کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک صدی کے بعد

غلام شبیر رانا


     ایک صدی کی عمارت بھی  عجیب مکان اور نہایت پر اسرار ماحول تھا۔ ہر طرف زاغ و زغن، بوم اور شپر منڈلاتے دکھائی دیتے تھے۔ ہر شخص اس مکان کو دیکھ کر حیرت و استعجاب میں ڈوب جاتا اور اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتیں۔ یہ سال دو ہزار چار  عیسوی کے آخری مہینے کی ایک خنک شام تھی۔ میں اس طرف سے گزرا تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ گر دو نوا ح کے لوگ اس قدیم فن تعمیر کے شاہکار مکان کو دیکھ کر آہیں بھرتے اور نیرنگیِ تقدیر جہاں سے عبرت حاصل کرتے۔ مکان کیا تھا ایک وسیع و عریض محل تھا جو دو کنال کے قریب رقبے پر پھیلا ہو تھا اور جس کے چاروں جانب بلند فصیل اور اس کے اندر چاروں جانب کمرے تھے۔ مکان کے صدر دروازے پر سنگ مر مر کی کئی  بڑی تختیاں نصب تھیں جن  پر جلی حروف میں اس عمارت کے آخری مکینوں کے نام اور عمارت کی تاریخ انہدام بھی  درج تھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ایک صدی کے بعد اس عمارت کی نئی تعمیر ہوتی چلی آئی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر نو کرانے والوں اور اس کے اولین مکینوں کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہ تھا۔ یہ ایک معما تھا کہ اس عمارت کے مکین اس میں دس برس سے زائد قیام نہ کر سکے اور ان سب کو ناگہانی حالات کے باعث یہ مکان خالی کرنا پڑا۔ اس مکان کے آخری مکین کے حصے میں جو ذلت، رسوائی اور جگ ہنسائی آتی وہ ا ن ننگ انسانیت درندوں کو عبرت کی مثال بنا دیتی اور ان کے نام اس عمارت کی تعمیر نو کے وقت اس پر کندہ کر دئیے جاتے۔ ’’ نابو اور شانتی:  سال انہدام 1706‘‘  ’’ نعمت خان کلاونت اور لال کنور :سال انہدام  1806‘‘اس کے بعد آخری تختی تھی جس پر یہ تحریر درج تھی ’’صاحباں اور مرزا :سال انہدام 1906‘‘مجھے یہ جان کر تشویش ہوئی کہ یہ عمارت محض دو سال کے بعد صفحہ ء ہستی سے نا پید ہو جائے گی۔ ابھی میں ان سوچوں میں گم تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک ضعیف آدمی جس کی عمر سو سال سے زائد ہو گی اس عمارت کے قریب آیا اور زار و قطار رونے لگا۔ میں اس کے قریب جا پہنچا اور اس سے مخاطب ہو کر کہا :

     ’’بابا جی !یہ ایک صدی کی عمارت کا کیا قصہ ہے ؟

     ضعیف آدمی نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا ’’یہ عمارت ایک صدی کے بعد اپنا قالب بدل لیتی ہے۔ سب کچھ تہس نہس ہو جاتا ہے۔ ہر چیز ملیا میٹ ہو جاتی ہے۔ اس عمارت کا حقیقی وار ث بھی اس حادثے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اس کے بعد چند روز  تک لوگ اس کے قریب بھی نہیں جاتے جب تمام واقعات پر ابلق ایام کے سموں کی گرد پڑ جاتی ہے تو پھر سے اس کی تعمیر نو ہوتی ہے اور ٹھیک ایک سو سال کے بعد یہ پھر مکمل طور منہدم ہو جاتی ہے۔ یہی عمل گزشتہ کئی صدیوں سے دہرایا جا رہا ہے۔ ‘‘

   ’’ یقین نہیں آتا۔ ۔ ۔ بالکل عجیب اور پر اسرار سی کیفیت ہے ‘‘میں نے کہا ’’آخر اس تمام بربادی کا کوئی تو پس منظر بھی ہو گا ؟آفات نا گہانی، زلزلے، آتش زدگی یا کوئی اور حادثہ ؟‘‘

   ’’ ان دنوں اس عمارت میں کیا ہو رہا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں ‘‘بوڑھے نے کر ب ناک لہجے میں کہا ’’شباہت شمر اور ناصف بقال نے ورکنگ ویمن ہاسٹل بنا رکھا ہے مگراس کی آڑ میں یہاں قحبہ خانہ، چنڈو خانہ اور عقوبت خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ شامت اعمال ہے جو کسی آفت ناگہانی کی صور ت میں سب کچھ تباہ و برباد کر دے گی۔ یہاں سر عام عزتوں کو نیلام کیا جاتا ہے۔ جسم فروش اور ضمیر فروش رذیل طوائفیں یہاں کھل کھیلتی  ہیں۔ ناصف بقال اور شباہت شمر کے قبیح کردار، جنسی جنوں اور بے غیرتی اور بے حیائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب ان کا جانا ٹھہر گیا ہے یہ صبح گئے کہ شام گئے ‘‘

    ’’  یہ سرا سر توہم پرستی ہے ‘‘میں بولا ’’دنیا بھر میں متعدد عمارات ہزاروں سال سے موجود ہیں ان علاقوں میں بھی سارے کے سارے پارسا، زاہد اور متقی نہیں رہتے۔ دنیا میں ہر جگہ رند، بگلا بھگت، کالی بھیڑیں ، سفید کوے اور گندی مچھلیاں پائی جاتی ہیں لیکن افراد کی بد اعمالیوں کا عمارات کے انہدام سے کوئی تعلق بنتا نظر نہیں آتا۔ اہرام مصر، تاج محل، دیوار چین  اور ایفل ٹاور وغیرہ۔ اب انسانوں کی  بد اعمالیوں کا عمارت  سے کیا تعلق ؟اگر ایسا ہوتا تو شالا مار باغ، مقبرہ جہانگیر اور قلعہ کہنہ اب نا پید ہو چکے ہوتے۔ ‘‘

   ’’  ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ؟ دو سال بعد یہاں جو کچھ ہونے والا ہے وہ تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا۔ اس عمارت کے قریب کی زمیں دل کے مانند دھڑک رہی ہے۔ جو یہ تنبیہ کر رہی ہے کہ کوئی حادثہ ہونے والا ہے۔ آفات نا گہانی کا ایک یہ اشارہ ہو ا کرتا ہے کہ کسی جگہ سے طائران خوش نوا، قمریاں ، فاختائیں اور عنادل کوچ کر جائیں اور وہاں چراغ غول کے سوا کچھ نہ رہے ‘‘ بوڑھے نے طنزیہ لہجے میں کہا ’’میں پانچ سال کا تھا جب یہ عمارت برباد ہوئی۔ یہ 1906کی بات ہے، جب ایک ہولناک زلزلے کے باعث یہ پوری عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی اور اس کے نیچے تمام عیاش زندہ دفن ہو گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس عمارت میں ان دنوں مرزا نامی ایک عیاش رہتا تھا اس کی داشتہ کا نام صاحباں تھا۔ یہ دونوں عیاشی، بد معاشی، لوٹ مار اور بے ضمیری کی آخری حدوں کو بھی عبور کر گئے۔ یہ مکان پورے شہر کا مورا بن گیا۔ ساری غلاظت یہیں آ کر گرتی تھی۔ ہر لمحہ یہاں رقص و سرود کی محفلیں برپا ہوتیں اور سارے مست مے گلفام سے سیراب ہو کر بند قبا سے بے نیاز اول فول بکتے باہر نکل آتے اور  شاہراہوں پر رقص ابلیس کا منظر پیش کرتے تھے۔ لوگ انھیں دیکھ کر لاحول پڑھتے اور ان کی بربادی کی دعا مانگتے۔ دولت اور طاقت کے نشے نے ان فراعنہ کو اپنی اوقات سے غافل کر دیا تھا‘‘

آج سے ایک سو سال پہلے کی یہ روداد سن کر میں لرز اٹھا۔ اس عبرت سرائے دہر کا ایک چشم دید گواہ اپنے روبہ رو دیکھ کر مجھے اطمینان ہوا کہ اب تمام معاملات کی تہہ تک پہنچناآسان ہو جائے گا۔ میں نے پر تجسس انداز میں بوڑھے سے استفسار کیا:

  ’’  اس پر اسرار عمارت کو ایک صدی کی عمارت کیوں کہا جاتا ہے ؟کیا یہ نوشتۂ تقدیر ہے کہ اس عمارت کو سو سال مکمل ہونے کے بعد صفحہ ء ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے ؟‘‘میں نے کہا ’’آخر یہ کیا معما ہے ؟یہ باتیں عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ‘‘

       بوڑھے نے کھانستے ہوئے  میری طرف اس طرح دیکھا جیسے میں نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہو۔ شاید نسل در نسل یہ روایات سننے کے بعد اس کا ان پر پختہ یقین ہو چکا تھا۔ وہ پورے اعتماد سے بولا:

        ’’میں نے اپنے پرکھوں سے سنا ہے کہ اس عمارت میں کسی ابلیس نژاد انسان کی آنول نال گڑی ہے۔ اس بد طینت درندے نے راجہ اندر اور راسپوٹین کو بھی مات کر دیا تھا۔ یہ سکندر کے زمانے کی بات ہے۔ اس کے بارے میں یہ بات نسل در نسل سنتے چلے آئے ہیں کہ یہ چار ہزار سال قبل مسیح کا واقعہ ہے۔ اس کی بد روح اس عمارت میں بھٹک رہی ہے۔ کہتے ہیں ایک سو سال کے بعد یہ بد روح خواب عدم سے جاگتی ہے اور جب اسے یہاں بد قماش عناصر کی در اندازی دکھائی دیتی ہے تو وہ ان شیطانی قوتوں کا قلع قمع کر دیتی ہے۔ یہ جگہ آسیب زدہ ہے مگر کسی کو اس خطرے کا احساس ہی نہیں کہ کوئی مافوق الفطرت طاقت  کوئی بد رو ح، کوئی چڑیل اور آدم خور اسے دیکھ کر کسی وقت بھی اشتعال میں آ کر اس کا کام تمام کر کے اسے عبرت کی مثال بنا سکتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی داستاں تک بھی داستانوں میں نہ ہو گی۔ ‘‘

’’لیکن تاریخ کے مسلسل عمل کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں بتایا ‘‘میں نے ہمہ تن گوش ہو کر کہا’ ’کیا مختلف ادوار میں اس جگہ کے نشیب و فراز کے متعلق کوئی حکایت آپ کے علم میں ہے ؟‘‘

   ’’تمھاری بات درست ہے ‘‘بوڑھا قدرے رنجیدہ ہو کر بولا ’’تاریخ کا ایک مسلسل عمل ضرور ہوتا ہے۔ تاریخ کا ایک سبق بھی ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ سے آج تک کسی نے کبھی کوئی سبق سیکھا ہی نہیں۔ سکندر کی قبر اور دارا  جیسے بادشاہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ اجلاف و ارزال، سفہا اور نمرود اور فرعون اس حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ فطرت کی تعزیریں نہایت سخت ہوتی ہیں۔ ایک صدی کی عمارت دراصل فطرت کی تعزیروں کی ایک مثال ہے۔ ا س جگہ پر سکندر کے ایک جر نیل سلوکس کا گزر ہوا اور اس نے یہاں مقیم ایک ظالم درندے کی عیاشیوں اور چیرہ دستیوں کو دیکھ کر اس عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بل خان جو بابر کی فوج کا سالار تھا جس  نے قصبہ بل کسر آباد کیا اس نے 1526میں یہاں جنگل کے قانون کو دیکھا تو یہاں کے مکین لچے، تلنگے اور شہدے لوگوں کا دھڑن تختہ کر دیا۔ یہ جگہ تو صدیوں سے عبرت سرائے دہر چلی آرہی ہے۔ لوگ اسے بھوت بنگلہ، چڑیلوں کا بسیرا، آدم خوروں کا مسکن، درندوں کی کچھار اور اس قسم کے کئی دل دہلا دینے والے ناموں اور ان سے وابستہ داستانوں کی وجہ سے اس جگہ سے خوف زدہ رہے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہر دور میں اس جگہ پر عزت و آبرو  اور اخلاقیات کا سفینہ غرقاب ہوتا چلا آیا ہے۔ کوئی نہ کوئی ناصف بقال اور شباہت شمر اس آسیب زدہ مکان میں ہر دور میں قیام پذیر رہا ہے۔ ان کی بد اعمالیوں ، جنسی جنون اور حرام خوری کے باعث درو دیوار پر  حسرت و یاس، بے حسی، بے غیرتی، ذلت، تخریب، بے برکتی اور بے ضمیری کے کتبے اس طرح آویزاں ہو جاتے جیسے یہی تقدیر کی منشا ہے اور یہی مکافات عمل ہے۔ ‘‘

    ’’لیکن اس تمام عمل میں عمارت کا کیا کردار ہو سکتا ہے ؟‘‘میں نے پوچھا’’سنگ و خشت کی بنی ہوئی اس عمارت میں اگر چربہ ساز، سارق، کفن دزد، مسخرے، رجلے خجلے، بھانڈ، بھڑوے اور ڈوم ڈھاری قماش کے عیار بسیرا کر لیں تو اس کا خمیازہ عمارت کو کیوں اٹھانا پڑتا ہے؟‘‘

    میری بات سن کر بوڑھا انگشت بہ دنداں رہ گیا۔ اس نے پرنم آنکھوں سے مجھے دیکھا اور گلو گیر لہجے میں بولا:

                 ’’کہتے ہیں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ عمارت اپنے مکینوں سے پہچانی جاتی ہے۔ عبادت گاہیں اس لیے محترم ہیں کہ یہاں خالق اور مخلوق میں کوئی پردہ حائل نہیں رہتا۔ قحبہ خانے اس لیے بدنام ہیں کہ اس جگہ عیوب برہنگی کو ڈھانپنے کی کوئی تدبیر نہیں ہوتی اور عقل و خرد کو بارہ پتھر کر کے گھٹیا عیاش یہاں رنگ رلیاں مناتے ہیں۔ فطرت کی تعزیروں کی زد میں آ کر ان رسوائے زمانہ عقوبت خانوں ، قحبہ خانوں اور چنڈو خانوں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے اور پھر سب کچھ درہم بر ہم ہو جاتا ہے۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ‘‘

     مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس قلزم ہستی میں بے بس و لاچار انسانیت حالات کے رحم و کرم پر ہے اور سفاک ظلمتوں میں ٹامک ٹوئیے مار رہی ہے۔ اپنے انجام سے بے خبر ہر فرعون، ہلاکو خان، شداد یہ سمجھتا ہے کہ اس کا احتساب کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ مختار کل اور عقل کل ہے۔  ناصف بقال قماش کے مخبوط الحواس، فاتر العقل، جنسی جنونی، متفنی فلسفی اور شیخ چلی قماش کے مسخرے جب رواقیت کے داعی بن بیٹھتے ہیں تو ان کی ہفوات سن کر اہل درد دنگ رہ جاتے ہیں کہ ایسے مسخرے کس طرح کفن پھاڑ کر ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں۔ انسانیت کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری کے لرزہ خیز اور اعصاب شکن واقعات جب روزمرہ کے معمولات بن جائیں تو ایسے چمتکار وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ تقدیر اور فطرت کی تعزیروں پر اعتماد پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے بوڑھے شخص نے جو کچھ کہا وہ چشم کشا صداقتوں سے لبریز تھا۔

میں نے کہا؛’’ کیا اس صدی میں بھی یہ عمارت اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی ؟‘‘

          بوڑھا آدمی دبنگ لہجے میں گویا ہوا ’’ہر دور میں موسیؑ نے فرعون کا خاتمہ کیا ہے۔ ہر عہد میں ابراہیم ؑ نے نمرود کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے اور جبر کے ہر زمانے میں حقیقت ابدی نے مقام شبیری کی صورت میں اپنے وجود کا اثبات کیا ہے۔ حق ہمیشہ قوت شبیری کے اعجاز سے زندہ رہتا ہے۔ فسطائی جبر کا ہر انداز سیل زماں کے تھپیڑوں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا ہے۔ روشنیوں کی راہ میں جو دیوار بن کر حائل ہو گا وہ حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا۔ یہ عمارت اور اس کے مکین اب ظلم و جور، عیاشی اور بد معاشی کے باعث ننگ انسانیت بن گئے ہیں۔ ان کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گئے کہ شام گئے۔ ‘‘

    بوڑھے آدمی کی باتیں سن کر میں بھی کرب اور خوف میں مبتلا ہو گیا۔ ابھی ہم اس پر اسرار عمارت کے سامنے کھڑے راز دارانہ انداز میں گفتگو میں مصروف تھے کہ اچانک قیمتی گاڑیوں کا ایک کارواں وہاں آ کر رکا۔ کار میں سے جو حسین و جمیل لڑکیاں نکل کر اندر داخل ہوئیں ان کے چہرے پر عیارانہ مسکراہٹ تھی مگر تن پر لباس ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے والی کیفیت تھی۔ اس کے سا تھ ہی ملازمین نے شراب کی بھری ہوئی پیٹیاں اتارنا شروع کر دیں۔ مجھے تو پورا ماحول ہی شراب و شاب کا دلدادہ دکھائی دے رہا تھا۔ پراسرار بوڑھا اور اس کی گفتگو اس سے بھی کہیں بڑھ کر ناصف بقال اور شباہت شمر کی رنگ رلیوں اور جنسی جنون کی داستانیں زبان زد عام تھیں۔ ایک صدی قبل کے واقعات کا راوی بوڑھا اس قدر پر اسرار انداز میں گفتگو کر رہا تھا کہ لگتا تھا کہ یہ سب کچھ اس کی منشا کے خلاف  ہو رہا تھا اور وہ  ناصف بقال اور شباہت شمر کی نکبت، ذہنی افلاس، ژولیدہ خیالی اور کج روی  اور جنسی جنون کو دیکھ کر دوہرے عذاب میں مبتلا ہے وہ اسے دیکھ کر سوچتا ہے اور اس پر کڑھتا بھی ہے۔ کیا عجب یہ بوڑھا اس تمام قضیے کا نہ صرف چشم دید گواہ ہو بلکہ اس پر اسرار عمارت کا نسل در نسل وارث بھی ہو۔

   اچانک میں نے دیکھا کہ ایک سٹھیایا ہو ا شخص کار سے نکلا اس کے ساتھ ایک نیم عریاں ڈھڈو کٹنی بھی تھی۔ بوڑھے نے مجھے بتایا کہ یہی سٹھیایا ہو ا جنسی جنونی ناصف بقال ہے اور اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر چلنے والی عورت شہر کی رسوائے زمانہ اور جسم فروش رذیل طوائف شباہت شمر ہے۔ ناصف بقال نے شباہت شمر کے گال تھپتھپاتے ہوئے اور ساتھ ہی ہنہناتے ہوئے کہا :

         ’’آج رات لاٹ صاحب کی آمد ہے۔ تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ لاٹ صاحب کو کسی قسم کی کمی کا احساس نہ ہو۔ تم اس تمام محفل رنگیں کی نگرانی کرو۔ محفل رقص میں لباس کے تکلف کی ضرورت نہیں۔ مے گلفام سے سیراب ہونے کے مواقع فراواں کر دیئے جائیں۔ یہی اس ورکنگ ویمن ہاسٹل کی دیرینہ روایت ہے۔ ‘‘

    شباہت شمر نے ایک کاتک کی کتیا کی طرح دم ہلا کر اس ابلیس کی تجویز کی تائید کی اور بولی ’’نا معلوم یہ بڈھا کھوسٹ کیوں ہر وقت اس عمارت کے ارد گرد منڈلاتا رہتا ہے۔ مجھے تو یہ کوئی سراغ رساں معلوم ہوتا  ہے آج میں اس سے سارے راز اگلوا کے دم لوں گی۔ یہ کسی جاسوسی ادارے کے لیے کام کرتا ہے۔ ‘‘

’’ ہاں میں نے سنا ہے اس کی زبان کالی ہے اور اس کی بد شگونی سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ یہ بڑا منحوس ہے۔ اس سے دو دو ہاتھ ہو جائیں تو اچھا ہے۔ ‘‘ناصف بقال نے دم ہلاتے ہوئے کہا’’اس بوڑھے کو اپنی راہ سے ہٹانا اب ہماری مجبوری بن گیا ہے۔ یہ شخص ہمیں اخلاق کا سبق پڑھاتا ہے۔ آج اسے ہم خوب سبق سکھائیں گے۔ ‘‘

یہ کہہ کر دونوں عیاش اس ناتواں بوڑھے کی طرف لپکے۔ شباہت شمر نے بوڑھے کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا ’’اوئے کالی زبان والے بڈھے کھوسٹ تو یہاں کیا کر رہا ہے ؟تجھے اکثر یہاں پر اسرار حالت میں دیکھا گیا ہے، تو ہماری جاسوسی کرتا ہے۔ یاد رکھو کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ ‘‘

        ناصف بقال نے بوڑھے کو گھونسا مار کر کہا :’’ تمھاری زبان کالی ہے اور تم بد شگونی کرتے پھرتے ہو کہ یہ عمارت اور اس کے مکین 2006میں صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ جاؤ جو کچھ کرنا ہے کر لو  تمھارے جیسے بھکاری گلیوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ کون ہے جو تمھاری باتوں پر دھیان دیتا ہے ؟تمہاری یاوہ گوئی اور لاف زنی تمھیں لے ڈوبے گی۔ تم عادی دروغ گو اور چرب زبان ہو۔ میں تم پر تین حرف بھیجتا ہوں۔ ہم اس عمارت کے قابض ہی نہیں اب تو مالک بھی ہم ہی ہیں۔ ایک سو سال کی لیز ختم ہونے والی ہے ہم نے تمام کاغذات اپنے نام کے بنوا لیے ہیں۔ اب یہ عمارت آئندہ صدیوں تک نسل در نسل ہماری ملکیت رہے گی۔ آئندہ کبھی اس طرف کا رخ نہ کرنا ورنہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

  ’’ورنہ تم کیا کر لو گے ؟‘‘بوڑھے نے بات کاٹتے ہوئے کہا ’’زبان کالی ہونا کوئی بری بات نہیں مگر تم لو گوں کا تو منہ بھی کالا ہے۔ کسی بھی جگہ، شخص یا عمارت کو منحوس کہنے سے ذی شعور  لوگ اسے کبھی منحوس تسلیم نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس مقام پر رہنے والے جب  بد اخلاقی، ظلم وستم اور شقاوت آمیز نا انصافیوں کو وتیرہ  بنا لیتے ہیں تو اس  بد قسمت جگہ پر نحوست کے بادل چھا جاتے ہیں۔ اس عمارت پر اب یہی کڑا وقت آ پڑا ہے۔ تمھارا سایہ، تمھارے لچھن  اور تمھاری بد اعمالیوں اور ضمیر فروشی نے تو ساری دنیا میں تمھیں تماشا بنا دیا ہے۔ ذرا منہ سنبھال کر بات کرو۔ رہی زمیں کی ملکیت کا دعویٰ تو میری بات کان کھول کر سن لو یہ کسی کی ملکیت نہیں اس کا مالک وہ خالق کائنات ہے جس نے دنیا بنائی۔ تم جعل ساز اور فریب کار ہو۔ چھاج تو بولے مگر چھلنی کیوں بولے جس میں ان گنت چھید ہیں ‘‘

  ’’تمھاری  یہ جسارت!بڈھے کھوسٹ !‘‘ شباہت شمر نے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچتے ہوئے کہا ’’ابھی میں تمھیں تمھاری اوقات یاد دلاتی ہوں تمھیں کیا معلوم کہ ہم کس قدر طاقت ور ہیں ؟ہمارا کاٹا تو پانی بھی نہیں مانگتا۔ تم جیسے بے ضرر حشرات کو مارنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اب تمھیں ہمارے قہر و غضب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ‘‘

     ناصف بقال کو اس حرافہ نے چلو میں الو بنا رکھا تھا اور اسے انگلیوں پر نچاتی تھی۔ وہ بھی بوڑھے کو دیکھ کر مسلسل غراتا رہا اور دانت پیستے ہوئے کہنے لگا ’’ضعیفی ایک جرم ہے اور اس کی سزا مرگ مفاجات ہے۔ میں  لندن پلٹ فلسفی ہوں اور پوری دنیا دیکھ چکا ہوں۔ آج تمھیں دن میں تارے دکھا دیں گے۔ ‘‘

          یہ کہہ کر وہ دونوں آگے بڑھے اور بوڑھے پر ٹوٹ پڑے۔ میں نے بیچ بچاؤ کرا کے بوڑھے کو ان بد معاشوں کے  چنگل سے چھڑایا۔ اس وقت پانچ سال کا ایک کم سن بچہ رو رو کر مدد کے لیے پکار رہا تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ’’ہم اس جائداد کے قانونی وارث ہیں۔ یہ ایک سو سال کے پٹے پر ہے میرا باپ اس کا مالک ہے۔ یہ بوڑھا میرا باپ ہے۔ ‘‘ اس بچے کی باتوں پر کسی نے دھیان نہ دیا۔

پاس ہی تین جاروب کش عورتیں سڑک کے موڑ پر گندی نالی کی صفائی میں مصروف تھیں۔ غلیظ اور متعفن  پانی زد جاروب کھا کر تیزی سے بہہ رہا تھا۔ جب انھوں نے ایک ضعیف آدمی پر ایک عیاش حسینہ اور اوباش شخص کو تشدد کرتے دیکھا تو اسی وقت ان بد معاشوں پر جھپٹیں اور دونوں بد معاشوں کو غلیظ جاروب سے پیٹنا شروع کر دیا۔ یہ تماشا دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ مہترانی نے شباہت شمر کو پوری قوت سے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اور ٹھڈے مارتے ہوئے کہا:

             ’’اری او کاتک کی کتیا!تو ہند، سندھ کا مورا ہے۔ ساری دنیا کی غلاظت تیرے اندر گرتی ہے اور یہ تیرا بڈھا سٹھیایا ہوا عاشق ناصف بقال  اس کے بارے پوری دنیا جانتی ہے کہ اس کا نہ تو باپ نہ ہی دادا یہ درندا تو ہے سو پشت کا حرام زادہ۔ اس نے اپنی ماں کو موت کے گھاٹ اتارا، بہنوں کی عزت لوٹی اور اب تجھے ہیرا منڈی سے اٹھا لایا ہے۔ تم نے ایک معمر نا تواں اور ضعیف شخص پر محض اس لیے تشدد کیا ہے کہ وہ تمھاری حرام خوری پر کڑھتا اور دنیا کو تمھارا کریہہ چہرہ دکھاتا ہے۔ تم پر خدا کی مار پڑے گی اور تم عبرت کی مثال بنو گے۔ ‘‘

          اس غیر متوقع وار سے ناصف بقال اور شباہت شمر بو کھلا گئے۔ میں نے بہت پھرتی سے ان غنڈوں کو  دھکیلا مگر اس اثنا میں ان ظالموں نے ا س ضعیف آدمی کو چابک مار مار کر ادھ موا کر ڈالا۔ میں اسے لے کر نزدیکی شفا خانے پہنچا۔ معالج نے کہا:

    ’’اگرچہ ضربات خفیف ہیں مگر بوڑھے کو جو دلی صدمہ پہنچا ہے اس کی وجہ سے یہ بے ہوش ہو گیا ہے۔ کچھ دیر کے بعد ہوش میں آ جائے گا۔ ‘‘

    میں اس عرصے میں اللہ کے حضور سر بہ سجدہ ہو کر گڑ گڑا کر دعا مانگتا رہا۔ خدا کا شکر ہے کہ ایک گھنٹے کے بعد وہ  بوڑھا ہوش میں آ گیا۔ بوڑھے نے فرط غم سے نڈھال ہو کر کہا :’’میرے باپ کے ساتھ بھی ایک صدی قبل یہی سلوک ہوا تھا۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی۔ ‘‘    

  میرا ماتھا ٹھنکا وہ بچہ بھی یہ کہہ رہا تھا۔ یہ ضرور پر اسرار عمارت ہے۔ جہاں ہر صدی کے بعد نئی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ تمام سوچوں اور تجزیے کے بعد بھی کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ دل نے کہا کون سی الجھن کو سلجھاتے ہو؟عقل تو محض چراغ راہ ہے منزل ہر گز نہیں۔ تقدیر کے فیصلے اور مقدر کے آہنگ نرالے ہوتے ہیں۔ آج تک کوئی بھی ان کی تفہیم پر قادر نہ ہو ا ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ ان سوچوں میں گم میں بوڑھے کو لے کر اس کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔ بوڑھے کو اس کی کٹیا میں پہنچا کر میں رات گئے گھر لوٹا۔ اس سے اگلے روز مجھے ایک ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑا۔ افکار معیشت کے اس قدر الجھ گئے کہ پھر کچھ ہوش نہ رہا۔ کئی ماہ گزر گئے میں اس تمام مسئلے کو بھول گیا۔

        ایک بات نے مجھے چونکا دیا بوڑھے کی کٹیا میں وہ کم سن بچہ اور ایک ضعیفہ موجود تھی۔ جو سب کے سب ایام گزشتہ کے اوراق کی نوحہ خوانی میں مصروف تھے۔ کٹیا کے ایک کونے میں موجود ایک شکستہ الماری میں سفید سنگ مر مر کی ایک بڑی سل پڑی تھی۔ یہ تختی شاید حال ہی میں تیار کرائی گئی تھی جس پر یہ الفاظ کندہ تھے :

          ’’ناصف بقال اور شباہت شمر :سال انہدام 2006‘‘

      مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بوڑھا پر اسرار غیبی قوتوں کا مالک ہے۔ مابعد الطبیعات سے تعلق رکھنے والے بعض واقعات انسانی فہم کی دسترس سے باہر ہیں۔ ابھی تو سال 2004کا اختتام بھی نہیں ہوا اور اس شخص نے اس قدر پیش بینی کر لی ہے کہ اس نے عمارت کے انہدام اور اس کے بعد اس کی تعمیر نو کے بعد اس پر تختی کی تنصیب کا انتظام کر لیا ہے۔ وہ بوڑھا تقدیر کے اسرار و رموز کا عجیب رمز آشنا شخص تھا۔ اس کی عقابی نگاہیں ستاروں کی گردش کا اندازہ  لگا سکتی تھیں۔ اس کی تمام باتیں اور ادا کیے گئے سارے  الفاظ گنجینہ ء معانی کا طلسم تھے۔ اس سے مل کر زندگی کی حقیقی معنویت کا احساس دو چند ہو گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اپنی اصلیت کے لحاظ سے زندگی بھی ایک غیر ملکی زبان کے مانند ہے  جس کا صحیح تلفظ ہر مبتدی کے بس کی بات نہیں۔ زندگی کی برق رفتاریوں کو وہ شخص سیل رواں کی موجوں سے تعبیر کرتا جو نہایت سرعت کے ساتھ رواں دواں ہیں۔ کوئی شخص انتہائی تمنا کے باوجود بیتے ہوئے دنوں اور گزرے ہوئے لمحات کی یادوں کی موجوں سے دوبارہ فیض یاب ہو ہی نہیں سکتا۔

     سال 2006کا آغاز تھا، میں روزگار کے سلسلے میں شہر سے بہت دور چلا گیا۔ مجھے وہاں کئی ماہ قیام کرنا پڑا۔ اس عرصے میں اس پر اسرار عمارت اور یہاں کے حالات سے یکسر بے خبر رہا۔ واپسی پر مجھے معلوم ہوا کہ شباہت شمر اور ناصف بقال نے اجرتی بد معاشوں اور کرائے کے قاتلوں کے ذریعے بوڑھے کو ٹھکانے لگا دیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ اسی رات خوف ناک سرخ  آندھی آئی اور اس کے تند و تیز بگولوں نے پوری عمارت کو الٹ پلٹ دیا۔ بلند چیخ پکار سنائی دیتی رہی۔ اس عمارت میں موجود تمام عیاش زندہ دفن ہو گئے ملبے کی کھدائی کے بعد کچھ نہ ملا۔ اگلے ماہ میرا وہاں سے گزر ہوا تو پانچ سال کی عمر کا وہی بچہ جو بوڑھے کا بیٹا ہونے کا دعوے دار تھا، عمارت کی جگہ کھڑا تھا۔ عمارت نئے سرے سے تعمیر ہو رہی تھی تمام پرانے ناموں کی تختیاں حسب سابق صدر دروازے پر لگ چکی تھیں۔ صرف ایک نئی تختی کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ وہی تختی تھی جو میں نے دو سال قبل بوڑھے کی کٹیا میں ایک شکستہ سی بوسیدہ الماری میں دیکھی تھی۔ میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور دل نے کہا یا الہٰی یہ کیا ماجرا ہے ؟لوح تقدیر پر نصب گردش حالات کے کتبے پڑھنا اور ان سے سبق سیکھناکس قدر مشکل ہے۔ وہ بوڑھا یقینی طور پر کشف و کرامات سے متمتع تھا۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ بڑے بڑے جاہ و جلال اور کر و فر رکھنے والے طاقت ور بھی تقدیر کے ہاتھوں اجنبی اور بے نشاں ہو گئے۔ کوئی سمندر میں غرقاب ہوا تو کسی کی بے گور و کفن لاش بے آب و گیاہ  تپتے ہوئے صحراؤں اور لق و دق  صحراؤں میں گاڑ دی گئی۔ یہی تو عبرت کے نشان ہو ا کرتے ہیں۔ اس تمام روداد نے میری روح کو زخم زخم اور دل کو کرچی کرچی کر دیا۔ ناصف بقال اور شباہت شمر کا انجام بلا شبہ تازیانہ ء عبرت ہے ان سب درندوں کے لیے جو طاقت، دولت اور جاہ و منصب کے نشے میں دھت ہو کر انسانیت کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری کے قبیح جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ سیل زماں کے تند و تیز مہیب تھپیڑے سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں۔

      میں محو حیرت تھا کہ کس ہوا میں اور کس فضا میں فکر و خیال کی پرواز سے حقائق کی گرہ کشائی کروں۔ شاید ہر سو بچھے ہوئے دکھوں کے جال دیکھ کر وہ بوڑھا اس جہاں کے کار دراز کو فسانہ سمجھا اور اب اسے ایک ایسے فسانے کا روپ دے گیا جس کے بارے میں اگلی صدی تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی تو تقدیر کا فسانہ ہے جو کسی کی سمجھ  میں اب تک نہیں آ سکا۔ یہ دنیا ایک آئینہ خانہ ہی تو ہے اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یا تو خود تماشا بنتے ہیں  یا دوسروں کو تماشا بنا دیتے ہیں اور خود ایک معما بن جاتے ہیں۔ اس پر اسرار بوڑھے نے تو سب کو حیران کر دیا اور سب تماشا دیکھنے والے خود تماشا بن گئے ہیں۔ ایک صدی کے بعد کیا ہونے والا ہے اس کے بارے میں عینی شاہد یہی چھوٹا بچہ ہے جو مستقبل کے  افسانہ نگار اور مورخ کو تمام واقعات من و عن بتائے گا۔

٭٭٭