کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آدھی آبادی

علی حسن سمند طور


اور یہ یوں ہی ہوتا ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ شخص ترقی پذیر ملک سے اٹھ کر مغربی دنیا میں آتا ہے اور تھوڑی سی تگ و دو سے یہاں کے فعال نظام کا حصہ بن جاتا ہے ۔ ترقی پذیر ملک کے ان خستہ حال نظام ہا کو جو قدم قدم پہ اس کی رکاوٹ تھے ، وہ یہاں موجود نہیں پاتا۔ وہ اپنی ذہانت اور محنت سے آگے بڑھتا جاتا ہے ۔ کامیابی اس کے قدم چومتی ہے ۔ اور پھر وہ اس کامیابی پہ پھولا نہیں سماتا۔ اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی کی یہ داستان دنیا کے کسی بھی کونے میں دہرا سکتا ہے ۔ وہ کبھی پلٹ کر اپنے سابقہ وطن جائے تو اسے وہاں کی حالت زار پہ غصہ و رحم آتا ہے ۔ اس نے دیکھا ہے کہ ایک ہموار نظام کیسے کام کر سکتا ہے ۔ اس نے دیکھا ہے کہ کسی ادارے میں لوگوں کو ایک ضابطے سے کیسے باندھا جائے کہ وہ محنت اور دلجمعی سے کام کریں۔ اور تعلی کا ایسا ہی ایک لمحہ آتا ہے جب مغرب میں موجود اس کامیاب تارک وطن کو خیال ہوتا ہے کہ وطن کو اس کی ضرورت ہے ۔ وہ وطن واپس جا کر ملک کو بدل سکتا ہے ۔ اور پھر ایک دن وہ وطن لوٹ جاتا ہے ۔

یہ یوں ہی ہوتا ہے ۔ اور وقاص بھی اسی طرح پاکستان پلٹا تھا۔ شاید اس کو یہ گھمنڈ تو نہ تھا کہ وہ پاکستان کی حالت زار چند ہی سالوں میں بدل دے گا مگر اسے یہ گمان ضرور تھا کہ اس معاشرے میں اس کی موجودگی بابرکت ثابت ہو گی۔ وقاص بچوں کا ڈاکٹر تھا اس لیے پاکستان واپس پہنچ کر اسے ایک بڑے اسپتال میں فورا نوکری مل گئی۔ اگلا قدم خیر کے کام کی تلاش تھی۔ اور وقاص اس معاشرے میں اپنا فیض بانٹنے کی نیت سے سرشار "آدھی آبادی" نامی فلاحی ادارے میں شامل ہو گیا۔ آدھی آبادی نامی وہ ادارہ کراچی میں حقوق نسواں کے شعبے میں کام کرتا تھا۔ ملازمین کی تعداد پندرہ تھی۔ وقاص منتظمین میں شامل تھا جو ادارے کے لیے رضاکارانہ کام کرتے تھے ۔ آدھی آبادی کا عملہ مختلف دفاتر کا دورہ کرتا اور وہاں حقوق نسواں سے متعلق پمفلٹ تقسیم کرتا۔ آدھی آبادی میں شرکت کے کچھ ہی عرصے بعد وقاص نے غور کیا کہ خود اس ادارے میں کام کرنے والے کئی لوگ عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرسودہ خیال رکھتے تھے ۔ وقاص کا خیال تھا کہ آدھی آبادی صرف اسی وقت احسن طریقے سے کام کر سکتا ہے جب ادارے میں کام کرنے والے تمام لوگ حقوق نسواں کے بارے میں ایک جدید اور اعلی شعور رکھتے ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ حقوق نسواں کی تحریک تاریخی طور پہ کن ادوار سے گزری ہے ۔ آدھی آبادی کے عملے کو تعلیم دینے کی نیت سے وقاص نے ایک تعلیمی ادارے سے رابطہ کیا جس نے آدھی آبادی کی ضروریات دیکھتے ہوئے ایک ابتدائی نصاب تیار کیا۔ اس نصاب میں دو کتابیں، دو فلمیں اور ایک آڈیو تقریر شامل تھیں۔ تعلیمی ادارے کی مدد سے تیار کیا جانے والا یہ مواد انٹرنیٹ پہ چڑھا دیا گیا۔ پھر وقاص نے آدھی آبادی کے تمام ملازمین پہ زور دیا کہ وہ ادارے کی ویب سائٹ پہ چڑھایا جانے والا یہ کورس مکمل کریں۔ اور یہ جانچنے کے لیے کہ آیا کسی طالب علم نے نے حاضر دماغی سے تمام تعلیمی مواد پڑھا تھا یا نہیں، طالب علم کا امتحان لینے کی ایک ترکیب نکالی گئی۔ ایک امتحان مرتب کیا گیا جوکثیرالجوابی سوالات پہ مشتمل تھا اور ہر امتحان کے سو سوالات پانچ ہزار سوالات کے ایک ذخیرے سے چنے جانے تھے ۔ آدھی آبادی کے ایک کمپیوٹر کو امتحان گاہ کا درجہ دیا گیا۔ کوئی طالب علم جب اس کمپیوٹر پہ بیٹھتا تو اس کا امتحانی وقت شروع ہو جاتا اور کمپیوٹر پانچ ہزار سوالات کے ذخیرے سے سو سوالات کا ایک امتحان نکال کر طالب علم کے سامنے پیش کرتا۔ امتحان کا دورانیہ مکمل ہونے پہ سوالات طلب علم کے سامنے سے غائب ہو جاتے اور صحیح اور غلط جوابات کے حساب سے مرتب کیا جانے والا نتیجہ طالب علم کو پیش کر دیا جاتا۔

آدھی آبادی کی انتظامیہ کے لیے یہ بات باعث تشویش تھی کہ عملے کے اکثر افراد امتحان میں پہلی بار کامیابی نہ حاصل کر پائے ۔ اس یقین دہانی کے لیے کہ آدھی آبادی میں کام کرنے والے تمام لوگ ادارے کے اغراض و مقاصد سے واقف ہوں اور حقوق نسواں کا اعلی شعور رکھتے ہوں ادارے کے منتظمین نے یہ شرط عائد کر دی کہ سال مکمل ہونے سے پہلے تمام موجودہ ملازمین یہ کورس مکمل کر لیں۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ آئندہ بھرتی میں صرف ان امیدواروں کی درخواست قبول کی جائے گی جو ادارے کا بنایا ہوا کورس مکمل کریں گے ۔ قصہ مختصر یہ کہ آدھی آبادی کو ان جدید خطوط پہ استوار کرنے پہ بہت سے لوگ تو وقاص کی انتظامی صلاحیتوں کے قائل ہو گئے مگر اس کے ساتھ عملے کے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں وقاص کی شکل ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔

چنانچہ جب ایک موقع پہ منتظم اعلی کی طرف سے وقاص کو عملے کے سامنے "پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ نازیبا سلوک" کے موضوع پہ گفتگو کی دعوت دی گئی، اور اپنی گفتگو کے دوران وقاص نے برقعے اور حجاب کو لعنت قرار دیا تو ہال میں موجود کئی لوگوں نے وقاص کے الفاظ کے اس چناؤ پہ شدید اعتراض کیا۔ وقاص کو بھی اندازہ ہوا کہ حجاب کے لیے لفظ لعنت ذرا زیادہ سخت تھا۔ اس نے سامعین سے اپنے الفاظ کے چناؤ پہ معافی مانگی مگر کہا کہ وہ برقعے اور حجاب کو اسی نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے وہ ہندوؤں میں ستی کی رسم کو دیکھتا ہے ۔ وقاص کا کہنا تھا کہ جس وقت اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا اس وقت وہ خطہ بالخصوص اور پوری دنیا بالعموم اسی حساب سے چل رہی تھی۔ "اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ ہمارے عہد کے وہ سارے مذہبی راہ نما جو اپنے ماننے والوں کو ایک پرانے اور گھسے پٹے نظام کے ساتھ چلانا چاہتے ہیں خدا کے قہر کے حق دار ہیں۔"

وقاص کے یہ خیالات وہاں موجود بہت سے لوگوں کے لیے سخت ناپسندیدہ تھے ۔ خود منتظم اعلی نے بھی وقاص کو اشارہ کیا کہ وہ موضوع کی طرف واپس آئے ۔

اور وقاص اپنی تقریر میں موضوع پہ واپس آگیا۔

"یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارے اس معاشرے میں لڑکیوں اور عورتوں کو مرد دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں۔ اس معاشرے میں لڑکی یا عورت ہونا ایک گناہ ہے ۔ لڑکیوں اور عورتوں پہ آوازیں کسی جاتی ہیں، ان پہ دست درازی کی جاتی ہے ، ان پہ مجرمانہ حملہ کیے جاتے ہیں، اور اکثر بیشتر ان تمام قبیح حرکات کو 'چھیڑنا' کہہ کر ان پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔

ذرا سوچیں کہ اس ملک کی آدھی آبادی لڑکیوں اور عورتوں پہ مشتمل ہے ۔ کیا ملک کی آدھی آبادی کو اس طرح ہراساں رکھ کر ترقی کی جا سکتی ہے ؟ کیا عورتوں سے ایسا سلوک انسانیت ہے ؟ کیا موجودہ دنیا میں پنپنے کا یہی طریقہ ہے ؟"

وقاص کی تقریر کے بعد سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع ہوا تو وقاص کو کئی ٹیڑھے ترچھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیشتر سوالات وقاص کے پردے کے خیالات سے متعلق تھے ۔

ایک شخص نے سوال کیا،

"محترم وقاص صاحب۔ پردے کے متعلق آپ کے تاثرات جان کر آج مجھے بہت دکھ ہوا۔ پردہ تو عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ پھر آپ پردے کو برا کیوں خیال کرتے ہیں؟"

وقاص نے جواب دیا،

"مجھے افسوس ہے کہ میرے خیالات سن کر آپ کو دکھ پہنچا مگر میں کیا کروں کہ میں حق بات کہنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا۔ جہاں تک پردے سے تحفظ کا دعوی ہے تو کیا مغربی ممالک میں جہاں بیشتر خواتین پردہ نہیں کرتیں، عورت کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے ؟ یقیناً ایسا نہیں ہے بلکہ شاید ان معاشروں میں یہاں کے مقابلے میں عورت زیادہ محفوظ ہے ۔

یہ دلیل اکثر سننے میں آتی ہے کہ عورت کا برقعے میں رہنا عورت کے لیے اچھا ہے اور پردے میں ڈھکی چھپی عورت دراصل اتنی آزاد ہے کہ جتنا کہ ایک مغربی عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پردے کے حق میں یہ دلیل جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اگر پردہ ہی عورت کی آزادی کی معراج ہے تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں پردہ دار خواتین آگے سے آگے نظر آنی چاہئیں۔ کہ اسلامی ممالک میں سر سے پاؤوں تک ڈھکی عورتیں کامیابی کے نت نئے جھنڈے گاڑتی نظر آنی چائیں۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہے اور یہی مشاہدہ پردے کی عظمت کی دلیل کی نفی کرتا ہے ۔ عورت کا پردہ عورت کی اپنی مرضی سے نہیں ہے بلکہ مرد کے زور سے ہے ۔ ایک ایسا مرد جو عورت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور جس طرح وہ اپنے دوسرے قیمتی مال کو چوری سے بچانے کے لیے ڈھانپ کر رکھتا ہے اسی طرح وہ اپنی عورت کو بھی ڈھانپ کر رکھنا چاہتا ہے ۔"

لگتا تھا کہ لوگ وقاص کے جواب سے مطمئن نہیں تھے ۔ ایک اور شخص نے وقاص سے کہا،

"پردہ ہماری روایت ہے ۔ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ہم اپنی روایتوں کو چھوڑ کر مغرب کی اندھی نقل کرنے لگیں؟"

وقاص نے اطمینان سے جواب دیا۔

"میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم مغرب کی اندھی نقل کرنے لگیں مگر ہماری جو روایتیں فرسودہ ہیں انہیں ہمیں چھوڑنا پڑے گا۔ آپ مجھے پردے کی منطق بتائیے ۔ پردے کے پیچھے یہی فلسفہ ہے نا کہ مردوں کی نظر عورتوں پہ نہ پڑے ۔ تو آئیے اس مسئلے کو ایک اور طرح سے حل کریں۔ پچھلے چودہ سو سال عورتوں نے پردہ کیا ہے ۔ اب اگلے چودہ سو سال مرد اپنی آنکھوں پہ پٹیاں کیوں نہیں باندھ لیتے ؟"

وقاص کے اس جواب پہ کچھ لوگوں کی ہنسی نکل گئی اور چند نے غیر یقینی میں اپنے سر ہلائے ۔

پھر ایک اور شخص نے وقاص سے کہا،

"یہ جو آپ کہتے ہیں کہ ہمارے اس معاشرے میں عورتوں کو تنگ کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو عورتیں برہنہ سر، بے پردہ گھر سے باہر نکلتی ہیں لوگ ان کو بری نظر سے دیکھتے ہیں۔ پردہ دار خواتین کو کوئی تنگ نہیں کرتا۔"

وقاص نے کچھ سوچ کر اس سوال کا جواب دیا،

"اس معاشرے میں عورتوں کے ساتھ نازیبا سلوک میں پردہ داری اور بے پردگی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ ہمیں مردوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ وہ عورتوں کو برابر کا انسان تصور کریں۔ اور برابر کا انسان تصور کرنے کی ابتدا یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اصول نہ ہوں، کہ عورتوں پہ تو زور دیا جائے کہ وہ اپنے آپ کو برقعے میں چھپا لیں اور مردوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے ۔

جس مرد کا بھی خیال ہے کہ برقعے میں لپٹی عورت بہت مزے میں ہے اور محفوظ ہے اسے چاہیے کہ پورا ایک دن برقعہ پہن کر گزارے اور پھر حجاب اور برقعے کی صحیح حقیقت دنیا کے سامنے بیان کرے ۔

جب ایک مرد برقعے کے ساتھ بازار میں چل کر اور خریداری کر کے دیکھے گا تو اسے اندازہ ہو گا کہ برقعہ عورت کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے ۔ برقعے کے ساتھ ہاتھ پاؤں کی حرکت محدود اور اطراف بینی میں بھی قباحت۔"

اتنا کہہ کر وقاص ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ اس نے سامعین کو غور سے دیکھا اور پھر بولا،

"آئیے میں آپ کو ایک چیلنج پیش کرتا ہوں۔ میرا آپ کو چیلنج ہے کہ آپ میں سے کوئی مرد عورت کا بھیس بدل کر پورا ایک دن گزارے ۔ اور پورا دن گزارنے کے بعد اپنے لکھے گئے تجربات اور مشاہدات دوسروں کے سامنے پیش کرے ۔ میں شرط سے کہہ سکتا ہوں کہ اس تجربے کے بعد آپ ایک بالکل نئے انسان بن کر نکلیں گے ۔ آپ کو لڑکیوں اور عورتوں کی زندگی پہ رحم آئے گا۔ آپ میں سے کون ہے جو یہ چیلنج قبول کرنے کو تیار ہے ؟"

وہاں موجود لوگوں میں سے کسی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ وقاص ان کے سامنے اس قدر عجیب چیلنج پیش کرے گا۔ جو لوگ وقاص سے تند سوالات کر رہے تھے ان میں سے کسی کو یہ تجویز ایک آنکھ نہ بھائی۔ کوئی شخص بھی ایک دن کے لیے عورت کا بھیس بدلنے کے لیے تیار نہ تھا۔

اب وقاص نے ایک اور حربہ آزمایا۔ اس نے ان لوگوں سے کہا،

"عورت کی مشکلات سمجھنے کی غرض سے چند گھنٹوں کے لیے عورت کا بھیس بدلنے میں آپ کا تردد اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ عورت کو حقیر تصور کرتے ہیں اور اسی لیے آپ اپنے تئیں ایک اعلی درجے سے یعنی مرد سے عورت بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔"

وقاص کا یہ طعنہ کام کر گیا۔ لگتا تھا کہ معترضین میں سے چند لوگ کچھ ڈھیلے پڑے تھے ۔

پھر وقاص نے ایک اور چال چلی۔

"اچھا، میں ایک انعام کا اعلان کرتا ہوں۔ آپ میں سے جو شخص عورت کا بھیس بدل کر پورا دن گزارے اور اپنے تجربات ہمارے سامنے بیان کرے اس کے لیے ادارے کی طرف سے ہزار روپے کا انعام۔"

انعامی رقم کی لالچ نے وقاص کی راہ اور ہموار کر دی تھی مگر اب تک کوئی رضاکار کھل کر سامنے نہ آیا تھا۔ اب کی بار وقاص نے ایک شخص کو اس کے نام سے پکار کر چیلنج قبول کرنے کے لیے تیار کیا۔

"ہاں بھئی افضال، ذرا ہمت کرو۔ ایک دن کے لیے ایسا کر کے تو دیکھو۔"

افضال نے وقاص کی اس بات پہ نہ تو انکار کیا اور نہ اثبات میں اپنا سر ہلایا۔ وقاص کو اندازہ ہوا کہ افضال کے ساتھ بات بن سکتی تھی۔

"دیکھا، سامعین۔ افضال ایک بہادر آدمی ہے ۔ یہ شخص عورتوں سے واقعی ہمدردی رکھتا ہے اور ایک دن کے لیے عورت کا بھیس بدل کر بازار میں نکل کر عورت کی مشکلات سے آگاہ ہونا چاہتا ہے ۔ ہمارے ادارے کے لیے یہ بہترین سماجی تجربہ کرنے کے لیے تیار ہونے پہ ہم افضال کے بے حد ممنون ہیں۔"

وقاص نے تالیاں بجا کر افضال کی ہمت کو سراہا تو سامعین نے بھی تالیاں بجا دیں اور یوں یہ طے ہو گیا کہ افضال ایک دن عورت کا بھیس بدل کر گزارے گا اور اپنے تجربات ادارے کے سامنے پیش کرے گا۔

اور عورت کا بھیس بدلنے کے لیے افضال کا انتخاب بہت موزوں تھا۔ افضال کا منہ لمبوترا تھا اوراس کا قد درمیانہ تھا۔ وقاص کو اندازہ تھا کہ افضال کو نسوانی شکل دینے میں بہت زیادہ مشکل نہ پیش آئے گی اور زنانہ روپ بھرنے کے بعد افضال لمبے قد کی ایک عورت نظر آئے گا۔

 

پھر وقاص کے اگلے چند روز اس اچھوتے تجربے کی تیاریوں میں گزرے ۔ آدھی آبادی کے منتظم اعلی کے تعلقات ٹی وی اور فلم کی دنیا سے تھے ۔ انہوں نے یہ انتظام کیا کہ روز مقررہ پہ افضال کو ایک میک اپ آرٹسٹ کے سلون لے جایا جائے گا جہاں افضال کا روپ بدلا جائے گا اور پھر افضال کو بازار میں چھوڑ دیا جائے گا۔ طے یہ پایا کہ اس سماجی تجربے والے روز افضال ہر دو گھنٹے کے بعد کہیں بیٹھ کر اپنے تجربات اور مشاہدات لکھے گا۔

اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا جب یہ تجربہ ہونا تھا۔ افضال کے دفتر پہنچنے پہ منتظم اعلی اسے چارلی کے اسٹوڈیو لے گئے ۔ افضال کچھ ڈرا سہما نظر آتا تھا۔ منتظم اعلی نے اس کی ہمت باندھی۔

"افضال، پریشان کیوں نظر آتے ہو؟ تم تو بہت ہمت کا کام کر رہے ہو۔ دیکھو، اتنے سارے لوگوں میں کسی کی ہمت نہ تھی کہ وہ ایک دن کے لیے عورت کی اصل مشکلات جاننے کی کوشش کرے ۔"

منتظم اعلی کی ان باتوں سے افضال کو کچھ ڈھارس ہوئی۔

سب سے پہلے افضال کو کپڑے بدلنے کو کہا گیا۔ اسے زنانہ شلوار قمیض کے ساتھ اسپنج سے بھرا ایک سینہ پوش دیا گیا جسے پہن کر افضال کے سینے پہ نسوانی ابھار آ جائے گا۔ جب افضال سینہ پوش کے اوپر سے زنانہ شلوار قمیض پہن کر نکلا تو اس کے حلیے میں واضح فرق آ چکا تھا۔ اب بقیہ کام چارلی کو کرنا تھا۔ چارلی کافی دیر تک افضال کے چہرے پہ کام کرتا رہا۔ پھر افضال کو ایک ماڈرن برقعہ پہنایا گیا اور ساتھ میں ایک حجاب جس نے افضال کے بال اور کان اچھی طرح ڈھانپ دیے ۔

چارلی کی قریباً نوے منٹ کی میک اپ کی محنت کے بعد جب افضال کو ایک سیاہ چشمہ پہنا کر آئینے کے سامنے کھڑا کیا گیا تو افضال کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہ آیا۔ وہ ایک خوش شکل با حجاب عورت بن چکا تھا۔

پھر چارلی نے پانچ سات منٹ افضال کو یہ مشق کرائی کہ اسے کس طرح زنانہ انداز میں روڈ پہ چلنا ہو گا، اور کس طرح آواز بنا کر بولنا ہو گا۔

ان تمام تیاریوں کے بعد افضال کو اس کے نئے بہروپ کے ساتھ طارق روڈ پہ چھوڑ دیا گیا۔ یہاں کچھ دیر اصل شاہ راہ پہ گھومنے پھرنے کے بعد وہ بازار کی بغلی سڑکوں پہ نکل گیا۔ ایک عورت کے روپ میں افضال کے ساتھ جو بدسلوکی ہو رہی تھی وہ اس کے لیے ناقابل یقین تھی۔

دو گھنٹے ادھر ادھر پھرنے کے بعد افضال واپس شاہ راہ پہ پلٹا جہاں ایک جگہ بیٹھ کر ٹھنڈی بوتل پیتے ہوئے اس نے اپنے تجربات اور تاثرات لکھے ۔ ان تاثرات میں لڑکوں کے ایک گروہ کا اسے دیکھ کر منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکالنا، ایک آدمی کا دیر تک اس کا پیچھا کرنا، لوگوں کا افضال پہ سیٹی بجانا، اور ریستوراں کے کاؤنٹر پہ موجود شخص کا افضال کے ہاتھ سے رقم لیتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرنے تک کے تجربات شامل تھے ۔

افضال کا دل تھا کہ وہ اس سماجی تجربے کو یہیں روک دے ۔ وہ ان دو گھنٹوں کے اندر ہی بہت کچھ سیکھ چکا تھا اور وقاص سے بالکل متفق ہو چلا تھا مگر معاہدے کی رو سے اس کو شام سات بجے تک اس روپ میں رہنا تھا۔ طارق روڈ پہ کچھ اور وقت گزارنے کے بعد وہ ایک رکشے میں بیٹھ کر صدر پہنچ گیا۔ صدر تک کی سواری کے دوران رکشے والا افضال کو مستقل شیشے میں گھورتا رہا۔

اگلے دو گھنٹے کے بعد جب افضال اپنے مشاہدات اور تجربات لکھنے کے لیے ایک جگہ رکا تو اس کے پاس عورتوں سے نازیبا سلوک کی اور بھی کئی مثالیں جمع ہو گئیں تھیں جن میں رش کی جگہ پہ مردوں کا اس سے ٹکرا کر جانے کے واقعات بھی شامل تھے ۔

پھر شام پڑ گئی۔ سات بجنے میں دس منٹ باقی تھے ۔ اب افضال واپسی کے لیے چلا۔ اسے رکشہ پکڑ کر چارلی کے اسٹوڈیو آنا تھا جہاں میک اپ اتار کر اور کپڑے بدل کر اسے واپس گھر جانا تھا۔ پھر اگلے دن اسے ادارے کے عملے کے سامنے اپنے مشاہدات اور تجربات پڑھ کر سنانا تھے ۔

شام کے اس وقت افضال کو رکشہ تلاش کرنے میں کافی دشواری ہوئی۔ قریباً بیس منٹ کے انتظار کے بعد ہاتھ دینے پہ ایک رکشہ افضال کے پاس آ کر رک گیا۔ افضال نے رکشے والے کو پتہ سمجھایا اور پھر رقم پہ مول تول کی۔ رقم ٹھہر گئی تو رکشے والے نے افضال کو رکشے میں بیٹھنے کو کہا۔ افضال نے ابھی رکشے کے اندر ایک قدم ہی رکھا تھا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔ کسی نے پیچھے سے اس کے کولھے پہ زوردار چٹکی کاٹی تھی۔ افضال نے فورا پلٹ کر دیکھا اور وہاں موجود لوگوں میں اس شخص کو تلاش کرنے کے کوشش کی جس نے اس کے ساتھ اس قدر گھٹیا حرکت کی تھی۔ افضال کو اپنا چھوٹا بھائی اظہر مجمع میں تیزی سے غائب ہوتا نظر آیا۔