کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک شریف آدمی

اقبال انصاری


’’میں تو  آپ کو بڑا شریف آدمی سمجھتی تھی پروفیسر صاحب!‘‘  نوشابہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اس کے بھرے بھرے متناسب جسم پر آسمانی رنگ کا شلوار سوٹ تھا جس نے اس کی شخصیت کو مزید جاذب نظر کر دیا تھا۔ سیاہ بال بڑے سلیقے سے شانوں پر ڈھلکے ہوئے تھے۔ تمتمایا ہوا خوب صورت چہرہ طیش ہی طیش تھا۔

 پروفیسر مرتضی نے چونک کر اخبار سے نگاہیں ہٹا کر  نوشابہ کے چہرے پر ڈالیں  اور بولے : ’’ کیا ۔۔ کیا کہا تم نے ؟‘‘

 ’’میں نے کہا  کہ میں آپ کو بڑا شریف آدمی سمجھتی تھی پروفیسر صاحب۔‘‘  نوشابہ چبھتے ہوئے لہجے میں صرف اتنا ہی کہہ سکی۔

پروفیسر مرتضی کے چہرے پر تعجب کے تاثرات ابھر آئے۔ انھوں نے اپنے سامنے پڑی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کیا  اور کہا: ’’بیٹھ جاؤ۔۔ اور پہلے یہ بتاؤ کہ میں  ’’پاپا‘‘  سے  ’’پروفیسر صاحب‘‘  کیوں ہو گیا،  اور پھر اپنے داخلی جملے کی تشریح کرو۔‘‘

نوشابہ نے ایک لمحہ پروفیسر صاحب کو اپنی جلتی نگاہوں سے دیکھا، پھر آگے بڑھ کر بڑے جارحانہ انداز میں اس کرسی پر بیٹھ گئی جس کی طرف پروفیسر مرتضی نے اشارہ کیا تھا،  اور تلخ لہجے  اور تیز آواز میں بولی: ’’آپ  ’’پاپا‘‘  سے  ’’پروفیسر صاحب‘‘  اس لیے ہو گئے کہ  ’’پاپا‘‘  ایک بڑا خوبصورت، بہت پیارا  اور پاکیزہ لفظ ہے جو کسی غیر لڑکی کی زبان سے ادا ہونے کے بعد  اور زیادہ خوبصورت،  اور زیادہ پیارا،  اور زیادہ پاکیزہ ہو جاتا ہے ۔۔   اور آپ پروفیسر صاحب اس پیارے  اور پاکیزہ لفظ سے مخاطب کئے جانے کے اہل نہیں ہیں۔‘‘

 ’’صبح تک تو تھا‘‘  پروفیسر صاحب دھیرے سے بولے۔ ان کے کلین شیوڈ سنجیدہ چہرے ، عینک کے پیچھے کچھ سکڑی ہوئی سی پلکوں  اور ذہانت چھلکاتی آنکھوں سے لگ رہا تھا جیسے وہ حالات کو سمجھنے کی بہت تیزی رفتار، ذہنی کوشش میں مصروف ہوں۔

 ’’ہاں صبح تک تھے ‘‘  نوشابہ کی بڑی بڑی کچھ بھوری سی آنکھوں میں اشتعال کے ساتھ نفرت بھی بڑی واضح تھی ’’لیکن صبح گزر گئی پروفیسر صاحب۔ اب تو ہر طرف بڑی تیز  اور جھلسا دینے والی دوپہر پھیل گئی ہے ،  اور اسی دوپہر نے میری آنکھوں پر پڑا آپ کی شرافت کا پردہ تار تار کر دیا ہے۔‘‘

پروفیسر مرتضی نے کہا تو کچھ نہیں لیکن ان کا چہرہ، نوشابہ کے تمتمائے ہوئے چہرے پر مرکوز ان کی نگاہ، ان کی کشادہ پیشانی پر ابھری ہوئی شکنیں ، ان کے نیم وا خشک سے لب۔۔  ہر شئے مجسم استفسار نظر آ رہی تھی۔ چند لمحے انھوں نے نوشابہ کے کچھ  اور بولنے کا انتظار کیا، پھر بڑے پرسکون لہجے میں بولے  ’’بالکل سیدھے سادے الفاظ میں بتاؤ کہ میری شرافت کو کیا ہو گیا ہے۔‘‘

 ’’کہا نہ، تار تار ہو گئی ہے ‘‘  نوشابہ کی آواز میں طیش، طنز، تنفر۔۔ سبھی کچھ تھا۔ ’’دھجیاں بکھر گئی ہیں آپ کی شرافت کی۔ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے لائق و فائق فرزند منصور صاحب ایک  سزا یافتہ مجرم ہیں ،  اور مجرم بھی دفعہ ۳۰۷کے ۔۔ ارادہ قتل۔۔ سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں ۔۔  سزا کاٹ کر جب جیل سے تشریف لائے تو آپ نے انھیں بھوپال سے ہٹا لیا، یہاں گوالیار میں موٹر سائیکل کی ایجنسی کھلوا دی،  اور منصور مرتضی صاحب شریف بھی ہو گئے  اور بزنس مین بھی۔ میں جب لکچرر کی حیثیت سے مہارانی کالج میں آئی تو آپ نے مجھے دیکھا، پھر آپ کے ایما پر منصور نے مجھے دیکھا،  اور دیکھتے ہی مجھ پر اس درجہ فریفتہ ہوئے کہ مجھ سے شادی کرنے کی ٹھان لی۔ آپ اپنے لائق بیٹے کا رشتہ لے کر میرے گھر گئے ، میرے والد کو شیشے میں اتار لیا،  اور کچھ عرصے کے بعد میں آپ کے گھر آ گئی۔۔ آپ کو ’’پاپا‘‘  کہنے لگی۔۔  وہ تو آج مجھے معلوم ہوا کہ منصور صاحب اپنے پرانے شہر بھوپال میں سات سال کی قید کاٹ چکے ہیں ۔۔ ‘‘

پروفیسر مرتضی بڑے سکون سے نوشابہ کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کے سرخ و سپید چہرے پر گھبراہٹ، پریشانی، تشویش، شرمندگی۔۔  کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کی نگاہ نوشابہ کے چہرے پرتھی۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد نوشابہ نے پھر کہنا شروع کیا ’’آپ نے اپنے بیٹے کے جرم، مجرمانہ کارکردگی، سزا۔۔  کسی بات کی کوئی ہوا نہیں دی۔۔  جان بوجھ کر آپ ہر بات کو چھپا گئے ۔۔  ظاہر ہے کہ نہ چھپاتے تو ایک کالج لکچر ر آپ کونہ ملتی۔۔  آج تو یہاں صرف مجھے علم ہوا ہے ۔۔  کل کو ممکن ہے سارے گوالیار کو علم ہو جائے کہ مہارانی کالج کی لکچرر نوشابہ خان ایک سزا یافتہ مجرم کی بیوی ہے۔ آپ نے ۔۔ ‘‘ دم بہ دم بڑھتے ہوئے اشتعال نے نوشابہ کا تنفس اتنا تیز کر دیا کہ وہ جملہ بھی پورا نہ کر سکی۔

پروفیسر مرتضی نے اخبار نزدیک پڑی چھوٹی میز پر رکھ دیا، عینک اتاری، کرتے کی جیب سے رومال نکال کر عینک کے شیشے صاف کئے ، عینک کو پھر آنکھوں پر جمایا،  اور اپنی ٹھہری ہوئی آواز اور متین لہجے میں بولے  ’’نوشابہ، تم نے ابھی  ’’پروفیسر صاحب‘‘  کہہ کر مجھے مخاطب کیا ہے ، اس لیے پہلی بار ’’بیٹی‘‘  کہہ کر تمہیں مخاطب نہیں کر رہا ہوں کہ میرے منھ سے  ’’بیٹی‘‘  سن کر کہیں تم  اور نہ بھڑک جاؤ۔۔  ابھی کچھ تہذیب کے ساتھ تو بول رہی ہو، کہیں اتنی مشتعل نہ ہو جاؤ کہ تہذیب ہی کھو بیٹھو۔ اشتعال کی آگ تہذیب کو آن کی آن میں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ خیر!۔ دیکھو، میں کسی فلاسفر، کسی رشی، کسی سنیاسی یا یوگی کی بات نہیں کر رہا ہوں ، اپنی بات کر رہا ہوں ۔۔  میرا تجربہ بھی یہ ہے  اور مشاہدہ بھی کہ انسانوں کی دنیا بہر حال انسانوں کی دنیا ہے ۔۔  یہ نہ فرشتوں کی بستی، نہ شیطانوں کا جہاں۔ انسانوں کی دنیا میں بہت برائی ہے ، یہ بات سچ ہے ، لیکن انسانوں کی دنیا میں اچھائی ہے ہی نہیں ، یہ بات سچ نہیں ہے ۔۔ نہ سچ ہو سکتی ہے ۔۔  اصلاح کا دری ہاں ہمیشہ کھلا رہتا ہے ، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ ہر گمراہ کو سنبھلنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے  اور اسے اس کا موقع بھی ملنا چاہئے۔تاریخ گواہ ہے کہ اصلاح نے انسانوں کی اس زمین پر بڑے بڑے معجزے کر دکھائے ہیں۔ یہاں ایک ڈاکو بالمیکی ہو جاتا ہے ، ایک کند ذہن کالی داس ہو جاتا ہے ، ایک عمر حضرت عمر فاروق ہو جاتے ہیں۔ ایک برا کام کرنے والا ہمیشہ برے کام کاہی مرتکب ہوتا رہے گا،ایک مجرم ہمیشہ جرم ہی کرتا رہے گا، یہ ایک بڑی بے ہودی سوچ ہے۔ کلنگ کا ایک جابر و ظالم فاتح اشوک اعظم بھی بن سکتا ہے۔ میں نے کہا نہ کہ انسانوں کی بستی میں اصلاح کا در کھلا ہے ، کھلا رہنا بھی چاہئے۔‘‘

نوشابہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر پروفیسر مرتضی نے ہاتھ اٹھا کر کہا ’’میری بات سنو۔۔ ماضی کے ایک جرم کے لیے کسی کو ایک مسلسل سولی پر نہیں لٹکایا جا سکتا ، نہ ہی لٹکایا جانا چاہئے۔ انسان اگر ماضی کو لیے بیٹھا رہے گا تو حال کو بھی کھودے گا  اور مستقبل کو بھی۔ ماضی کے مشاہدات کو زندگی کا معاون تو بنا لینا چاہئے ، لیکن ماضی کو زندگی کر لینا بہت بڑی حماقت ہے ۔۔ منصور طیش میں آ کر ہوش کھو بیٹھا تھا ۔۔ سیب کاٹنے والا چاقو اٹھا کر اس نے غلیظ گالی دینے والے پر حملہ کر دیا تھا۔۔  اسے اس کی سزا بھی عدالت نے دی۔۔ اگر کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ آپ کو غلیظ گالی دے ، تو آپ کو بھی یہ حق نہیں کہ آپ گالی دینے والے کو چاقو مار دیں ۔۔ لیکن طیش میں بے ارادہ ایسا ہو جاتا ہے ۔۔ غلطی ہو جاتی ہے ۔۔  منصور سے بھی ہو گئی۔ وہ گرفتار کیا گیا، اس پر مقدمہ چلا  اور عدالت نے اسے سزا دے دی۔ اس نے سزا کاٹی، لیکن وہ بہرحال کوئی عادی مجرم نہیں تھا۔ جیل میں اچھے چال چلن کی وجہ سے اسے سزا پوری ہونے سے قبل ہی رہا کر دیا گیا۔ جیل سے نکل کراس نے ایک قاعدے کے انسان کی طرح زندہ رہنا شروع کیا  اور ایک ۔۔ معقول زندگی میں قائم ہو گیا۔ آج وہ ایک شائستہ انسان، ایک کامیاب بزنس مین، ایک محبت کرنے والا شوہر  اور اپنے دونوں بچوں کا شفیق  اور ذمے دار باپ ہے۔ اس کا جرم  اور اس جرم کی سزا اس کا ماضی ہے ، بھولا بسرا ماضی۔۔  اسے بھولا بسرا ماضی ہی رہنے دو۔ اس کے ماضی کی اس تاریکی سے اپنے  اور اس کے روشن تعلقات کو داغدار نہ کرو، ورنہ ان داغدار تعلقات کا اثر تم دونوں کے بچوں پربھی پڑے گا  اور ان کی نفسیات گڑبڑا جائے گی۔۔ تمہارا رویہ قطعی نارمل رہنا چاہئے۔‘‘

 ’’کیا  یہ ممکن ہے ؟‘‘  نوشابہ کا ہر انداز اب بھی جارحانہ تھا ’’اب جب کہ یہ بات مجھے معلوم ہو چکی ہے کہ منصور ایک سزا یافتہ مجرم ہیں  اور ۔۔ ‘‘

 ’’میں نے کہا نہ کہ ماضی کو حال میں نہ گھسیٹو۔۔ سب کی بھلائی اسی میں ہے ‘‘  پروفیسر مرتضی اب بھی مجسم متانت تھے۔

 ’’ہاں آپ کو یہ کہنا ہی چاہئے ۔۔ بیٹے کا معاملہ ٹھیرا‘‘  نوشابہ کے لہجے میں ناگواری بھی تھی  اور طنز بھی۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی  اور بولی ’’ٹھیک ہے ، زندگی تو کاٹنی ہی ہے ، لیکن میں یہ بات کبھی بھول نہیں سکوں گی کہ آپ نے اپنے بیٹے کی زندگی کو روشن کرنے کے لیے مجھے تاریکی میں رکھا، میری زندگی کو یوں داغدار کیا۔ میں تو آپ کو بہت نیک  اور بڑا شریف انسان سمجھتی تھی، لیکن بہرحال شرافت کاجو ملمع آپ نے اپنے اوپر چڑھا رکھا تھا  آخر آج اتر ہی گیا۔‘‘

 ’’میں نے اپنے اوپر شرافت کا ملمع نہیں چڑھا رکھا تھا میڈم نوشابہ‘‘ پروفیسر مرتضی کی آواز اونچی تو نہیں ہوئی، لیکن اس میں سے متانت بہرحال ختم ہو گئی۔ ’’کبھی کبھی کسی کالی حقیقت کی پردہ پوشی شرافت کا تقاضہ تو بن ہی جاتی ہے ، زندگی کی ضرورت بھی بن جاتی ہے۔ وہ سچ جو زندگیاں تباہ کر دے ہزار ہا جھوٹ سے بھی برا ہے ، اس لیے ایسا سچ کو زبان پرنہ لانا سعادت بھی ہے ، شرافت بھی۔ میں واقعی شریف آدمی ہوں۔ اگر میں نے تم سے یہ چھپایا کہ منصور ایک سزا یافتہ مجرم ہے ، تو منصور سے میں نے یہ چھپایا ہے کہ شادی سے پہلے کان پور میں تم اپنا ایک ابارشن کروا چکی ہو۔ تمہارا یہ راز ابھی پچھلے سال مجھے معلوم ہوا، لیکن میں نے اپنی زبان بند رکھی،  اور بند ہی رکھوں گا تاکہ تم زندگی کی شادابی جیتی رہو۔‘‘

٭٭٭