کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

برکتوں کا مہینہ

علی حسن سمند طور


سروس ختم ہونے پہ چرچ آہستہ آہستہ خالی ہو رہا تھا۔ لوگ فادر جوزف سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو رہے تھے ۔ مگر جان مارٹن آنکھیں بند کیے ایک بینچ پہ بیٹھا تھا۔ جب ہال میں فادر جوزف کے علاوہ صرف فادر جوزف کی بیوی ایمی اور جان مارٹن رہ گئے تو فادر جوزف جان کی طرف بڑھے ۔

"سب ٹھیک ہے نا جان؟"

فادر جوزف کی آواز پہ جان مارٹن نے آنکھیں کھول دیں۔

"ہاں سب ٹھیک ہے فادر۔ بس آپ سے ایک بات کرنا چاہ رہا تھا،" جان نے نشست سے اٹھ کر مودبانہ لہجے میں فادر سے کہا۔

"ہاں، پوچھو، جان۔" فادر جوزف نے جان سے کہا۔

"میں دراصل آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہ رہا تھا،" جان مارٹن نے اگلی صف میں بیٹھی ایمی کی طرف دیکھ کر کہا۔

فادر جوزف نے ایک لمحے کے لیے اس فرمائش کے بارے میں سوچا اور پھر فورا ہی پلٹ کر ایمی سے مخاطب ہوئے ۔

"ایمی، ایسا کریں کہ آپ گھر چلی جائیں۔ میں جان سے بات کر کے آتا ہوں۔"

ایمی فادر کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی اپنی نشست سے کھڑی ہو گئی تھی۔ اس نے جان مارٹن کی بات سن لی تھی۔

"بائے ، جان۔ سی یو نیکسٹ ٹائم۔" ایمی نے جاتے جاتے جان سے کہا۔

جان نے بھی تقریباً ان ہی الفاظ میں ایمی کی بات کا جواب دیا۔

ایمی کے ہال سے نکلنے پہ فادر جوزف جان کے برابر میں بیٹھ گئے ۔ جان مارٹن بھی کچھ سکڑا سمٹا اپنی نشست پہ پھر سے براجمان ہو گیا۔

"ہاں، بولو، جان۔ کیا پوچھنا چاہتے ہو؟" فادر نے جان کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"فادر، میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ مقدس انجیل ملک سے وفاداری کے بارے میں کیا کہتی ہے ۔" جان نے کسی قدر جھجھکتے ہوئے پوچھا۔

فادر جوزف نے یوں سر ہلایا جیسے وہ جان مارٹن کے ذہن میں برپا کشمکش کو سمجھ چکے ہوں۔

"جان، تمھیں شاید یاد ہو کہ پچھلے یوم آزادی پہ میری تقریر اسی متعلق تھی۔ مختصر یہ کہ ایک ملک میں رہنے والے لوگ ایسے ہیں کہ جیسے ایک کشتی میں سوار مسافر۔ کشتی کی عافیت میں سارے مسافروں کی عافیت ہے اور اسی لیے اپنے باہمی اختلافات کے باوجود مسافروں کی تمام تر دلچسپی کشتی کی سالمیت میں ہونی چاہیے ۔ تم یہ مثال سمجھ رہے ہو نا، جان؟"

فادر جوزف کی بات کے جواب میں جان نے یوں سر ہلایا کہ جیسے فادر کی بات سمجھنے کے باوجود اس کے دل میں کچھ شک و شبہات ہوں۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد فادر نے جان سے پوچھا۔

"جان، تم بتاؤ کہ تمھارے ذہن میں کیا کلبل ہو رہی ہے ؟"

"فادر، آپ کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر جب ملک کی اکثریت اقلیت کے خلاف ہو جائے تو کیا کیا جائے ۔ جب مستقل ہم پہ آوازیں کسی جائیں، کبھی ہمیں چوڑا کہا جائے ، کبھی کرنٹا کہا جائے تو آخر کب تک ضبط کیا جائے ؟" جان نے ہمت کر کے دل کی بات کہہ دی۔

"جان، میں ان باتوں کو سمجھتا ہوں مگر یاد رکھو کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ پوری اکثریت ہمارے خلاف نہیں ہے ۔ بس یہ چند ہی نادان لوگ ہیں جن کے پاس اس طرح کی باتیں کرنے کا فالتو وقت ہے ۔ جس طرح تم بھونکتے آوارہ کتے کو نظرانداز کر دیتے ہو، بالکل اسی طرح ان لوگوں کو بھی نظر انداز کر دو۔" فادر نے ٹھہرے لہجے میں جان کو سمجھایا۔

جان پندرہ منٹ سے اوپر فادر کے ساتھ بیٹھا رہا اور فادر کے سمجھانے بجھانے پہ مطمئن ہو کر گھر روانہ ہو گیا۔

-------

جان مارٹن ایک ایسی ایڈورٹائزنگ کمپنی میں کام کرتا تھا جس کا دفتر چندریگر روڈ پہ تھا۔ جان کی رہائش جیکب لائنز میں تھی جہاں سے دفتر بہت زیادہ دور نہ تھا مگر جان دوپہر کا کھانا اپنے ساتھ لے کر جاتا تھا۔ آج اس معمول میں یوں خلل آیا تھا کہ جان صبح عباس کی گاڑی پہ دفتر آیا تھا اور گاڑی سے اپنا لنچ باکس نکالنا بھول گیا تھا۔ عباس جان کو دفتر چھوڑ کر ایک کام سے کورنگی روانہ ہو گیا تھا اور یوں جان اس وقت اپنے لنچ باکس سے کئی میل دور تھا۔ کوئی عام دن ہوتا تو اس مسئلے کو دفتر کے باہر موجود کسی ریستوراں سے کھانا لے کر حل کیا جا سکتا تھا مگر وہ ایک عام دن نہ تھا۔ وہ ماہ رمضان کا ایک روز تھا۔ برکتوں کا وہ مہینہ کہ جب دن کے وقت جان مارٹن کو ہر روزہ دار بھوکے شیر کی طرح نظر آتا تھا۔ جان مارٹن نے ایک لمحہ اپنے مسئلے کے بارے میں سوچا اور پھر اسے حل سمجھ میں آگیا۔ وہ سٹی ریلوے اسٹیشن جا کر کھانا کھا سکتا تھا۔ جان کے دفتر سے سٹی اسٹیشن محض دس منٹ کے پیدلی فاصلے پہ تھا اور ریلوے اسٹیشن پہ مسافروں کے کھانے پینے کا مکمل انتظام تھا۔

ٹھیک ایک بجے جان دفتر سے نکلا اور سٹی اسٹیشن کی طرف چلنا شروع ہو گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے اندر معمول کی گہماگہمی تھی۔ کتابوں کی دکان کے ساتھ کھڑے ایک ٹھیلے پہ سموسے تلے جا رہے تھے ۔ جان ٹھیلے کے گرد جمگھٹا لگائے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ اسے بہت بھوک لگی تھی اسی لیے اس نے تین سموسے خریدے ۔ مگر دو سموسے کھانے کے بعد ہی اسے محسوس ہوا کہ اس کا پیٹ بھر گیا تھا۔ جان نے ٹھیلے والے سے ایک لفافہ مانگ کر تیسرے سموسے کو اس میں ڈالا اور دفتر کی طرف واپس چلنا شروع ہو گیا۔

دفتر سے کچھ فاصلے پہ جان نے سموسے کے لفافے میں جھانکا۔ سموسے کا ایک کرکرا کونا جھڑ کر لفافے میں گر گیا تھا۔ جان نے ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ جان نے سموسے کا ٹوٹا ٹکڑا لفافے سے نکال کر جھٹ منہ میں ڈال لیا۔ ٹھیک اسی وقت کسی نے جان پہ پیچھے سے وار کیا۔ حملہ آور نے پیچھے سے جان کی گردن پکڑ کر جان کی ٹانگ پہ زوردار لات ماری تھی۔ یہ وار اتنا اچانک اور زوردار تھا کہ جان فٹ پاتھ پہ گر گیا۔

"بے شرم، روزہ خور۔ روزے میں کھانا کھاتا ہے ۔ تجھے شرم نہیں آتی؟" ایک نوجوان جان کو کھری کھری سنانے کے ساتھ ساتھ اس کو لاتیں مار رہا تھا۔ یہ شور شرابہ سن کر اور لوگ وہاں جمع ہو گئے ۔ دو آدمیوں نے بیچ میں کود کر جان کا دفاع کیا اور نوجوان کو نرمی سے سمجھایا کہ وہ جان کو معاف کر دے ۔ اسی درمیان وہاں پہنچنے والا ایک داڑھی بردار شخص جان کی حمایت میں کھڑا ہو گیا۔

"تم کیا خدائی فوجدار لگتے ہو، یہاں پر؟" داڑھی والے نے جان کی پٹائی کرنے والے نوجوان سے پوچھا۔ نوجوان نے کسی قدر غصے سے داڑھی والے کی طرف دیکھا اور پھر سر جھٹک کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔

داڑھی والے آدمی نے جان کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔ جان نے اپنے کپڑے جھاڑے اور ٹائی کو کالر میں برابر کیا۔ اس ہنگامہ آرائی میں سموسہ لفافے سے نکل کر فٹ پاتھ پہ آگیا تھا۔ جان نے ایک نظر فٹ پاتھ پہ پڑے سموسے اور اس کے لفافے کی طرف دیکھا اور پھر سموسے کو اٹھانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

جان داڑھی والے شخص کا مختصر شکریہ ادا کر کے آگے بڑھ گیا۔ دفتر کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے جان نے ایک دفعہ پھر اپنے کپڑوں کا طائرانہ جائزہ لیا اور قمیض کی آستینوں کو ہلکا سا جھاڑنے کے بعد قمیض کو پتلون میں اچھی طرح اڑسا۔

اپنے لباس کی طرف سے مطمئن ہونے کے بعد جان نے فادر جوزف کو ایک موٹی سی گالی دی اور دفتر کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔