کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک تھی دردانہ

اقبال انصاری


رواج کے مطابق دردانہ نے ایک ایک کے گلے لگ کر رونا شروع کیا۔ دولہا بھائی سے لپٹ کر تو کچھ اس طرح روئی کہ دیکھنے والوں میں سے کچھ کے آنسو نکل پڑے اور کچھ کی آنکھیں۔ کچھ دولہا بھائی کی قسمت پر بے اختیارانہ رشک کرنے لگے۔ بھائی نے کچھ دیر تو انتظار کیا، پھر آگے بڑھ کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھ دیا۔ دیکھنے والوں نے صرف یہ محسوس کیا کہ ماجد نے بہن کے بازو کو دھیرے سے پکڑ لیا ہے، مگر دردانہ کو محسوس ہوا کہ بھائی کی انگلیاں ہی نہیں، پورا پنجہ سیاہ برقعے کے ریشمی کپڑے، پھر اس کے نیچے جمپر کے سرخ ساٹن، اس کے نیچے کھال اور اس کے نیچے گوشت کو پھاڑ کر ابھی آن کی آن میں بازو کی ہڈی تک پہنچ جائے گا اور ہڈی کو پیس کر رکھ دے گا۔ مجبوراً اسے دولہا بھائی کے گرد اپنے بازوؤں کو ڈھیلا کرنا پڑا، پھر نیچے گرا دینا پڑا۔

’’بھائی ہے کہ قصائی!‘‘ اس نے دل میں کہا اور دولہا بھائی کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئی پھر بڑی بے دلی سے بچے کھچے لوگوں سے گلے لگ کر رونے کا تاثر دیا اور دانت بھینچ کر، شانوں کو ہلکی ہلکی جنبش دے کر پر آواز سسکیاں ناک سے خارج کرتی ہوئی ایک طرف ہو گئی۔

رخصتی سے کچھ ہی دیر پہلے ماجد اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔

’’غور سے سنو دردانہ‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں بہن کو مخاطب کیا ’’پرانی زندگی کو یہاں چھوڑ جاؤ۔ جمیل اچھا لڑکا ہے۔۔  بہت نیک، بہت شریف، بہت سیدھا سادہ، اس کی خدمت کو زندگی بنا لو اور ایک بات اچھی طرح سے سن لو۔ اماں ابا تو اب اس دنیا میں ہیں نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ابا تمہارے کرتوت دیکھنے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اماں کے مرنے کی خوشی مجھے اس لیے ہے کہ اب تمہاری حرکتوں پر پردہ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے، تمہیں شہ دینے والا کوئی نہیں ہے، اس لیے حواس میں رہنا ہی تمہارے لیے مفید ہو گا۔ بالکل واضح الفاظ میں کہہ رہا ہوں۔۔  اچھی طرح سے یاد رکھنا کہ جس دن تم نے جمیل کو چھوڑا، یا جمیل نے تم کو چھوڑا، اس دن کہیں بھی جانا، اس گھر کا رخ نہ کرنا، اس لیے کہ اس صورت میں اس گھر کے دروازے تمہیں ہمیشہ بند ملیں گے۔۔  اور۔۔ ‘‘

اس کا جملہ ختم ہونے سے پہلے کچھ لوگ کمرے میں آ گئے۔ بات ادھوری بھی رہ گئی، ختم ہو گئی۔

دردانہ رخصت ہو گئی۔

جمیل کے گھر اس نے نئی زندگی شروع کی جس کے بیشتر حصوں پر بہت سے پرانے رنگ چڑھے ہوئے تھے کچھ رنگ تو اتنے گہرے اور اتنے واضح تھے کہ جمیل کی نگاہوں میں آ ہی نہیں گئے۔۔  چبھنے بھی لگے۔

کوئی مہینہ نہیں جاتا تھا کہ دولہا بھائی چکر نہ لگاتے ہوں۔ تیسرے چوتھے مہینے دردانہ بھی بہن کے گھر چکر لگا آتی تھی، مگر اسے بہن کے گھر جانے کے بجائے دولہا بھائی کا اپنے یہاں آنا پسند تھا، جمیل کے دفتر چلے جانے کے بعد گھر میں وہ ہوتی تھی اور دولہا بھائی۔

جمیل خاموشی سے سب کچھ۔۔  دیکھتا رہا۔

وہ بہت معمولی صورت شکل کا آدمی تھا، دردانہ بے حد حسین تھی۔ جمیل بے حد خاموش انسان تھا۔ دردانہ انتہائی چرب زبان۔

جمیل نہایت سیدھا سادہ شخص تھا۔ دردانہ بلا کی تیز۔

آتے ہی وہ پوری طرح سے جمیل پر چھا گئی تھی۔ حاوی ہو گئی تھی۔

ایک دن جمیل نے زبان کھولی ’’یہ عتیق بھائی کچھ زیادہ ہی آتے ہیں۔‘‘

’’ایک لفظ بھی ان کے خلاف نہ کہنا‘‘ دردانہ نے آنکھیں نکالیں، وہ میرے دولہا بھائی ہیں۔ تم سے میرے تعلقات صرف 6مہینے سے ہیں، ان سے 6سال سے ہیں۔ تم انہیں کیا جانو۔ وہ تو یہاں آئیں گے۔ اگر تمہیں ان کا یہاں آنا پسند نہیں تو میں بھی جا رہی ہوں، میرا مائکہ اتنا کنگال نہیں ہے کہ مجھے رکھ نہ سکے۔‘‘

’’تم غلط سمجھ رہی ہو دردانہ۔۔  میں تو یہ کہہ رہا تھا۔۔ ‘‘

جمیل نے بڑی لجاجت سے کچھ کہنا چاہا، مگر اس کی بات کاٹ کر دردانہ اور تیز آواز میں بولی ’’میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ تم کیا کہہ رہے تھے۔۔  تم۔۔  جلتے ہو۔۔  جلا کرو، میری بلا سے لیکن یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لو کہ دولہا بھائی نہیں چھوٹ سکتے۔ تمہارا جب جی چاہے مجھے طلاق دے دو‘‘ اس کا لہجہ فیصلہ کن تھا اور تیور بھی۔

جمیل سناٹے میں آگیا۔

پھر اس نے کچھ نہیں کہا۔

ڈیڑھ سال بعد رفیق پیدا ہوا۔

جمیل تو اس کا نام ’’شکیل‘‘ رکھنا چاہتا تھا، لیکن دردانہ ’’رفیق‘‘ پر اڑ گئی۔

رفیق تین مہینے کا ہوا، پھر تین برس کا۔

ایک دن جمیل نے اپنے سالے ماجد کو خط لکھا۔

ماجد بھائی سلام و رحمت

ساڑھے چار سال ہو گئے۔ کبھی آپ نہیں آئے۔ دردانہ بھی آپ کے گھر نہیں جاتی۔ بھائی بہن کے تعلقات کا مجھے علم نہیں۔ کبھی آپ کا ذکر کیا بھی تو دردانہ ٹال گئی۔ وہ بہرحال اپنی بہن کے گھر جاتی رہتی ہے۔ کہتی ہے اس کی دونوں بھانجیاں اس سے بہت مانوس ہیں، اسے بہت چاہتی ہیں۔ آپ نے کبھی مجھے نہیں بلایا۔ چلئے میں ہی آپ کو بلا رہا ہوں۔ ایک بار تو آئیے۔۔  رفیق کو دیکھنے ہی آ جائیے۔

نیاز مند جمیل

مگر۔۔  آئیے ضرور جمیل

پندرہ دن کے بعد ماجد آگیا۔

اور رفیق پر نظر پڑتے ہی اس کا سرگھوم گیا۔

’’پروردگار!‘‘ اس نے دانت پر دانت جما کر دل ہی دل میں کہا۔ اسے لگا جیسے خون نے اچانک اس کی رگوں میں دوڑنا بند کر دیا ہو۔

نگاہ تھی کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

مگر پھر کسی طرح دھیرے سے اس نے نگاہ اٹھائی۔

جمیل کے پورے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور نگاہیں ماجد کے چہرے پر مرکوز تھیں۔

ایک بار پھر ماجد نے رفیق کے چہرے پر نظر ڈالی اور آنکھیں بند کر لیں، اس کا جی چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔

شرمندگی سی شرمندگی۔

رفیق کا چہرہ ہو بہ ہو عتیق کے چہرے کی کاپی تھا۔

’’ماجد بھائی‘‘ جمیل نے اپنی سدھی ہوئی آواز میں ماجد کو مخاطب کیا ’’رفیق میاں بڑے آپریشن کے بعد پیدا ہوئے تھے کچھ کامپلی کیشن ہو گئے تھے۔ ان کامپلی کیشن نے دردانہ کو اس لائق رہنے ہی نہیں دیا ہے کہ وہ کسی دوسرے رفیق یا رفیقہ کو جنم دے سکے، اس لیے آپ کو دوبارہ کبھی ایسی شرمندگی جھیلنی نہیں پڑے گی۔‘‘

’’یہ ایک شرمندگی ہی ساری زندگی کے لیے کافی ہے‘‘ ماجد نے دھیرے سے کہا، پھر اس نے نگاہیں جمیل کے چہرے پر ڈالیں۔ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر دھیرے سے کہا ’’تمہارا ضبط حیرت انگیز ہے۔ لگتا ہے فرشتے ہو۔‘‘

’’نیئں، نیئں، نیئں، نیئں۔‘‘ جمیل نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا’’اس غلط فہمی میں نہ رہیے گا۔ ایساکچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

ماجد اسی دن چلا گیا۔ دردانہ کی صورت تک اس نے نہیں دیکھی۔ چلتے وقت اس نے جمیل سے کہا ’’رفیق کو کسی یتیم خانے میں ڈال دویا۔۔  اور جو کچھ مناسب سمجھو، کرو، میں تمہارا ساتھ دوں گا‘‘ لیکن رفیق کو نہ کسی یتیم خانے میں ڈالنے کی ضرورت پڑی نہ اور کچھ کرنے کی نمونیا ہوا اور رفیق آناً فاناً ختم ہو گیا۔

نارمل ہونے میں دردانہ کو تین ماہ کا وقت لگا۔

پھر وقت گزرنے لگا۔ ایک ایک کر کے دس سال گزر گئے۔

اب دردانہ 35برس کی ہو گئی ا ور لگنے لگا تھا کہ جیسے اچانک وہ جوانی کی ڈھلان پر آ گئی ہو، دولہا بھائی کا آنا اب کم ہو گیا تھا؟ لیکن ان کے فون مہینے میں دو ایک بار آ جاتے تھے۔ دردانہ ہر تیسرے چوتھے مہینے بہن کے گھر چلی جاتی تھی۔

ایک بار سردیوں میں وہ بہن کے پاس سے واپس آئی، مگر دوسرے ہی دن اسے بہن کی بیماری کی اطلاع ملی۔ شام کو فون آیا کہ انہیں اسپتال میں ایڈمٹ کرا دیا گیا ہے۔ جسم کا بایاں حصہ پوری طرح سے مفلوج ہو گیا تھا۔

صبح قمر کا فون آیا کہ ممی کا انتقال ہو گیا۔

جمیل دردانہ کو لے کر عتیق صاحب کے گھر گیا۔

اور تین دن بعد دردانہ کے ساتھ ہی واپس آگیا۔

دردانہ صرف بالکل نارمل ہی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ۔۔ بے حد خوش بھی نظر آ رہی تھی۔

خوش جمیل بھی تھا، لیکن اس نے اپنی خوشی کا اظہار نہیں کیا۔

اسی دن شام کو باہر سے واپس آ کر اپنے بیگ سے کچھ کاغذات نکالتے ہوئے جمیل نے دردانہ سے کہا ’’دردانہ میں وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ ۔۔  آخر کار وقت آ ہی گیا۔ یہ ۔۔ طلاق نامہ ہے۔۔  اور یہ مہر اور نان نفقہ کا چک۔‘‘

بڑی عجیب نظروں سے دردانہ نے جمیل کی طرف دیکھا۔۔  ایک نگاہ چک پر ڈالی، دوسری طلاق نامہ پر۔۔  دھیرے دھیرے۔۔  بڑی دلکش مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلتی چلی گئی۔

’’یہ بھی اچھا ہے کہ تم نے خود ہی مجھے طلاق دے دی۔۔  مجھے مانگنی نہیں پڑی‘‘ اس نے کہا اور اٹھ کر ایک بڑی اٹیچی میں اپنے کپڑے اور زیور رکھنے لگی۔

جمیل خاموشی سے اس کی مسرور مصروفیت دیکھتا رہا۔

اٹیچی پیک ہو گئی۔ ایک خاموش نظر دردانہ نے جمیل پر ڈالی اور جھک کر اپنی وزنی اٹیچی اٹھائی جب وہ دہلیز پار کرنے لگی تو جمیل نے کہا ’’ایک بات سنتی جاؤ۔۔  شاید تمہیں اچھی تو نہ لگے، لیکن پھر بھی۔۔  سوچتا ہوں، بتا ہی دوں۔۔ میں گزشتہ تیرہ برس سے شادی شدہ ہوں۔‘‘

’’تمہارا حساب کمزور ہے‘‘ دردانہ ہنس کر بولی۔۔  ’’تیرہ برس سے نہیں، پندرہ برس سے تم شادی شدہ۔۔  ہو نہیں۔۔  بلکہ تھے۔‘‘

’’نہیں دردانہ‘‘ جمیل اپنی مخصوص نرم آواز میں بولا ’’میرا حساب ٹھیک ہے پندرہ نہیں، تیرہ برس سے۔ پندرہ برس پہلے تو میری شادی تمہارے ساتھ ہوئی تھی اور وہ شادی تھی ہی نہیں۔۔  ایک دھوکہ تھا جو میرے ساتھ کیا گیا تھا۔۔  ایک ڈرامہ تھا جو میرے ساتھ کھیلا گیا تھا۔ میں اس دھوکے، اس ڈرامے کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو اپنی شادی کی بات کر رہا ہوں جو میں نے تیرہ برس پہلے رقیہ نام کی ایک بڑی غریب اور انسان لڑکی سے کی تھی، جو آج میری بیوی ہے۔۔  میرے دو بچے بھی ہیں۔۔  بیٹے جن کی شکلیں ہو بہ ہو میری جیسی ہیں، وہ سب یہیں، اسی شہر میں رہتے ہیں۔‘‘

’’اوہ، تو تم مہینے میں بیس دن ٹور پر نہیں رہتے تھے، بلکہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے‘‘ کہہ کر دردانہ نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے دبا لیا۔

جمیل نے اقرار میں سر ہلا دیا۔

’’کتنے بڑے دھوکے باز ہو تم!‘‘ دردانہ نے بڑی نفرت کے ساتھ کہا اور ایک جھٹکے سے پلٹ کر گھر سے نکل گئی۔

باہر چاروں طرف رات پھیلی ہوئی تھی۔

سڑک پر آ کر دردانہ نے رکشہ لیا، ریلوے اسٹیشن پہنچی، ٹکٹ خریدا اور پلیٹ فارم پر آکر ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔

دوسرے دن صبح صبح وہ دولہا بھائی کے مکان پر پہنچ گئی۔

بڑی خوشگوار صبح تھی۔

اس نے گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھی اور مانوس دروازے پر مشتاق نگاہیں مرکوز کر دیں۔ دروازہ اس طرح کھلا جیسے اس کا منتظر ہو۔

دردانہ کی دونوں بھانجیاں دروازے میں کھڑی تھیں، قمر بیس برس کی پیاری سی لڑکی تھی۔ بدر اٹھارہ برس کی۔ دونوں کے چہروں پر اب تک بھولا پن تھا، معصومیت تھی، بچپن تھا، دونوں کالج میں زیر تعلیم تھیں۔ دردانہ ان دونوں کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح بڑی شفقت سے مسکرائی، لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی قمر بولی ’’میڈم رات کو ہی ہمیں علم ہو چکا ہے کہ آپ کے ہسبنڈ نے آپ کو طلاق دے دی ہے۔ جمیل صاحب نے فون کیا تھا۔۔  ہم لوگ آپ کے آنے کی امید کر رہے تھے کیوں کہ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ماموں جان آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔۔  اور اب تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لیے آپ سیدھی یہیں آئیں گی ، آپ یہ توقع اور یہ یقین لے کر یہاں آئی ہیں کہ ڈیڈی آپ کو اپنا لیں گے، آپ سے شادی کر لیں گے۔۔ ۔اور آپ ممی کی جگہ لیں گی۔ آپ احمقوں کی جنت میں رہ رہی ہیں۔ جمیل صاحب کا فون آنے کے بعد ہم دونوں نے کل رات کو ہی ڈیڈی سے صاف صاف بات کی تھی۔۔  ڈیڈی نے دو ٹوک کہہ دیا کہ وہ آپ جیسی عورت سے۔۔  یعنی آپ سے کبھی شادی نہیں کریں  گے۔۔ اور انہوں نے کبھی ایسا کرنا بھی چاہا تو ہم انہیں ان کی رکھیل سے شادی نہیں کرنے دیں گے۔

ڈیڈی اندر ہیں، وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتے، اسی لیے دروازہ ہم نے کھولا ہے۔۔ اور اب یہ دروازہ آپ پر ہمیشہ کے لیے بند ہو رہا ہے۔‘‘

کہہ کر قمر نے دروازہ بند کر لیا۔

٭٭٭