کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وشال ارجانی کی محبوبہ

اقبال انصاری


سبز رنگ کے بغیر آستینوں اور گہرے گلے (Low-Cut) بلاؤز اور کریم کلر کے نصف پنڈیوں تک اونچے اسکرٹ میں سنہرے سے باریک گھونگھرالے بالوں والی وہ بے تحاشا خوبصورت لڑکی بے حد طیش میں اپنے کیبن سے نکلی اور ماربل کے دودھ جیسے سفید فرش پر ہائی ہیل کی جارحانہ کھٹ کھٹ کے ساتھ مشتعل قدموں سے چلتی ہوئی امتیاز کی میز کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ امتیاز کو علم تھا کہ وہ لڑکی سراپا غضب بنی ہوئی اس کی میز کے سامنے کھڑی ہے، لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ اس کی نگاہیں اس کے کمپیوٹر کے مانیٹر پر مرکوز رہیں اور انگلیاں کی بورڈ پر ۔ پورے ہال میں یک لخت سناٹا چھا گیا تھا۔ ہال میں موجود تمام ساٹھ کے ساٹھ افراد کی انگلیاں اپنے اپنے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ٹھہر گئی تھیں اور نگاہیں مانیٹروں سے ہٹ کر امتیاز کی میز پر مرکوز ہو گئی تھیں۔ ان نگاہوں میں سہما سہما سا اضطراب تھا، ڈری ڈری سی جستجو تھی، کچھ نیا، کچھ غیر متوقع دیکھنے کا گھبرایا گھبرایا سا تجسس تھا، کچھ ناخوش گوار نا ساز گار رونما ہونے کا مضطرب سا اندیشہ تھا۔ امتیاز کی میز دوسری تمام میزوں سے بڑی تھی اور داہنی دیوار کے ساتھ درمیان میں ایسی جگہ پر پڑی تھی جہاں ہال میں موجودہ ساری نگاہیں بڑی آسانی سے پہنچ سکتی تھیں۔ ہال میں امتیاز کی ہی میز ایسی تھی جس کے دائیں اور بائیں دونوں طرف دو دو کرسیاں پڑی تھیں۔ امتیاز کی کرسی بھی ہال میں موجود تمام کرسیوں سے مختلف تھی۔ بڑی آرام دہ اور اعلیٰ درجے کی۔

ہال میں موجود تمام لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں بیس اور تیس کے درمیان تھیں۔ امتیاز 35برس کا تھا۔ عمر میں ہی نہیں ملازمت کی مدت اور عہدے میں بھی سب سے سینئر تھا۔ اس نے یہ کمپنی اس وقت جوائن کی تھی جب مسٹر وشال ارجانی نے یہ کمپنی شروع کی تھی۔ تب کمپنی میں امتیاز کے علاوہ چار افراد اور تھے۔وہ چاروں رفتہ رفتہ کمپنی چھوڑ کر جا چکے تھے۔ اس طرح کا رندوں میں اب امتیاز سب سے سینئر بھی تھا اور امتیازی حیثیت کا حامل بھی۔ چھوٹے چھوٹے بے ترتیب گول گول بالوں، کشادہ پیشانی، بڑی بڑی ذہین آنکھوں، کھلی کھلی گندمی رنگت اور اپنی عمر سے کم نظر آنے والے اس میانہ قد شخص کو اس کمپنی سے عشق تھا۔کمپنی اس کی محبوبہ تھی۔ جن بلندیوں تک کمپنی پہنچی تھی وہاں تک اسے پہنچانے میں مسٹر ارجانی سے زیادہ ہاتھ امتیاز کا تھا۔ آندھی ہو یا طوفان، وہ ہر حال میں ٹھیک صبح نو بجے آفس میں پہنچ جاتا تھا، سب سے پہلے، گو کہ آفس شروع ہونے کا وقت ساڑھے نو بجے تھا۔ مسٹر ارجانی صرف سوفٹ ویئر کی تیاری کے سلسلہ میں ہی نہیں، ٹنڈر کے انتخاب میں، ٹنڈر کی تیاری Presentation، غرض کہ ہر معاملہ میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ ہر پروجیکٹ کا انچارج امتیاز ہی ہوتا تھا۔ امتیاز کی رائے مسٹر ارجانی کے لئے حتمی، آخری اور قطعی ہوتی تھی۔

لیکن ادھر گزشتہ کچھ دنوں سے ان دونوں کے درمیان ایک ٹنڈر کو لے کر کچھ نا اتفاقی ہو گئی تھی۔ اس نا اتفاقی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹنڈر مسترد ہو گیا۔ کمپنی ایک بڑے بزنس سے محروم رہ گئی۔ یہ نقصان مسٹر وشال ارجانی جیسے پکے اور تجربہ کار تاجر کو تو کھلا ہی تھا، امتیاز کو بھی کم دکھ نہیں ہوا تھا۔ دکھ سے زیادہ ناگوار گزرا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو اس نقصان کا ذمہ دار مان رہے تھے۔

ان دنوں آفس میں چپکے چپکے ایک خبر تو یہ گشت کر رہی تھی کہ مسٹر ارجانی امتیاز کو بہت جلد کمپنی سے باہر کرنے والے ہیں۔ انہیں صرف اس پروجیکٹ کی تکمیل کا انتظار ہے جس پر امتیاز اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ دوسری خبر یہ گرم تھی کہ امتیاز خود ہی کمپنی چھوڑنے کا من بنا چکا ہے، کیونکہ ایک طرف تو کمپنی کے مالک مسٹر ارجانی سے اس کے تعلقات میں ترشی آ چکی تھی،دوسرے مسٹر ارجانی کی نئی سکریٹری انجنا  گاٹیکر بہتRudeتھی، ہر ایک سے بڑی بد اخلاقی اور بدتمیزی سے پیش آتی تھی، امتیاز سے تو پہلے دن سے چڑھ گئی تھی کیونکہ امتیاز ایک تو باس کے بہت نزدیک تھا، دوسرے یہ کہ نہ اس کی ( سکریٹری کی) جی حضوری کرتا تھا نہ ہی کوئی خصوصی توجہ یا خصوصی احترام دیتا تھا۔ وہ مسٹر ارجانی کی منظور نظر تھی اس لئے اپنے آگے کسی کو گردانتی نہیں تھی، خود کو مخصوص توجہ اور اطاعت کا مستحق سمجھتی تھی۔ امتیاز کا رویہ براہ راست اس کی انا کو ضرب لگاتا تھا۔ اس لئے وہ امتیاز کو زک پہنچانے کے درپے رہتی تھی۔

آج اس نے چپراسی کو بھیجا کہ وہ امتیاز کو بلا کر لائے۔ چپراسی نے آ کر امتیاز کو اس کا پیغام دیا۔ امتیاز نے دھیرے سے سراٹھا کر چپراسی کی طرف دیکھا اور بڑی نرمی سے بولا ’’ مس گاٹیکر سے جا کر کہو کہ اگر انہیں کوئی بہت ضروری کام ہے تو آدھے گھنٹے کے بعد وہ خود آ کر مجھ سے مل سکتی ہیں۔۔۔۔۔ آدھے گھنٹے کے بعد۔۔۔اس سے پہلے نہیں۔۔۔تھینک یو۔‘‘

چپراسی نے جا کر امتیاز کا جواب حرف بہ حرف مس گاٹیکرکو سنا دیا۔

انجنا گاٹیکر باس کی سکریٹری ہی نہیں ’’بہت کچھ‘‘ بھی تھی۔۔۔تو انا بدنی حسن اور ایک قوی انا کی مالک تھی، اس لئے امتیاز کا جواب جیسے ایک تند شعلہ بن کر اسے چھو گیا۔’’ایک آر ڈی نیری امپلائی کی یہ مجال!‘‘طیش میں لت پت اپنے شاندار کیبن سے نکل کر وہ امتیاز کی میز کے سامنے پہنچی اور خاصی گونجیلی جارحیت کے ساتھ اس کے منھ سے نکلا۔۔۔۔’’ امتیاز!‘‘

امتیاز نے دھیرے سے سر اٹھایا اور انجنا گاٹیکر کی سرخ ہوتی ہوئی بھوری سی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا’’مسٹر امتیاز‘‘ مس گاٹیکر‘‘

’’او شٹ اپ!‘‘انجنا گاٹیکر کی آواز بہت اونچی ہو گئی ’’ تم جانتے ہو میں کون ہوں؟‘‘

’’باس کی سکریٹری‘‘ امتیاز نے بڑی لاپروائی سے کہا ۔

’’اس کے باوجود تم میرے بلانے پر نہیں آئے! میں نے۔۔۔۔‘‘

’’تم‘‘ نہیں مس گاٹیکر ’’آپ‘‘ امتیاز انجنا گاٹیکر کی بات کاٹ کر بولا ’’میں ہر ایک سے تمیز سے بات کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ دوسرے بھی مجھ سے تمیز سے ہی بات کریں۔۔۔بدتمیزی مس گاٹیکر مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔اور میں نے تو کشنو’’ چپراسی‘‘ سے کہا تھا کہ آپ آدھے گھنٹے کے بعد آ کر مجھ سے مل سکتی ہیں، اس سے پہلے نہیں، مگر آپ فوراً ہی آ گئیں۔ میں مصروف ہوں ، آدھے گھنٹے کے بعد ہی آیئے، اور آئندہ مجھے ’’شٹ اپ‘‘ نہ کہئے گا۔ تھینک یو ‘‘کہہ کر امتیاز نے نگاہیں پھر اپنے کمپیوـٹرمانیٹر پر مرکوز کر دیں۔

کمپنی کے مالک کی دل ستاں و دل نشیں سکریٹری کی نخوت اس بری طرح مجروح ہوئی کہ وہ اپنی گرفت سے نکل گئی ’’یو بلا ڈی باسٹرڈ، لگتا ہے تیرا دل بھر گیا ہے نوکری ۔۔۔۔‘‘

انجنا گاٹیکر کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کب امتیاز اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا اور کب اس کا زناٹے دار چانٹا انجنا کے بائیں گال پر پڑا۔

ہال میں سناٹا تو پہلے سے ہی تھا، اب سناٹا مزید سناٹا ہو گیا۔ انجنا گاٹیکر تو جیسے پتھرا گئی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے خود کو سکتے کی حالت سے نکالا، خونخوار نظریں امتیاز پر ڈالیں اور پلٹ کر تیزی سے اپنے شاندار کیبن میں چلی گئی۔

امتیاز اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور سارے اسٹاف کو مخاطب کر کے اونچی آواز میں بولا ’’اے یو۔۔ آل آف یو۔۔۔بیک ٹو بزنس۔‘‘

سب اپنے اپنے کام پر لگ گئے۔۔۔لیکن کہاں کا کام، کیسا کام؟ ایسے واقعات کے بعد کسی کا دل کام میں بھی لگتا ہے؟کم از کم دو تین گھنٹے تو نہیں۔ شاید ہی کبھی کسی کے باس کی اتنی حسین سکریٹری کو ساٹھ افراد کے اسٹاف کے سامنے اس ہتک سے گزرنا پڑا ہو!  بے عزتی سی بے عزتی ہوئی تھی! قطعی غیر متوقع، ناقابل یقین!

اسٹاف کے سبھی لوگ امتیاز سے محبت بھی کرتے تھے، دل سے احترام بھی کرتے تھے۔ ان تمام افراد کی تقرری میں امتیاز کی حمایت اور مرضی شامل تھی۔ ہر انٹرویو میں وہ مسٹر ارجانی کے ساتھ بٹھا  او ر ہر انتخاب میں اس کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ یوں بھی اس کا رویہ سبھی کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ کسی کو بھی اپنے کام میں کوئی بھی مشکل پیش آتی تھی تو امتیاز رہنمائی بھی کرتا تھا۔ اس لئے آج کے واقعہ پر سبھی کو افسوس تھا۔ سبھی امتیاز کے لئے دل گرفتہ تھے۔ اس حقیقت کا علم سبھی کو تھا کہ انجنا گاٹیکر صرف سکریٹری نہیں تھی، اس کی راتیں مسٹر ارجانی کے ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں گزرتی تھیں، گووا اور کیرالہ کے سمندری ساحلوں پر گزرتی تھیں، شملہ، منالی اور منار کی پہاڑیوں میں گزرتی تھیں۔ مسٹر ارجانی ابھی حال میں ہی اسے تھائی لینڈ کی سیر کروا کر لائے تھے۔ اس لئے کمپنی سے امتیاز کی چھٹی لازمی ٹھہری۔

مسٹر ارجانی کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی۔ پھر بھی اکثر ایک تویہ نکتہ بحث کا موضوع رہتا تھا کہ مسٹر ارجانی زیادہ کامیاب تاجر ہیں یا زیادہ کامیاب عیاش؟اور دوسرا نکتہ یہ زیر بحث رہتا تھا کہ وہ عیاشی کے لئے تجارت کرتے ہیں یا اتنی کامیاب تجارت کے باعث عیاشی؟ ہمیشہ  ایک سے ایک خوب رو سکریٹری ان کے ساتھ دیکھی جاتی تھی۔وہ بہت Possessiveتھے۔ ایک بار ایک منچلے نے ان کی ایک سکریٹری پر بازاری فقرہ اڑا دیا تھا۔ مسٹر ارجانی نے فی الفور اس منچلے کے سامنے کے دو دانت منھ سے باہر کر دئے تھے۔ویسے ان کی سکریٹریوں کی ملازمت کی عمر بہت طویل نہیں ہوتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ تین چار ماہ میں وہ اپنی سکریٹری سے اوب جاتے تھے اور اس کی جگہ کوئی نئی سکریٹری تین چار ماہ کے لئے آ جاتی تھی۔ مگر انجنا گاٹیکر کا معاملہ قطعی مختلف تھا۔ چھ ماہ گزر نے کے بعد بھی وہ مسٹر ارجانی کی سکریٹری تھی اور روز بروز زیادہ سکریٹری ہوتی جا رہی تھی، زیادہ اختیارات حاصل کرتی جا رہی تھی۔ مسٹر ارجانی نے اسے حکومت کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور خود بھی اس کا ہر مشورہ بے چوں چرا کے خوشی سے مان لینے لگے تھے۔ انجنا گاٹیکر کی مرضی ’’وشال ارجانی اینڈ کو‘‘ کا قانون ہو گئی تھی۔ اس لئے آفس کے تمام افراد امتیاز کے لئے افسردہ تھے۔ وہ ان کے لئے ایک شفیق بڑے بھائی کی حیثیت رکھتا تھا، معاون، مددگار ، رہنما، امتیاز کے بغیر ان کے لئے آفس کا تصور تک ناممکن تھا۔

سارا دن کسی ضروری میٹنگ میں مصروف رہنے کے بعد مسٹر ارجانی شام کو ساڑھے پانچ بجے آفس آئے۔ انجنا گاٹیکر فوراً ہی اپنے کیبن سے نکل کر ان کے ساؤنڈ پروف کمرے میں چلی گئی۔ کس وقت باہر آئی، کسی کو علم نہیں، کیونکہ چھ بجے دفتر کا وقت ختم ہو جاتا تھا اور سارے کارکن چلے جاتے تھے۔ اس دن بھی چھ بجے انجنا گاٹیکر کے علاوہ سب چلے گئے۔

دوسرے دن اتوار تھا، تعطیل کا دن۔ دو شنبے کو حسب معمول ٹھیک ساڑھے نو بجے سارا اسٹاف دفتر پہنچ گیا، اور اس نے دیکھا کہ امتیاز ہمیشہ کی طرح اپنی میز پر بیٹھا کام پر مشغول تھا اور مسٹر ارجانی کے کمرے سے گلابی بلاؤز اور سیاہ اسکرٹ میں ملبوس ان کی نئی سکریٹری نکل رہی تھی۔۔۔انجنا گاٹیکر کی جتنی حسین تو نہیں ، مگر تھی وہ بھی بہت خوبصورت۔ جلد ہی سارے اسٹاف کو علم ہو گیا کہ دفتر سے انجنا گاٹیکر کی چھٹی ہمیشہ کے لئے ہو گئی تھی۔

٭٭٭