کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

امرتسر آزادی سے پہلے

کرشن چندر


۱

جلیان والا باغ میں ہزاروں کا مجمع تھا۔ اس مجمع میں ہندو تھے، سکھ بھی تھے اور مسلمان بھی۔ ہندو مسلمانوں سے اور مسلمان سکھوں سے الگ صاف پہچانے جاتے تھے۔ صورتیں الگ تھیں، مزاج الگ تھے، تہذیبیں الگ تھیں۔ مذہب الگ تھے لیکن آج یہ سب لوگ جلیان والا باغ میں ایک ہی دل لے کے آئے تھے۔ اس دل میں ایک ہی جذبہ تھا اور اس جذبے کی تیز اور تند آنچ نے مختلف تمدن اور سماج ایک کر دئیے تھے۔ دلوں میں انقلاب کی ایک ایسی پیہم رو تھی کہ جس نے آس پاس کے ماحول کو بھی برقا دیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس شہر کے بازاروں کا ہر پتھر اور اس کے مکانوں کی لہر ایک اینٹ اس خاموش جذبے کی گونج سے آشنا ہے اور اس لرزتی ہوئی دھڑکن سے نغمہ ریز ہے۔ جو ہر لمحے کے ساتھ گویا کہتی جاتی ہو۔ آزادی، آزادی، آزادی........ جلیان والا باغ میں ہزاروں کا مجمع تھا اور سبھی نہتے تھے اور سبھی آزادی کے پرستار تھے۔ ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں نہ ریوالور نہ برین گن نہ اسٹین گن۔ ہنڈ گری نیڈ نہ تھے۔ دیسی یا ولایتی ساخت کے بمب بھی نہ تھے مگر پاس کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی نگاہوں کی گرمی کسی بھونچال کے قیامت خیز لا وے کی حدّت کا پتہ دیتی تھی۔ سامراجی فوجوں کے پاس لوہے کے ہتھیار تھے۔ یہاں دل فولاد کے بن کے رہ گئے تھے اور روحوں میں ایسی پاکیزگی سی آ  گئی تھی جو صرف اعلیٰ د ارفع قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔ پنجاب کے پانچوں دریاؤں کا پانی اور ان کے رومان اور ان کا سچا عشق اور ان کی تاریخی بہادری آج ہر فرد بشر بچے بوڑھے کے ٹمٹماتے ہوئے رخساروں میں تھی، ایک ایسا اجلا اجلا غرور جو اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب قوم جوان ہو جاتی ہے اور سویا ہوا ٹک بیدار ہو جاتا ہے۔ جنہوں نے امرتسر کے یہ تیور دیکھے ہیں۔ وہ ان گروؤں کے اس مقدس شر کو کبھی نہیں بھلا سکتے۔ جلیان والا باغ میں ہزاروں کا مجمع تھا اور گولی بھی ہزاروں پر چلی۔ تینوں طرف راستہ بند تھا اور چوتھی طرف ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ یہ دروازہ جو زندگی سے موت کو جاتا تھا۔ ہزاروں نے خوشی خوشی جام شہادت پیا، آزادی کی خاطر، ہندو مسلمانوں اور سکھوں نے مل کر اپنے سینوں کے خزانے لٹا دئیے اور پانچوں دریاؤں کی سرزمین میں ایک چھٹے دریا کا اضافہ کیا تھا۔ یہ ان کے ملے جلے خون کا دریا تھا یہ ان کے لہو کی طوفانی ندی تھی جو اپنی امنڈتی ہوئی لہروں کو لئے ہوئے اٹھی اور سماجی قوتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئی، پنجاب نے سارے ملک کے لئے اپنے خون کی قربانی دی تھی اور اس وسیع آسمان تلے کسی نے آج تک مختلف تہذیبوں، مختلف مذہبوں اور مختلف مزاجوں کو ایک ہی جذبے کی خاطر یوں مدغم ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جذبہ شہیدوں کے خون سے استوار ہو گیا تھا۔ اس میں رنگ آ گیا تھا۔ حسن، رعنائی اور تخلیق کی چمک سے جگمگا اٹھا.... آزادی.... آزادی....آزادی۔

 

۲

 

صدیق کٹرہ فتح خاں میں رہتا تھا۔ کٹرہ فتح خاں میں اوم پرکاش بھی رہتا تھا جو امرتسر کے ایک مشہور بیوپاری کا بیٹا تھا۔ صدیق اسے اور ادم پرکاش صدیق کو بچن سے جانتا تھا۔ وہ دونوں دوست نہ تھے کیونکہ صدیق کا باپ کچا چمڑہ بیچتا تھا اور غریب تھا اور اوم پرکاش کا باپ بینکر تھا اور امیر تھا لیکن دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ دونوں ہمسائے تھے اور آج جلیان والا باغ میں دونوں اکٹھے ہو کر ایک ہی جگہ پر اپنے رہنماؤں کے خیالات اور ان کے تاثرات کو اپنے دل میں جگہ دے رہے تھے۔ کبھی کبھی وہ یوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ لیتے اور یوں مسکرا اٹھتے جیسے وہ سدا سے بچن کے ساتھی ہیں اور ایک دوسرے کا بھید جانتے ہیں۔ دل کی بات نگاہوں میں نتھر آئی تھی.... آزادی.... آزادی....آزادی۔

اور  جب گولی چلی تو پہلے اوم پرکاش کو لگی کندھے کے پاس اور وہ زمین پر گر گیا۔ صدیق اسے دیکھنے کے لئے جھکا تو گولی اس کی ٹانگ کو چھیدتی ہوئی پار ہو گئی۔ پھر دوسری گولی آئی۔ پھر تیسری۔ پھر جیسے بارش ہوتی ہے۔ بس اسی طرح گولیاں برسنے لگیں اور خون بہنے لگا اور سکھوں کا خون مسلمانوں میں اور مسلمانوں کا خون ہندوؤں میں مدغم ہوتا گیا۔ ایک ہی گولی تھی، ایک ہی قوت تھی، ایک ہی نگاہ تھی جو سب دلوں کو چھیدتی چلی جا رہی تھی۔

صدیق اوم پرکاش پر اور بھی جھک گیا۔ اس نے اپنے جسم کو اوم پرکاش کے لئے ڈھال بنا لیا اور پھر وہ اوم پرکاش دونوں گولیوں کی بارش میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے گھسٹتے اس دیوار کے پاس پہنچا تو اتنی اونچی نہ تھی کہ اسے کوئی پھلانگ نہ سکتا لیکن اتنی اونچی ضرور تھی کہ اسے پھلانگتے ہوئے کسی سپاہی کی گولی کا خطرناک نشانہ بننا زیادہ مشکل نہ تھا۔ صدیق نے اپنے آپ کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور جانور کی طرح چاروں پنجے زمین پر ٹیک کر کہا۔

’’ لو پرکاش جی خدا کام نام لے کے دیوار پھلانگ جاؤ۔‘‘ گولیاں برس رہی تھیں۔ پرکاش نے بڑی مشکل سے صدیق کی پیٹھ کا سہارا لیا اور پھر اونچا ہو کر اس نے دیوار کو پھلانگنے کی کوشش کی۔ ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی۔

’’جلدی کرو ‘‘صدیق نے نیچے سے کہا۔

 لیکن اس سے پہلے پرکاش نیچے جا چکا تھا۔ صدیق نے اسی طرح اکڑوں رہ کر اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر یک لخت سیدھے ہو کر جو ایک جست لگائی تو دیوار کے دوسری طرف لیکن دوسری جاتے جاتے سنسناتی ہوئی گولی اس کی دوسری ٹانگ کے پار ہو گئی۔

صدیق پرکاش کے اوپر جا گرا پھر جلدی سے الگ ہو کر اسے اٹھانے لگا۔

’’تمہیں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی پرکاش۔‘‘

لیکن پرکاش مرا پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہیرے کی انگوٹھی بھی زندہ تھی۔ اس کی جیب میں دو ہزار کے نوٹ کلبلا رہے تھے۔ اس کا گرم خون ابھی تک زمین کو سیراب کئے جا رہا تھا۔ حرکت تھی، زندگی تھی، اضطراب تھا، لیکن وہ خود مر چکا تھا۔

صدیق نے اسے اٹھایا اور اسے گھر لے چلا، اس کی دونوں ٹانگوں میں درد شدت کا تھا۔ لہو بہ رہا تھا۔ ہیرے کی انگوٹھی نے بہت کچھ کہا سنا، لوگوں نے بہت کچھ سمجھایا۔ وہ تہذیب جو مختلف تھی۔ وہ مذہب جو الگ تھا، وہ سوچ جو بیگانہ تھا۔ اس نے طنز و تشنیع سے بھی کام لیا لیکن صدیق نے کسی نہ سنی اور اپنے بہتے ہوئے لہو اور اپنی نکلتی ہوئی زندگی کی فریاد بھی نہ سنی اور اپنے راستے پر چلتا گیا۔ یہ راستہ بالکل نیا تھا گو کٹرہ فتح خاں ہی کو جاتا تھا۔ آج فرشتے اس کے ہمراہ تھے گو وہ ایک کافر کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھا۔

آج اس کی روح اس قدر امیر تھی کہ کٹرہ فتح خاں پہنچ کراس نے سب سے کہا ’’یہ لو ہیرے کی انگوٹھی اور یہ لو دو ہزار روپے کے نوٹ اور یہ ہے شہید کی لاش‘‘۔ اتنا کہہ کر صدیق بھی وہیں گر گیا اور شہر والوں نے دونوں کا جنازہ اس دھوم سے اٹھایا گویا وہ سگے بھائی تھے۔

 

۳

 

 ابھی کرفیو نہ ہوا تھا۔ کوچہ رام داس کی دو مسلمان عورتیں، ایک سکھ عورت اور ایک ہندو عورت سبزی خریدنے آئیں۔ وہ مقدس گوردوارے کے سامنے سے گزریں ہر ایک نے تعظیم دی اور پھر منہ پھیر کر سبزی خریدنے میں مصروف ہو گئیں۔ انہیں بہت جلد لوٹنا تھا۔ کرفیو ہونے والا تھا اور فضا میں شہیدوں کے خون کی گونج رہی تھی پھر بھی باتیں کرتے اور سودا خریدتے انہیں دیر ہو گئی اور جب واپس چلنے لگیں تو کرفیو میں چند منٹ ہی باقی تھے۔

بیگم نے کہا  ُُآؤاس گلی سے نکل چلیں۔ وقت سے پہنچ جائیں گے۔‘‘

 پارو نے کہا ’’پر وہاں تو پہرہ ہے گوروں کا۔ شام کور بولی اور گوروں کا کوئی بھروسہ نہیں۔‘‘

 زینب نے کہا ’’وہ عورتوں کو کچھ نہ کہیں گے ہم گھونگھٹ کاڑھے نکل جائیں گی جلدی سے چلو۔‘‘

وہ پانچوں دوسری گلی سے ہولیں فوجیوں نے کہا اس جھنڈے کو سلام کرو یہ یونین جیک ہے۔ عورتوں نے گھبرا کر اور بوکھلا کر سلام کیا۔ اب یہاں سے وہاں تک۔ فوجی نے گلی کی لمبائی بتاتے ہوئے کہا، ’’گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی یہاں سے فی الفور نکل جاؤ۔‘‘

’’گھٹنوں کے بل ۔۔۔ یہ تو ہم سے نہ ہو گا‘‘  زینب نے چمک کر کہا۔ ’’اور جھک کر چلو.... سرکار کا حکم ہے گھٹنوں کے بل گھسٹ کر چلو۔‘‘

’’ہم تو یوں جائیں گے‘‘۔ شام کور نے تن کر کہا، ’’ دیکھیں کون روکتا ہے۔ ہمیں‘‘  یہ کہہ کر وہ چلی۔

’’ٹھہرو، ٹھہرو‘‘ پارو نے ڈر کر کہا۔ ’’ٹھہرو، ٹھہرو‘‘

 گورے نے کہا ’’ہم گولی مارے گا۔ ‘‘

شام کور سیدھی جا رہی تھی۔ ٹھائیں، شام کور گر گئی۔ زینب اور بیگم نے ایک دوسری کی طرف دیکھا اور پھر وہ دونوں گھٹنوں کے بل گر گئیں۔ گورا خوش ہو گیا اس نے سمجھا کہ سرکار کا حکم بجا لا رہی ہیں۔ زینب اور بیگم نے گھٹنوں کے بل گر کر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور چند لمحوں کے سکوت کے بعد وہ دونوں سیدھی کھڑی ہو گئیں اور گلی کو پار کرنے لگیں۔ گورا بھونچکا رہ گیا۔ پھر غصے سے اس کے گال تمتما اٹھے اور اس نے رائفل سیدھی کی۔ ٹھائیں، ٹھائیں۔

پارو رونے لگی۔ ’’اب مجھے بھی مرنا ہو گا۔ یہ کیا مصیبت ہے۔ میرے پتی دیو۔ میرے بچو، میری ماں جی، میرے پتا، میرے ویرو، مجھے شما کرنا، آج مجھے بھی مرنا ہو گا، میں مرنا نہیں چاہتی، پھر مجھے بھی مرنا ہو گا، میں اپنی بہنوں کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔ ‘‘پارو روتے روتے آگے بڑھی۔

 گورے نے نرمی سے اسے سمجھایا ’’رونے کی ضرورت نہیں، سرکار کا حکم مانو اور اس گلی میں یوں گھٹنوں کے بل گر کر چلتی جاؤ، پھر تمہیں کوئی کچھ نہ کہے گا‘‘۔ گورے نے خود گھٹنے پر گر کر اسے چلنے کا انداز سمجھایا۔

پارو روتے روتے گورے کے قریب آئی۔ گورا اب سیدھا تن کر کھڑا تھا۔ پارو نے زور سے اس کے منہ پر تھوک دیا اور  پھر پلٹ کر گلی کو پار کرنے لگی۔ وہ گلی کے بیچوں بیچ سیدھ