کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کمبل

اقبال انصاری


کنو بابا بینک آف انڈیا کے چھجے کے نیچے دو فٹ اونچے چبوترے پر بائیں کنارے اسی جگہ بیٹھا تھا جوا س نے ایک عرصے سے اپنے لیے مخصوص کر رکھی تھی۔ چھجا عمارت کی چھت کا ایک حصہ تھا جو سامنے کی دیوار سے تقریباً پانچ فٹ آگے کو نکلا ہوا تھا اور بینک میں داخل ہونے والوں کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھتا تھا۔ برسات کے دنوں میں وہ راہگیر اس چھجے کے نیچے اس وقت پناہ لے لیتے تھے، جب وہ بینک کے سامنے سے گزر رہے ہوتے تھے اور اچانک بارش شروع ہو جاتی تھی۔ پتہ نہیں عمارت کے مالک نے یہ چھجا عمارت کی سامنے کی دیوار اور بڑے سے اونچے داخلی دروازے کو بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے ہی بنوایا تھا یا مقصد راہگیروں کو بارش سے وقتی پناہ دینا بھی تھا۔ بہر کیف تقریباً پانچ فٹ چوڑا یہ چھجا سامنے کی دیوار، داخلی دروازے اور راہگیروں کے کام تو آتا ہی تھا کئی مہینے سے کنو بابا کے کام بھی آرہا تھا۔ چبوترے کی وہ تین فٹ جگہ کنو بابا کی مستقل رہائش گاہ بنی ہوئی تھی، جہاں بیٹھ کر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنی پاٹ دار آواز میں ’’بگڑی بنانے والے بگڑی بنا دے، نیا ہماری پار لگا دے‘‘ گایا کرتا تھا۔ رات کو وہ تین فٹ جگہ چھ فٹ ہو جاتی تھی اور کنو بابا کا گیت صبح تک کے لیے ملتوی ہو جاتا تھا۔

کنو بابا کون تھا، کہاں سے آیا تھا، کسی کو علم نہیں تھا۔ نہ ہی کسی کو یہ علم تھا کہ وہ ’’کنو‘‘ کیوں تھا یا ’’بابا‘‘ کیوں تھا۔ کسی کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ نابینا کیوں تھا یا کب سے تھا، جس دیار میں قدم قدم پر کنو بابا موجود ہوں وہاں کوئی ایک کنو بابا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

کنو بابا کا جسم بھی ویسا ہی تھا جیسا کسی کنو بابا کا ہوتا ہے اور اس کے جسم پر چیتھڑے بھی ویسے ہی تھے جیسے کسی کنو بابا کے جسم پر ہوتے ہیں۔ اس کے سر، داڑھی اور مونچھوں کے گرد زدہ سفید بالوں میں کہیں کہیں تار تار سیاہی اب بھی نظر آتی تھی۔ لوگ اسے پیسے نہیں دیتے تھے۔ وہ لیتا ہی نہیں تھا۔ ’’او بھائی، میں پیسے لے کے ان کا کروں گا کیا؟نہ میں سیٹھ نہ ساہوکار۔ اٹھاؤ اپنے یہ پیسے اور راستہ پکڑو۔ بھیک دینے کے بجائے کوئی اچھا کام کرو جا کر۔‘‘

شروع شروع میں صبح سات بجے کے آس پاس ضرور ہانک لگاتا تھا۔۔  ’’ایک چائے اور ایک پاؤ روٹی کا سوال ہے۔ ہے کوئی جو پورا کر دے؟‘‘ کوئی مزدور، کوئی صفائی کرمچاری یا کوئی رکشے والا پڑوس کے فٹ پاتھ کی چائے کی دوکان سے کلہڑ میں ایک چائے اور ایک پاؤ روٹی خرید کر کنو بابا کو دے دیتا تھا۔ تین چار دن کے بعد وہ پنجابی چائے والا خود ہی کنو بابا کے ہانک لگانے سے پہلے ہی اسے روزانہ چائے اور پاؤ روٹی پہنچانے لگا۔ دوپہر کا کھانا روز بینک کے سامنے ٹھیلے پر روٹی دال فروخت کرنے والا الٰہ آبادی پہنچا دیتا تھا۔

رات کا کھانا رگھو لاتا تھا۔

رگھو پینتیس اور چالیس کے درمیان سر، داڑھی اور مونچھوں کے بے ترتیبی سے بڑے ہوئے بالوں اور لمبے چوڑے لیکن میلے سے بدن والا ایک سانولا سا آدمی تھا۔ بڑی بڑی کچھ سرخ آنکھیں شکایت کرتی ہوئی، چوڑے سے چہرے پر بہت سی سختی اور تھوڑی سی ناراضگی کا امتزاج۔ عام طریقے سے رکشہ چلاتا تھا، لیکن روز نہیں۔ ایک دن چلا لیا، رکشے کا کرایہ دے آیا، رکشہ اس کے مالک پتن خاں کی دکان پر کھڑا کر آیا، دو تین دن جھگی میں بیٹھ کر عیش کر لی۔ ہر تیسرے چوتھے دن جب بیوی خوشی خوشی اجازت دے دیتی تو جھگی کا ٹین کا دروازہ بند کرتا، بیوی کو خوب دیر تک نہلاتا، پھر اپنی لنگی سے اس کا جسم خشک کرتا، جسم پر پاؤڈر لگاتا، صاف دھلا ہوا شلوار سوٹ پہناتا، سر کے درمیان بالوں کا جوڑا باندھتا، لپ سٹک لگاتا، خود دھلی ہوئی صاف لنگی باندھتا، صاف دھلا ہوا کرتا پہنتا اور بیوی کو لے کر گھومنے نکل جاتا۔ مونگ پھلیوں کا سیزن ہوتا تو مونگ پھلیاں خریدتا اور چھیل چھیل کر بیوی کو کھلاتا، ورنہ پاپ کارن خریدتا اور چن چن کر پوری طرح سے کھلے ہوئے پاپ کا رن کھلاتا۔ بھٹے کے سیزن میں سلیقے سے بھنا ہوا نرم بھٹا خریدتا اور دانے نکال کر کھلاتا۔ ایک بار بیوی نے کہا تھا ’’تم مجھ سے اتنا پریم کا ہے کو کرتے ہو؟‘‘ تو رگھو نے جواب دیا تھا ’’کوئی بچہ نہیں ہے نا۔۔  یا کر کے بچے سے کرنے والا پریم بھی تجھ سے ای کرلیوں ہوں۔‘‘ جی کھول کر پیسہ خرچ کرتا تھا بیوی پر۔ جب پیسے ختم ہو جاتے تو پھر پتن خاں کی دکان پر پہنچ جاتا، رکشہ لیتا، سڑک پر نکل آتا اور شریف آدمیوں کی طرح رکشہ چلانے لگتا۔ جب کوئی بڑی ضرورت آن پڑتی تھی اور کہیں سے قرض نہیں ملتا تھا تو چھوٹی موٹی چوری بھی کر لیتا تھا اور اٹھائی گیری بھی۔ اک دن بیوی نے کہا ’’مرگی کھائے کا بہت جور سے جی کر رہا ہے۔‘‘ رگھو کے داہنے ٹخنے میں موچ آئی ہوئی تھی، رکشہ نہیں چلا رہا تھا، پچاس ساٹھ روپے کی مرغی خریدنا ممکن نہیں تھا۔ لنگڑاتا ہوا پتن خاں کی دکان پر روپے ادھار لینے پہنچا۔ دکان بند تھی۔ معلوم ہوا پتن خاں اپنے گھر بجنور گئے ہیں چار دن بعد واپس آئیں گے۔ ’’چار دن تک من پھول کو بگیر مرگی کھلائے نہیں رکھاجاسکتا۔ کاسوچے گی من میں!‘‘ رگھو نے دل ہی دل میں کہا اور اندھیرا ہوتے ہی آٹھویں گلی میں رہنے والے عطاء اللہ کی ایک مرغی جھگی کے باہر بنے ڈربے سے چرا لایا، گھر آ کر خود ہی مرغی چھیلی، کاٹی، پکائی اور اپنے ہاتھ سے من پھول کو کھلائی۔

عطاء اللہ کو پتہ لگ گیا کہ رگھو نے اس کی مرغی چرائی ہے۔ وہ دبلا پتلا مرگھلا سا آدمی تھا، اس لیے خود ہی لمبے چوڑے رگھو سے دو دو ہاتھ کرنے کے بجائے مقامی پولس چوکی پہنچ گیا۔ چوکی انچارج نے رگھو کو پکڑوا منگوایا، دس بارہ تھپڑ مارے، رات بھر چوکی میں بٹھائے رکھا، صبح مزید دو چار تھپڑ مار کر چوکی انچارج نے اسے اس شرط پر بھگا دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایک مرغی خرید کر عطاء اللہ کو دے دے گا اور ایک چوکی پہنچا دے گا۔

ایک بار من پھول نے ایک نئی قسم کی پائل کی ضد پکڑ لی اور الٹی میٹم دے دیا کہ جب تک پائل لا کر نہیں پہناؤ گے، نہ کپڑے اتارنے دوں گی، نہ نہلانے دوں گی۔ رگھو اسی وقت باہر گیا اور پتن خاں کی دکان پر پہنچا۔ اتفاق سے اس دن پھر پتن خاں کی دکان بند ملی اور پتن خاں کے بارے میں معلوم ہوا کہ کسی شادی میں شرکت کے لیے مراد آباد گئے ہوئے ہیں۔ دو ایک جگہ اور قرض لینے کی کوشش کی، مگر کہیں بات نہیں بنی۔ رگھو پرساد کالونی کی طرف چلا گیا۔ ایک گھر کے باہر ایک سائیکل کھڑی تھی، رگھو نے ادھر ادھر نگاہ ماری اور سائیکل لے بھاگا۔ دس کلو میٹر دور جا کر چور بازار میں سائیکل فروخت کی، پائل خریدی اور لا کر من پھول کے پیروں میں ڈال دی۔ من پھول نے اپنی بانہیں رگھو کے گلے میں ڈال دیں۔

رگھو نے کنو بابا کو جب پہلی بار دیکھا تھا تو قمیض کی جیب سے ایک اٹھنی نکال کر بولا تھا ’’لیو بابا‘‘ کنو بابا نے پوچھا تھا ’’کیا ہے؟‘‘

رگھو بڑی شان سے بولا تھا ’’اٹھنی۔‘‘ کنو بابا نے کہا تھا ’’میں پیسے نہیں لیتا۔‘‘رگھو کو بڑی حیرت ہوئی تھی ’’کیوں؟‘‘

’’کا کروں پیسے لے کے؟ سُبا سُا پنجابی چائے والا چائے اور پاؤ روٹی دے جائے ہے، دوپہری میں الٰہ آبادی دال روٹی کھلائے دے رہے، سام کو کبھی کوئی کھانا اگر دے جائے ہے تو ٹھیک، نئیں تو بھوکے پیٹ سوئے رہوں ہوں۔ ایک دو بکھت(وقت) بھوکے پیٹ سو رہنا کوئی جادا مسکل کام نا ہے۔ عادت ہو گئی ہے۔‘‘ کہہ کر کنو بابا گانے لگا تھا:

ادھر بھی ہیں کانٹے، ادھر بھی ہیں کانٹے

تو چاہے تو کانٹوں کو کلیاں بنا دے

نیا ہماری پار لگا دے۔ بگڑی بنانے والے۔۔

رگھو چلا گیا تھا اور بلا ناغہ کنو بابا کے لیے شام کا کھانا لانے لگا تھا۔

چوتھے دن کنو بابا نے پوچھا ’’تو کیا کرے ہے؟‘‘ رگھو نے بتایا ’’جادا تر رکسا چلاؤں ہوں۔‘‘

کنو بابا نے پوچھا ’’اور جب رکسا نا چلاوے ہے تب کے کرے ہے؟‘‘ بڑی سادگی سے رگھو نے بتایا ’’چوری شوری کرلیوں ہوں۔‘‘

کنو بابا نوالہ توڑ چکا تھا۔ اس نے نوالہ پلاسٹک پر رکھ دیا ’’سچی سچی بتلا یہ کھانا چوی کے پیسے کا ہے کہ رکسے کی کمائی کا؟‘‘ ’’تو چپ کر کے کھا لے۔ کھانا تو کھانا۔ نوابی کائے کو جھاڑے‘‘ رگھو اسے گھورنے لگا۔’’نہیں۔۔  مجھے چوری کی روٹی متی کھلا۔ یہ اٹھا لے جا۔ جب رکسے کی کمائی سے روٹی پکائیو تب کھلائیو۔‘‘ کنو بابا کی آواز نرم تھی، لہجہ سخت۔

’’کھا لے کھا لے۔۔ ‘‘ رگھو پیار سے بولا ’’چوری کے پیسے کی نا ہے یہ روٹی۔ رکسے کی کمائی کی ہی ہے۔ ماں کسم۔‘‘

کنو بابا نے نوالہ اٹھالیا۔ ’’تیرا نام کیا ہے؟‘‘’’ٹھاکر رگھو راج سنگھ تلواری‘‘ رگھو نے بڑے وقار کے ساتھ کہا پھر لہجہ ایک دم ڈھیلا ہو گیا ’’پر لوگ باگ رگھو کہے ہیں۔‘‘ ’’کیوں کہیں ہیں رگھو؟‘‘ کنو بابا نے کچھ غصے سے پوچھا۔

’’ان کے پاس اتنا لمبا نام لے کا ٹیم نہیں ہے۔۔  اگر میں کوئی گاؤں میں جمین دار یا ادھر سہر میں ساہو کار یا ادھر پالی منٹ میں منشٹر ہوتا تو لوگن کے پاس بڑی اِجّت(عزت) سے اتنا لمبا نام کا ٹیم جرور ہوتا اور جونئیں بھی ہوتا تو بھی لوگ باگ ’’ٹھاکر ساب‘‘ کہتے، رگھو کوئی نا کہتا‘‘ رگھو نے وضاحت کی۔

’’تو تو نے کوسس کیوں نا کی جمین دار یا ساہو کار یا منشٹر بننے کی؟‘‘ کنو بابا نے پوچھا۔ ’’جمین دار تو کھاندانی ہوئے ہیں۔ جے میرا باپ جمین دار ہوتا تو میں بھی جمین دار ہوتا۔‘‘ رگھو نے مزید وضاحت کی ’’اور منشٹر بننے کے لیے تگڑی بدماسی کی جرورت ہوئے ہے، وہ میرے بس کی نا ہے۔ میں سریف آدمی ہوں۔ ہاں سا ہوکار بننے کی کوسس میں کئی بار چوری شوری کی، پر ہر بار پکڑا گیا۔ پولس نے پٹائی کی۔ بات پتا کیا ہے؟ میرا نا بھاگ کھراب ہے۔ یا کر کے میں نہ ’’ٹھاکر ساب‘‘ بن سکا نہ ’’ٹھاکر رگھو راج سنگھ تلواری۔‘‘ بس رگھو ہوں۔۔  کل تجھے مسور کی دال کھلاؤں گا، میری عورت ایسی پکائے ہے کہ رام پور کے نواب کا کھانسا ماں بھی کھائے لے تو وا کے پاؤں پکڑ لے۔ ماں کسم۔‘‘

سردیاں آ گئیں، پھر اور سردیاں آ گئیں۔ رگھو نے ایک رات کنو بابا کے جسم کو سردی سے کانپتے دیکھا۔ اسے کھانا کھلا کے رگھو اپنی جھگی بستی کی طرف چل دیا۔ کنو بابا کا سردی سے کانپتا جسم بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ ڈاکخانے والے موڑ کے پاس اس نے سترہ اٹھارہ سال کے ایک دبلے پتلے لڑکے کو ایک نیا سا موٹا کمبل اوڑھ کر جاتے دیکھا۔ آگے بڑھ کر اس نے لڑکے کو زناٹے دار دو تھپڑ مارے، کمبل چھین لیا اور بولا ’’اچھے دن ہوئیں تو بھاگ جا چپ چاپ نئیں مار دوں گا جان سے۔‘‘

لڑکا بھاگ گیا۔ رگھو نے جا کر کمبل کانپتے تھر تھراتے کنو بابا پر ڈال دیا۔ کنو بابا چونک پڑا، مگر جلدی سے کمبل اس نے اپنے جسم کے گرد قریب قریب لپیٹ لیا ور بولا ’’جیتا رہ رگھو۔‘‘

’’تجھے کیسے پتہ چلا کہ میں رگھو ہوں۔‘‘ رگھو سڑک کے کنارے لگے بجلی کے کھمبے کے بلب کی دھندلی سی روشنی میں اسے گھورنے لگا۔

’’تیری مہک سے۔‘‘ کنو بابا نے کہا ’’روج تو آوے ہے میرے پاس کھانا لے کے‘‘ رگھو چلا گیا۔ رات میں دو بجے پولس کے دو سپاہی اسے جھگی سے اٹھا کر چوکی لے گئے۔ چوکی میں چوکی انچارج کے کمرے میں چوکی انچارج کے علاوہ وہ لڑکا بھی تھا جس سے اس نے کمبل چھینا تھا اور اس کا باپ بھی۔ چوکی انچارج نے لڑکے کی طرف دیکھا اور لڑکے نے رگھو کی طرف دیکھ کر اثبات میں سرہلا دیا۔

چوکی انچارج نے دس بارہ تگڑے تگڑے ہاتھ مارنے کے بعد رگھو سے پوچھا ’’کہاں ہے کمبل؟‘‘ ’’کمبل تو جی نئیں ہے‘‘ رگھو نے سرہلا دیا۔

چوکی انچارج نے کونے میں کھڑا ڈنڈا اٹھایا اور رگھو بوکھلا کر بولا ’’کنو بابا کو دے دیا۔‘‘ رات میں کئی بار رگھو کی پٹائی ہوئی۔ ڈنڈے تو صرف دو مارے گئے۔۔  لیکن دسمبر کے چوتھے ہفتے کی ایک رات کو کمر پر پڑنے والے پولس کے دو ڈنڈے ہی چار چھ دن کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ صبح آٹھ بجے دو چار لاتیں گھونسے اور مار کر اور دھمکا کر رگھو کو چوکی سے بھگا دیا گیا۔ رگھو بینک کے چھجے کے نیچے پہنچا۔ کنو بابا گھٹنوں میں منھ دبائے بیٹھا کانپ رہا تھا۔

’’کمبل کہاں گیا؟‘‘ رگھو نے اونچی مشتعل آواز میں پوچھا۔

’’جس کا تھا وہ رات کو ہی لے گیا‘‘ کنو بابا نے اپنی کپکپی کے درمیان بڑی مشکل سے کہا ’’تو نے بہت برا کیا رگھو۔۔  جب تک کمبل نہیں تھا تب تک اتنی ٹھنڈ نالا گے تھی۔ جب سے کمبل گیا ہے تب سے بہت لگ رہی ہے آگے سے لوٹے ہوئے کمبل سے کسی کی ٹھنڈ دور کرنے کی کوسس نا کرنا۔ ٹھنڈا بہت بڑھ جائے ہے۔‘‘

رگھو چپ چاپ پتن خاں کی دکان پر پہنچا۔ دکان بند تھی۔ رگھو برآمدے میں بیٹھ گیا۔ تیز ہوا اتنی ٹھنڈی تھی جیسے برف کے غار سے نکل بھاگی ہو۔ آسمان میں بادل بھی تھے۔ کچھ دیر بعد بارش شروع ہو گئی۔

پتن خاں نے دس بجے دکان کھولی۔

’’کھان صاحِب۔۔  پانچ سو روپیہ چہی(چاہیے) ۔۔  ابھی چہی ۔۔ روج تھوڑا تھوڑا کر کے چکائے دیوں گا۔ ماں کسم۔ جو بیاج لگائے کا ہوئے لگائے لینا۔۔  پر روپیہ ابھی چہی۔‘‘

کیا کرے گا صبح صبح پانچ سو روپیہ؟‘‘ پتن خاں نے پوچھا۔

’’یاسب تمہارے پوچھے کا نا ہے۔ روپیہ دئے دیو۔ چکائے سے پہلے مروں گا بھی نا۔ ماں کسم‘‘

پتن خاں نے نہ رگھو کی آنکھیں اتنی سرخ دیکھی تھیں، نہ اس کا چہرہ کبھی اتنا سخت دیکھا تھا۔ اس نے چپ چپ پانچ سو روپے رگھو کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیے۔

رگھو مین مارکیٹ کی طرف چل دیا۔ لالہ بنواری لال کی دکان پر جا کر اس نے پانچ سو روپے کا ایک اچھا موٹا کمبل خریدا اور جسم میں ہونے والے درد کے باوجود تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا بینک آف انڈیا کے چھجے کے نیچے پہنچا جہاں چبوترے پر کنو بابا کی سردی سے اکڑی ہوئی لاش پڑی تھی۔

٭٭٭