کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ابابیلیں

نجمہ ثاقب


یہ کون لوگ ہیں ؟ کدھر کو جاتے ہیں ؟ جبکہ ان کی جبینوں کا نور ان کی پیشانیوں سے ڈھلکا جاتا ہے۔

یہ مہر و ماہ کی ٹکڑیاں جُڑے خاک بسر وجود کس کے ہیں ؟

کہ جن پر خوشبو یوں لپکتی ہے گویا بدن صندل کے برادے سے گندھے ہوں اور نقشین اطلس و دیبا سے انھیں سنوارا گیا ہو۔

شاخ وقت سے اُترے یہ پتی پتی بکھرے گلاب کیسے ہیں ؟ جن کی ہر ہر پنکھڑی پر تتلیوں نے وفا کی وہ ان کہی داستانیں کاڑھی ہیں جنھیں کہنے کی نطق کو تاب نہیں۔

یہ صدیوں پُرانے وہ ان چھوئے نوشتے ہیں جنھیں تاریخ کی کہنہ دیمک نے چاٹ لیا ہے۔ جن پر اپنوں کی اجنبیت، بے گانگی اور بے حسی کی دبیز تہہ جم گئی ہے اور جنھیں اب صرف اہلِ دل ہی پڑھ سکتے ہیں۔

احسن عزیز نے دمِ رخصت دنیا کو کس زور سے ٹھوکر رسید کی ہو گی؟ عذرا کی پلکوں پر ہمیشگی کے خواب کس شدت سے لرزے ہوں گے؟ احسن کے بدن سے خوشبو کی پھریری کیسے گزری ہو گی؟

اور عذرا کے لبوں پر ناز کی کا خرام کیا ہو گا؟

میں کیا جانوں ؟

میں جو بونوں کی بستی میں رہتی ہوں۔

اُس مقام کا ادراک کیسے پاؤں۔ جہاں فرشتوں کے بھی پَر جلتے ہیں۔ میرے ذہن کے دھندلے افق پر کچھ مناظر کھٹا کھٹ اُبھر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا اولڈ گرلز کیمپس ہے۔ کینٹین کے سامنے گڑے سنگی بنچوں پر ایک نوخیز لڑکی بیٹھی ہے۔ اُسے جامعہ میں آئے چند ہی دن ہوئے ہیں۔ مگر یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ عرصہ سے یہاں آ رہی ہے۔ میں وہاں سے شاید کنی کترا کر گزر جانا چاہتی ہوں۔ مگر ایک آواز میرے قدموں کو زنجیر کرتی ہے۔

نجمہ باجی! آج چھٹی کلاس کے بعد ہال میں درسِ قرآن ہے۔ آپ کو زہرا باجی نے بتایا تھا ناں ؟

ہاں مجھے یاد ہے۔ مجھے کہنا پڑتا ہے۔

باقی لوگوں کو بھی بتا دیجیے گا۔ گویا مجھے شرکت کا پابند بنایا جا رہا ہے۔

میں سر ہلا کر آگے بڑھ جاتی ہوں۔

پھر اگلا منظر اُبھرتا ہے۔

میں زہرا ترابی کے ساتھ اُس کی گاڑی میں لاہور سے واپس آتی ہوں۔ رات ہوسٹل میں جانے کے بجائے اس کے گھر واقع ۱۰/۱میں ٹھہر جاتی ہوں۔ صبح عذرا مجھے بروقت جگاتی ہے۔

جلدی تیار ہو جائیے ورنہ بس نکل جائے گی۔

میں اُس کے ہاتھوں کا بنا ناشتہ کرتی ہوں۔ وہ مجھ سے باتیں بھی کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ کمرے کی چیزیں بھی ٹھیک کرتی جاتی ہے۔

’’تم نہیں جاؤ گی؟‘‘ میں پوچھتی ہوں۔

نہیں۔ امی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ زہرا باجی کو لے جائیے۔ میں گھر پر ٹھہر جاتی ہوں۔

پھر ایک اور منظر کھٹ سے سامنے آتا ہے۔

یہ ایک درمیانہ درجہ کا شادی ہال ہے۔ شام کا وقت ہے۔ پروفیسر الیف الدین ترابی کے بڑے بیٹے کی دعوت ولیمہ ہے۔ احباب جمع ہیں۔ یونیورسٹی سے عذرا اور زہرا کی مشترکہ سہیلیاں بھی مدعو ہیں۔ماحول پر مجموعی طور پر سادگی کا تاثر ٹھہر گیا ہے۔

ہم ایک طرف بیٹھے آنے جانے والوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔

عذرا اور زہرا خدیجہ باجی کی نسبت زیادہ سادہ ہیں،

کسی نے کہا تھا۔

عائشہ کو بھی جیولری وغیرہ سے دیگر لڑکیوں کی طرح خاصی دلچسپی ہے۔ قریب سے ایک اور آواز آتی ہے۔

عذرا مسکراتی ہوئی ہماری طرف آتی ہے۔

اپنے مخصوص انداز میں عینک ناک پر ٹکائے وہ ہم سے استفسار کر رہی ہے۔

’’آپ لوگ ٹھیک بیٹھے ہیں ناں ؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ؟‘‘

اور یہ ایک آخری تصویر جیسے چوکھٹے پر ٹھہر گئی ہے۔

یونیورسٹی ہی کا سبزہ زار ہے۔ ہمجولیوں میں کھسر پھسر ہو رہی ہے۔

’’عذرا کی شادی ہے۔‘‘

’’ایں ! اتنی جلدی…؟ ابھی تو اس کا پہلا سال بھی مکمل نہیں ہوا۔‘‘

’’بھئی ابھی تو وہ بہت چھوٹی ہے۔‘‘ یہ میں نے زہرا سے کہا تھا۔

’’ہاں۔ مگر ابو نے ہم دونوں کے رشتے طے کر دیے ہیں۔ شادی بھی جلدی ہو گی۔ تم نے فلاں فلاں لڑکی کا عبایا دیکھا ہے ناں۔ ہم جہیز میں اُسی طرح کے عبایا سلوانا چاہتی ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘

مگر میری توجہ زہرا سے زیادہ اُن بھنبھناہٹوں پر لگی ہوئی تھی جو عذرا کی خوش قسمتی کے تذکروں سے لتھڑی رشک کے جذبوں سے لبریز تھیں۔

’’عذرا کی شادی احسن عزیز سے ہو رہی ہے۔‘‘

’’احسن عزیز…؟؟‘‘

’’ہاں ہاں نوشابہ عزیز کا بھائی۔‘‘

’’ارے یہ وہی احسن عزیز تو نہیں جو نظمیں کہتا ہے؟‘‘

’’اچھا اچھا۔ میرے ایمان کے ساتھی والی دلپذیر نظم کا خالق احسن عزیز۔‘‘

’’بھئی اس کی کتاب ہم نے پڑھی تو تھی۔ کیا بھلا سا نام ہے۔‘‘

’’تمھارا مجھ سے وعدہ تھا۔‘‘

اور ہم میں سے سب سے زیادہ خوش الحان اکثر اونچی آواز میں گنگنایا کرتی تھی۔

مرے ایمان کے ساتھی!

تجھے تو یاد ہی ہو گا

کہ ہم نے مصحفِ قرآن میں سورہ دہر پڑھ پڑھ کر

اس بستی کے نقشوں کو ان آنکھوں سے تلاشا تھا

تمھی نے تو کہا تھا ہاں

کبھی سرما کی راتوں میں

محاذوں پر بھی جاؤ گے

تم اس جنت کے چشموں کو ان آنکھوں میں بساؤ گے

اندھیری رات جب آئے

تو سرمشعل بناؤ گے

پھر عذرا بی اے ادھورا چھوڑ کے چلی گئی اور سارے مناظر ایک ایک کر کے ساکت ہوتے گئے۔ ذہنی افق پر کٹے رابطوں، نادیدہ مصروفیتوں، زمینی دوریوں اور بشری بے حِسیوں کی گدلی گدلی دھُند چھاتی رہی اور میری زندگی کے ۱۵  خوبصورت برسوں کو کھا گئی۔

دیوسائی کی سی اس ٹھنڈی دھند میں راستہ اس وقت بنا جب عید سے چوتھے روز میرے فون پر ایک پیغام روشنی کی لکیر بن کر جگمگا رہا تھا۔

’’عزیز بیٹی عذرا ترابی شہید اور عزیز بیٹے احسن عزیز شہید کی غائبانہ نمازِ جنازہ ۱۰/۱کی مسجد سلمان فارسی میں بعد از نمازِ جمعہ ادا کی جائے گی۔ اللہ شہادت قبول فرمائے۔‘‘

اور میرا ہاتھ خودکار مشین کی طرح فون کے بٹنوں کو دباتا چلا گیا۔

عذرا کے والد، کشمیر المسلمہ کے ایڈیٹر پروفیسر الیف الدین ترابی… وہ بوڑھا شیر… جس کی زندگی کشمیر میں باطل سے نبرد آزما جہادی قوتوں کی آبیاری میں گزر گئی۔ جس کا ہاتھ جنگ کی مہیب بھٹیوں میں پھٹکے، جھلسے جوانوں کے سروں پر دستِ شفقت بنا رہا۔ جس نے اپنے قلم کی نوک سے اُن کی راہوں میں بِکھرے خار مغیلاں کو ایک ایک کر کے چُنا اور نتیجہ میں وہ سارے نوحے اپنے دلِ فگار میں اُتار کر کسی متاع کی طرح سمیٹے بیٹھا ہے۔ جو کشمیر کاز کو سبوتاژ کرنے والوں کے گرسنہ عزائم اور اندھے مفادات سے عبارت ہیں۔

وہ اس وقت بیٹی کی قربانی پر حوصلہ کی سنگی چٹان بنا راہ گم کردہ لوگوں کے لیے ’’پہاڑی کاچراغ‘‘ ہے۔ جس کی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی میں اب عذرا کے لہو کا دیا جلتا ہے۔

عذرا کی ماں … آج سے نہیں … سالہا سال سے دل کی مریضہ ہے۔ جس کا میکہ اس سے اُس وقت بچھڑا جب اس نے شوہر سے وفا کا رشتہ قائم رکھتے ہوئے خونی لکیر کو عبور کیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں اُس کے خون کے سارے بندھن بیوہ کی آہوں کی طرح اُس سے آن ملنے کو کُرلاتے ہیں اور وہ جُدائی کی دہلیز پر کھڑی اپنی ساری یادوں کو کسی سوغات کی طرح باندھے آنے جانے والوں میں عذرا کا وہ آخری خط بانٹ رہی ہے جس میں اُس نے آزمائش پر صبر اور اللہ سے جڑے رہنے کی تاکید کے ساتھ چند دعائیں لکھ کر بھیجی ہیں۔ جو ہاتھ میں تسلی اور صبر کی لاٹھی تھماتی ہیں۔

اُسے وطن سے دور، گولہ بارود کی بدبو میں، خاک اُڑاتے مٹی کے بگولوں کے درمیان ماں کا خیال ہے۔ اُسے اس جدائی کا ملال نہیں جو اس نے اپنی مرضی سے اپنا مقصد کی ہے۔ ہاں ماں کا صبر اور اس کے نتیجہ میں ملنے والا ہمیشہ کا اجر اُسے یاد ہے۔

ماں کا خیال تو اس وقت سے اس کے لہو میں رچا تھا جب اُس نے ہوش کی آنکھوں سے پہلی مرتبہ اُس کا چہرہ دیکھا تھا۔

جب پہلی مرتبہ اس کا وجود ماں کی گرم گود میں ہُمکا تھا۔

بڑے بھائی بچپن میں کہتے۔

’’چلو بھئی! کون کون آئس کریم کھانے چلے گا؟‘‘

سب جھٹ میں تیار ہو جاتے۔

اور عذرا کہتی۔

’’میں امی جان کے پاس رہتی ہوں۔ وہ اکیلی ہیں ناں۔‘‘

بہنیں اگلی مرتبہ پر کہتیں۔

’’اب ہم میں سے کوئی رُک جاتا ہے۔ اب کی بار تم چلی جاؤ۔‘‘

مگر وہ رکے رہنے پر مصر رہتی۔ امی کو اکیلا چھوڑنا اُسے منظور نہ تھا۔

پڑھائی کے دوران گھر کے کام کاج سے کبھی غافل نہ رہی کہ امی پر بوجھ نہ پڑے۔ بلکہ وہ تو اکثر دوسری بہنوں کے حصے کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا کرتی اور اکثر اپنی ضروری اسائنمنٹس اس چکر میں لیٹ کر دیتی۔

میں بارہا اس پر چِڑا کرتی تھی۔

’’پڑھائی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔‘‘

اور زہرا اس کی ڈھال بن کر کہتی۔

امی بیمار رہتی ہیں ناں۔ گھر میں بہت کام ہوتا ہے۔ مہمانوں کا آنا جانا اور ابو کا حلقۂ احباب۔ عذرا لگی ہی رہتی ہے۔ اُسے احسان کرنا مرغوب تھا۔ پھر یہ رغبت اُس کی عادت بن گئی۔ ایسی عادت جو مُنہ سے لگی چھٹتی نہیں۔ حتیٰ کہ شادی کے بعد اپنا جہیز سسرالی رشتہ داروں میں بطور تحفہ بانٹ دیا۔

ایک نند سے کہا۔

’’باجی! آپ یہ صوفہ لے لیجیے۔‘‘

دوسری سے کہا۔

’’یہ بیڈ آپ کا ہوا۔‘‘

کسی کو کچھ پکڑا دیا اور کسی کو کچھ اور۔

سب ششدر ہیں۔ حیران ہو ہو پوچھتے ہیں۔

’’ارے پاگلو! تم لوگ کہاں سوؤ گے؟ کہاں بیٹھو گے؟ کیا استعمال کرو گے؟‘‘

تو ہنس کے بولی۔

’’ہم نیچے سو جائیں گے۔ مجھے اور احسن کو زمین پر بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔‘‘

پھر سب کچھ دے دلا کر، راہِ خدا میں لٹا کر اس اللہ کی بندی نے زمین بچھانی اور آسمان اوڑھنا شروع کر دیا۔

یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

مرے قافلے میں لُٹا دے اسے

لُٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے

شوہر نے اپنے لیے کانٹوں بھرا راستہ چنا تو اسے پھولوں کا بستر سمجھ کر اس کے ساتھ ساتھ چلی۔ اُن کی جوڑی دیکھ کر ’’الطیبات اللطیبین‘‘ ’’والطیبین للطیبات‘‘ کی عملی تفسیر سمجھ میں آتی ہے۔ سفر میں، حضر میں، گھر میں، ٹارچرسیل میں ہر جگہ اُس کا عملی تعاون احسن بھائی کے لیے خضرِ راہ رہا۔

احسن بھائی روزگار کے پھندوں سے آزاد، فنافی اللہ تھے۔ عذرا بھرے پُرے سسرال میں رہتی تھی۔ میکے آ کر کبھی کسی محرومی کسی تنگی کا کوئی شکوہ اُس کے لبوں پر نہیں آیا۔ اپنا سارا زیور خواہ میکہ تھا یا سسرال سے، شادی کے بعد جلد ہی راہِ خدا میں دے دیا۔ ماں نے ہلکی پھلکی چیزیں دوبارہ بنا کے دیں کہ ہر وقت پہنے رکھو، وہ بھی دے دیں۔ پھر ماں جیسی ساس نے ہلکا زیور بنوا کر دیا وہ بھی لُٹا دیا۔

دنیا سے بے رغبتی اور خدا پر بھروسہ کا یہ عالم کہ اس کم عمری میں شوہر کے لا پتا ہو جانے پر کسی نفسیاتی عارضہ کا شکار نہیں ہوئی، نہ ذہنی بے سکونی سے واسطہ پڑا۔ جب نادیدہ ہاتھوں نے احسن عزیز کو اُٹھایا تواس نے اپنا دل اللہ اور قرآن (جو اُس کے سینے میں بچپن سے محفوظ تھا) کے بعد اپنی ساس سے لگا لیا۔ وہ بوڑھی اور کمزور عورت ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کی بیماری میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اُن کی خدمت عذرا کا شعار بن گئی۔ وقت پر انھیں دھوپ میں بٹھانا، اُن کی مالش کرنا، اُن سے باتیں کرنا، اُن کی قلبی تشفی کرنا یہ سب عذرا کا معمول تھا۔

پھر اُن کی یادداشت چلی گئی اور وہ ہر بات بھولنے لگیں۔ ابھی عذرا سے دلیہ کی فرمائش کی ہے وہ بنا کے لائی تو بگڑنے لگیں۔

’’لو بھلا! اب میں ہر وقت دلیہ ہی کھاتی رہوں اور کچھ نہ کھاؤں ؟ مجھے تو حلوہ کھانا ہے۔‘‘

تو عذرا بغیر تیوری پر بل لائے حلوہ بنانے چل دیتی اور جب عذرا چلی گئی تو وہ اُسے یاد کرتی تھیں۔ آنے جانے والوں سے پوچھا کرتیں۔

’’عذرا کب آئے گی؟ اُس نے تم سب سے بڑھ کر میری خدمت کی ہے۔ تم سب مل کر بھی اُس کی برابری نہیں کرسکتیں۔‘‘

حتیٰ کہ وہ احسن عزیز، جس نے اُن کی کوکھ سے جنم لیا تھا، وہ جو لیفٹیننٹ کمانڈر عبدالعزیز کے بڑھاپے کی لاٹھی اور آنکھوں کا نور تھا۔ وہ جو لفظوں کا کھلاڑی تھا۔ جس کا قلم ان ساری آرزوؤں کو لفظوں میں انڈیلا کرتا تھا جو اپنے رب کے دیدار سے عبارت تھیں اور اس کے چٹان سینہ میں ہمکتی رہتی تھیں۔

وہ صالح نوجوان جس کی رگوں میں اپنے خالق سے وفا لہو بن کر دوڑا کرتی تھی۔ جو قرآن کا قاری بن کے ابتلا کی بھٹی میں داخل ہوا اور حافظ بن کر لوٹا۔ اس سعادت مند بیٹے کو یادداشت کا بگاڑ فراموش کر بیٹھا۔ اُن کی یادداشت کی گٹھڑی کھنگالنے پر احسن کے نام کی مٹھی بھر سوغات بھی نہ نکلتی۔ مگر عذرا انھیں تب بھی یاد تھی۔ وہ عذرا جو کئی کئی ماہ بعد شوہر کی گھر آمد پر ساس کے کہنے پر، شوہر سمیت اپنی چارپائی ان کے کمرے میں بچھا لیتی کہ انھیں اس کی عادت ہو گئی تھی اور اب اس کے بغیر انھیں نیند نہ آتی تھی۔

جب احسن عزیز نے اپنے آپ کو مکمل طور پر محاذوں کے حوالے کر دیا تو عذرا کی نند نوشی باجی نے کہا۔

عذرا! تم اگر چاہو، تو آزاد ہو سکتی ہو۔ احسن تو اب آئے گا نہیں۔ تم اپنی زندگی کیوں لُٹاتی ہو۔

تو عذرا نے فوراً یہ بات رد کر دی۔

اگر احسن مجھے چھوڑ دیتے، تو مجھ پر کیا بیتتی۔ میں تو احسن کو کبھی نہ چھوڑوں گی۔

اور ٹھیک ایک سال بعد وہ اُس کے ہمراہ وہاں سدھار گئی۔ جہاں سے انھیں اکٹھے جنتوں کے سفر پر نکلنا تھا۔

ء ۶سال… ۶سال پر محیط ایک طویل عرصہ عذرا اور احسن نے اکٹھے گھر اور گھر کی آسائشوں سے دور، کچے خاک اُڑاتے گھروندوں، وحشی امریکیوں کے ڈرون حملوں، خاک اور خون کی بارشوں میں دل کی پوری آمادگی اور ربِ کعبہ کے لیے خودسپردگی کے ساتھ اس عالم میں گزارا کہ رونقوں بھری دنیا سے اُن کا رابطہ کبھی کبھار کاغذ کے کسی ٹکڑے کے ذریعہ ہوتا تھا۔

حتیٰ کہ وہ وقت آگیا جب رب عظیم نے ان کی قربانی قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

’’اور بے شک اللہ محسنوں سے ہی قبول فرماتا ہے۔‘‘

(القرآن)

رمضان المبارک کا آخری روزہ اور افطار کا وقت ہے۔ عذرا اور احسن کے ہاتھوں میں کھجور کا ایک ایک ٹکڑا ہے۔ ایک مہربان پانی لا رہا ہے کہ گرد و غبار کا ایک طوفان اُس کے اور پینے والوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ روزہ کھل چکا ہے۔ ایک زوردار دھماکا کی آواز آتی ہے۔ کھجوروں والے معلق ہاتھ گھائل ہو کر نیچے آن گرتے ہیں۔ میں چشمِ تصور سے دیکھتی ہوں۔

شام کے لمبے سائے فضا میں اُڑتے جسموں کو دمِ رخصت کا بوسہ دیتے ہیں۔

مسجد کے مناروں سے نکلتی اللہ اکبر کی صدا قربان گاہ میں پھیل جاتی ہے۔ گھروں کو لوٹتے پرندے جانے والوں کو الوداعی سلام کہتے ہیں اور رب کا فیصلہ لکھ دیا جاتا ہے۔ عذرا ترابی اور احسن عزیز کا مادی وجود ابدی جنتوں کی طرف پرواز کر جاتا ہے۔ انھیں روزہ وہیں جا کر افطار کرنا ہے

جہاں جگنو چمکتے ہیں

جہاں خوشبو کی برکھا ہے

جہاں عزت کی مسند ہے

جہاں آرام کے تکیے ہیں

جہاں رحمت کے سائے ہیں

جہاں پر سندس و استبرق و دیبا کی خلعت ہے

جہاں چاندی کے کاسے ہیں

جہاں حوروں کی بستی ہے

جہاں سونے کے کنگن ہیں

جہاں ہر چیز سستی ہے

جسے نہ آنکھ نے دیکھا

نہ کانوں سے سنا اُس کو

اور میں جو مادی مفادات کے کیچڑ میں لت پت کم ظرف بونوں کی بستی میں رہتی ہوں

میں کیا جانوں !

جنوں کیا ہے؟

پری کیا ہے؟

حدیثِ دلبری کیا ہے؟

میں کیا جانوں ؟ کہ جب عذرا اور احسن عزیز کے جسم ٹکڑے ہو کر فضا میں اچھلے ہوں گے تو آخری لمحوں میں سرخروئی کا خواب کس طور ان کی آنکھوں میں اُترا ہو گا؟

اُس لمحہ ان کے دل کی کیفیت کیا ہو گی؟

احسن نے چلتے سمے دنیا کو کس زور سے ٹھوکر رسید کی ہو گی۔

عذرا کی پلکوں پر ہمیشگی کے خواب کس شدت سے لرزے ہوں گے۔ احسن کے بدن سے خوشبو کی پھریری کیسے گزری ہو گی۔ عذرا کے لبوں پر نازکی کا خرام کیا ہو گا؟

ابدی زندگی نے شہیدوں کے وجود پر کیسے تیشہ زنی کی ہو گی؟

اور فرشتوں کی منڈلی میں کھلبلی کس طور مچی ہو گی؟

میں کیا جانوں۔ یہ دیوانے لوگ کون ہیں ؟

جو زمین بچھاتے اور آسمان اوڑھتے ہیں۔

جن کی جبینوں کے نور اُن کی پیشانیوں سے ڈھلکے جاتے ہیں۔جن کے خاک بسر لہو لہو وجود ایسے ہیں گویا صندل کے برادے سے گندھے ہوں۔

میری سماعتوں میں فقط احسن عزیز کی نظم بازگشت بن کر ڈوب ابھر رہی ہے۔

ابابیلیں ہیں ہم

بس اس قدر ہی فرض ہے ہم پر

کوئی کنکر کوئی پتھر

ذرا ان ہاتھیوں کے لشکروں پر پھینک دیں اور پھر

افق کے پار جا پہنچیں

جہاں ساروں کو جانا ہے

حساب اپنا چکانا ہے

ہمیں لیکن وہاں جا کر

فقط زخمِ جگر اپنا دِکھانا ہے

پھر اس کے بعد کی دنیا کا

ہر منظر سہانا ہے ٭٭٭