میں نے غیر یقینی سے پوچھا۔ نعمان نے بتایا کہ ذیشان معمول کے مطابق فجر کی نماز کے لیے بہت سویرے اٹھا تھا مگر بستر سے کچھ ہی دور جا کر گر گیا۔ ذیشان کی بیوی بھاگی بھاگی وہاں پہنچی اور اس نے ذیشان کو اٹھانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو پائی۔ اس نے آواز دے کر بچوں کو بلا لیا۔ ذیشان کے دونوں لڑکوں نے کسی طرح باپ کو اٹھا کر بستر پہ ڈالا۔ وہ مستقل ذیشان کو آوازیں دیتے رہے مگر ذیشان نے کوئی جواب نہ دیا۔ انہوں نے فون کر کے ایمبولینس کو بلا لیا۔ کچھ ہی دیر میں ایمبولینس آ گئی اور وہ ذیشان کو لے کر اسپتال پہنچ گئے ۔ اسپتال کے ہنگامی وارڈ میں ذیشان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے ذیشان کے گھر والوں کو بتایا کہ ذیشان کو مرے ہوئے پینتالیس منٹ سے زیادہ ہو چکے تھے ۔ یہ بات سن کر ذیشان کا بڑا لڑکا سلمان ہذیانی آواز میں چیخیں مارنے لگا۔

"تم اتنے آرام سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے ؟ ارے ، ابھی کچھ دیر پہلے تو یہ زندہ تھے ۔ دیکھو، ان کا جسم اب تک گرم ہے ۔ کوئی سی پی آر کرو، کوئی بجلی کے جھٹکے دو، دیکھو، یہ ابھی اٹھ بیٹھیں گے ۔"

وہ جونئیر ڈاکٹر سلمان کے ڈرانے دھمکانے میں آگیا۔ ذیشان کی لاش کو بجلی کے کئی جھٹکے دیے گئے ۔ ہر دفعہ بجلی کا جھٹکا دینے پہ لاش ریگزین کے بستر سے چند انچ اوپر اٹھی اور پھر ایک بھاری پتھر کی طرح دھم سے واپس بستر پہ گر گئی۔

ذیشان کو موت کے اندھیرے چنگل سے نکال کر زندگی کی روشنی میں لانے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔

یہ سارا حال سننے پہ میں فورا اسپتال پہنچ گیا۔ میں صدمے میں تھا مگر میں نے ہر ممکن کوشش کر کے اپنے آپ کو سنبھالے رکھا اور ذیشان کی بیوی اور تینوں بچوں کو دلاسہ دیا۔ ہم ذیشان کی لاش گھر لے آئے ۔ اس وقت تک ذیشان کے دوسرے رشتہ دار بھی گھر میں جمع ہو چکے تھے ۔ بڑے بوڑھوں کے مشورے کے مطابق عصر کے بعد تدفین ہو گئی۔

قبرستان سے واپس گھر آتے ہوئے ذیشان کے ساتھ گزرنے والا ایک ایک لمحہ فلم کی کسی ٹکڑے کی طرح میری نظروں کے سامنے دوڑ رہا تھا۔ موت کے وقت ذیشان کی عمر باون سال تھی۔ پاکستان میں مردوں کی اوسط عمر بھی یہی ہے ۔