کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مورکھا

نجمہ ثاقب


جب بھری برسات میں دونوں میاں بیوی ’’چک لدھا‘‘ سے روانہ ہوئے تو دوپہر ڈھل چکی تھی اور کالے سیاہ بادلوں نے آسمان پہ تنبو تان کے پانیوں سے بھرے سمندر کے آگے پرنالا باندھ دیا تھا۔ دونوں نے لانگڑ کھینچ کے تَہبند پنڈلیوں سے اوپر تک اُڑسے اور ایڑیوں کی پھٹی بوائیاں کمائے چمڑے کی گہری براؤن گرگابیوں میں یوں پھنسا لیں۔ جیسے بدصورت دلھن گھونگھٹ کی اوٹ میں وقتی طور پر اپنا چہرہ چھپا لیتی ہے۔

 

جب وہ پنڈ سے باہر نلکے والے موڑ پہ پہنچے تو کچی پکی اینٹوں کے سولنگ سے ٹخنوں برابر پانی شڑاپ شڑاپ گزر رہا تھا اور اس کے کیچڑ زدہ گدلے رنگ میں گھسی اینٹوں کی رَہند کھُوند بھی نظر نہ آتی تھی۔

 

سرداراں اور غلام علی پچھلے تیس سال سے میاں بیوی تھے۔ دونوں ساتھ ساتھ اُگے درختوں کی طرح دھوپ چھاؤں، سردی، گرمی اور نیکی بدی میں ایک دوجے کے حصہ دار تھے۔ ان کی خوشی غمی، دکھ سکھ اولاد کی طرح سانجھے تھے۔ اتنے عرصے کے ساتھ کا اعجاز تھا کہ توأم بچوں کی طرح دونوں کی عادتیں بھی ملنے جلنے لگی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے دل کی بات بن کہے یوں سمجھ جاتے تھے۔ جیسے شیشے کے جگ میں پانی ڈالو تو دونوں اک مک ہو جاتے ہیں۔ پر رہتے الگ الگ ہیں۔

 

ہاں تو دونوں جب پنڈ سے باہر نلکے والے موڑ پہ پہنچے تو پانی سڑک کے اوپر سے شڑاپ شڑاپ گزر رہا تھا اور یوں آس پاس کھڑی فصلوں والے کھیتوں میں ننھے منے پودے کلّر کے ناگوں کی طرح جھوم رہے تھے۔

 

کھیتوں کے مشرقی سِرے پر صدیق کا خچر آنکھوں پہ پوپٹ جمائے کھڑا تھا اور اس کے صحت مند جثے کے پیچھے جتے تانگے کی پلاسٹک مڑھی پھسلواں سیٹ کے کونے میں دبکا صدیق کھل بنولے کی مُڑی تڑی بوری کی طرح دھرا تھا۔ اس نے خاکستری چادر سے اپنا وجود لپیٹ رکھا تھا۔ اوپر کے دَھڑ کو سر سمیت گھٹنوں میں میخا ہوا تھا۔

 

غلام علی نے اللہ کا نام لے کر پائیدان پہ قدم رکھا اور سرداراں سے مخاطب ہو کے بولا، ’’میں نہ کہتا تھا! کوئی نہ کوئی سفر کا آسرا ملے گا ضرور۔ گھر سے نکل پڑو تو اللہ راستے کھول دیتا ہے۔‘‘

 

سرداراں نے دونوں ہاتھوں سے فاختہ کے پروں جیسی سلیٹی چادر کی بُکل سمیٹی اور تانگے کے پچھلے حصے پر چڑھتے ہوئے بولی، ’’اس صدیقے نمانے کو دیکھو! وے نکڑ میاں اس کالی گھور رُت میں ٹپ ٹپ تلے بیٹھے ہو؟ پانی نے پنڈا پکڑ لیا تو چار دن چارپائی سے نہ اٹھ سکو گے۔‘‘

 

صدیق نے کندھوں سے چادر پرے سرکائی اور چابک سیدھی کرتے ہوئے خچر کی بانچھوں میں گڑے فولادی چھلّوں میں پروئی چرمی باگ کو کھینچا۔ مالک کی حرکت سے اس کے جھوٹے پڑتے وجود نے بجلی کی سی پھریری لی۔ اس نے ایک جھٹکے سے قدم اٹھائے اور پانی میں رہوار چلنے لگی۔

 

صدیق نے اپنے جھکورے کھاتے جسم کو سیٹ پر ٹکایا اور بولا، ’’میں یہاں نہ بیٹھا ہوتا تو تُو سفر کیسے کرتی ماسی؟ اور میں اپنے پیسے کیسے کھرے کرتا؟ سب روزی روٹی کے وسیلے ہیں۔‘‘غلام علی سڑک کے دائیں بائیں دور دور تک پھیلے کھیتوں کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں بارانی پانیوں نے کھیتوں کو بھر دیا تھا اور تواتر سے اترتی بوندوں نے نظروں کے سامنے جالا سا باندھ دیا تھا۔ بڑی ظالم بارش ہے۔ آگے ایک دو پہر تک نہ رکی تو فصلیں لیٹ جائیں گی۔

 

غلام علی نے کہا، جمعرات کی جھڑی ہے چودھریا! صدیق نے ایک ہاتھ سے باگ کھینچتے اور دوسرے سے منہ سر لپیٹتے ہوئے کہا۔ ہفتہ دس دن سے پہلے نہیں رکنے والی۔ اللہ بخشے میری بے بے کہا کرتی تھی، جمعرات کی جھڑی ہو یا قتل کی آندھی، دونوں آسمان کو اوندھا دیتی ہیں او تیری خیر ہو۔ خچر کا پاؤں پانی میں چھپے کسی اجنبی گڑھے میں پڑا تھا۔

 

تانگہ ایک ثانیے کے لیے ڈگمگایا۔ پھر اپنی گزشتہ پوزیشن میں آ گیا۔ تانگے کی ڈگمگاہٹ سے نیچے سرکتے وجود کو نشست پر جماتے ہوئے سرداراں بولی: تمہاری بے بے بھی حقی سچی ہے۔ تقسیم کا بلَوہ اس نے دیکھا ہے۔ پنڈاروں کے منڈوے پہ ہونے والے فسادوں کی وہ گواہ ہے اور مُنڈی کٹے افضل کے ہاتھوں نمبر داروں کی عورت کا قتل تو اس کے سامنے ہوا تھا۔

 

غلام علی نے خچر کی کمانچہ بنی گردن کی سیدھ میں دیکھتے صدیق کے کندھے پہ ہاتھ مارا اور کہا: افضل کے سے جی دار بھی ماؤں نے کم کم جنے ہیں۔ تقسیم کی رات جب جتھہ داروں نے افضل کے پردے میں برچھا مارا تو اس کی مُنڈی کٹ کر اس کے کندھے پہ لٹک گئی اور لہو نے اُبل اُبل کر اس کے کپڑے اور زمین ایک رنگ کے کر دئیے۔

 

صدیق نے اپنے منہ پر ہلکا سا چانٹا رسید کرتے ہوئے کہا: اللہ نے اس کی سانسیں رکھی تھیں۔ ورنہ پریوں نے اسے مارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ غلام علی نے افضل پہ گزری خونی رات کے تصور کو جرعہ جرعہ پیتے ہوئے کہا:

 

جب سِکھ مردہ جان کر چھوڑ گئے تو اس نے ہمت پکڑی اور قطرہ قطرہ موت ٹپکاتی گردن کو سپید پڑتے ہاتھوں سے تھام کر کندھے پہ رکھا اور لہو رنگی چادر سے کس کے باندھ دیا۔ پھر وہ ڈگ مگ کرتے قدموں پہ چلتا جوگندر سنگھ کی چوکھٹ پہ جا کے گرا تو جوگندرسیّاں نے اسے بھڑولے میں ڈال کر دروازہ بھیڑدیا۔ خود لہو میں ڈوبی کرپان لے کر دروازے پہ بیٹھ کے بڑھکیں مارنے لگا۔

 

تانگہ اب پانی کے تالاب سے نکل کر گیلی سڑک پہ آ گیا تھا۔ تیز بارش معمولی رم جھم میں بدل گئی تھی۔ غلام علی بولا: ’’پورا ایک مہینا افضل نے اپنے بیلی کے گھر چکنی مرہم لگواتے کڑوی پھیکی معجونیں چاٹتے اور چینی ہر دل کی دھونیاں لیتے گزارا۔ جب ملٹری کے ٹرک پہ عورتوں، بچوں اور زخمیوں کے جمگھٹے میں سوار ہو کے وہ والٹن کیمپ اُترا تو اس کی موڈھی صحیح سلامت کندھے پہ دھری تھی۔ اس کی موٹی گردن پہ ہاتھ برابر زخم کا نشان ابھی کچا پکا تھا۔

 

صدیق نے بے اختیار ہو کر جھرجھری لی اور خچر کے جانگھوں پہ چابک رسید کرتے ہوئے بولا: ’’اللہ بخشے میری بے بے کہا کرتی تھی۔ گردن کا نشان ساری زندگی افضل کی شناخت بنا رہا۔ جب اس نے نمبرداروں کی عورت پہ ہاتھ ڈالا تو اسی نشان کو دیکھ کر اس نے دہائی دی۔ جب افضل نے طیش میں آ کر اس کا گلا گھونٹ ڈالا۔‘‘ سرداراں بولی:’’نمبر داروں کی اس عورت کا نام سلمیٰ تھا۔

 

غلام علی نے کہا: ’’ایسی ہی برسات تھی۔ ایسے ہی پانی نے زمین آسمان ایک کر رکھا تھا۔ دن کی روشنی کو اندھیرے نے نگل لیا تھا۔ جب سلمیٰ اپنے ڈیرے سے نکلی۔ اس کا معذور باپ آخری دموں پہ تھا۔ اس کے پاس سلمیٰ کی ضعیف ماں کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ اس نے کمر کسی اور بن پہ بن پھلانگتی وہاں پہنچ گئی۔ جہاں بانس کے درختوں نے جنگل سا بنا دیا ہے۔ اُدھر افضل اپنے نوروں کے لیے بھوسہ لاد کے لے جا رہا تھا۔ اس نے سلمیٰ کا پیچھا کیا اور اسے بیچ کھیت کے دھر لیا۔

 

توبہ! توبہ!… پچھلی سیٹ پر سرداراں نے اپنے کلّے پیٹ ڈالے۔ غلام علی پھر بولا: ’’خیر سلمیٰ بھی اُکل کھری زنانی تھی۔ مُکہ مار کے اگلے کا جبڑا توڑ دیتی تھی۔ اس نے افضل کی گردن پہ اپنے دانت گاڑ دیے۔جب وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا تو سلمیٰ نے جھپٹ مار کر اس کا ڈھاٹا ہٹا دیا۔ اللہ جانے اب اُدھر سے کوئی گزر رہا تھا۔ یا سلمیٰ کی دہائیاں سن کر آسے پاسے سے لوگ جمع ہوئے۔ ان کے آتے ہی افضل بھاگ گیا اور سلمیٰ نے دو چار منٹوں میں جان دے دی۔

 

ماحول پہ عجیب دم گھونٹتی افسردگی چھا گئی اور سڑک خچر کے سموں کی ٹخ ٹخ سے گونجنے لگی۔ خیر افضل پکڑا تو گیا تھا۔ صدیق نے خاموشی کو توڑا۔ غلام علی نے کہا، ’’پکڑا بھی گیا تھا اور اسے سزا بھی ہو گئی۔ مگر پھر دونوں پارٹیوں نے صلح کر لی۔ افضل کے چچا نے اپنی دو بیٹیاں مخالف پارٹی کو بیاہ دیں۔ افضل چھوٹ کے گھر آ گیا اور ٹھیک پانچ سال بعد ایک روز اپنی ہی چارپائی پہ لیٹا لیٹا مر گیا۔

 

تانگہ ایک جھٹکے سے رک گیا۔ سرداراں نے اللہ کا نام لے کر پائیدان پہ پاؤں رکھا اور بولی: ’’اگر دیکھو تو یہ بھی ایک زیادتی تھی۔ افضل کی دونوں چچا زاد بہنیں ایک مدت تک دشمنوں کے گھر میں پستی رہیں۔ ان کی زندگی مُردوں سے بھی بدتر تھی۔ ان کی ماں اکثر ان کے غم میں روتی ملتی تھی۔ مگر اسے ان سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔

 

غلام علی نے چادر کے اندر ہاتھ ڈال کے داہنے پہلو میں بنی جیب سے کرایہ نکال کر صدیق کو تھمایا اور بولا، ’’زیادتی خیر ہوئی تھی۔ مگر یہ ہمارے وڈکوں، پرکھوں سے ہوتا آیا ہے۔ بھائیوں کی گرتی پگڑیوں کو بہنیں ہی سہارتی ہیں۔‘‘

 

یہ تو ہے… یہ تو ہے… صدیق نے سر ہلا کر مانی ہوئی حقیقت کی طرح اسے قبول کیا اور تانگہ واپس اسی سڑک پہ موڑ لیا۔ جدھر سے آیا تھا۔غلام علی اور سرداراں دس، پندرہ منٹ تک آگے پیچھے پیدل چلے۔ پھر کتھئی روغن اور روپہلے کوکوں والے لکڑی کے اونچی چوکھٹ والے دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ اندر لمبوترے صحن میں پانی کا خود کار نل کھلا تھا اور گدلا گدلا

 

انی تیل وانس جیسی تنگ موری سے بہہ بہہ کر صحن میں کیچڑ بنا رہا تھا۔ اسی کیچڑ کے بیچوں بیچ بچھی الانی چارپائی پہ سرداراں کی اماں دونوں پاؤں اوپر دَھر کے بیٹھی تھی۔ سراہندی پواندی مٹر کے دانوںکی طرح بکھری مرغیوں کو ہشت ہشت بھگا رہی تھی۔

 

بیٹی اور اس کے پیچھے داماد کو دیکھ کر اس کا دل بھیگی روئی کی طرح بوجھل ہو گیا۔ مگر اندر مچتی کھڑ دنبی پہ مسکراہٹ کا جھانپڑ مار کے بولی، ’’جی آیا نوں! خیر نال آئے ہو؟‘‘

 

پھر ٹھنڈے ٹھار لہجے میں دانستہ بھپارہ دیتی چائے کی سی گرمی پیدا کرتے ہوئے بولی، مینہ اور ہوا نے اتھری سے اتھری مخلوق کو اندر باندھ رکھا ہے۔ تم دونوں کیسے نکل آئے؟

 

سرداراں نے غلام علی کو دیکھا۔ دونوں کی نگاہوں نے چقمقاق رگڑا اور غلام علی کے لہجے کو چنگاری چنگاری کر ڈالا۔ میں نے بھا انور کو بتایا تھا کہ ہم جمعرات کو آئیں گے اور اس پھیرے میں مُک مُکا کر کے ہی جائیں گے۔

 

سرداراں کی ماں کے اندر پریشر ککر کی سیٹی بجنے لگی۔ وہ خوف اور اندیشوں کے درمیان یوں گھِر گئی، جیسے جنگلی چوپایہ شکاری کتوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے۔ غلام علی پتر! اس نے بھپ بھپ کرتی بھاپ کو دھیرے دھیرے نکلنے کا راستہ دیتے ہوئے کہا، کیوں آگ کے شعلوں کو ہوا دیتے ہو؟ اچھا یہی ہے کہ بھڑکنے سے پہلے اس پہ پانی ڈال دو۔ ورنہ سب سواہ ہو جائے گا۔

 

تو ٹھیک ہے اماں! آپ انور سے کہیں سرداراں کا حصہ سیدھے ہاتھ میرے حوالے کر دے۔ ہمارا اس کا جھگڑا ختم… سامنے پلیٹ فارم کی طرح لمبے اور صحن کی سطح سے اونچے برآمدے میں تازہ وارنش پھرے دروازے سے انور شرمن ٹینک کی طرح نمودار ہوا۔ سالے کے تیور دیکھ کے غلام علی نے امڈتے اشتعال کا گھونٹ ایک ہی ڈیک میں اندر اتارا اور سواگت کو آگے بڑھا۔ انور نے جھٹک کر اس کا ہاتھ پرے کیا۔ دیدے باہر کو ڈھلکاتے ہوئے بولا، ’’میں نے تمھیں کہا تھا لالہ! سو بار آؤ! جم جم آؤ! پر اس واسطے دوبارہ نہ آنا۔‘‘

 

واجی واہ! غلام علی بولا، ’’اس واسطے کیسے نہ آؤں؟ اپنا حق چھوڑ دوں؟ ہاں! دونوں کی تُو تُو میں میں گرم ہوئی۔ تو اماں کا وجود بیٹھے بیٹھے بے جڑ کے پودے کی طرح ڈولا۔ وہ سینے پر دو ہتڑ جما کے بولی: ’’ہائے میں کیا دیکھ رہی ہوں۔ شیر علی کی اولاد انچ انچ زمین پیچھے مر رہی ہے۔ اے سرداراں تم ہی کچھ بولو، کھڑی کیا تک رہی ہو۔‘‘ سرداراں کے وجود میں خفیف سی حرکت ہوئی۔ مگر وہ منہ میٹی کھڑی رہی۔

 

انور نے ماں کا واویلا نظر انداز کر دیا اوربولا: ’’کونسا حق اور کیسا حق؟ بہن کا حق بیاہتے وقت جہیز کی صورت میں بیاج سمیت دے دیا تھا۔ اب کس حق کی بات کرتے ہو؟‘‘ تت تت! غلام علی چمک کے بولے، ’’وہی حق جو سرداراں کا باپ کی وراثت میں بنتا ہے۔‘‘

 

انور ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا۔ اس نے غور سے سرداراں کو دیکھا۔ مڑا اور نپے تلے قدموں پر چلتا اندر کمرے میں چلا گیا۔ یک ثانیے بعد اسی رفتار سے واپس آیا تو اس کا چہرہ چٹان بنا ہوا تھا اور دانت آپس میں لپٹی دوسانگیوں کی طرح بھینچے ہوئے تھے۔ حق اس کے ہونے سے ہے ناں؟ اس نے بائیں ہاتھ کی دوسری انگلی سرداراں کی طرف اٹھائی۔ اور دائیں ہاتھ میں پکڑے پسٹل سے ٹھائیں ٹھائیں فائر کھول دیا۔

 

سرداراں شکستہ برتن کی طرح چٹخی اور کھڑے پیر سیدھی نیچے جا گری۔ مرغیاں پھڑ پھڑ دروازے سے باہر بھاگیں۔ نیچے بکھرا گدلا پانی کچ لہو بن کے کیچڑ میں پھیل گیا۔ فضا میں عاشورہ محرم کی سوگواریت چھا گئی اور سرداراں کا ٹھنڈا پڑتا وجود ایک دم ساکت ہو گیا۔

 

کسی انہونی کے وہم میں گم صم غلام علی ڈراؤنے خواب سے جاگے بچے کی طرح اس کی طرف بڑھا، بے بے نے پچھاڑ کھا کر ایک نظر پیلے پڑتے انور کو دیکھا اور دوسری نگاہ غلام علی پر ڈال کے بولی! ’’مورکھا! کبھی بہنوں نے بھی حصے مانگے ہیں۔‘‘

٭٭٭