کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شہید

علی حسن سمند طور


موسم اچانک تبدیل ہوا تھا۔ کل تک تو ہوا اپنے اندر گرمائش لیے ہوئی تھی مگر آج یہ عالم تھا کہ درجہ حرارت بارہ سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کے لیے تیار نہ تھا۔ جسٹس ملک کے لیے کوئٹہ کے بدلتے موسم کی یہ ادائیں نئی ہرگز نہ تھیں۔ ان کی زندگی یہاں گزری تھی۔ اس وقت جسٹس ملک اس بیٹھک کا جائزہ لے رہے تھے جہاں کچھ ہی دیر میں چند اہم مہمانوں کو آنا تھا۔ اس کمرے کو ٹھنڈا جان کر انہوں نے ایک نوکر کو وہاں کا ہیٹر چلانے کو کہا۔ پھر انہوں نے باورچی خانے میں جا کر مہمانوں کی تواضع کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اور یہ تمام معائنہ کرنے کے بعد وہ گھریلو بیٹھک میں آ گئے جہاں ان کی بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ جسٹس ملک کو یہ بنگلہ سرکار کی طرف سے ملا ہوا تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور ایک لڑکے ، بہو اور دو پوتوں کے ساتھ رہتے تھے ۔ جسٹس ملک کا بڑا لڑکا عرفان یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا جب کہ منجھلی لڑکی کی شادی ہو گئی تھی اور چھوٹا لڑکا نوکری کے سلسلے میں عرب امارات چلا گیا تھا۔

جسٹس ملک کو ٹی وی دیکھتے زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ باہر گیٹ کی گھنٹی بجی۔ مہمان آ چکے تھے ۔ جسٹس ملک لپک کر اپنی نشست سے اٹھے اور گیٹ کی طرف دوڑے ۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور جسٹس ملک کو آتا دیکھ کر چوکیدار ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ جسٹس ملک نے باہر نکل کر آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔ ان مہمانوں میں جسٹس مری اور جسٹس گل جان سر فہرست تھے ۔ باقی لوگ جن کی تعداد بارہ پندرہ کے قریب تھی، ان دو مہمانوں کے ساتھ آئے تھے ۔

جسٹس ملک ان لوگوں کو ساتھ لے کر بیٹھک میں آ گئے جو ہیٹر چلنے کی وجہ سے اب تک گرم ہو چکی تھی۔ وہاں پہنچ کر لوگوں نے نشستیں سنبھال لیں۔ جسٹس مری کے ساتھ آئے ہوئے لوگ ان کے گرد جمگھٹا لگا کر بیٹھ گئے ، جب کہ جسٹس گل جان کے آس پاس ان کے ساتھ آئے ہوئے لوگ بیٹھ گئے ۔ جسٹس ملک نے غور کیا کہ جسٹس مری سے کچھ ہی فاصلے پہ چند لوگ ایک گھنی داڑھی والے شخص کے پاس بھی ادب سے بیٹھ گئے تھے ۔ اس تیسرے گروہ میں شامل لوگوں نے مخصوص سفید بلوچی پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ جسٹس ملک اس گھنی داڑھی والے شخص کو نہ جانتے تھے مگر انہیں خیال ہوا کہ وہ یقیناً جسٹس مری کے ساتھ ہو گا۔

جسٹس ملک نے نوکر کو چائے لانے کو کہا۔ نوکر کے جانے کے بعد بیٹھک میں خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ غور سے جسٹس ملک کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ وہ میزبان تھے اور اپنے ساتھی ججوں کے مقابلے میں عمر میں بھی بڑے تھے ۔ بات انہیں شروع کرنی تھی۔

لوگوں کو ہمہ تن گوش پا کر جسٹس ملک بولنا شروع ہوئے :

"جیسا کہ میں فون پہ جسٹس مری اور جسٹس گل جان سے بات کر چکا ہوں، ہماری آج کی ملاقات کا مقصد بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات کرنا ہے ۔"

یہ بات سن کر وہاں موجود لوگوں کے چہرے پہ ایک گہری سنجیدگی چھا گئی۔

جسٹس ملک بولتے رہے :

"انسانیت سے محبت کرنے والا ہر شخص اس صورتحال پہ غمگین ہے ۔ ہم اس قتل و غارت گری کے خلاف ہیں جو ہمارے آس پاس برپا ہے ، جس میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتے ۔ ہمیں اس جگہ سے ، بلوچستان سے محبت ہے ۔ اور بلوچستان سے اپنی اسی محبت کی وجہ سے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ فیصلہ کریں کہ ہم امن قائم کرنے کے سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مل جل کر فیصلہ کریں کہ ہم اپنی آواز بلند کر کے خون خرابے کو کیسے روک سکتے ہیں، معصوم شہریوں کو موت کے منہ میں جانے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔

تو سب سے پہلے میں اپنے معزز مہمان جسٹس مری کو دعوت دوں گا کہ وہ اپنی رائے دیں کہ ہم ججوں کو اور دوسرے سوچنے والے لوگوں کو موجودہ صورتحال میں اپنا کیا کردار ادا کرنا چاہیے ۔"

جسٹس ملک نے اپنی بات اس جملے پہ ختم کی تو سب کی نظریں جسٹس مری کی طرف اٹھ گئیں۔

جسٹس مری بولنا شروع ہوئے :

"صورتحال اچھی ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اب سے پانچ سال پہلے بلوچی اگر پاکستان کے بہت زیادہ حق میں نہیں تھے تو پاکستان کے اس قدر خلاف بھی نہیں تھے ۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ بلوچ قیادت کے کئی سرکردہ لوگوں کے قتل کے بعد لوگوں کا اعتبار پاکستان کے اوپر سے اٹھ گیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ بلوچ قوم پرستوں نے اپنی قوم کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ بلوچوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح بلوچستان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔ تو پھر اتنی پرانی تاریخ رکھنے والی ایک قوم جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے وجود میں آنے والے ملک کی شناخت میں اپنی شناخت کیوں کھو دے ۔ پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انیس سو سینتالیس میں پاکستان نے بلوچستان کو زبردستی اپنے ساتھ ملایا تھا۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اب اتنے سارے لوگوں کے ذہن میں بلوچستان کی آزادی کی بات آ گئی ہے تو واپسی محال ہے ۔ یہ سمجھنا کہ اتنے سارے لوگ یہ ساری باتیں بھول کر دوبارہ پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہو جائیں گے ، انتہائی حماقت ہو گی۔"

جسٹس مری نے اپنی بات ختم کی تو جسٹس گل جان نے اپنا گلا صاف کیا۔ لوگ جسٹس گل جان کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ جسٹس گل جان نے بولنا شروع کیا۔

"میں جسٹس مری کی بات سمجھ رہا ہوں مگر میں ساتھ ہی جسٹس ملک سے بھی متفق ہوں۔

یہ بات صحیح ہے کہ اب بلوچوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنا کیا کردار ادا کریں کہ جو کچھ ہونا ہے بغیر تشدد کے ، بغیر قتل و غارت گری کے ہو جائے ۔"

جسٹس گل جان کی گفتگو میں توقف آیا تو جسٹس ملک پھر بولنا شروع ہوئے ۔

"بات بالکل یہی ہے جو جسٹس گل جان نے کہی ہے ۔ اگر بلوچستان کو پاکستان سے الگ ہونا ہے تو بے شک ایسا ہو جائے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ ایسا بغیر قتل و غارت گری کے کیسے ہو۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے دو سالوں میں یہاں پے درپے ایک نہیں بیس کے قریب اساتذہ کا قتل ہوا ہے ۔ اور ان اساتذہ کا قصور کیا تھا؟ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ پنجابی تھے ۔ آپ سوچیں کہ اتنے سارے گھرانے یوں ذرا سی دیر میں تباہ ہو گئے ۔

اور ایک استاد کا قتل تو بہت ہی قابل مذمت ہے ۔ اگر ماں کے بعد کوئی ہستی قابل عزت ہے تو وہ استاد کی ہے ۔

وہ کسی رنگ کا ہو، کسی نسل کا ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو، وہ آپ کا استاد ہے ۔ وہ آپ کو پڑھا رہا ہے ۔ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو علم کے راستے پہ لے جا رہا ہے ۔ اور آپ ایک استاد کو صرف اس لیے مار دیں کہ وہ پنجابی ہے ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے ۔ اساتذہ کے قتل کی بنیاد پہ رکھی جانے والی آزادی کی ایسی تحریک آگے چل کر کیا رنگ لائے گی؟"

اس موقع پہ گھنی داڑھی والا وہ شخص بولنا شروع ہوا جو چار لوگوں کے حلقے میں جسٹس مری کے دائیں طرف بیٹھا تھا۔

"آپ میں سے جو لوگ نہ جانتے ہوں وہ جان لیں کہ میں نور اللہ گچکی ہوں۔"

سفید پگڑی والے شخص کی یہ بات سن کر وہاں موجود بہت سے لوگ سکتے میں آ گئے ۔ان کے لیے نور اللہ گچکی کا نام ہرگز اجنبی نہ تھا۔ سرکاری ایجینسیاں ایک عرصے سے اس کی گرفتاری کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔ نور اللہ گچکی پہ الزام تھا کہ اس نے بلوچستان میں مقیم پنجابی آباد کاروں کے خلاف قتل و غارت گری شروع کی ہوئی تھی۔

نور اللہ پھر بولنا شروع ہوا۔

"سب سے پہلے تو میں ایک بات اپنے دفاع میں کہنا چاہوں گا۔ حکومت کے ادارے مجھے بدنام کرنے پہ تلے ہوئے ہیں؛ ان کا کہنا ہے کہ میں پنجابی آباد کاروں کے خلاف ہوں۔ میں ہرگز کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ ہم تو بس پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔

مگر یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ایسے لوگ ہیں جو ان آباد کاروں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ اور میں آپ کو ان کے غم و غصے کی وجہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

کولھو پہ بم باری ہوتی ہے ۔ اوپر سے جہاز آتے ہیں اور بم برسا کر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے گھر تباہ ہوتے ہیں۔ ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔ اور ہم بے بسی سے ان جہازوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ تو اس وقت تو ہماری حمایت میں کوئی نہیں اٹھتا۔ کوئی آنسو ہمارے لوگوں کے لیے نہیں بہتا۔

پھر ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے احتجاج کرنے کا۔ کوئی طریقہ نہیں ہے اپنے دشمن کو دبانے کا۔ سوائے اس طریقے کہ وہ لوگ جو ہمارے دشمن سے ذرہ برابر بھی ہمدردی رکھتے ہوں، ہم ان کو مار کر اپنا غم و غصہ نکالیں۔ تو یہ ہو رہا ہے ان اساتذہ کے ساتھ کہ جن کا تذکرہ آپ نے کیا ہے ۔"

جسٹس ملک نے نوجوان کے لہجے میں تلخی محسوس کی تھی۔ انہیں خیال ہوا کہ جیسے انہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیے ۔

"نور اللہ، آپ نہ جانے کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو بلوچوں کی ہلاکت پہ آواز نہیں اٹھاتے ۔ ہم بلوچستان میں رہنے والوں نے تو ہمیشہ بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ آواز بلند کی ہے ۔

مگر یہ بات تشویشناک ہے کہ بلوچستان میں رہنے والے غیر بلوچیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ قوم پرست بلوچوں میں پاکستان کا مطلب پنجاب لیا جاتا ہے ۔ اس منطق سے پاکستانی فوج جو کچھ کر ہی ہے وہ پنجابیوں کا کیا دھرا ہے ۔ چنانچہ ہر پنجابی حکومت پاکستان کے ہر عمل کا ذمہ دار ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ کہنے کو تو میں بھی پنجابی ہوں۔ یہ بات میرے نام سے واضح ہے ۔ مگر کوئٹہ میں رہنے والے پنجابیوں کا پنجاب سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا پنجاب میں بسنے والے بلوچیوں کا بلوچستان سے ۔

میں آپ کو اپنی تاریخ بتاتا ہوں۔ میرے والد یہاں جج مقرر ہو کر آئے تھے ۔ میں نے اپنا بچپن یہاں گزارا ہے ۔ میرے بچے ادھر ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کی شادیاں ادھر ہوئی ہیں۔بلوچستان ہمارا وطن ہے ۔ ہمیں اس جگہ سے محبت ہے ۔ اگر بلوچستان پاکستان سے الگ ہوتا ہے تو ہم لوگ بھاگ کر پنجاب نہیں چلے جائیں گے ، ہم ادھر ہی رہتے رہیں گے ۔"

جسٹس ملک کی اس جذباتی تقریر کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

اتنے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے بیٹھک میں گرمی بڑھ گئی تھی۔ نوکر تھوڑی دیر پہلے چائے اور لوازمات لایا تھا اور اب لوگوں کو چائے بنا کر دینے میں مشغول تھا۔ جسٹس ملک نے نوکر سے کہا کہ وہ ہیٹر بند کر دے ۔ تمام مہمانوں کو چائے تھمانے کے بعد نوکر نے ہیٹر بند کر دیا۔ اس کے جانے کے بعد جسٹس ملک پھر بولنا شروع ہوئے ۔

"ہم بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اگر بلوچستان کے لوگ واقعی پاکستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو ان کو ایسا کرنے دیا جائے ۔ مگر ساتھ ہی ہم پاکستانی حکومت کا یہ موقف بھی پڑھتے ہیں کہ بلوچستان میں مشکل سے دس فی صد لوگ ایسے ہیں جو گڑبڑ مچا رہے ہیں، بلوچستان کے زیادہ تر لوگ پاکستان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔"

جسٹس ملک کی اس بات پہ نور اللہ گچکی سے خاموش نہ رہا گیا۔

"پاکستانی حکومت جھوٹ بولتی ہے ۔ یہ بلوچیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش ہے ۔ بلوچ متحد ہیں اور متحد ہو کر پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔" نور اللہ نے غصے سے کہا۔

جسٹس ملک براہ راست نور اللہ گچکی سے مخاطب ہو گئے ۔

"نور اللہ، میرے بھائی، آپ غصہ نہ کھائیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کتنی دل کش شے ہے ۔ آپ سوچیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم کیسا محسوس کرتے اگر انگریز جنوبی ایشیا چھوڑتے ہوئے پاکستان نہیں قائم کرتا۔ جس طرح ہم انگریز سے آزادی چاہتے تھے اور ہندوستان سے ہٹ کر ایک الگ ملک دیکھنا چاہتے تھے ، شاید بالکل اسی طرح آج بلوچستان کے لوگ پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔"

اس موقع پہ جسٹس ملک تھوڑی دیر کے لیے رکے اور چائے کا ایک گھونٹ پینے کے بعد بولنا شروع ہوئے ۔

" ہر دفعہ جب اس خطے میں ایک نیا ملک بنتا ہے تو خوب قتل و غارت گری ہوتی ہے ۔ ہم نے پاکستان کے بننے پہ انیس سو سینتالیس میں ایسا دیکھا، پھر بنگلہ دیش کے بننے پہ انیس سو اکہتر میں یہی دیکھا۔ ہماری خواہش ہے کہ اب کی بار ایسا نہ ہو۔ اب کی بار ہم تمیز کا مظاہرہ کریں اور جو کرنا ہے بغیر مار پیٹ کے کر جائیں۔

پھر سوال یہ بھی ہے کہ لوگ آزادی کا نعرہ کب بلند کرتے ہیں۔ دراصل یہ سب لوگ ایک نااہل حکومت سے نالاں رہے ہیں۔ اور ہر دفعہ ہم نے ایک نئے ملک کا تجربہ کر کے دیکھا کہ ہمیں نااہل حکومت ہی میسر رہی ہے ۔ لوگوں نے ایک ملک کی نااہل حکومت سے جان چھڑائی تو انہیں نئے ملک کی نئی نااہل حکومت میسر آ گئی۔ تو سوال یہ ہے کہ اب کی بار آزادی کا یہ تجربہ کیسے مختلف ہو گا؟"

اس سوال کا جواب جسٹس مری کے پاس تھا۔ انہوں نے جسٹس ملک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

"جسٹس ملک، کسی دوسرے کی نااہل حکومت اور اپنی نااہل حکومت میں یہی فرق ہوتا ہے ۔ لوگ اپنے لوگوں کی نااہل حکومت پہ پھر بھی صبر و شکر کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بلوچستان کی آزادی کے بعد بلوچوں کے سر پہ ایک اپنی ہی نااہل حکومت سوار ہو جائے مگر اس وقت کی اس وقت دیکھی جائے گی۔ ابھی تو یہ لوگ پاکستان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان فوج بلوچستان فوری طور پہ چھوڑ دے ۔"

جسٹس ملک کے گھر میں ہونے والی یہ ملاقات دو گھنٹے سے اوپر جاری رہی۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہاں موجود سب لوگوں کو ایک دوسرے کے دلی جذبات جاننے کا موقع ملا۔ طے پایا کہ اگلی بار تینوں جج صاحبان صرف ایک ایک اسسٹنٹ کے ساتھ ملیں گے اور یہ حکمت عملی تیار کریں گے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کس طور سے بغیر تشدد کے انجام پا سکتی ہے ۔

 

اگلی ملاقات سے پہلے جسٹس ملک نے ماضی قریب میں آزادی حاصل کرنے والے ممالک کے اوپر تحقیق کی۔ اور جسٹس مری اور جسٹس گل جان سے ملاقات میں انہوں نے بات اسی موضوع سے شروع کی۔

"بلوچستان سے پاکستان کی آزادی کے سلسلے میں ہمیں ان مثالوں کو دیکھنا چاہیے جہاں نوزائیدہ ممالک نے بلا یا با تشدد آزادی حاصل کی۔ مثلاً دس سال پہلے مشرقی تمور اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں ہونے والے ریفرینڈم کی مدد سے انڈونیشیا سے الگ ہوا۔ اس سے پہلا وہاں انڈونیشیا کی فوج قتل و غارت گری کر چکی تھی مگر کم از کم ریفرینڈم شفاف ہو پایا۔

اس سے پہلے ہم نے چیکوسلاواکیہ کو بغیر کسی تشدد کے چیک ریپبلک اور سلاواکیہ نامی ممالک میں تقسیم ہوتے دیکھا۔

پھر ہم نے دیکھا کہ کینیڈا میں کیوبیک کا صوبہ باقی ملک سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ مگر لوگوں کی رائے لینے کے سلسلے میں انہوں نے بیرونی مدد حاصل نہیں کی۔ ان کو اپنے انتخابی اداروں پہ اعتماد تھا۔ ریفرینڈم ہوا اور فیصلہ ہو گیا کہ کیوبیک سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ کینیڈا کے ساتھ ہی رہنا چاہتے تھے ۔

پھر ہم نے مونٹینیگرو کی سربیا سے آزادی کو دیکھا۔ جب یوگوسلاویہ کے اوپر سے اشتراکیت کا بندھن ٹوٹا تو سب سے پہلے سلوانیا باقی ملک سے الگ ہوا۔ پھر کروایشیا الگ ہوا۔ پھر بوسنیا اور مقدونیہ الگ ہوئے ۔ سربیا اور مونٹے نیگرو کچھ عرصہ ساتھ رہے مگر پھر الگ الگ ملک بن گئے ۔"

اس موقع پہ جسٹس مری نے جسٹس ملک کی بات کاٹی۔

"جسٹس ملک، آپ اتنی دور مت جائیں۔ آپ اس خطے میں آزاد ہونے والا وہ ملک دیکھیں جس کو ساتھ رکھنے کی پوری کوشش پاکستانی فوج نے کی۔ آپ نے دیکھا کہ اس کم ظرف فوج نے کیسے کیسے ہتھکنڈے نہیں آزمائے ۔ آپ اس فوج پہ اعتماد نہیں کر سکتے ۔"

جسٹس مری کی بات میں وزن تھا۔

"میں آپ کی بات سے متفق ہوں، جسٹس مری۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ریفرینڈم ایک شفاف طریقہ ہے یہ فیصلہ کرنے کا کہ لوگوں کا ایک گروہ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ایک منصف ریفرینڈم کا نتیجہ وہ اخلاقی فتح ہے جس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور میرا خیال ہے کہ بلوچستان کے سلسلے میں بھی ہمیں ایسے ہی ایک ریفرینڈم پہ کام کرنا ہو گا۔"

"مگر یہ ریفرینڈم کون کرائے گا؟ بلوچ قوم پرست ایسے کسی ریفرینڈم کو نہیں مانیں گے جو پاکستانی فوج یا پاکستانی حکومت کے زیر اثر کرایا جائے ۔" جسٹس گل جان نے اپنی رائے پیش کی۔

 

اور اس ملاقات کے بعد تین ملاقاتیں اور ہوئیں اور پھر ایک امن معاہدے کے خد و خال واضح ہوتے گئے ۔ بلوچستان کے لوگوں کو یہ حق رائے دہی دینا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں جسٹس ملک فارمولا کہلایا جانے لگا۔ مختصر الفاظ میں جسٹس ملک فارمولا یہ تھا کہ پاکستانی فوج بلوچستان چھوڑ دے اور صوبے کا انتظام اقوام متحدہ کی فوج کے حوالے کیا جائے جو یہ ریفرینڈم کروائے کہ آیا بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔ اس حکمت عملی کو کاغذ پہ لکھنے اور اس کی جزئیات پہ اچھی طرح غور کرنے کے بعد ان تینوں جج حضرات نے میڈیا کے ذریعے جسٹس ملک فارمولے کو لوگوں تک پہنچانا شروع کیا۔ اب ہر طرف جسٹس ملک فارمولے کا چرچا ہو گیا۔ مختلف ٹی وی اسٹیشن تینوں جج حضرات کو حالات حاضرہ کے پروگراموں میں باقاعدگی سے بلانے لگے ۔

 

اور ایسا ہی ایک موقع تھا جب جسٹس ملک ایک ٹی وی پروگرام میں دوسرے شرکا سے بحث میں مشغول تھے کہ آئی ایس آئی کے ایک دفتر میں گفتگو ہو رہی تھی۔

"اس جسٹس ملک کو آخر کیا تکلیف ہے ؟ یہ کیوں اس قسم کی احمقانہ باتیں کر رہا ہے ؟ ہم ان دہشت گردوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں جن کی مدد ہندوستان کر رہا ہے ۔"

دوسرے شخص نے پہلے کی ہاں میں ہاں ملائی۔

"بات آپ کی بالکل ٹھیک ہے ۔ پاکستانی فوج کو کیا ضرورت ہے بلوچستان چھوڑنے کی؟ بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں ہے ، یہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے ۔"

پہلے شخص نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔

"بات یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اس بے وقوف جج کو راستے سے ہٹانا ہو گا۔"

اور اسی طرح کی ایک گفتگو بلوچستان میں ایک خفیہ مقام پہ ہو رہی تھی۔ وہاں بلوچستان کے کئی قوم پرست لیڈر جمع تھے ۔

"ہمیں جسٹس ملک پہ اعتبار نہیں ہے ۔ یہ چاہے کتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہو، یہ آخر کار پنجابی ہے ۔"

ایک دوسرے شخص نے اس بات کی تائید کی۔

"دنیا ہماری بات سن رہی ہے ۔ اور ہم اپنی مسلح جدوجہد سے پاکستانی فوج کو یہاں سے باہر نکالنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہمیں پاکستانی حکومت سے کسی فارمولے وغیرہ پہ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔"

کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک شخص نے کہا۔

"ہمیں اس جسٹس ملک کو راستے سے ہٹانا ہو گا۔ بلوچستان کی آزادی کی راہ میں یہ بھی ایک پتھر ہے ۔"

اور ہفتے بھر کے اندر ہی جسٹس ملک کی زندگی کا آخری دن آن پہنچا۔ جسٹس ملک ڈرائیور کے ساتھ گھر واپس جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے آنے والی ایک گاڑی نے جسٹس ملک کی گاڑی کا راستہ روک لیا۔ پھر جسٹس ملک کی گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہ فائرنگ منٹ بھر جاری رہی۔ جب حملہ آوروں کو یقین ہو گیا کہ ان کی شدید فائرنگ کے بعد گاڑی میں موجود کوئی شخص زندہ نہ بچا ہو گا تو وہ اطمینان سے وہاں سے فرار ہو گئے ۔

 

تھوڑی ہی دیر میں جسٹس ملک کے قتل کی خبر آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ جسٹس ملک کی لاش کو اگلے دن تدفین تک کے لیے اسپتال کے مردہ خانے میں جمع کروانے کے بعد جب جسٹس ملک کا لڑکا عرفان اپنے گھر پہنچا تو وہاں ٹی وی اور اخبارات کے رپورٹروں کا ایک جمگھٹا لگا ہوا تھا۔

ایک رپورٹر نے ہمت کر کے عرفان سے پوچھ ہی لیا کہ اس کا کیا خیال تھا کہ اس کے والد کو کس نے ہلاک کیا تھا۔

عرفان پھٹ پڑا۔

"مجھے کیا پتہ کہ ابو کو کس نے مارا ہے ؟ یہاں سب کی دلچسپی صرف اور صرف لوگوں کو مارنے میں ہے ۔"

عرفان ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر زور زور سے چیخنے لگا۔

"ظالموں یہ تم نے کیا کیا؟ میرے معصوم باپ کو مار دیا۔ مادر --- وہ تمھارا دوست تھا۔ وہ سب کا دوست تھا۔ اس کو سب سے محبت تھی۔ یہ تم نے کیا ظلم کیا؟ وہ تم سب سے محبت کرتا تھا، مادر۔۔۔، وہ سب سے پیار کرتا تھا، بہن ۔۔۔ تم لوگ لڑتے رہو اسی طرح۔ اسی طرح ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہو، بہن ۔۔۔"

عرفان ہذیانی چیخیں مارتا ہوا صوفے پہ بیٹھ گیا تھا اور اب دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے زار و قطار رو رہا تھا۔ عرفان کی یہ حالت دیکھ کر ٹی وی اور اخبارات کے رپورٹر رفتہ رفتہ کر کے وہاں سے روانہ ہونے لگے ۔

 

٭٭٭