کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھانبھڑ

نجمہ ثاقب


جب مُشکی گھوڑی نے ڈھوک نواں لوک کے آرپار بہتے راج بہا کے تنگ موگے کو پار کرنے کے لیے اپنے آبنوسی وجود کو تولا۔ تو دونوں وقت مِل رہے تھے اور کچے نیم پکّے گھروں سے نکلتا دھواں جھٹپٹے میں مد غم ہو گیا تھا۔

 

گھوڑی نے کنوتیاں دبائیں اور اگلے سموں کو اوپر اٹھا کر فضا میں تیری۔ ایک ہی چھلانگ میں موگا عبور کرتی ’’وڈے لوک‘‘ کی سیدھی سطیر سڑک پہ گرد اُڑانے لگی۔ آبادی سے باہر جوہڑ کے کنارے گھوڑ سوار نے ایک ثانیے کے لیے پٹی چھوڑی۔

 

پھر جھٹکے سے باگ کھینچی اور رکاب میں پاؤں دھرے دھرے بائیں ہاتھ سے نیزے کی نوکیلی انی کائی زدہ اتھلے پانیوں کے بھر بھرے کنارے میں گاڑ کر حلق پھاڑ کے بولا:

’’اکالی جتھے کالی آندھی کی طرح چڑھے آرہے ہیں۔ اپنا سامان کرلو۔ ‘‘

 

جوہڑ سے اپنی پنج کلیانی بھینس کو باہر ہانکتے کرم دین نے چونکیل جانور کی طرح ٹھٹھک کر اِدھر ُادھر دیکھا۔

’’بنسو‘‘کے چوکے پہ کسی شریر بچے نے مردہ پرندے کی ہڈی پھینک دی تھی۔وہ جوہڑ کنارے چلتی پھرتی گایوں کے پیچھے پیچھے زمین سے اُن کا گوبر سمیٹتی پھر رہی تھی۔جب ’’دھرم شالہ‘‘ کے مہا پنڈت نے گھوڑ سوار کی بات سن کر پانی سے بھری گڑوی اور دودھ کا تاملوٹ جوہڑ کے داہنی جانب اشنان گھاٹ کے پتھروں پہ رکھ دیا۔

 

اور بولا:

’’رام۔رام۔ سنو گھر بھاگ جا۔ چولہا چکلا پوتنے کی فکر چھوڑ۔ سرداروں کی منڈلی میں ’’لپاڈگی‘‘ ہونے کو ہے جب یہ بات فاطمہ اورمحسن کے کانوں میں پڑی۔ تو وہ خوفزدہ ہوکر بڑی گلی میں لٹو کی طرح گھومنے لگے۔

 

فاطمہ بس اتنی سیانی تھی کہ اُسے گھر کا راستہ آتا تھا اور وہ بہن بھائیوں کو پکڑ کر اندر باہر لاسکتی تھی۔ محمد حسین اتنا چھوٹا، کہ پاؤں پاؤں چلتا تھا اور عام رواج کے مطابق اس کی ماں لمبی قمیض کے نیچے ابھی اسے کچھا نہ پہناتی تھی۔

آناً فاناً پوری گلی آوازوں کے شور سے بھر گئی۔

سِکھ آ گئے۔ سِکھ آ گئے۔

گھوڑی والے نے چند قدم آگے جا کے باگ دوبارہ کھینچی۔

اور پیچھے منہ کر کے بولا:

 

ڈنگہ شہر سارا جلا دیا گیا۔چیلیا نوالہ سے دھواں اُٹھ رہا ہے۔

بیچ کے سارے گاؤں کٹ گئے ہیں۔ اُدھر بیلہ لاشوں سے اٹا پڑا ہے۔

جس کے ہاتھ میں جو آیا۔ لاٹھی، ڈنڈا، بلم، کرپان، کلہاڑا اٹھا کر میاں جی کے گھر کی طرف دوڑے۔ فاطمہ اور محمد حسین پھوپھی جی کو میراثیوں کے گھر چار پائی تلے چھپے ملے۔ وہ انھیں بغل میں داب گھر پہنچیں۔ تو صحن عورتوں اور مردوں سے اٹا اٹ تھا۔

 

اُدھر ’’دھرم شالہ‘‘ میں غیر مسلموں کا خفیہ اجلاس بلایا گیا۔ گھنٹہ آدھ اندر جانے کیا کُھدبُد ہوتی رہی۔ بالآخر دروازہ کھلا اور سب سے پہلے پنڈت بھجن لعل باہر نکلے۔کھچڑی بالوں والی چتکبری چٹیا ان کی پشت پر مرے سانپ کی طرح ڈھیلی پڑی تھی۔ پیچھے چلتے ’’پریتما‘‘ کے بوسیدہ گالوں پر آنسوؤں کا تار سا ٹوٹ رہا تھا۔ پریتما کے پیچھے’’ جَکت رام‘‘اُس کے پیچھے ’’لبھو‘‘ پھر ’’ہری سنگھ‘‘ اور اس کے پیچھے ہندو، سکِھ جاتی کے مردوں عورتوں کا ٹھٹ جلوس کی شکل میں چلتا مرکزی جامع مسجد کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا۔

 

پنڈت بھجن لعل نے مسجد کی دہلیز پہ ایک پاؤں اندر اور دوسرا باہر رکھا اور نعرہ مار کے بولا:

مولوی صاحب۔ کلمہ پڑھائیے۔ ہم پاک ہونے آئے ہیں۔

’’بنسو‘‘ کے ہاتھ ابھی تک گوبر سے سَنے ہوئے تھے۔ وہ موت کے گلیارے میں بھی چوکا پوت کے پاک کر آتی تھی۔

 

پھر عشاء کی نماز پہ بھرے صحن کی مسجد میں مولوی صاحب نے کلمہ پڑھایا اور سب سے پہلے کلمہ پنڈت جی نے پڑھا۔ پھر سب سے عمر رسیدہ جُگت رام نے پڑھا۔پھر ملگجی آنکھوں اور کالے کیسوں والے کرتار سنگھ نے پڑھا۔ پھر سُکھے نے پھر پرنیم نے زیر لب کلمہ دُہرایا۔ اس کے بعد جب سجن سنگھ کی باری آئی اور مولوی صاحب بولے۔ کہو۔’’میں گواہی دیتا ہوں۔ کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ تو سجن نے تن کر پھر یری لی۔

 

اور اپنے تھن متھے ہاتھوں سے مسجد کے دروازے کو پکڑ کر لمحہ بھر کے لیے چپ کھڑا رہا۔ پھر اپنے خشک لبوں پہ زبان پھیرنے لگا۔ نمازیوں میں وزیر علی سجنے کا سنگی تھا۔ گرمیوں کی شاموں میں اُس کے ساتھ گتکا کھیلتا اور سردیوں میں شیر گرم پہ شرطیں بدتا۔اس نے اپنے ساتھی نمازی کے کندھے پہ ہاتھ مارا اور ٹھٹھا لگا کے بولا۔ سجن کا کلمہ پڑھنا ایسا ہی ہے۔ جیسے عربی فارسی میں بھاشا کا ٹانکا۔

 

سجن سنگھ نے منہ میں جمع کڑوا پانی باہر تھوکنے کی بجائے ایک گھونٹ میں اندر اتارا اور اپنی گیرورنگی پگڑی سے چہرہ پونچھ کے کڑک کے بولا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

 

مولوی صاحب نے باقی لوگوں کی طرح انھیں بھی میاں جی کے گھر کی طرف دھکیل دیا۔ اس رات کوئی نہ سویا۔ مرد لمبی لمبی چھڑیوں پہ جلتی شمعیں لے کر گلیوں میں پہرہ دیتے رہے اور عورتیں اینٹیں، روڑے جمع کر کے چھت پہ بیٹھی بنسو، تارو اور ’’کلونت کور‘‘ جیسی نو مسلمات کو نماز، روزے کے مسائل بتاتی رہیں۔

 

یہ رات آنکھوں میں کٹی اور اکالی جتھہ شاید راستہ بھول بیٹھا کہ ممکنہ خون ریزی رک گئی۔ لوگ بکھر نکھر کے اپنے اپنے گھروں کو چلے تو شیدے ماچھی، موجو نائی اور لوہاروں کے دو تین لڑکوں نے مانگے تانگے کی نٹیوں کو ایڑ لگائی اور براستہ چیلیانوالہ ڈنگہ کی طرف روانہ ہوئے۔

 

راستے ویران اور خاموش پڑے تھے۔ پگڈنڈیاں اور کچی سڑکیں چپ چاپ لیٹی تھیں اور کناروں پہ اُگے چھوٹے موٹے خود رو پودے اُچک اُچک کر مسافروں کی راہ تکتے تھے۔ کبھی آہستہ، کبھی تیز، کبھی دُلکی چال چلتے وہ چیلیانوالہ پہنچے۔ شیر سنگھ جرنیل اور انگریزی فوج کے تاریخی مرن گھاٹ پہ وہ تھوڑی دیر کے لیے رکے۔

 

شیدے ماچھی نے چوڑے خاکستری پتھروں سے بنی چوکھنڈی کے دروازے پہ کھڑی پرانی ’’بوڑھ‘‘ کی شاخ سے گھوڑی کی رسی اٹکائی اور زمین پہ گری لا ل لال ’’گولوں‘‘ کو پاؤں سے روندتے ہوئے یادگاری مینار کی پانچویں سیڑھی پہ چڑھ کے جنوب مشرق کی جانب نظر دوڑائی۔ اور بڑھک مار کے بولا ’’دیکھ یارو! ڈنگہ بھانبھڑ بنا ہوا ہے۔ آگ کے شعلے یہاں تک نظر آرہے ہیں۔

 

تینوں، چاروں دوستوں نے اس کی تقلید میں سیڑھیوں کی جانب زقند بھری۔ پھر اُچک کر دوبارہ گھوڑوں کی پشتیں آباد کرتے ہوئے آسمان سے باتیں کرتے شعلوں کی جانب جانوروں کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔

 

ڈنگہ جیسا بڑا اور تاریخی قصبہ فتح ہوئے تیسرا دن تھا۔ جب گاؤں میں پہلا مہاجر داخل ہوا۔ شیدا ماچھی ڈنگہ سے غنیمت میں دو بچے لایا تھا۔ دونوں شیر بچے تھے۔مگر سہمی کبوتری کی طرح غٹرغوں تھے۔ اس کی ماں نے انھیں دائیں بائیں ٹھونک بجا کے دیکھا اور ناک بھوں چڑھا کے بولی ’’لو جی اور دیکھو! دوسرے تو سونے کی پوٹلیاں اور چاندی کے توڑے لائے۔ بیل، گائے، بھینسیں ہنکاتے آئے اور نہیں تو برتن بھانڈے اور چارپائیاں ہی اٹھا لائے اور یہ کیا لے کے آیا ہے۔ ایسی سوغاتیں تو ادھر بھی بہت تھیں۔‘‘

 

شیدا صحن میں آسمان تلے لیٹا دو روز پہلے کی مہم کا مزہ لے رہا تھا۔ آنکھیں موندے موندے بولا ’’اینٹ، پتھر، لوہا، فولاد بندے کا بدل نہیں ہے۔ بات تو تب بنتی ہے جب جگر آوی چڑھے۔ پھر اس پہ جدائی کی کٹاری پھرے۔ ہم یاروں کے یار اور دشمنوں سے دشمنی نبھانے والے ہیں۔‘‘

 

تو دشمنیاں نبھاتا رہ اور میں ادھر ان کاگُوہ موت اٹھاتی رہوں گی۔ اس کی بوڑھی ہڈی بیٹھے بیٹھے چٹخی تو شیدا تلخ ہو کے اٹھا اور دونوں کو آگے لگا کے میاں جی کی دہلیز پہ چھوڑ گیا۔ رات کو بے جی نے فاطمہ اور محمد حسین کے سامنے سالن کی کٹوری رکھی تو دوسری ان دونوں بہن بھائیوں کے سامنے رکھ کے بولیں: ’’لو بسم اللہ کرو! اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔‘‘

 

لڑکا بمشکل تین سال کا ہو گا۔ بھوکا تھا یا سالن کی مہک نے اس کی اشتہا کو انگیز کیا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کے بوٹی اٹھائی اور منہ میں ڈال کر اسے کچلنے لگا۔

لڑکی نے کہنی سے اسے ٹہوکا مارا اور کسمسی آواز میں بولی ’’ہم باہمن ہیں پریتو! ہم ماس نہیں کھاتے۔ کل جگت بے جی نے تھالی پرے سرکائی اور آلو کی بھجیا کو تڑکا لگا کے باہر کا دروازہ چوپٹ کھول دیا۔ جہاں سے پہلا مہاجر خاندان اندر داخل ہوا۔ یہ غلام محمد روہتکی عرف گاما تھا۔ اس نے کھدر کا مٹی مٹی تہبند اور پرچونسی کا اٹنگا کرتا پہن رکھا تھا۔

 

اور سر پہ کالے رنگ کا لوہے کا ٹرنک اٹھا رکھا تھا۔ جو زمین پہ دھرنے سے بجا تو اندازہ ہوا کہ اندر بالکل خالی ہے۔ اس کے پیچھے عین اس کے قدموں پہ چلتی ’’بیگماں‘‘ تھی۔ جس کے پہلو میں تن کے دو جوڑے گٹھڑی کی صورت بندھے لٹک رہے تھے۔ اور اس کی آنکھوں میں ڈھیلے بن میں وحشت زدہ ہرنی کی طرح ناچ رہے تھے۔ ان کے عین نیچے ناک کے متوازی اندر کو دھنستے گوشت نے دو کھائیاں سی بنا دی تھیں۔ جن میں آنسویوں رواں تھے۔ جیسے راج بہاسے پانی نکل نکل کر موگے میں رواں ہو جاتا ہے۔

 

اس نے محمد حسین اور فاطمہ کو دیکھا۔ پھر پریتو اور اس کی پنج سالہ آپا پہ نظر کی۔ جو آلو کی بھجیا میں لقمے بنا بنا کر بھائی کے منہ میں رکھ رہی تھی۔ اور چیخ مار کے گٹھڑی ٹرنک پہ دے ماری۔ خالی ٹرنک پھٹے ڈھول کی طرح بج اٹھا۔

 

’’بیگماں‘‘ چیل کی طرح جھپٹی اور دونوں بچوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بنا کے انھیں گود میں بھر لیا۔ محلے ٹولی کے لوگ مہاجرین کی آمد کا سُن کر صحن میں جمع ہو رہے تھے۔ وہ اپنے تئیں انصار کی رسم اخوت نبھاتے کچھ نہ کچھ گھروں سے اٹھاتے آئے تھے۔

 

کسی نے تھالی میں گڑ کی بھیلی دھری تھی، کوئی اچار کی چار پھانکیں تندوری روٹی سمیت لایا، کسی نے مکئی کے بھنے بھٹے اور کوئی رسیلے گنوں کی مٹیاں۔

بے جی نے ’’جی آیاں نوں‘‘ کہہ کے چادر زمین پر بچھا دی، لانے والے سوغاتیں وہاں رکھنے لگے۔

 

میاں جی نے سب کو مخاطب کر کے کہا ’’اللہ خیر رکھے! تو مہاجر بھائیوں کا آنا جانا اب لگا رہے گا۔ یہ نہ ہو کہ شروع کا جوش بعد میں بالکل ٹھنڈا پڑ جائے۔ ہتھ ہولا رکھو بھائیو! پانچ دس بندوں کا رزق تو میرے گھر سے نکل ہی آئے گا۔‘‘

 

’’سنا ہے بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ٹرینوں کی ٹرینیں کٹی پڑی ہیں۔‘‘ الہ دین نے حصّے کے منہنال میاں جی طرف پھیر کے کہا۔

’’اللہ سب کا مالک ہے۔جو ڈالتا ہے، وہ سہارتا بھی ہے۔‘‘

پرجی! بدلہ تو شرع شریعت میں بھی ہے۔ پھر ہمارے ہاتھ کیوں بندھے ہوئے ہیں۔ ہندو سکھ تو ابھی ادھر بھی بہت ہیں۔ وزیر علی نے کسی ممکنہ خیال کے پیش نظر کہا ’’چل اوئے! انھوں نے کلمہ پڑھا ہے۔ اپنی ہی بہنوں کے سالو‘‘ لال رنگنے کی بات کرتے ہوئے بے غیرت۔

الہ دین ڈپٹ کے بولا ’’تو وزیر علی‘‘ بڑ بڑ کرتا چپ ہو گیا۔

 

ہوا ہے، ہوا ہے، ایسا بھی ہوا ہے۔ بدلہ لینے والوں نے بھی اپنی پوری ہمت مار لی ہے۔ شیدا بتا نہیں رہا تھا۔ ڈنگہ بازار لوٹا گیا۔ سکھ، کھتری سب نکل گئے۔ ایک آدھا مارا بھی گیا۔ گھروں میں بھی لوٹ مار ہوتی رہی۔ اسی لوٹ مار کے مال کو بیگماں نے کسی گمشدہ متاع کی طرح سینے سے لگا رکھا تھا اور غلام محمد شیرے پہ گرتی مکھیوں کی طرح بڑھتے ہجوم کے بیچوں بیچ بیٹھا تاسف سے سر ہلا ہلا کے بتا رہا تھا۔

 

بڑا جُلم ہوا ہے جی! بیگماں بھرے بجار، میں ترکاری سبزی خریدتی پھر رہی تھی۔ جب مُشکی گھوڑی والا نیزہ لہراتا ٹاپو ٹاپ بیچ بازار سے گجرا۔ اس نے بتایا بَلوہ ہو گیا۔ آگ لگ گئی، مسلمانوں کے محلے بھانبھڑ بن گئے ہیں۔

 

حاضرین کے کان کھڑے ہو گئے۔ مکھیاں بھنبھنانے لگیں۔ بھن بھن چہ مگوئیوں میں بدلی اور اونچی اواز میں تبصرے شروع ہو گئے۔

مُشکی گھوڑے والا؟

جن تھا یا چھلاوا!

ہر جگہ بلوے کی، ہلّہ بولے جانے کی خبریں ہر شخص کی زبان پہ اس کا قصہ۔یہ ضرور کوئی شیطان کا چیلا تھا جو افواہیں اڑا کر افراتفری پیدا کرنا چاہتا تھا۔ میاں جی نے کہا۔

’’افواہ کہاں جی! گاما بولا۔ ’’سچ تھا،سب سچ تھا۔ بیگماں گرتی پڑتی روتی پیٹتی گھر پہنچی۔ تو گھر کی جگہ راکھ کا ڈھیر تھا اور بچوں کی وہاں جلی ہوئی ہڈیاں بھی نہ تھیں۔

 

تب سے… گامے نے تہبند کی ڈب لمبی کھینچ کے آنکھیں پونچھیں۔ اور انگلی سے بیگماں کی طرف اشارہ کر کے بولا ’’تب سے یہ جھلی بنی ہوئی ہے۔ ہر بچے پہ اپنے بچوں کا گمان کرتی ہے۔

مجمع میں ٹھنڈی سانسیں حبسیلی ہوا کی طرح سرسرائیں اور ہاتھ دیدہ و نادیدہ آنسوؤں کو صاف کرنے کے لیے چہروں کا طواف کرنے لگے۔

 

ادھر ہندوؤں کے محلے پہ راتوں رات جھاڑو پھر گئی۔فجر کی نماز میں نو مسلموں کی گنتی کی گئی تو آدھے سے زیادہ غائب تھے۔ دن چڑھے عورتیں کھتری بازار سے دال، سبزی اور چھوٹی موٹی روزینہ ضرورت کی لینے گئیں۔ تو کئی گھروں کے دروازے کھلے پڑے تھے۔ اور اندر خالی ڈھنڈار کمرے بھائیں بھائیں کر رہے تھے۔

 

دوپہر تک خبر سارے گاؤں میں پھیل گئی۔ کہ کھتری ہم سے ہاتھ کر گئے ہیں۔

دو چار بڈھوں، ایک آدھ غریب غربا گھرانوں کے سوا سب نکل لیے تھے۔

اجی انھیں بھی نکال باہر کریں۔ بلکہ یہیں شمشان گھاٹ بناتے ہیں۔ وید جی کو لہو کا اشنان کرواتے ہیں۔

شیدے، وزیرے اور موجو جیسے جوشیلے نوجوان تو ڈنڈے اٹھا کر تیار ہو گئے۔

کیوں بے بس نہتے لوگوں کا اجاڑ مانگتے ہو۔ میاں جی نے انھیں کہا۔

 

سہ پہر ڈھلے مہاجروں کے دوسرے قافلے کی آمد نے ہوا کا رخ اس طور بدلا کہ سب لٹے پٹے بے خانماں لوگوں کو انھیں بے آباد گھروں میں لا کے بٹھایا گیا اور انصار ہتھ پنکھیوں سے غم سے نڈھال لہو نچڑتی آنکھو ں اور اجڑے پجڑے بدنوں کو ہوا دیتے کوئی چھوٹا موٹا تسلی دلاسہ ہاتھ میں تھماتے کف افسوس ملتے رہے۔

 

اگر پہلے سے اندازہ ہوتا کہ ہندو ہمارے ساتھ دھوکہ کرنے جا رہے ہیں۔ تو سامان سمیت بیچ کھیت کے دھر لیتے۔ وزیرا منہ سے کف اُڑاتا بار بار بازو اوپر چڑھاتا تھا۔ وہ اپنی رگوں میں ابلتی توانائی کے یوں ضائع ہونے پہ سخت بد دل تھا اور کئی مرتبہ ٹوکا ہاتھوں میں تول کے دیکھ چکا تھا۔

 

بنیامر کے بھی ساہو کار ہی رہتا ہے۔ مجال ہے جو ایک تنکا بھی چھوڑ کے گئے ہوں۔ دہائی خدا کی یہ بھی کوئی انصاف ہے۔ ہمارے بھائی اپنی آدھی سانسیں بھی ادھر چھوڑ آئیں اور … اس کی بات بیچ میں ہی رہ گئی اور لوگوں کی توجہ ایک مرتبہ پھر ہٹ کر اس جانب ہو گئی جہاں دروازے سے روتی پیٹتی خاتون، نڈھال مرد اور دوچار لڑکوں کے سہارے اندر داخل ہو رہی تھی۔

 

سب کی متا ٔسف نظریں اُن پر جم گئیں۔موجُو بھاگ کر سلور کے کٹورے میں دودھ لے آیا۔

دارے نے پانی کی بالٹی آگے کھسکائی، سرور روٹیوں کی چنگیر کھسکا لایا۔

 

کہانی وہی گزشتہ سے پیوستہ تھی۔ خاتون کے بچے جلے تو نہیں تھے، بلوائیوں کے ہاتھوں نیزے کی انیّوں پہ بھی نہ چڑھے تھے۔ وہ اس کے ہاتھوں سے کھینچے گئے تھے۔

میری بیٹی… اس کی ہچکی بندھ گئی… میری جوان عذرا وہ یکدم رک کے بین کرنے لگی۔ انھوں نے اسے میرے ہاتھوں سے، اپنے بھائیوں کے بازوؤں کے درمیان سے کھینچ لیا اور ہمیں نہر پار دھکیل دیا۔

لڑکے آبدیدہ ہو کے ماں کو سنبھالنے لگے۔

بیگماں نے دلدوز چیخ ماری۔ اور دونوں برہمن بچوں کو مرغی کی طرح پروں میں سمیٹ لیا۔

کسی نے ہاتھ پکڑ کر انھیں دھکیلنا چاہا۔ نکالو ان سنپولیوں کو، سانپ کے بچے کو سو سال تک دوھ پلاؤ گے، پھر بھی وہ اپنا نہ بنے گا۔

نہیں، نہیں! بیگماں کا استخوانی وجود التجا بن گیا۔ بچے خوفزدہ ہو کر اس کے گلے کا ہار ہونے لگے۔

گاماں، بیگماں اور لوگوں کے درمیان کود پڑا۔ رہنے دو نمانی کو… جھلی تو پہلے ہی ہوئی پڑی ہے۔ اب کیا جان سے بھی جائے۔

 

لڑکے جزبز ہو کے پیچھے ہٹے۔مگر بیگماں کی سسکیاں اس وقت اور تیز ہو گئیں جب شام ڈھلنے لگی اور دو فوجی ٹرک دھرم شالہ سے باہر آ کے رکنے لگے۔ نیچے اترتے فوجی سب مسلمان تھے، ضلع کچہری میں ہندو برادری کی درخواست پہنچی ہے۔ انھیں یہاں حبس بے جا میں رکھا گیا ہے۔ شکر کریں، مسلمان ملٹری آئی ہے، ہندو سپاہی آتے تو ہو سکتا کوئی چھوٹا موٹا فساد ہو جاتا۔

آہستہ روی سے رینگتا ٹرک میاں جی کی ڈیوڑھی پہ پہنچا تو پچھلے حصے میں ننگے فرش پر بیٹھے جٹا دھاری لبھو رام نے دونوں ہاتھ ماتھے پہ رکھ کے سپاہی سے کہا۔

ادھر ہمارے دو بچے ہیں سرکار۔ ایک لڑکا اور لڑکی دونوں برہمن زادے ہیں۔

 

ٹھیک پانچ منٹ بعد جب پاک فوج کے جوان دونوں بچوں کو بازیاب کرا کے ٹرک میں سوار کروا رہے تھے۔ تو بیگماں بے پتوار ڈولتی کشتی کی طرح دروازے سے باہر لپکی۔ اس کا بایاں بازو گامے کے ہاتھ میں تھا اور بکھرے بالوں والے سر سے گرتی چادر پیچھے جھاڑو پھیر رہی تھی۔ جب وہ چلتے ٹرک کے پیچھے دوڑی تو چادر اس کے ہوا میں لہراتے بازوؤں سے جھٹکا کھا کر نیچے جا گری اور اس کی ناک کے متوازی اندر کو دھنسے گوشت میں کھائیوں کی طرح گہرے گڑھوں میں آنسویوں بہنے لگے۔ جیسے نالے سے پانی نکل نکل کے موگے میں رواں ہو جاتا ہے۔

٭٭٭