کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

یوبیانا

علی حسن سمند طور


یہ نئے دور کی زندگی کس قدر عددی ہو گئی ہے ، باپ نے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے ہوئے سوچا۔ آپ سارا دن ایک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ اس کمپیوٹر سے ہی آپ کے سارے کام نکلتے ہیں۔ بینکاری سے لے کر سماجی تعلقات تک، سارے معاملات ادھر ہی طے ہوتے ہیں۔ پھر نہ جانے اسے کیا خیال آیا کہ اس نے حال میں مکمل کیے جانے والی سفر کی تصاویر کا پوشہ کھول لیا۔ اس نے ان تصاویر کو شمار اول سے دیکھنا شروع کیا۔ اور تصویر در تصویر آگے بڑھتے ہوئے تصویر شمار تین سو تیس دیکھ کر اس کا دل ڈول گیا۔ وہ تصویر یوبیانا کے ریلوے اسٹیشن کی تھی اور ایک اہم واقعے سے چند ثانیے پہلے لی گئی تھی۔ اگر اس تصویر کو لیے جانے کے بعد ہونے والا واقعہ ایک دوسرا موڑ اختیار کرتا تو شاید سفر کی ان تصاویر میں تصویر شمار تین سو تیس سے آگے کوئی تصویر نہ ہوتی۔ تو وہ واقعہ کیا تھا؟

وہ سلوانیا کے شہر یوبیانا میں ان کا دوسرا دن تھا۔ گرمیوں کے اس روز خوب کھل کر دھوپ نکلی تھی۔ وہ چاروں تیز دھوپ سے بچنے کے لیے دیواروں کے سائے میں چلتے ریلوے اسٹیشن پہنچے تھے ۔ وہ جھیل بلید جانا چاہتے تھے کہ انہوں نے سن رکھا تھا پہاڑوں کے درمیان موجود اس جھیل کا فیروزی پانی سحر انگیز ہے ۔ جھیل بلید تک جانے والی بس ریلوے اسٹیشن کے پاس ہی سے ملنا تھی۔ انہوں نے ٹکٹ گھر تلاش کیا اور جھیل بلید کی بس کے ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ۔ جھیل بلید کے لیے اگلی بس بیس منٹ میں ہے ، انہیں بتایا گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے بالکل سامنے اپنی منزل کی تختی کے سامنے یہ بس آکر رکے گی، ٹکٹ لے کر وہاں تختی کے پاس انتظار کرنا ہے اور پھر بس آنے پہ بس کے اندر چڑھ جانا ہے ۔ تو ان چاروں نے ایسا ہی کیا، وہ ٹکٹ لے کر بس کے انتظار میں کھڑے ہو گئے ۔

باپ نے ریلوے اسٹیشن کی خوب صورت عمارت اور اطراف کی عکس بندی شروع کر دی۔ ماں اور بچے ساتھ ہی موجود تھے اور انتظار کی زحمت سے کسی قدر بیزار نظر آتے تھے ۔ باپ نے پہلے چند تصاویر اتاریں اور پھر ویڈیو بنانا شروع کی۔ کچھ دیر بعد جب ویڈیو اتارتے ہوئے اس نے کیمرہ گھمایا تو اس کی نظر اپنی بچی پہ پڑی۔ اس نے دیکھا کہ لڑکا اپنی بہن کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور لڑکی اپنے بھائی کی پکڑ سے بچنے کے لیے پوری قوت سے دوڑ رہی ہے ۔ دوڑتے دوڑتے بچی سڑک کے بالکل قریب آ گئی ہے ۔ باپ نے ویڈیو کیمرے کو ایک طرف ہٹایا اور لڑکی کو انتباہ کی آواز دینے کا ارادہ ہی کیا کہ اسے اپنے رد عمل میں دیر ہونے کا اندازہ ہو گیا۔ لڑکی بہت رفتار میں تھی، وہ پیچھے مڑ مڑ کر اپنے بھائی کی طرف دیکھ رہی تھی، ہنستی جاتی تھی، اور اس سے پہلے کہ اسے کوئی روکتا وہ سڑک پہ آ جاتی ہے ۔ ٹھیک اسی وقت ایک تیز رفتار بس وہاں آتی ہے ۔ چالیس پاؤنڈ کی یہ بچی اس بھاری بھرکم بس سے ٹکر کر دور جا گرتی ہے ۔ جو لوگ یہ حادثہ ہوتا دیکھتے ہیں ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ بچی سڑک کے کنارے پڑی ہے ۔ اس کے سر سے خون کا فوارہ جاری ہے ۔ باپ ویڈیو کیمرہ چھوڑ کر تیزی سے بچی کی طرف لپکتا ہے ۔ وہ بچی کو اٹھاتا ہے ؛ بچی بالکل بے جان معلوم دیتی ہے ، اس کی آنکھیں بند ہیں مگر شاید سانس ابھی بھی چل رہی ہے ۔ پھر چیخ و پکار ہے ، افراتفری ہے ، لوگوں کا ایک ہجوم ہے ۔ اور پھر ایک ایمبولینس وہاں آتی ہے ۔ بچی کو ایمبولینس میں ڈالا جاتا ہے ۔ ماں باپ اور چھوٹا لڑکا بھی ایمبولینس میں سوار ہوتے ہیں۔ ایمبولینس اسپتال پہنچتی ہے جہاں بچی کو فورا ہنگامی امداد وارڈ میں لے جایا جاتا ہے ۔ ماں، باپ اور چھوٹا لڑکا باہر کھڑے ہیں۔ چھوٹا لڑکا حیران ہے کہ اس کی بہن کو کیا ہوا ہے ۔ ماں باپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ چکے ہیں۔ کچھ دیر میں ڈاکٹر باہر نکل کر ماں باپ کو ان کی زندگی کی سب سے بری خبر دیتا ہے ۔ بچی مر چکی ہے ۔ وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی بڑی مقدار میں خون بہہ جانے کے باعث اس دنیا سے گزر چکی تھی۔ پھر ماتم و گریا ہے ۔

یہ کیا ہوا؟ کیسے سب کچھ ذرا سی دیر میں بدل گیا؟ وہ کتنے خوش تھے اپنے اس سفر میں، اور یہ اچانک کیا ہو گیا۔

کتنے ارمانوں سے وہ بچی پیدا ہوئی تھی اور کیسے ناز و نعم سے رکھی گئی تھی۔ اور ذرا سی غفلت سے سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا۔

اور اس بچی کی مختصر زندگی کے ہر دور کے ساتھ ماں باپ کے لیے ایک الگ خوشبو ایک علیحدہ موسیقی وابستہ رہی تھی۔ جب وہ بچی پیدا ہوئی تھی تو دور دور فضا میں نصرت فتح علی خان کا گیت گونج رہا تھا، سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام۔ اور پھر ہر سالگرہ اور ہر یادگار موقع پہ ایک جدا موسیقی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ ڈکسی چکس، ایلٹن جان، راڈ اسٹیورٹ اور بہت سے گلوکار اور موسیقار اس بچی کے لیے ہی گیت گاتے رہے تھے ۔ اور اب یہ تمام موسیقی اس بچی کے بغیر صرف بچی کی تصاویر اور اس کی یاد کی خوشبو کے ساتھ برقرار رہ جائے گی۔

مگر یہ تو واقعے کا ایک امکانی نتیجہ ہے ۔ اصل میں تو یہ پورا واقعہ ایک دوسرے نتیجے پہ ختم ہوا تھا۔

لڑکی جب بھاگی بھاگی سڑک پہ پہنچی تھی تو تیز رفتار بس اس وقت وہاں سے گزر رہی تھی۔ بس پہلے سے بچی کے سامنے موجود تھی۔ یہ بچی بس سے یوں ٹکرائی جیسے آپ دیوار سے ٹکرا جائیں۔ مگر یہ ٹکر شدید تھی اور ایک تیز رفتار بس کے ساتھ تھی۔ اور جب بس سے ٹکرانے کے بعد بچی پیچھے کی طرف گری تو بس کے پچھلے پہیے اس کی ٹانگوں کے اوپر سے ہوتے ہوئے گزر گئے ۔ جب باپ بچی تک پہنچا تو بچی کی ٹانگوں سے خون بہہ رہا تھا۔ بچی بے ہوش تھی مگر اس کی سانس رواں تھی۔ ماں اور چھوٹا لڑکا بھی بچی کے پاس پہنچ گئے ۔ باپ نے بچی کو گود میں اٹھا کر اسے آوازیں دیں مگر لڑکی ہوش میں نہیں آئی۔ پھر چیخ و پکار تھی، افراتفری تھی، لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ اور پھر ایک ایمبولینس وہاں آئی۔ بچی کو ایمبولینس میں ڈالا گیا۔ ماں باپ اور چھوٹا لڑکا بھی ایمبولینس میں سوار ہوئے ۔ ایمبولینس راستے بھر تیز آواز سائرن بجاتی، بے اعتنا گاڑیوں کے درمیان اپنا راستہ بناتی شہر کے مرکزی اسپتال پہنچ گئی جہاں زخمی بچی کو فورا ہنگامی امداد وارڈ میں پہنچایا گیا۔ ماں باپ اور چھوٹا لڑکا ہنگامی وارڈ کے باہر کھڑے ہیں۔ چھوٹا لڑکا حیران ہے کہ اس کی بہن کو کیا ہوا ہے ۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ اس لڑکے کے ساتھ ہنسی خوشی کھیل رہی تھی۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر ہنگامی امداد کے کمرے سے باہر نکل کر باپ کو خوش خبری دیتا ہے کہ لڑکی کی جان بچ جانے کے امکانات بہت روشن ہیں مگر ساتھ ہی یہ بری خبر سناتا ہے کہ لڑکی ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو گئی ہے ۔ اب وہ کبھی اپنے پاؤں پہ نہ چل پائے گی۔

بچی کی پیدائش سے اب تک کے تمام واقعات باپ کی نظروں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں۔ اس کے پاس اس دن کی عکس بندی بھی محفوظ ہے جس روز یہ بچے پیدا ہوئے تھے ۔ ہاں یہ جڑواں بچے تھے ، ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ اور عکس بندی میں وہ جادوئی لمحہ ہے جب ڈاکٹر نے پہلے بچی کو شکم مادر سے نکال کر ایک پلونگڑے میں رکھا تھا۔ وہ بچی کتنے اطمینان سے پڑی تھی اور کیسے پٹ پٹ باہر کی دنیا کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ پھر دو منٹ کے بعد ڈاکٹروں نے لڑکے کو ماں سے جدا کر کے ایک دوسرے پلونگڑے میں ڈالا تھا۔ وہ لڑکا بطن کے محفوظ ماحول سے باہر نکالے جانے پہ بہت رویا تھا۔ اور اس طرح ان دونوں بچوں کے تن مادر سے جدا ہونے کے بعد اس دنیا میں ان کے اولین لمحات ہمیشہ کے لیے فلم پہ محفوظ کر لیے گئے تھے۔

اور پھر ہر دور میں ان بچوں کی بے شمار تصاویر کھینچی گئیں، بار بار ویڈیو بنائی گئیں۔ان تصاویر اور ویڈیو میں وہ لمحہ بھی محفوظ ہے جب ان بچوں نے رینگنا شروع کیا تھا۔ پھر وہ دن آیا کہ یہ بچے سہارا پکڑ کر کھڑے ہو جاتے ۔ اور ایک فلم وہ بھی تو ہے جس میں لڑکی پہلی بار پاؤں پاؤں چلتی نظر آتی ہے ۔

تو آج کے بعد اب جو تصاویر اس بچی کی لی جائیں گی ان میں پاؤں سے معذور ایک لڑکی نظر آئے گی۔ چلنے سے معذور ایک لڑکی جس کے پاس تصاویر اور ویڈیو کی صورت میں یہ سند ہو گی کہ کبھی وہ بھی چل پاتی تھی۔ اور باپ کو ساری عمر یہ افسوس رہے گا کہ اس روز اس ریلوے اسٹیشن کے سامنے وہ عکس بندی میں اس قدر محو کیوں ہو گیا تھا کہ اس نے بچوں کی طرف سے دھیان ہٹا لیا تھا۔

 

تو کیا یہ واقعہ اسی نتیجے تک پہنچا تھا؟

نہیں واقعہ تو یوں بھی نہ ہوا تھا۔ سفر کی تصاویر میں تصویر شمار تین سو تیس کے آگے تصویر شمار تین سو اکتیس بھی موجود ہے اور پھر آگے کی تصاویر بھی ہیں۔ سفر تو جاری رہا تھا۔ تو پھر کیا ہوا تھا؟

ہوا یہ تھا کہ وہ فرشتہ جو اس بچی کی حفاظت پہ معمور تھا نہ جانے کس کام میں مشغول ہو گیا تھا۔ مگر جیسے ہی اسے اندازہ ہوا کہ بچی خطرے کے منہ میں جا رہی ہے وہ تیزی سے وہاں لپکا۔ جب وہ بچی اپنے بھائی کی پکڑ سے بچنے کے لیے بھاگتے بھاگتے سڑک کے قریب پہنچی تھی تو وہاں موجود تین آدمیوں میں سے ایک نے لڑکی کے سامنے اپنا بازو پھیلا کر اسے سڑک پہ جانے سے روک دیا تھا۔ لڑکی اس شخص کے پھیلے ہوئے بازو سے ٹکرا کر رک گئی تھی اور ٹھیک اسی وقت ایک تیز رفتار بس وہاں سے گزری تھی۔ اور یہ دیکھ کر باپ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے ۔ وہ بھاگا بھاگا بچی تک پہنچا تھا۔ اس نے بچی کو تنبیہ کی تھی اور ساتھ ہی اس آدمی کا بہت بہت شکریہ ادا کیا تھا کہ اس شخص نے بچی کی جان بچا لی تھی۔ اگر وہ شخص بروقت بچی کو سڑک پہ جانے سے نہ روکتا تو بہت برا حادثہ ہو سکتا تھا۔

سفر کی بقیہ تصاویر دیکھتے ہوئے باپ نے سوچا کہ یہ زندگی یوں ہی چلتی رہے تو اچھا ہے ۔ ماں باپ کو اپنی اولاد کو نہ دفنانا پڑے تو اچھا ہے ۔ جو پہلے آیا ہے وہ پہلے یہاں سے رخصت ہو تو اچھا ہے ۔