کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ڈائری

علی حسن سمند طور


ابتدائیہ: مجھے پوری امید ہے کہ میں ایک دن خیریت سے واپس وطن پہنچ جاؤں گا۔ لیکن اگر میری موت میدان جنگ میں لکھی ہے تو میری خواہش ہے کہ میری موت کے بعد یہ ڈائری میرے والدین مارک اور ایلا کلاٹ کو سو سٹی، آئیوا پہنچا دی جائے ۔

پہلا دن:

ہم میں سے بیشتر اب تک اونگھ رہے ہیں۔ ہم ساری رات کے سفر کے بعد یہاں پہنچے ہیں۔ ہمارے کمانڈنگ افسر نے ہمیں بتایا ہے کہ ہمیں یہاں دو گھنٹے آرام کرنا ہے ، پھر ناشتے کے بعد ہمیں ہمارے مستقل ٹھکانے تک لے جایا جائے گا۔

کسی دوسرے ملک پہنچنے کا یہ طریقہ بہت نرالا ہے ۔ نہ پاسپورٹ کی ضرورت، نہ ویزے کی جھنجھٹ۔ بس دندناتے ہوئے وہاں پہنچ جاؤ۔ اور پھر مورچہ سنبھال لو۔

مگر ہم یہاں ایک اعلی مقصد کے لیے آئے ہیں۔ ہم اس ملک کو اس طور سے بدلنے آئے ہیں کہ آئندہ پچاس نسلیں ہماری ممنون ہوں گی۔ یہ لوگ ہمارا احسان مانیں گے کہ ہم نے ان کو ایک مطلق العنان حکمراں سے نجات دلا کر یہاں جمہوریت قائم کر دی۔

دسواں دن:

وہ کیسا منحوس دن تھا جب میں نے آرمی ریزرو میں بھرتی کے لیے اپنا نام لکھوایا تھا۔ کچھ دوستوں نے مشورہ دیا تھا کہ سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد اب جنگ نام کی چیز دنیا سے ختم ہو جائے گی اور آرمی ریزرو میں شرکت میرے لیے آسان مستقل آمدنی کا ایک ذریعہ بن جائے گی۔

اور میرے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت اس قدر کم کیوں ہے کہ میں کسی طریقے سے ریزرو سے باہر نہ نکل سکا؟ اور اب میں یہاں موجود ہوں، اپنی طبیعت کے بالکل برخلاف۔ جنگ و جدل سے میرا کیا واسطہ؟

بائیسواں دن:

یاسیت کا ایک سیاہ بادل ہے جو کل سے مجھ پہ چھایا ہے ۔ اوکانر ہلاک ہو گیا۔ میری اوکانر سے اچھی بنتی تھی۔ ایک دن پہلے آپ نے جن لوگوں سے ہنسی خوشی باتیں کی ہوں، جن کے ساتھ اچھا وقت گزارا ہو، وہ یوں اچانک موت کی آغوش میں چلے جائیں تو بہت برا لگتا ہے ۔ کیسا ہے یہ زندگی اور موت کا تماشہ۔

اکتائیس واں دن:

میرے خدایا، یہ میں کس عذاب میں پھنس گیا ہوں؟ یہاں قتل و غارت گری کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ روز ہمارے دو چار ساتھی ہلاک ہوتے ہیں اور روز ہم تیس چالیس مقامی لوگوں کو مار دیتے ہیں۔ میں نے کافی غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ،

A freedom fighter is a terrorist who wins

مجاہد آزادی وہ دہشت گرد ہوتا ہے جو جیت جاتا ہے ۔

جنگ اور دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ہر جنگ دہشت گردی ہے ۔ جارج واشنگٹن ہار جاتا تو دہشت گرد کہلاتا، جیت گیا تو آج ہم اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ۔ میں آج جس خون خرابے کے ماحول میں ہوں اس میں دہشت گرد کون ہے ، اس کا فیصلہ بھی وقت کرے گا۔

تینتالیس واں دن:

میں نے عربی سیکھنا شروع کر دی ہے ۔ ایک مخبر جو ہمارے لیے کام کرتا ہے مجھے روز عربی کے پانچ نئے الفاظ سکھاتا ہے ۔

پچاسی واں دن:

اب مجھے اتنی عربی آ گئی ہے کہ میں لوگوں سے ادھر ادھر کی باتیں کر لیتا ہوں۔

کل گشت کے دوران مجھے ایک شخص سے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کے دونوں لڑکو ں کو مار دیا گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں نے ان دونوں لڑکوں کو مارا ہے ۔ ان کی عمریں بارہ اور پندرہ سال تھیں۔ میں نے کہا یقیناً وہ لڑکے دہشت گردوں کے ساتھ کام کر رہے ہوں گے ۔ اس شخص نے قسمیں کھائیں کہ اس کے دونوں لڑکے اس کے حکم کے خلاف گھر سے باہر قدم بھی نہیں نکلتے تھے ۔ وہ دونوں بھائی ایک دن اپنے گھر کی چھت پہ کھڑے باہر کا نظارہ کر رہے تھے کہ سامنے سڑک سے ایک امریکی فوجی قافلہ گزرا۔ پھر فائرنگ کی آواز آئی اور چھت سے زور دار چیخیں سنائی دیں۔ یہ شخص بھاگا بھاگا چھت پہ پہنچا تو اس کے دونوں لڑکے خون میں لت پت پڑے تھے ۔ ایک نے وہیں دم توڑ دیا تھا، جب کہ دوسرے نے اسپتال لے جانے کے دوران جان دے دی۔ یہ بتانے کے بعد وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

اس نے کہا کہ،

"ہمیں جمہوریت نہیں چاہیے ۔ ہمیں امن چاہیے ۔"

مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اسے کیا کہوں۔ میں نے منمناتے ہوئے کہا کہ،

"مگر یہ تکلیف کچھ دنوں کی ہے ۔ ایک دفعہ جمہوری نظام چلنا شروع ہو گیا تو تمھیں صدیوں امن ملے گا۔"

"مگر ان لاکھوں لوگوں کو کیا ملے گا جو اس دوران ہلاک ہو جائیں گے ؟" اس نے پوچھا۔

میں نے کہا کہ، " ہر مقصد کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی تو دینی ہوتی ہے ۔"

وہ شخص مجھ سے مستقل بحث کرتا رہا۔

"تمھیں کس نے کہا کہ اس ملک کا سیاسی نظام بدلنا ضروری تھا۔ اور اگر بالفرض ایسا تھا بھی تو کیا اس بات میں صداقت نہیں ہے کہ جو تبدیلی وقت کے ساتھ بتدریج آئے وہ پائیدار ہوتی ہے ؟"

میں ہمدردی میں اس شخص کی پیٹھ تھپتھپا کر آگے بڑھ گیا۔

سوواں دن:

میں اپنے ماں باپ سے محبت کرتا ہوں۔ اور مجھے سنڈی سے محبت ہے ۔ اور بالعموم مجھے اس دنیا سے اور دنیا کے تمام لوگوں سے محبت ہے ۔ کہتے ہیں کہ محبت بہت طاقتور جذبہ ہے ۔ مجھے گمان ہے کہ میری محبت کا یہ غبار حفاظت کا حصار بن کر میرے گرد موجود رہتا ہے ۔ اور اسی لیے آج سو دن گزرنے کے بعد بھی نہ تو میری ٹیم پہ حملہ ہوا اور نہ ہی کوئی ایسا موقع آیا کہ میں کسی پہ گولی چلاؤں۔

میں نے آج صبح یہ بات اپنے کمانڈنگ افسر کو بتائی تھی۔ وہ کچھ دیر تک میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالا مجھے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے سخت لہجے میں کہا کہ میں اس قسم کی زنانہ باتیں نہ کیا کروں۔

"ہم حالت جنگ میں ہیں۔ یہاں مردانگی کا کام ہے ۔"

مجھے یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ آخر محبت کی باتیں کرنا زنانہ کیوں ہے ؟

ایک سو اکیس واں دن:

ویسے تو یہاں عموماً گرمی ہی رہتی ہے مگر دو دن سے یہاں گرمی کی ایک شدید لہر آئی ہوئی ہے ۔ صبح جیسے ہی سورج نکلتا ہے ہر شے تپنا شروع ہو جاتی ہے اور دوپہر تک تو یہ عالم ہوتا ہے کہ سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہوتی ہے ۔ اس گرمی میں پورا فوجی لباس لادے چلنا بہت برا لگتا ہے ۔

ایک سو تیس واں دن:

آج ایک خاص دن تھا۔ ہمیں کھانے کے ساتھ پاویلی کی عمدہ شراب ملی۔ میں نے کیبرے سوونیوں کے تین گلاس پیے ۔ میری سوچ ابھی تک لطیف بادلوں پہ سوار ہے ۔ ہم اپنی زندگی اس طرح کیوں نہیں گزار سکتے کہ شانتی سے سارا دن بہت محنت سے کام کریں، کچھ تعمیر کریں، کچھ تخلیق کریں، اور پھر رات کے کھانے کے ساتھ کیبرنے سو وینیوں کے تین گلاس پی کر آرام سے سو جائیں؟

ایک سو اکتالیس واں دن:

آج صبح ناشتے کے دوران ہماری میز پہ بیٹھے فریڈ نیلسن نے کہا کہ،

"یہ لوگ جانور ہیں۔ کوالا جیسا قابل محبت جانور نہیں بلکہ گندا، وحشی، غلیظ جانور۔ وہ جانور جس سے آپ کو گھن آئے ۔ وہ جانور جس کے حق میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے ہلاک کر دیا جائے ۔"

یہ بات سن کر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے بے اختیار پوچھا کہ،

"کیا تم کاغذ کے اس ٹکڑے کو بھول گئے ہو جس پہ ہمارے جد نے لکھا تھا کہ، 'تمام انسان برابر ہیں'؟"

یہ بات کہنے پہ میری رپورٹ ہو گئی۔ میرے کمانڈنگ افسر نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کہا میں زیادہ افلاطون بننے کی کوشش نہ کروں۔ ایسی باتیں کروں جیسی یہاں باقی لوگ کرتے ہیں۔

مگر میں ایسی باتیں نہیں کر سکتا۔

اسی لیے میری یہ ڈائری میری سب سے عمدہ رفیق ہے ۔ یہ خاموشی سے میری ساری باتیں سنتی ہے ۔

ایک سو باون واں دن:

کل ہماری ہم وی ایک جگہ چار گھنٹے کھڑی رہی۔ ہمیں ریڈیو پہ آگے خطرے کا پیغام ملا تھا۔ پھر فورا ہی یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ ہم جس راستے سے آئے ہیں وہاں بھی دہشت گرد متحرک نظر آئے ہیں۔ شاید ہمارے قافلے کو گھیر کر مارنے کی کوشش تھی۔ ہمیں ہدایت کی گئی کہ ہم وہیں چوکنے کھڑے رہیں۔ اس درمیان ہماری مدد کے لیے اے دس تھنڈر بولٹ بھیجے جائیں گے ، جو ہمارے آگے اور پیچھے راستے کو صاف کریں گے ۔ کچھ ہی دیر میں وہاں پانچ تھنڈر بولٹ آ گئے جو اگلے چار گھنٹے تک مختلف عمارتوں کو نشانہ بناتے رہے اور ان پہ بم برساتے رہے ۔

اس انتظار کے دوران مائک نے بہت وضاحت سے بیان کیا کہ دو دن پہلے کس طرح اس نے دشمن کا یوں نشانہ لیا کہ دشمن کی دونوں آنکھوں کا وسط عین رائفل کے مثبت نشان پہ تھا۔ اور کس طرح دشمن بالکل بے خبر تھا جب کہ مائک رائفل پہ لگی دوربین سے اسے اچھی طرح دیکھ سکتا تھا۔ اور پھر کس طرح جب مائک کو یقین ہو گیا کہ دشمن نے حرکت کرنا بند کر دی تھی، مائک نے ٹریگر کو دبایا۔ اور پھر کس طرح مائک نے دشمن کے بھیجے کو اڑتے ہوئے دیکھا اور کس طرح دماغ کے چھوٹے چھوٹے لال ٹکڑے قریبی دیوار پہ جا کر چپک گئے ۔ مجھے اس بیان سے اس قدر کراہیت آئی کہ میں رات کا کھانا نہ کھا سکا۔ انسان اس قدر بے حس کیسے ہو جاتا ہے کہ بے رحمی سے کسی دوسرے انسان کو ہلاک کر دے ؟ اور کیا یہ لوگ واپس جا کر ایک عام زندگی گزار سکیں گے ؟ کیا قتل و غارت گری کے یہ سارے واقعات آسیب بن کر ان کا پیچھا نہ کریں گے ؟

ایک سو پچاسی واں دن:

آج ایک بار پھر مجھے سخت وارننگ دی گئی۔ کمانڈنگ افسر نے مجھے اپنے کمرے میں بلا کر خوب کھری کھری سنائیں اور پھر نہایت طنز سے کہا کہ،

"تمھارے ساتھ کے باقی لوگ تو بھاگ کر کینیڈا چلے گئے ، تم یہاں کیسے چلے آئے ؟"

بات یوں شروع ہوئی کہ آج صبح گشت پہ روانہ ہونے سے پہلے افسر نے اپنی تقریر میں کہا کہ،

"ہم کسی کے دل کے اندر گھس کر نہیں دیکھ سکتے کہ اس دل میں نفرت ہے یا نہیں۔ آسان حل یہ ہے کہ ہم ہر اس شخص کو جس کے متعلق ہمیں خیال ہے کہ وہ ہم سے نفرت کرتا ہے ، ختم کر دیں۔ اور ہم ایسا اس لیے کریں گے کیوں کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔"

مجھے افسر کی یہ بات بہت احمقانہ لگی۔ کسی ایک شخص کے دل کی نفرت کو اگر اس طرح مار کر ختم کیا گیا تو کیا یہ نفرت پورے معاشرے میں سرائیت نہ کر جائے گی؟ یہ تو ہمارے لیے سراسر نقصان کا سودا ہو گا۔ میں نے اپنے دل کی یہ بات گشت پہ جانے والے اپنے ساتھیوں سے کر دی۔

ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ،

"ہمارے دشمن کے دل میں ہمارے لیے کوئی رحم نہیں ہے ۔ وہ کسی بھی موقع پہ، کسی بھی طرح وار کر کے ہمیں مارنا چاہتا ہے ۔ یہ میدان جنگ ہے ۔ یہاں بدھا کی تعلیم کا امتحانی مقابلہ نہیں ہو رہا ہے ۔"

میں نے جواب دیا کہ،

"مگر یہ دشمنی تو ہم نے پیدا کی ہے ۔ ہم ان کے ملک میں گھس آئے ہیں۔ اور ہم اپنی بے رحمی سے اپنے لیے اور دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ گاندھی نے کہا تھا نا کہ اگر آنکھ کا بدلہ آنکھ سے لیا گیا تو بہت جلد دنیا اندھے لوگوں سے بھر جائے گی۔"

شام تک میری شکایت افسران بالا تک پہنچ چکی تھی۔

دو سو دسواں دن:

آج جب میں کھانا کھا کر میز سے اٹھا تو دور کسی اور میز پہ کسی نے مجھے دھیمی آواز میں القاعدہ کا ایجنٹ کہا۔

دو سو پینتالیس واں دن:

خدا کا شکر ہے کہ مجھے اس جگہ سے نجات ملنے والی ہے ۔ کل ہمارے کیمپ پہ حملہ ہوا تھا ۔ مائک اس حملے میں ہلاک ہو گیا۔ مارٹی کو گہرے زخم آئے ہیں۔ میری ٹانگ پہ بھی ایک گولی لگی۔ مجھے اور میرے دوسرے زخمی ساتھیوں کو اس فیلڈ اسپتال پہنچا دیا گیا جہاں اس وقت میں ایک سفید بستر پہ بیٹھا یہ ڈائری لکھ رہا ہ