کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بے وفا

علی حسن سمند طور


وہ دونوں بہت دیر سے ریستوراں میں بیٹھے تھے ۔ پورے دس سال بعد افتخار کی ملاقات اپنے دوست محمود سے ہوئی تھی۔ وہ کھانا ختم کر چکے تھے اور پچھلے دس سالوں کے معرکے ایک دوسرے کو سنا رہے تھے ۔

افتخار شادی شدہ تھا اور ایک بچے کا باپ تھا جب کہ محمود اب تک چھڑا تھا۔ محمود نے افتخار کو بتایا کہ وہ عورت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کوشش میں اس کا یارانہ پہلے ایک سفید فام لڑکی سے رہا تھا، پھر ایک سوڈانی سے ، اور آج کل اس کے روز و شب ایک فلیپینو لڑکی کے ساتھ بسر ہو رہے تھے ۔ محمود نے افتخار سے اپنی فلیپینو آشنا کی بہت تعریف کی۔

"یار، ویسے یہ فلیپینو لڑکیاں زبردست ہوتی ہیں۔ اپنے مرد کو اوتار کا درجہ دیتی ہیں،" محمود نے کہا، اور پھر کچھ دیر بعد افتخار سے پوچھا، "شادی سے پہلے تمھیں بھی کچھ تجربہ ہوا، ڈیٹنگ کا۔"

افتخار نے محمود کو بتایا کہ اسے اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔ اور ایسا تجربہ نہ ہونے کے پیچھے کسی قسم کے مذہبی خیالات کا دخل نہ تھا بلکہ ایسا کوئی موقع ہی نہ بن پایا۔ تعلیم ختم کرنے کے بعد افتخار نے نوکری شروع کر دی اور پھر کچھ ہی عرصے میں والدین کے زور دینے پہ شادی کر لی۔

"تم نے بھی کمال کیا، افتخار۔ ماں کی گود سے نکل کر سیدھے بیوی کی گود میں پہنچ گئے ،" محمود نے ہنستے ہوئے افتخار سے کہا۔

افتخار سے اپنی اگلی ملاقات میں محمود نے افتخار کو اپنی آشنا کونسوئیلا سے ملا دیا۔ کونسوئیلا ایک ہنس مکھ، خوش شکل لڑکی تھی۔ اس ملاقات کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ کونسوئیلا اپنے ساتھ اپنی سہیلی کرسٹی کو لائی تھی۔ محمود کو صاف نظر آیا کہ کرسٹی کو دیکھ کر افتخار کی آنکھوں میں چمک آ گئی تھی۔ اور واقعی افتخار کو کرسٹی بہت بھائی تھی۔ وہ لڑکی کیا تھی، نسوانی شرارت کا پیکر تھی۔ افتخار کا بس نہ چلتا تھا کہ کرسٹی کو وہیں گلے لگا لے ۔

اور ادھر کرسٹی بھی افتخار میں دلچسپی لے رہی تھی۔

"میں نے تیری شادی وغیرہ کے بارے میں ان لوگوں کو کچھ نہیں بتایا ہے ، اس لیے جو کہانی سنانا چاہ سنا،" محمود نے موقع پا کر افتخار سے اردو میں کہا۔

اور پھر کچھ ہی دیر میں اس قسم کی معلومات کے تبادلے کا موقع بھی آگیا۔ کرسٹی نے افتخار کو ٹٹولنے کی غرض سے پوچھا کہ آیا افتخار تنہا رہتا تھا۔ افتخار نے اثبات میں جواب دیا اور کرسٹی کو مزید بتایا کہ کچھ عرصے پہلے تک اس کی ایک گرل فرینڈ تھی مگر اس آشنا سے افتخار کی بات نہیں بنی تھی اور اب افتخار تنہا ہی تھا۔ یہ بات واضح تھی کہ کرسٹی کو افتخار کا یہ جواب بہت پسند آیا تھا۔

افتخار اور کرسٹی کے درمیان فون نمبروں کا تبادلہ ہوا اور کھانے کے بعد وہ جدا ہو گئے ۔ مگر یہ جدائی بہت لمبی ثابت نہ ہوئی۔ اگلے روز ہی افتخار نے کرسٹی کو دفتر سے فون کر دیا۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد افتخار نے کرسٹی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور یہ طے پایا کہ وہ دونوں اگلے دن شام کے وقت ایک ریستوراں میں ملیں گے ۔

اگلے دن مقررہ وقت پہ افتخار اس ریستوراں پہنچ گیا جہاں اسے کرسٹی سے ملنا تھا۔ کچھ ہی دیر میں کرسٹی وہاں آ گئی۔ وہ دونوں کھانا کھاتے رہے اور چاہت بھری نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے ۔ وہ ریستوراں سے کھانا کھا کر باہر نکلے تو بے مقصد چہل قدمی کرنے لگے ۔ افتخار نے کرسٹی کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا۔ کرسٹی نے اس بات کا بالکل برا نہ منایا بلکہ اپنا ہاتھ بھی افتخار کی کمر میں ڈال دیا۔ یہ دونوں اسی طرح جڑے جڑے کچھ دور تک چلے اور پھر ان کے درمیان فاصلے اور کم ہوتے گئے ۔ اس رات افتخار بارہ بجے گھر پہنچا۔ اس کا بچہ انوار سو چکا تھا مگر سمیرہ ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ افتخار نے سمیرہ سے دفتر میں کام کی زیادتی کا بہانہ کیا۔ سمیرہ نے کھانے کو پوچھا تو افتخار نے جواب دیا کہ وہ کھانا کھا چکا تھا۔

ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اس لیے سمیرہ نے اس بات کو بہت زیادہ اہمیت نہ دی مگر جب وقت گزرنے کے ساتھ افتخار اور کرسٹی کی شبینہ ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا اور افتخار سمیرہ سے جھوٹ بولتے ہوئے آنکھیں چرانے لگا تو سمیرہ سخت پریشان ہو گئی۔ افتخار جیسے مرد عورتوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ عورتیں مردوں کو کھلی کتاب کی طرح پڑھنے کی خداداد صلاحیت رکھتی ہیں۔

سمیرہ نے ادھر ادھر اپنی سہیلیوں سے مشورہ کیا۔ انہیں دنوں ایک دیسی چینل پہ ایک پروگرام "بے وفا" نامی شروع ہوا تھا۔ ہندی اردو میں نشر ہونے والا یہ پروگرام دراصل انگریزی پروگرام "چیٹرز" کی نقل میں تھا، اور اصل پروگرام کی طرح اس میں بھی بے وفا لوگوں کی پکڑ ہوتی تھی۔ کیونکہ یہ پروگرام جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے تارکین وطن سے متعلق تھا اس لیے اس میں اکثر و بیشتر بے وفا مرد ہی پکڑے جاتے تھے ۔ لوگوں کے مشورے پہ سمیرہ نے "بے وفا" پروگرام کے پروڈیوسر سے رابطہ کیا اور اس رابطے کے پانچ دن کے اندر ہی افتخار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

بے وقت دروازے کی دستک پہ کرسٹی ڈر گئی تھی۔ اس نے افتخار سے دروازہ کھولنے کو کہا۔ افتخار نے دروازہ کھولا تو ہر طرف سے اس پہ روشنی کی بوچھاڑ ہو گئی۔ وہاں ہر زاویے سے افتخار کی عکس بندی کی جا رہی تھی اور افتخار اپنے زیرجامے میں بے وفا کی ٹیم اور سمیرہ کے سامنے مجرم بنا کھڑا تھا۔ بے وفا کا ٹی وی میزبان مائکروفون افتخار کے سامنے لا کر افتخار سے پوچھ رہا تھا کہ اس طرح پکڑے جانے پہ افتخار اپنی بیوی سے کیا کہنا چاہے گا۔ جب افتخار کو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے تو اس نے سمیرہ سے واپس گھر جانے کو کہا۔ اتنی چیخ و پکار سن کر کرسٹی بھی جلدی جلدی کپڑے پہن کر دروازے تک پہنچ گئی تھی۔

"سمیرہ، میں گھر پہنچ کر تم کو ساری بات بتاؤں گا،" افتخار نے چلا کر سمیرہ سے کہا اور کرسٹی اور سمیرہ کے درمیان کسی قسم کے تبادلہ کلام ہونے سے پہلے دروازہ مضبوطی سے بند کر دیا۔

افتخار کی تاکید کے باوجود سمیرہ اور بے وفا کی ٹیم بہت دیر تک وہیں کھڑی رہی۔ وہ دروازے کو پیٹتے رہے ۔ مگر جب افتخار کی فون پہ پولیس سے شکایت پہ پولیس وہاں پہنچ گئی تو مجمع چھٹ گیا۔ اور اس درمیان افتخار کو کرسٹی کو بھی بات سمجھانے میں بہت مشکل ہوئی۔ افتخار نے کرسٹی سے جھوٹ بولا کہ سمیرہ اس کی پرانی آشنا تھی جس سے اس کے تعلقات بہت پہلے ختم ہو چکے تھے ۔ کیونکہ بے وفا کی ٹیم سے افتخار کی مختصر بات اردو میں ہوئی تھی اس لیے کرسٹی پوری بات سمجھ نہ پائی تھی اور اس نے افتخار کی بات کا اعتبار کر لیا۔

کچھ دیر میں افتخار کرسٹی سے رخصت لے کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ باہر نکل کر اس نے سمیرہ کو فون کیا۔ دوسری طرف موجود آوازوں کو سن کر افتخار نے سختی سے سمیرہ سے کہا،

"سمیرہ، میں گھر آ کر تم سے پوری بات کرنا چاہتا ہوں، بہت دیانت داری سے ۔ مگر تمھیں ان کیمرے والوں کو وہاں سے بھگانا ہو گا۔ میں ان کے سامنے تم سے کوئی بات نہیں کر سکتا۔ ان کو فورا دفع کرو۔ ہم میاں بیوی اپنے معاملات آپس میں نمٹا سکتے ہیں۔ میں تم سے اپنی شادی ختم نہیں کرنا چاہتا، مگر یہ لوگ ایسا ہی چاہتے ہیں۔ ان کو فورا گھر سے بھگا دو۔"

یہ کہنے کے بعد افتخار نے فون رکھ دیا۔

فون رکھنے کے بعد سمیرہ نے کچھ سوچا اور پھر بے وفا کی ٹیم کو وہاں سے روانہ ہونے کو کہا۔ پروگرام کے پروڈیوسر نے سمیرہ سے حجت کی کہ سمیرہ کو چاہیے کہ وہ دوسرے لوگوں کے سامنے ہی افتخار سے بات کرے مگر سمیرہ پروڈیوسر کی اصل دلچسپی سمجھتی تھی۔ تھوڑے سی بحث کے بعد بے وفا کی ٹیم گھر سے روانہ ہو گئی۔

گھر پہنچ کر افتخار نے اپنی گاڑی کچھ فاصلے پہ کھڑی کی۔ وہ فلموں کے کسی جاسوسی کردار کی طرح نپے تلے قدموں کے ساتھ اپنے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مگر گھر کے قریب پہنچ کر اسے اندازہ ہوا کہ گھر میں سمیرہ اور انوار کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ افتخار چوروں کی طرح گھر میں داخل ہوا۔

دروازہ کھلنے کی آہٹ سن کر سمیرہ نے جلدی سے ایک کتاب اٹھا لی۔ افتخار اندر داخل ہو کر سمیرہ کے برابر میں آکر بیٹھ گیا۔ اب سمیرہ نے کتاب اپنے سامنے سے ہٹا دی تھی اور منتظر نظروں سے افتخار کی طرف دیکھ رہی تھی۔

"سمیرہ، مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کن الفاظ میں تم کو بتاؤں کہ میں تم سے اور اپنے آپ سے کس قدر شرمندہ ہوں،" افتخار نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔

"کتنی آسانی سے آپ نے کہہ دیا کہ آپ شرمندہ ہیں۔ آپ کو اندازہ ہے کہ آپ نے میرا دل کیسے توڑا ہے ۔ میں نے آپ پہ اندھا اعتبار کیا اور آپ نے اس اعتبار کا مجھے یہ صلہ دیا؟" سمیرہ نے چلا کر کہا اور اتنا کہنے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ افتخار نے قریب پہنچ کر سمیرہ کو کندھوں سے پکڑنے کی کوشش کی تو سمیرہ نے بدن کو جھٹک کر افتخار کی گرفت سے چھڑا لیا۔ افتخار کے ہاتھ ہوا میں ساکت رہ گئے ۔ اس نے سمیرہ کو اتنے غصے میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

"سمیرہ، اگر ہمیں اپنی شادی برقرار رکھنی ہے تو تمھیں مجھے معاف کرنا ہو گا،" کچھ دیر بعد افتخار نے ہمت جمع کر کے سمیرہ سے کہا۔

اس وقت تک سمیرہ کی سسکیاں رک چکیں تھیں۔

"کتنا آسان ہے آپ کے لیے معافی مانگنا؟ مگر آپ نے ایسی حرکت کی کیوں؟"

سمیرہ کی اس بات میں افتخار کو امید کی ایک کرن نظر آئی۔ اسے محسوس ہوا کہ سمیرہ صلاح کے لیے آمادہ تھی۔

"بس سمیرہ یوں سمجھو کہ میں نے بے وقوفی میں یہ حرکت کی۔ کرسٹی وہاں موجود تھی، وہ میری طرف بڑھی اور میں اس جال میں پھنستا چلا گیا۔ میں نے چار سال تمھارے ساتھ گزارے ہیں۔ میں نے ان چار سالوں میں تم سے کبھی بے وفائی نہیں کی۔ اس مہینے بھر کی غلطی کو میری چار سال کی وفاداری پہ حاوی نہ ہونے دو۔ مجھے معاف کر دو" افتخار نے ندامت سے کہا۔ جواب میں سمیرہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ افتخار کی امید بڑھ گئی۔

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا۔

"شاید ہم مرد یوں ہی بہک جاتے ہیں۔ مگر اچھی طرح جان لو کہ اس سارے معاملے کے باوجود میرے دل میں تمھاری محبت کبھی کم نہیں ہوئی۔ میں تمھیں ایسے ہی چاہتا ہوں جیسے شادی کے پہلے دن چاہتا تھا۔"

سمیرہ کے آنسو رک گئے تھے اور وہ دور خلا میں گھور رہی تھی۔

"شاید مرد ذات ایسی ہی ہوتی ہے ۔ میں قدرت کی دی گئی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو گیا تھا۔ تم اگر مرد ہوتیں تو شاید تم بھی اس طرح بہک جاتیں،" افتخار نے اتنا کہنے کے بعد اپنے آپ کو لگام دی۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ مرد ذات تنوع چاہتی ہے ۔ کہ یہ فلموں کی باتیں ہیں کہ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی سے بے وفائی کی تو پھر اس کے دل میں اپنی بیوی کے لیے محبت ختم ہو گئی۔ کہ مرد ایک ساتھ کئی عورتوں سے محبت کرنے کی سکت رکھتا ہے ۔ مگر جتنی بات افتخار نے کہی تھی اتنی کہنے کے بعد اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس وقت اس موضوع پہ بات آگے بڑھانا خطرناک تھا۔ مگر افتخار نے جتنی بات کی، اتنی سمیرہ کے سمجھنے کے لیے کافی تھی۔

"تو اگر مرد کی طبیعت ایسی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آئندہ بھی ایسا کریں گے ۔ کرسٹی نہ ہو گی تو کوئی اور ہو گی،" سمیرہ نے آتش بار نظروں سے افتخار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

افتخار سنبھل کر بیٹھ گیا تھا۔

"نہیں سمیرہ۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھوں گا۔ میں اس بات کو ذہن میں رکھوں گا کہ میری اس حرکت سے تمھیں کتنی تکلیف ہوئی ہے ،" افتخار نے کہا اور پھر کمرے میں طویل خاموشی چھا گئی۔ اس درمیان وہ دونوں اپنے اپنے ذہنوں میں بپا طوفانوں سے لڑتے رہے ۔

"اور ایک غلطی تم نے بھی کی۔ تمھیں 'بے وفا' سے رابطہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تم یوں ہی میرا پیچھا کر کے مجھے پکڑ سکتی تھیں۔ اب تم پوری دنیا کو ہم دونوں کے بیچ میں لے آئی ہو،" کچھ دیر بعد افتخار نے کہا۔

"آؤ یہ شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ ہم وہاں جا کر نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کریں گے ۔"

یہ آخری جملہ کہنے کے بعد افتخار سمیرہ کی طرف بہت دیر تک دیکھتا رہا اور پھر سمیرہ کو سوچتا چھوڑ کر کمرے میں سونے کے لیے چلا گیا۔

سمیرہ نے اس بارے میں بہت سوچا اور اگلی صبح اپنا فیصلہ افتخار کو سنا دیا۔

دو ہفتے کے اندر وہ لوگ اپنا سامان باندھ کر شہر سے روانہ ہو گئے ۔