کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گلاب کی جڑ

اقبال انصاری


 ’’اس کی کیا ضمانت ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ سب صحیح ہے ؟‘‘  جنید صاحب نے سنہری کمانی کی عینک کا زاویہ اپنی چمکتی ہوئی دبنگ سی نظر آنے والی خاصی صحت مند ناک پر درست کرتے ہوئے کہا۔ ان کے پکے جامنی رنگت چہرے پر سوالیہ سنجیدگی بڑی واضح تھی۔

 ’’سوال یہ ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر آپ کوشک کیوں ہے ؟‘‘  عباد صاحب نے ہلکا سا تعجب عیاں کرتی اپنی خوش گوار مسکراہٹ کے ساتھ بڑی نرمی سے پوچھا۔

 ’’شک کرنا پڑتا ہے جناب‘‘ جنید صاحب کی قدرے کرخت آواز میں استقلال تھا  اور قدرے جارحانہ لہجے میں استحقاق۔ ’’آپ کی دعاسے خاصہ تجربہ حاصل ہے اس خاکسار کو۔ اپنے وسیع و عریض تجربے کی بنا پرہی کہہ رہا ہوں کہ آج کل لوگ اپنے متعلق ہر بات کو بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں ، صریحاً جھوٹ بولتے ہیں ، متاثر کرنے کے لیے سینک کوبانس بنا کر پیش کرتے ہیں۔‘‘

 ’’بھائی میں ایک ذمے دار آدمی ہوں  اور ۔۔ ‘‘

 ’’یہ تو آپ کہہ رہے ہیں ‘‘ جنید صاحب نے عباد صاحب کی بات کاٹی ’’برا مت مانئے ۔۔  دنیا کا کاروبار سب عیاں ہے اس ناچیز پر ۔۔ دنیا دیکھی ہے میں نے ۔۔ ایک سے ایک مکار اور دروغ باف بھرا پڑا ہے اس نامعقول دنیا میں ۔۔ حقیقت ہوتی کچھ ہے ، بتاتے کچھ ہیں ۔۔ اب میں آپ کو بتاؤں ۔۔ اسی سلسلے میں ، یعنی جس سلسلے میں آپ سے گفتگو ہوتی رہی ہے ، ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا ’’آپ کے بیٹے کا مشغلہ کیا ہے ؟‘‘ بولے : ’’اس کا اپنا بزنس ہے۔‘‘  میں سمجھاکچھ اکسپورٹ  وغیرہ کابزنس ہو گا۔ تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ کالونیوں میں شام کو ہفتہ وار لگنے والی بازاروں میں فٹ پاتھ پر دری بچھا کر انگوچھے  اور رومال بیچتا ہے ۔۔  ایک شیخ صدیقی صاحب کی جرات ملاحظہ فرمائیے ۔۔  اس نجیب الطرفین سیدزادے کی پری چہرہ بیٹی کا رشتہ مانگنے آ گئے۔ جی تو چاہا کہ جوتے مارکرگھرسے نکال دوں،  مگر پشتینی شرافت آڑے آئی، دریافت کیا کہ صاحب زادے کرتے کیا ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’ریونیو ڈپارٹمنٹ میں افسرہے۔‘‘  وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا کہ تحصیل میں پٹواری ہے ۔۔ مطلب یہ کہ لوگ ہر معاملے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ اس لیے شک کرنا پڑتا ہے۔ کسی کو برا لگتا ہے تو لگے ۔۔ میں ذرا صاف گو واقع ہوا ہوں ۔۔ منھ پھٹ۔۔  لگی لپٹی نہیں رکھتا۔ کیوں رکھوں ؟کسی کا دبیل تو ہوں نہیں۔‘‘

عباد صاحب بڑے تحمل  اور بڑی متانت سے سن رہے تھے۔

 ’’اور صاحب‘‘  ایک لمحے کے توقف کے بعد جنید صاحب نے سلسلہ کلام آگے بڑھایا ’’میں آپ کو بتاؤں ، پتہ نہیں جے بی ایچ ہالڈین کا نام آپ نے سنا ہے کہ نہیں ۔۔ ایک بڑا دانشور  اور مضمون نگار گزرا ہے۔ اس نے ایک معرکہ آرا مضمون لکھا ہے "Duty of Doubt"   ۔۔  یعنی تشکیک ازبس ضروری ہے۔ وہ کہتا ہے شک کو فرض بنا لو، تبھی کسی قسم کی ترقی ممکن ہے ۔۔  یہ دنیا جو آج اس شکل میں ہمارے سامنے ہے یہ شک کا نتیجہ بھی ہے ، ثمرہ بھی۔ یہ بات عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ شک کرنے سے آدمی تفتیش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، تفتیش کا اگلا قدم ہے تحقیق۔ تحقیق حقیقتوں کو عیاں بھی کرتی ہے  اور بہت سے نئے زاویوں کو بے نقاب بھی کرتی ہے۔ تحقیق علم کے نئے دریچے وا کرتی ہے ، نئے علوم، نئی ایجادات کی تحریک دیتے ہیں ، نئی ایجادات بنی نوع انسان کی خوش وقتی و خوش بختی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے شک کرنا تو بے حد ضروری ہے ۔۔  اس معاملے میں تو مجھے شک کرنے کا  اور بھی حق پہنچتا ہے کہ میں ہیرے جیسی بیٹی کا باپ ہوں۔ خوب اچھی طرح ٹھونک بجا کر دیکھنے  اور مطمئن ہونے کے بعد ہی میں اپنی بیٹی کا رشتہ طے کروں گا۔ اکلوتی اولاد ہے ۔۔ آپ نے تو دیکھا ہے اسے ۔۔  صبح دم کھلے ہوئے گلاب کے پھول کی مانند خوب صورت ہے ۔۔  انتہائی نازک طبع ۔۔ کسی ایرے غیرے سے تومیں اپنی بیش قیمت بیٹی کی شادی کرنے سے رہا۔۔ خوب دیکھ بھال کر ہی کوئی قدم اٹھاؤں گا۔۔ بہت سے لوگ منھ پھیلائے کھڑے ہیں اپنے بیٹوں سے میری بیٹی کا رشتہ کرنے کے لئے۔ کوئی اپنے کو لکھ پتی بتا رہا ہے ، کوئی خود کو کروڑپتی گنا رہا ہے ؟کوئی اپنا سلسلۂ نسب نادر شاہ درانی سے جوڑ رہا ہے ، کوئی اپنا رشتہ احمد شاہ ابدالی سے بتا رہا ہے ، کوئی اپنے خاندان کا سکہ اچھال رہا ہے ، کوئی اپنے پردادا کا منصب ابال رہا ہے ، کوئی اپنی شیخی بگھار رہا ہے ، کوئی اپنی پٹھانی سینک رہا ہے۔ مطلب یہ کہ ایک سے ایک نامعقول  اور جھوٹا شخص کھڑا ہے اپنے نام نہاد معقول بیٹے کو لیے۔ چنانچہ ناز و نعم سے پالی اپنی اس گل رخ و گل بدن بیٹی کی شادی کسی بھی جوان سے کرنے سے قبل اگر میں اس کے ، اس کے والدین ، اس کے خاندان، اس کے ماضی، اس کے حال  اور اس کے مستقبل میں ترقی و بہبودی کے امکانات کے متعلق پوری طرح سے مطمئن ہو جانا چاہتا ہوں تو ایمان سے کہئے اس میں غلط کیا ہے ؟‘‘

 ’’قطعی غلط نہیں ہے ‘‘  عباد صاحب نے بڑے خلوص سے سرکوتائیدی جنبش دی ’’مکمل طورسے مطمئن ہونے کے بعد ہی ان معاملات میں پیش قدمی کرنی چاہئے۔‘‘

 ’’چلئے بات جلدی ہی آپ کی سمجھ میں آ گئی ، ورنہ توایسے ایسے احمقوں سے پالا پڑتا ہے کہ اب میں کیا کہوں ؟ ایک سے ایک گدھا قدم قدم پر موجود ہے ہماری قوم میں ۔۔ ذراساکچھ کہئے ، دولتی چلانے لگے ، دیر نہیں لگتی بھڑکنے میں۔ مگر مجھے کسی کے تڑکنے بھڑکنے کی نہ کبھی پروا رہی ہے ، نہ اب ہے۔ میری بیٹی کے لیے رشتوں کی کمی توہے نہیں۔ وہ ہے ہی اتنی خوش خصال و خوش جمال کہ جو دیکھتا ہے فی الفور اس کا شیدا ہو جاتا ہے  اور اسے اپنے گھرکی رونق بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے میں آگے بڑھنے سے قبل ہراعتبارسے مطمئن ہو جانا چاہتا ہوں۔ تو کب آؤں آپ کے گھر؟‘‘

 ’’جب جی چاہے ‘‘  عباد صاحب کی بڑی بڑی کچھ بھوری سی آنکھوں میں بھی خلوص تھا  اور سرخ و سپید وجیہہ چہرے پربھی۔ ’’بس پہلے سے ذرا فون کر دیجئے گا تاکہ اس وقت میں گھر پہ موجود رہوں۔‘‘

 ’’بہتر ہے ۔۔ اور بلکہ فون کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے ۔۔ معاملات جتنی جلد روشنی میں آ جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔‘‘ جنید صاحب نے اپنی گول ٹوپی سرپہ رکھتے ہوئے کہا: ’’میں ریں ریں ٹیں ٹیں میں یقین نہیں رکھتا۔ جو کرنا ہے ، کر گزرو۔۔ میں کل صبح ہی آ جاتا ہوں ۔۔  وہ مکان بھی دیکھ لوں گاجسے آپ اپنا کہہ رہے ہیں ،  اور آپ لوگوں کا رہن سہن،معیار زندگی  اور سماجی حیثیت کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔ یہ کارجس پر آپ آئے ہیں آپ ہی کی ہے یاکسی دوست وغیرہ سے وقتی طور پر عاریتاً لی ہے ؟ اکثر لوگ رعب ڈالنے کے لئے یہ بھی کرتے ہیں۔‘‘

 ’’جی نہیں ‘‘  عباد صاحب نے بڑے انکسار سے دھیرے سے ہنس کر کہا ’’کسی وغیرہ کی نہیں ہے ، میری اپنی ہی ہے۔‘‘

 ’’لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی ہو گی‘‘ جنید صاحب نے لاپروائی سے اپنا خیال ظاہر کیا۔

 ’’جی نہیں ، چار لاکھ کی ہے ‘‘ عباد صاحب نے پھر بڑے انکسارکے ساتھ بتایا۔

 ’’کب خریدی تھی؟‘‘  جنید صاحب نے دریافت کیا،  اور شیروانی کی جیب سے رومال نکالنے لگے۔

 ’’چار ماہ قبل‘‘  عباد صاحب نے بتایا۔

 ’’نئی خریدی تھی یاسیکنڈہینڈ؟‘‘  جنید صاحب نے پوچھا تو رومال سے عینک کے شیشے صاف کرنے لگے۔

 ’’نئی ہی خریدی تھی‘‘ عباد صاحب کے لہجے میں اب بھی انکسارتھا۔

 ’’تب تو شو روم سے نکلوائی ہو گی؟‘‘  جنید صاحب نے عینک ناک پر جماتے ہوئے سوالیہ آواز میں اپنی رائے ظاہر کی۔

 ’’جی ہاں۔‘‘

 ’’پھر تو میں رسید بھی دیکھنا چاہوں گا۔‘‘  جنید صاحب نے کہا۔

 ’’نو پرابلم‘‘ عباد صاحب نے متانت کے ساتھ سرہلایا۔

اگلے دن صبح دس بجے جنید صاحب، عباد صاحب کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ پندرہ بائی پچیس کا ڈرائنگ روم، سادگی لیکن قیمتی سامان سے آراستہ تھا۔ پورے فرش پر گہرے سبزرنگ کا قالین تھا، بالکل ماڈرن قیمتی صوفہ، ایک طرف پڑا ہوا دیوان بھی کافی قیمتی لگ رہا تھا، اس پر فوم  اور کوائر کا گدا تھا  اور ہلکے کاسنی رنگ کی بے داغ چادر اور دو گاؤ تکیے۔ دروازوں  اور بڑی بڑی کھڑکیوں پر ساٹن کے جو پردے تھے ان کی زمین بھی کاسنی تھی  اور اس پر میڈیم سائز کے ہلکے گلابی رنگ کے پھول  اور ہلکے سبزپتوں والے پرنٹ تھے۔ ایک کونے میں اونچی چمکتی کینٹ پر ٹی وی رکھا تھا، دوسرے چھوٹی میز پر کمپیوٹر۔ چھت میں درمیان میں کانچ کا قیمتی جھاڑفانوس لٹکا تھا۔ ڈرائنگ روم میں اے سی لگا تھا۔

 ’’جی ہاں۔‘‘ یہ مکان دراصل میں نے اپنے محکمے سے قرض لے کر بنوایا تھا۔ بیس برس تک اس کی قسطیں ادا کیں۔ رٹائرمنٹ سے دوبرس قبل ساراقرض ادا ہو گیا  اور مکان کی رجسٹری مجھے مل گئی۔‘‘  عباد صاحب نے بتایا۔

 ’’میں دیکھنا چاہوں گاریجسٹری‘‘ جنید صاحب نے کہا۔

 ’’نو پرابلم‘‘ کہہ کر عباد صاحب نے سنٹرٹیبل پر رکھے اپنے بیگ سے مکان کی ریجسٹری نکال کر جنید صاحب کو پکڑا دی۔

جنید صاحب نے عینک کا زاویہ ناک پردرست کر کے ریجسٹری کوغورسے پڑھنا شروع کیا۔ تقریباً تین منٹ تک پڑھتے رہے ، پھر ریجسٹری عباد صاحب کوواپس کر کے بولے  ’’یہ آپ نے بڑی عقلمندی کا کام کیا کہ ملازمت کے دوران ہی مکان بنوا لیا۔

 ’’شکریہ‘‘  عباد صاحب نے بڑی متانت کے ساتھ سپاس گزاری کا اظہار کیا  اور بولے  ’’ مکان تو بنوانا ہی تھا۔ ایک ہی بیٹا ہے ، تعلیم و تربیت کے علاوہ کچھ تو ہونا چاہئے تھا اسے دینے کے لیے ،  اور ۔۔ ‘‘

 ’’یہ بھی اچھا ہے کہ ایک ہی بیٹا ہے۔‘‘  جنید صاحب نے بات کاٹی ’’کل کو مکان کا کوئی  اور حصے دار نہیں کھڑا ہو گا۔۔  صاحب، جائداد اس معاملے میں بڑی واہیات ہوتی ہے ، سگے بھائیوں میں عداوت کی بنا و بنیاد بن جاتی ہے ۔۔ مگر آپ کے یہاں اس کا کوئی امکان نہیں ۔۔ وہ آپ فرما رہے تھے کہ آپ جوائنٹ سکریٹری کے عہدے سے رٹائر ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی ذرا تشفی چاہوں گا۔۔ بات یہ ہے کہ رعب جھاڑنے کے لیے لوگ اکثر ان معاملات میں تو خاص طور سے دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں۔ قانون گو اپنے کو نائب تحصیلدار بتاتا ہے ،نائب تحصیلدار خود کو ایس ڈی ایم۔‘‘

 ’’یہاں ایساکچھ نہیں ہے۔‘‘  عباد صاحب کے کھلے ہوئے چہرے پر متین تبسم تھا ’’میں مرکزی حکومت میں مختلف وزارتوں میں آٹھ سال تک انڈرسکریٹری، چھ سال تک ڈپٹی سکریٹری، چار سال تک ڈائریکٹر اور دوسال تک جوائنٹ سکریٹری رہا۔ اگلے پروموشن یعنی ایڈیشنل سکریٹری کے عہدے تک پہنچنے سے قبل ہی سبکدوشی کی عمر نے آ پکڑا۔ رٹائرمنٹ سے قبل میں نے اپنی سروس بک کی فوٹوکاپی کروا کے رکھ لی تھی۔۔ آج وہ کام آ گئی۔ یہ دیکھئے ‘‘ کہہ کر عباد صاحب نے اپنے بیگ سے سروس بک کی فوٹوکاپی نکال کر جنید صاحب کودی۔ جنید صاحب بڑے انہماک سے اس کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئے۔

تقریباً پانچ منٹ کے بعد انھوں نے کاپی عباد صاحب کوواپس کی  اور بولے  ’’ذرا بیٹے کی تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بھی مطمئن کر دیجئے۔ بات یہ ہے کہ عام طریقے سے لوگ اپنی اولادوں کی عمر چھپاتے ہیں ، اسکول کے ریکارڈ میں کم کر کے لکھاتے ہیں ۔۔ کم از کم دوسال کی ڈنڈی تو ہر شخص مار ہی دیتا ہے۔‘‘

 ’’میرے ساتھ ایساکچھ بھی نہیں ہے ‘‘  عباد صاحب کی متانت قائم رہی۔ ’’میرا بیٹا صفدر جنگ ہاسپٹل میں پیدا ہوا تھا، وہیں سے اس کی پیدائش کاسرٹی فکٹ دیا گیا تھا۔ اس میں کسی ہیرا پھیری کا سوال ہی نہیں ۔۔ سرکاری اسپتال ہے ۔۔  یہ رہاسرٹی فکٹ۔‘‘

عباد صاحب کے ہاتھ سے سرٹی فکٹ لے کراس کا جائزہ لینے  اور جائزہ ختم کرنے کے بعد سرٹی فکٹ عباد صاحب کو واپس کرتے ہوئے جنید صاحب بولے  ’’اب ذرا صاحب زادے کی تعلیمی۔۔ ‘‘

 ’’یہ رہیں بیٹے کی ڈگریاں ‘‘ عباد صاحب نے ان کی بات کاٹی  اور ڈگریاں بیگ سے نکال کر جنید صاحب کو پکڑا دیں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد جب جنید صاحب نے ڈگریاں عباد صاحب کو واپس کیں تو عباد نے انھیں ایک  اور کاغذ پکڑا کر کہا ’’یہ ہے لارسن فنانسز کا اپوائنٹ منٹ لیٹر جہاں بیٹا تین سال سے کام کر رہا ہے ،  اور یہ ہے بیٹے کی تنخواہ کا گوشوارہ جو اپریل میں کمپنی اپنے ملازمین کو دیتی ہے۔ اس میں بیٹے کی تنخواہ مع تمام الاؤنسزکے درج ہے۔ آج بیٹا سترہزار روپیہ ماہانہ تنخواہ پا رہا ہے۔ دس ہزار روپیہ ماہانہ انکم ٹیکس مجرا ہو جاتا ہے ۔۔  ساٹھ ہزار کا چک بیٹا ہر ماہ گھر لاتا ہے ۔۔  سب کچھ اس گوشوارے میں درج ہے۔‘‘

بڑی باریکی سے ان چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد کاغذات عباد صاحب کوواپس کرتے ہوئے جنید صاحب نے کہا ’’وہ کار کے متعلق۔۔ ‘‘

 ’’جی جی ۔۔ ‘‘ عباد صاحب ان کا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی بولے  اور بیگ سے نکال کر کار کے کاغذات بھی جنید صاحب کو دیتے ہوئے کہا ’’یہ رہے کاغذات۔‘‘

کچھ دیر بعد کاغذات عباد صاحب کوواپس کرتے ہوئے جنید صاحب نے کہا ’’میں مطمئن ہو گیا۔‘‘

عباد صاحب نے کہا ’’الحمد للہ۔‘‘

اسی وقت چائے آ گئی۔ چائے نوشی کے دوران ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔

چائے کے بعد جنید صاحب نے کہا ’’تواب اصل موضوع پر آیا جائے تاکہ شادی کے سلسلے میں پیش قدمی کی جائے۔‘‘

 ’’قطعی پیش قدمی کی جائے ۔۔ گی‘‘ عباد صاحب  ’’جائے ‘‘  اور ’’گی‘‘  کے درمیان خاصہ وقفہ دے کر بڑے خلوص کے ساتھ بولے ۔۔  ’’مگر اس میں ابھی بھی کچھ وقت لگے گا۔۔  دراصل آپ کے مرشد و مقتدا حضرت جے بی ایچ ہالڈین کا وہ مضمون ’’ڈیوٹی آف ڈاؤٹ‘‘  میں نے بھی پڑھا ہے۔ واقعی کیسی کیسی نکتے کی باتیں نکال کر لائے ہیں موصوف !سب سے بڑے نکتے کی بات یہ ہے کہ اس مضمون نے مجھے بھی شک کرنے کی ترغیب ۔۔ نہیں ، ترغیب نہیں ۔۔ تحریک۔۔  شک کرنے کی تحریک مجھے بھی عطا کر دی ہے ، چنانچہ میرا بھی ایک شک دور کر دیجئے۔‘‘

 ’’ضرور ضرور‘‘  جنید صاحب نے اپنی چھتری چھتری خضاب زدہ داڑھی پر بڑے وقار سے ہاتھ پھیرا۔

عباد صاحب نے کھکھار کر صاف گلے کو مزید صاف کیا  اور بولے  ’’میں نے اس لڑکی کو دیکھا ہے جسے آپ اپنی بیٹی کہتے ہیں۔ بقول آپ کے اس کا چہرہ دیکھ کر واقعی گلاب کا پھول یاد آ جاتا ہے ، مگر آپ کے چہرے کو دیکھ کر گلاب کی جڑ یاد آتی ہے۔ اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد آپ کو دیکھ کریا آپ کو دیکھنے کے بعد اس لڑکی کو دیکھ کر شک پیدا ہوتا ہے کہ۔۔ کہ۔۔  آپ سمجھ سکتے ہیں کیا شک پیدا ہوتا ہے ۔۔ چنانچہ کوئی ایساپختہ ثبوت پیش کر دیجئے جس سے یقین کیا جا سکے کہ وہ لڑکی آپ کی ہی بیٹی ہے ‘‘ ۔۔  ’’ہی‘‘  پر عباد صاحب نے خاصہ زور دیا تھا۔

٭٭٭