کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بلوندر کی بلی

غلام شبیر رانا


           بلوندر بھی عجیب آدمی تھا، اس کے بارے میں کئی داستانیں زبان زد عام تھیں۔ اس قدر پر اسرار واقعات اس سے وابستہ تھے کہ حیرت ہو تی تھی کہ یہ کوئی عام آدمی ہے یا کوئی بھوت اور مافوق الفطرت مخلوق۔ اس کی ہیئت کذائی دیکھنے و ا لوں پر کوئی اچھا تاثر نہ چھوڑتی۔ کالا بھجنگ، موٹا اور بد وضع سراپا، کلین شیو، ساٹھ سے اوپر کاسن، آنکھوں پر انتہائی بد صورت موٹے شیشوں کی عینک لگی ہوئی، سر پر گنج چھپانے کے لیے گدھے کے بالوں کی عفونت زدہ وگ لگائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں انگوٹھیاں ٹھونسے، گلے میں مختلف رنگوں کے پتھروں کی مالا ڈالے اور ہر وقت بھبھوت رمائے یہ شخص اس قدر کریہہ تھا کہ یہ مجسم ننگ وجود تھا۔ اس کے جسم سے اس قدر شدت سے  عفونت و سڑاند کے بھبھوکے اٹھتے تھے کے پاس بیٹھے ہوئے لو گوں کے لیے سانس لینا محال ہو جاتا تھا۔ عقل و خرد سے یکسر تہی یہ سٹھیایا ہو ا خضاب آلودہ کھوسٹ ایک عجوبہ اور طرفہ تماشا بن چکا تھا۔ اس کے بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی کہاں تک ان کی تحقیق اور چھان پھٹک کرتا۔ اس کی زندگی تو ایک فسانہ تھی جس نے سب لوگوں کو حیران کر کے تماشا بنا دیا تھا۔ اس کے باوجود اس کے ساتھ اندھی عقیدت رکھنے والوں کی کوئی کمی نہ تھی لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ اس کے  ڈیرے پر منڈلاتے رہتے اور اس سے اپنے مستقبل کے بارے میں مشورے لیتے اور اپنی پھوٹی ہوئی تقدیر سنورانے کی تدبیر پو چھتے۔ اس شخص سے اصلاح احوال کی توقع رکھتے جو خود اپنی تخریب کی عبرت ناک مثال بن چکا تھا۔

           اپنے کالے کرتوت، کالی صور ت اور بد اعمالیوں کے سیاہ حروف میں لکھے کردار کی طرح اس نے ایک بلی پال رکھی تھی جو کالے رنگ کی تھی۔ دریا کے کنارے ایک جنگل بیلے میں واقع اس کی کٹیا میں دن کو بھی شب کی سیاہی کا سماں ہو تا تھا۔ بلوندر ہمیشہ کالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس رہتا۔ اس کے مقدر کی سیاہی کی طرح اس کے ارد گرد سب چیزیں ہی کالے رنگ کی ہوتی تھیں۔ کئی لوگ اسے کالا دیو کہہ کر پکارتے اور کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کالے بھو ت کی صورت میں بلوندر کوئی جادو گر ہے اس کی طاقت کا راز ایک کالی بلی ہے جس میں کوئی مافوق الفطرت طلسمی اور ما بعد الطبعیاتی طاقت مو جود ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ  کالی بلی  اپنے پچھلے جنم میں کوئی نجومی یا رمال ہو گی۔ اس کالی  بلی کی وجہ سے بلوندر  کے جادو، ٹونے، عملیات، رمل، نجوم اور قیافہ شنا سی کے ہر طرفے چرچے ہونے لگے۔

       گاؤں کے لوگ اپنے تمام کاموں کے آغاز کے سلسلے میں بلوندر کی بلی سے قرعۂ فال نکلواتے اور اس پردل و جان سے عمل کرتے۔ عورتیں ایک مرغ لے کر بلوندر کے پاس جاتیں۔ وہ اس مرغ کو کاٹ کر اس کی بو ٹیاں بناتا، اس کی آنتیں ، پر، کلیجی، پوٹا اور گردن بلی کے آگے پھینک دیتا جسے بلی نوچ کر کھا جاتی۔ باقی گوشت کی تکا بوٹی کر کے وہ انگاروں پر بھون کر ڈکار جاتا۔ بلوندر اگرچہ  ایک جاہل مطلق تھا  لیکن اسے جاہل لوگوں کو الو بنانے اور ان کو انگلیوں پر نچانے کا فن آتا تھا۔ جاہلوں کی نفسیات  اور ان کی توہم پرستی کے بارے میں وہ بہت کچھ جانتا تھا۔ وہ ایک سکہ لیتا اور بلی کے سامنے پھینک دیتا۔ بلی وہ سکہ اپنے منہ میں دبا لیتی۔ وہ قرعہ ء فال کے لیے آنے والوں  سے کہتا کہ اب بلی یہ سکہ زمین پر پھینک دے گی اگر اوپر چاند آیا تو کام کرنے کی اجازت ہے لیکن اگر بیل آ گئی تو  اس صورت میں کام کرنا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کی صورت سامنے آتی۔

        دور افتادہ علاقے میں واقع یہ گاؤں غربت  اور افلاس کے اعتبار سے پتھر کے زمانے کا ماحول پیش کرتا تھا۔ یہاں کئی پینترے باز، شعبدہ باز، مداری، بھکاری  اور جواری آتے جو لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھا کر اپنا الو سیدھا کر کے چلتے بنتے۔ طوطے والے نجومی، نیولے والے عطائی، سانڈے کا تیل  اور الو کی آنکھ کا سرمہ بیچنے والے بھی اس علاقے کے لوگوں کو لوٹ لیتے۔ کبھی کبھی ایک گیدڑ سنگھی فروخت کرنے والا بھی آ نکلتا جو فاقہ کشوں کو سونے سے مالا مال کرنے کے گر بتاتا اور ان سے رقم بٹور لیتا۔ طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث یہاں کے مکین عملیات کا سہار لیتے اور ہر بیماری  کا سبب کالے جادو کو قرار دیتے تھے۔ ایک ریچھ والا آتا وہ یہ صدا لگاتا کہ اس کالی بلا پر بیٹھنے والے  بچے کی ہر مصیبت اس ریچھ کے اندر جذب ہو جاتی ہے۔ بچوں کی مائیں اپنے کم سن بچوں کو اس مداری کے ریچھ پر گلی کی سیر کراتیں ا اور اس کے بدلے اسے پانچ کلو گندم مل جاتی۔ بندر والا آتا اور وہ بندر  کے کرتب دکھا کر اجناس خوردنی سے بوری بھر لیتا۔ گاؤں میں نقد رقم کی جگہ زیادہ تر اجناس ہی کے ذریعے کام چلایا جاتا تھا۔ نزدیکی قصبے سے ایک بنجارن آتی اور  فرسودہ چوڑیاں بیچ کر ایک من گندم  ہر ہفتے بٹور لیتی۔ کئی رمال، نجومی، جوگی اور ڈبے پیر بھی وارد ہوتے اور سب کی بات بن جاتی۔ ایک جوگی ہر ہفتے آتا اور پر درد آواز میں یہ صدا لگاتا :

دھن دولت آنی جانی ہے، یہ دنیا رام کہانی ہے

یہ عالم عالم فانی ہے، باقی ہے ذات خدا بابا

        یہ پر درد صدا سن کر سب کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں اور اس کی خوب مدد کی جاتی۔ اسے ہر ہفتے دو من کے قریب گندم مل جاتی جو وہ مقامی کریانہ فروش کے ہاتھ بیچ کر رقم اپنی جیب میں ڈال کر اپنے گھر چلا جاتا۔ ان سب سے بڑھ کر بلوندر اور اس کی کالی بلی کی پانچوں گھی میں تھیں۔ بلوندر ایک طرف تو مایا جمع کرنے میں لگا تھا ساتھ ہی اسے ہر روز نئی دیوی کے درشن بھی ہو جاتے۔ کئی بار تو ایک کے بجائے کئی حسین و جمیل دیویاں اس کی کٹیا میں حاضری دیتیں اور کالی بلی اور اس کے مالک کالے بلوندر پر سب کچھ نچھاور کر دیتیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ بلوندر نے اتنی رقم جمع کر لی تھی کہ اس نے شہر میں ایک عالی شان مکان بنا لیا تھا جسے کرائے پر دے رکھا تھا۔ اس کے مکر کا پردہ فاش کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ہر شخص اسی کا دم بھرتا اور اس کا شیدا بن کر اس کی ہاں میں ہاں ملاتا۔

        اس سال دریا میں زبردست سیلاب آیا، بلوندر  کی کٹیا اس میں بہہ گئی۔ اس نے کالی بلی اپنے تھیلے میں ڈالی اور نزدیک قصبے میں جا پہنچا۔ ٹھاکر موہن نے اس کی خوب آؤ بھگت کی اور اسے اپنے محل نما گھر میں بیرونی طرف ایک کمرہ رہنے کے لیے دے دیا۔ ٹھاکر اپنی عمر کی اسی بہاریں دیکھ چکا تھا اور اس خزاں رسیدگی میں بھی اس کے دل کی بہار کا یہ عالم  تھا کہ پچھلے سال اس نے کالی بلی کی فال پر ایک اٹھارہ سالہ لڑکی سے بیاہ کر لیا تھا۔ سینگ کٹا کر بچھڑوں میں شامل ہونے والے اس عیاش بڈھے نے اپنے نو جوان بیٹے اور بیوی کو گھر سے نکال دیا اور وہ اب شہر میں جا بسے تھے۔ شہر میں اس کے بیٹے نے شادی کر لی اور وہ اپنے گھر میں  اپنے بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتا تھا۔

         گاؤں کے لوگ اس بات پر حیران تھے کہ ایک کالا کلوٹا مسٹنڈا ٹھاکر کے گھر میں کیسے گھس گیا۔ سب اسی انتظار میں تھے کہ یہ بلی تھیلے سے باہر کب آتی ہے ؟ٹھاکر موہن اس کی بیوی کلپنا اور  بلوندر کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے لیکن ان لوگوں کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ بے حسی اور بے ضمیری جب کسی کو دبوچ لیتی ہے تو کان بہرے ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ بلوندر اپنی کالی بلی کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو دنیا و مافیہا سے بے خبر کر چکا تھا۔ یہ کالی بلی تو سب گاؤں والوں کے لیے اس قدر منحوس ثابت ہوئی کہ لوگ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے۔ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ان کی سب  تدبیریں الٹی ہو جاتیں اور رتیں بے ثمر ہو کر رہ جاتیں۔ سب کا یہی خیال تھا کہ ہو نہ ہو یہ سب کچھ اسی کالی بلی کی نحوست کی وجہ سے ہے کہ ان کی امیدوں کی فصل غارت ہو جاتی ہے اور صبحوں شاموں کی محنت اکارت چلی جاتی ہے۔ کئی بار دل جلے لوگوں نے بلی کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں بھی سوچا لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی ایسی افتاد پڑ جاتی کہ سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے۔

           بلوندر کی کالی بلی کی پیش بینی کے بارے میں ہر طرف چرچے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ جس کسی کا یہ کالی بلی راستہ کاٹ لے وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے لوگ  کالی بلی اور اس کے کالے کرتوت کرنے والے مالک بلوندر کے شر سے اس قدر سہمے ہوئے تھے کہ کوئی بھی ان کے سامنے دم نہ ما ر سکتا تھا۔ رہی سہی کسر ٹھاکر کی سر پرستی نے پوری کر دی۔ اب وہ دھڑلے سے ٹھاکر کی دولت پر گلچھرے اڑاتا، مے گلفام سے سیراب ہوتا اور داد عیش دیتا۔ ٹھاکر کا پہلی بیوی سے  بیٹا روپن مل شہر میں ان تمام واقعات سے اچھی طرح آگاہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کلپنا نے اس کے باپ کی دولت پر قبضہ کرنے کی غرض سے اسے چلو میں الو بنا رکھا ہے۔ ٹھاکر کی زرعی اراضی، جمع پونجی بے حد و بے حساب تھی۔ اس قدر دولت کا واحد وارث روپن مل ہی تھا جو اپنی بیوی، بچوں اور ضعیف ماں کے ہمراہ محنت مزدوری کر کے وقت گزار رہا تھا۔ اسے باپ کی شادی پر کوئی اعتراض نہ تھا لیکن حالات نے جو نئی کروٹ لی تھی اس پر وہ پیچ و تاب کھاتا رہتا تھا۔ کلپنا اور بلوندر  نے تو اس کے باپ کی زندگی ہی خطرے میں ڈال دی تھی۔ وہ ہمیشہ اسی فکر میں رہتا کہ جلد اپنے باپ کو اپنے پاس لائے اور اس کی خدمت کر کے اس کا سہار ا بنے۔

          اب پورے علاقے میں کالی بلی والے سادھو بلوندر کی دھوم مچی تھی۔ کالی بلی کے ذریعے سے بلوندر جس عیاری سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا تھا وہ حد درجہ لرزہ خیز کیفیت تھی۔ فاقہ کش لوگ اپنی سب جمع پونجی اس جعل ساز کو دے کر رخصت ہو جاتے اور پھر زندگی بھر اپنے مقدر کو کوستے پھرتے۔ ایک بار بلی نے ایک نوجوان کا راستہ  کاٹ لیا جو موٹر سائیکل پر سوار ہو کر قصبے کی جانب جا رہا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ فاصلے پر موٹر سائیکل جب نہر کی پٹڑی پر جا رہا تھا تو وہ نہر میں جا گر ا اور اس طرح وہ نو جوان ڈوب کر مر گیا۔ اسی طرح یہ بات بھی زبان زد عام تھی کہ جس مکان کی چھت پر کالی بلی رات کو گھوم کر میاؤں کر دے وہ مکان اسی وقت خالی کرنا ضروری ہو جاتا ہے ورنہ اس کے مکین مارے  جاتے ہیں۔ مکان خالی  کرتے وقت کوئی چیز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کا سبب یہ بتایا جاتا تھا کہ کالی بلی اور اس کے بھو ت وہ سار ا سامان اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

        گاؤں میں ارشد نامی ایک شخص نے کچھ زرعی اراضی خریدی۔ وہ شہر کا رہنے والا تھا اور جدید زراعت کے ذریعے رزق کمانا چاہتا تھا۔ وہ ٹریکٹر کے ذریعے ہل چلا کر زمیں ہموار کر رہا تھا کہ بلوندر اپنی بلی سمیت وہاں جا پہنچا۔ بلوندر نے اسے کہا کہ  ہل چلانے سے پہلے بلی کی فال ضروری ہے۔ اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے کالی بلی کی فال نہ مانی تو سب کچھ بھسم ہو جائے گا۔ بلوندر نے غصے سے کہا :

         ’’اس علاقے میں ہر کام اس کالی بلی کی فال کے بعد ہوتا ہے۔ اگر تم نے اب بھی کالی بلی کی فال نہ مانی تو تمھیں یہ کالی بلی عبرت کا نشان بنا دے گی۔ ‘‘

      ’’چپ رہو کالی زبان والے احمق ‘‘  ارشد نے کہا ’’میں تم پر اور تمھاری فال پر لعنت  بھیجتا ہوں۔ اس مظلوم بلی کو بلا وجہ بد نام نہ کرو۔ اس دنیا میں وہی کچھ ہوتا ہے جو خدا کو منظور ہوتا ہے۔ جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے وہ تم کر لو، میں اس توہم پرستی پر یقین نہیں کر سکتا۔ ‘‘

   ’’ اب سب کچھ بھسم ہو جائے گا ‘‘ بلوندر نے غراتے ہوئے کہا ’’آج کی رات تم بچ نہیں سکتے یہ کالی بلی تم پر قہر بن کر گرے گی اور تم راکھ کریدتے پھرو گے لیکن کچھ بھی باقی نہیں بچے گا ‘‘

      ارشد نے ٹریکٹر اپنی زمین میں کھڑا کیا اور واپس شہر چل دیا۔ وہاں اپنے ساتھیوں سے بات کی۔ اتفاق سے روپن مل سے بھی رابطہ ہو گیا۔ روپن مل نے ارشد کو بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور اپنے باپ ٹھاکر کو سمجھانے کی کوشش پر آمادہ ہو گیا۔ دوسرے دن جب ارشد گاؤں پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کہ ٹریکٹر کو کسی نے آگ لگا دی تھی اور وہ کباڑ کا ایک ڈھانچہ بن چکا تھا۔ پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ کالی بلی اور بلوندر کے غیظ و غضب کے باعث ارشد کو یہ دن دیکھنا پڑا۔ ارشد دامن جھاڑ کر وہاں سے شہر کی جانب چل دیا۔ راستے میں اسے ایک بوڑھا آدمی ملا اس نے ارشد کو سمجھایا کہ دریا میں رہ کر مگر مچھ  سے دشمنی کا نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔ اگر ٹھاکر اور اس کی بیوی اس درندے کی سر پرستی نہ کریں تو اسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ کالی  بلی کی نحوست سے آج تک کوئی نہیں بچ سکا۔ بلوندر لوگوں کی جان، مال اور عزت و آبرو جس بے دردی سے لو ٹتا ہے ا س تمام کام میں اسے کالی بلی کی آشیر باد حاصل ہے۔ ارشد یہ سب باتیں سن کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ شہر واپس آ کر اس نے تمام واقعات سے روپن مل کو آگاہ کیا۔

         اگلے دن روپن مل گاؤں پہنچا اور اس نے اپنے باپ سے کہا ’’آپ کی بہو سخت بیمار ہے۔ امی نے کہا ہے کہ اپنے باپ اور والدہ کو ساتھ لے کر جلدی آؤ۔ ‘‘

     یہ سن کر ٹھاکر خوشی سے پھولا نہ سمایا اس کی بیوی نے اس سے صلح کر لی تھی اور اس کا اکلوتا بیٹا اب اس کے گھر آ گیا تھا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی نئی بیوی کو ساتھ لیا اور شہر جانے پر آمادہ ہو گیا۔ جاتے وقت اس نے بلوندر سے کہا :

  ’’ تم مکان میں موجود رہنا اور کالی بلی کو کمرے میں ساتھ رکھنا اس کے بعد کوئی خطرہ نہیں۔ ‘‘

     ’’اس گاؤں میں کوئی چور نہیں آ سکتا ‘‘ بلوندر نے کہا ’’کالی بلی کے اندر کالی دیوی چھپی ہے وہ سب کچھ بھسم کر دے گی۔ جس طرح ارشد کا ٹریکٹر راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا اسی طرح  کالی بلی کے باغی اس کے قہر و غضب سے بچ نہیں سکتے۔ ‘‘

      روپن مل یہ سب باتیں دھیان سے سن رہا تھا کہ اچانک کالی بلی میاؤں میاؤں کرتی اس طرف آ نکلی۔ روپن مل نے ایک چکن سینڈوچ اس کی طرف پھینکا اور وہ اسے اٹھا کر بھا گ گئی۔

       ’’اچھا ہوا کہ اس کالی بلی نے کا رکا راستہ نہیں کاٹا ورنہ کوئی حادثہ ہو سکتا تھا۔ ‘‘ کلپنا بولی ’’لیکن یہ تو بتاؤ کہ بہو کو کیا ہوا ہے ؟‘‘

     ’’  ابھی جا کر معلوم ہو جائے گا ‘‘ ٹھاکر بولا ’’روپن مل تم نے یہاں آ کر  میرے جگر کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ تمھاری ماں کا کیا حال ہے اس نے چالیس سال تک میری خدمت کی ہے۔ اب اس عالم پیری  میں  اسے میں نے  تنہا چھوڑ دیا یہ تو بڑی بے دردی ہے۔ کیا وہ مجھے معاف کر دے گی ؟‘‘

  یہ سن کر کلپنا دانت پیسنے لگی اور بولی ’’معافی کس بات کی ؟تم نے کون سی غلطی کی ہے۔ غلطی تو میں نے کی ہے جس نے  اٹھارہ سال کی عمر میں ایک اسی  سالہ بڈھے کھوسٹ سے بیاہ کر کے اپنی جوانی کو بر باد کر دیا ہے۔ تم جیسے ناکارہ شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا ایک بہت بڑا عذاب ہے۔ ‘‘

      ’’ یہ وقت لڑنے کا نہیں بل کہ دعا کا وقت ہے َ‘‘  ٹھا کر نے آہ بھر کر کہا ’’ جو بھی اس دنیا میں کوئی غلطی کرتا ہے وہ اس کا خمیازہ خود اٹھاتا ہے۔ ‘‘

        دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے وہ شہر پہنچے تو روپن مل کے گھر میں سب حیرت زدہ رہ گئے۔ اس نے ا پنی ماں اور بیوی کو سب باتیں پہلے سے سمجھا رکھی تھیں۔ بہو اس وقت اپنے بستر پر لیٹی کرا رہی تھی۔ روپن مل اپنی پہلی بیوی کے سامنے بیٹھا زار و قطار رو رہا تھا۔ جلد ہی اس نے بہو کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنے پوتوں پوتیوں کو گود میں لے لیا۔

  ’’تم نے یہ صلح کرنے سے پہلے کالی بلی کی فال کیوں نہیں نکلوائی ‘‘ کلپنا بولی ’’اب کیا ہو گا وہ کالی بلی تو ہم سب کو ما ڈالے گی۔ ‘‘

      ’’صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں سمجھا جاتا ‘‘ٹھاکر نے کہا ’’اب مجھے کالی بلی اور کالے سادھو کا کوئی ڈر نہیں۔ سب کچھ بھاڑ میں جائے  میں تو اب یہیں رہوں گا۔ اور تم اگر میرے ساتھ رہنا چاہو تو ٹھیک ورنہ جہاں سینگ سمائیں چلی جاؤ۔ ‘‘

        رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے، روپن مل، ارشد اور اس کے دو ساتھی گاؤں کے قریب پہنچ چکے  تھے۔ روپن مل نے اپنے گھر کے دروازے پر دستک دی اندر سے بلوندر کی آواز آئی :

    ’’ کون ہو؟اس وقت کیا کام ہے ؟ٹھاکر اوراس کی بیوی تو شہر چلے گئے ہیں۔ ‘‘

       ’’ میں روپن مل ہوں اور ابا نے مجھے بھیجا ہے کہ تمھیں ساتھ لے آؤں ‘‘

دروازہ کھل گیا۔ سب لوگ اندر داخل ہو گئے اور بلوندر کو گریبان سے پکڑ لیا اور اس کی خوب دھنائی کی۔ اس کی چیخ پکار سن کر گاؤں کے لوگ بھی وہاں آ پہنچے لیکن سب نے دم سادھ رکھا تھا۔  کالی بلی مسلسل میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔ سب لوگ اس انتظار میں تھے کہ کالی بلی  کے قہر و غضب  سے اب کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ مسلسل  جوتے پڑنے سے بلوندر  نڈھال ہو گیا اور وہ معافی کی دہائی دینے لگا۔ ارشد نے برگر اور سینڈوچ  کالی بلی کی طرف پھینکے جو اس نے اپنے منہ میں اٹھا لیے  اور وہ چپکے سے ایک طرف  جا کر بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کر لیں  مزے سے بر گر اور سینڈ وچ کھانے میں مصروف ہو گئی  بلوندر کو جس قدر زور سے جوتے پڑتے کالی بلی کی اسی قدر خوشی سے باچھیں کھل جاتیں۔ گاؤں کے لوگ بھی اس تماشے کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ کئی  زندہ دلوں نے تو ان نو واردوں پر پھول بھی نچھاور کیے۔ ارشد نے کالی بلی کی پیٹھ تھپتھپائی اور اسے اٹھا لیا۔  روپن مل نے  بلوندر کی لوٹی ہوئی تمام جمع پونجی ارشد کے حوالے کر دی اور کہا کہ اسے کسی یتیم خانے میں جمع کرا دینا۔ اس کے بعد  ا پنے گھر کو تالہ لگایا۔ اب انھوں نے بلوندر کو اپنے ساتھ  لیا اور شہر کا رخ کیا۔ راستے میں درد سے کراہتے ہوئے بلوندر نے کہا کہ شہر میں میرا ایک مکان ہے وہ میں تمھیں ٹریکٹر کا نقصان پورا کرنے کے عوض دیتا ہوں میری جان بخشی کر دو۔ گاؤں سے باہر نکلتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مکر اور فریب کی ایک داستان اپنے انجام کو پہنچی۔ جور و ستم کی ہو ا تھم گئی تھی۔

       اگلے دن ارشد نے اس مکان کا قبضہ لے لیا اور تمام کاغذات  اپنے نام کر ا لیے۔ بلوندر کی بلی اب بھی ارشد کے مکان میں رہتی ہے مگر بلوندر اب در بہ در اور خاک بہ سر بھیک مانگتا پھرتا ہے۔ کسی کو اس پر اسرار بھکاری کے ماضی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ جس کی حالت زار دیکھ کر لوگ دل تھام لیتے ہیں۔ فطرت کی سخت تعزیروں کی زد میں آنے والے اس بھکاری  کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برستی ہیں اور جو  اپنے آبائی گاؤں سے سیکڑوں میل دور ایک بہت بڑے شہر کے گلی کوچوں میں یہ صدا لگاتا ہے :

                             ہے حرص و ہوا کا دھیان تمھیں ، اور یاد نہیں بھگوان تمھیں

                             سل، پتھر، اینٹ، مکان تمھیں دیتے ہیں یہ راہ بھلا بابا

٭٭٭