کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تبدیلی

غلام شبیر رانا


           شہر کے مرکز سے دور گندے نالے کے کنارے نئی تعمیر ہونے والی  رائس فیکٹری کے مالکان کو ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو بے غیرتی، بے ضمیری، بے حیا ئی اور انسان دشمنی  میں اپنی مثال آپ اور رسوائے زمانہ  ہو۔ وہ فیکٹری کے مالکان کے لیے رسد کا انتظام بھی کرے اور ان کے لیے پریوں کا اکھاڑہ بھی سجائے جس میں مالکان تو راجہ اندر کی صورت میں موجود ہوں مگر فیکٹری کا منیجر صرف جال لگا کر حسین و جمیل پریوں کو زیر دام لا نے کی ذمہ داری سنبھالے۔ فیکٹری کے مالک اپنے کالے دھن کو اجلا کرنے کی فکر میں ہلکان ہو رہے تھے۔ وہ ایک ایسے کو ر مغز، بے بصر، کینہ پرور، حاسد اور وضیع درندے کو اس فیکٹری کا کرتا دھرتا بنانا چاہتے تھے جو نہ صرف تھالی کا بینگن ہو بل کہ چکنا گھڑا بھی ثابت ہو۔ قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں ایسے جو فروش گندم نما، بگلا بھگت درندے کو ڈھونڈنا کون سا مشکل کام تھا، ایسے ایک مشکوک نسب کے متفنی کو دھونڈنے نکلو راستے میں اجلاف و ارزال  اور سفہا شکاری کتوں کی صورت میں جھپٹتے نظر آئیں گے جو مظلوم انسانوں  کو نوچنے میں لگے ہیں۔ چند روز بعد فیکٹری کے مالکان گھاسو مل کو ڈھونڈ  لائے۔ اس سے قبل وہ وانی رائس ملز میں اسی قسم  کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ اس قماش کے ننگ انسانیت مسخرے خون آشام درندوں کو ہمیشہ بہت پسند آتے ہیں۔ یہ شخص گرگ آشتی کی مثال تھا۔ جس شاخ پہ بیٹھتا اسی کو کاٹنے کی ٹھان لیتا، جس تھالی میں کھاتا اسی میں چھید کرنا اس کا وتیرہ تھا، جس درخت کے سائے میں بیٹھتا اسی کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہو جاتا۔

          سال2002کی ایک سرد شام تھی جب گھاسو مل نے فیکٹری میں اپنا سبز قدم رکھا۔ نظام ثقہ اپنے پورے کر و فر کے ساتھ اپنے دفتر میں جا گھسا۔  بلند پروا ز عقابوں کے نشیمن اب زاغوں کے تصرف میں آ چکے تھے۔ درو دیوار پر حسرت و یاس کے گہرے سائے چھا گئے اور ہر طرف ذلت، تخریب، نحوست، بے برکتی، بے توفیقی، بے ایمانی، بے حیائی اور بے غیرتی کے کتبے آویزاں ہو گئے۔ فیکٹری کے ایک پارک میں دو بوڑھے مالی اس نئی تبدیلی کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ نورے نے گامے سے مخاطب ہو کر کہا:

         ’’  سنا بھائی گامے !نئے منیجر کو آئے ایک سال  گزر گیا ہے اب کیسے حالات ہیں ؟  اس برس میں کوئی بھی تو بھلائی کی صور ت  دکھائی نہیں دی۔ کیا کوئی نئی تبدیلی آئے گی یا پہلے کی طرح لوٹ مار کا بازار گرم رہے گا ؟سنا ہے نیا منیجر مل مالک کے چربیلے کتوں کے لیے بھی یہاں سے وسائل مہیا کرے گا۔ یہاں کے بے بس مزدوروں کے چہرے تو پیلے ہیں۔ اب کیا ہو گا ؟‘‘

          ’’ تبدیلی تو صاف دکھائی دے رہی ہے۔ ‘‘ گامے نے کھانستے ہوئے کہا ’’  اس فیکٹری کے ہر درخت کی ہر شاخ پہ الو نے بسیرا کر لیا ہے۔ جس طرف دیکھو کوے، گدھ، چیل اور بوم کے غول دکھائی دیتے ہیں۔ حالات اس قدر ہو لناک صورت اختیار کر تے چلے جا رہے ہیں کہ زمین بھی دل کے مانند دھڑکتی محسوس ہو تی ہے۔ نئے منیجر کو ابلیس نژاد سمجھاجاتا ہے لوگ اس پر تین حرف بھیجتے ہیں اور کئی لوگ تو اسے دیکھتے ہی لاحول کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔ ‘‘

    ’’سچ کہتے ہو بھائی نورے !‘‘ گامے نے آہ بھر کر کہا ’’ساری دنیا بدل جائے ہم غم زدہ لوگوں کا حال کبھی نہیں بدل سکتا۔ ہم فقیر لوگ ہمیشہ سے حالات کی چکی میں پستے چلے آرہے ہیں۔ جب کہ بے ضمیروں کے ہمیشہ وارے نیارے رہتے ہیں۔ یہ جو منحوس پرندے ہر طرف منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں یہ تو کسی آفت نا گہانی کا اشارہ ہے۔ اس نئے منیجر کے آنے کے بعد تو دم گھٹنے لگا ہے۔ ‘‘

      ’’ ایک تبدیلی ایسی ہے جو مستقبل کے لیے خطرے  کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ ‘‘نورے نے سر کھجاتے ہوئے کہا ’’نئے منیجر نے جو عملہ بھرتی کیا ہے اس میں ایک ہی میرٹ رکھا ہے کہ جو بھی حسین و جمیل عورتیں یہاں کام کرنا چاہیں وہ سب کی سب بھرتی کر لی جائیں۔ اول تو مرد ملازم رکھے ہی نہ جائیں اور اگر کوئی مجبوری کی وجہ سے رکھنا پڑ جائے تو اسے بھی جلد از جلد گھر کا رستہ دکھایا جائے۔ اس پر عرصہ ء حیات تنگ کر دیا جائے تا کہ وہ حالات سے عاجز آ کر اپنا دامن جھاڑ کر رخصت ہو جائے۔ ‘‘

     ’’  یہ تو بہت برا شگون ہے۔ ‘‘گامے نے  اپنے آنسو پو نچھتے ہوئے  کہا ’’مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہر فرعون، نمرود اور ہلاکو خان اپنی موت کو کیوں  فراموش کر دیتا ہے۔ مال بٹورنے والے یہ بات کیوں نہیں یاد رکھتے کہ کفن میں تو کوئی جیب ہی نہیں ہوتی۔ یہاں کا سب ٹھاٹ یہیں  پڑا رہ جاتا ہے اور ہر بنجارہ خالی ہاتھ یہاں سے چپکے سے اپنی آخری منزل کی جانب  چل پڑتا ہے ‘‘

         گھاسو مل نے فیکٹری کی ملازم خواتیں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ کئی مجبور، بے بس اور مظلوم  عورتیں اپنی متاع عصمت اس درندے کے ہاتھوں گنوا کر بے نیل مرام یہاں سے گھروں کو لوٹ جاتیں اور ان کید اد رسی کہیں سے نہ ہو پاتی۔ ان کی فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہوتی۔  اس فرعون کے ہاتھوں جن خواتین کی امیدوں کی فصل غارت اور صبح شام کی محنت اکارت  چلی جاتی وہ ہاتھ اٹھا کر اس کی تباہی کے لیے خا لق کائنات کے حضور التجا کرتیں کہ اب اس فرعون کی مدت مزید نہ بڑھائی جائے۔ گھاسو مل کے شب و روز عیاشی، بد معاشی، مے نوشی، حرام خوری اور رنگ رلیوں میں بسر ہوتے تھے۔ بھتہ خوری، دہشت گردی اور خواتین کی آبرو ریزی کے شیطانی کاموں میں ملوث ہو کر  اس نے اپنی اوقات کو بھلا دیا۔ اس کی محفل عشرت میں سارے مست بند قبا سے بے نیا ز ہو کر داد عیش دیتے اور شرم و حیا کو بارہ پتھر کر دیا جاتا۔ اس ایک شخص کی وجہ سے پورے کا پورا آوا ہی خراب ہو چکا تھا۔ بہت سی کالی بھیڑیں ، گندی مچھلیاں ، سفید کوے اور گندے انڈے اس کے گرد جمع تھے جن کی وجہ سے یہ اپنی فضا میں مست پھرتا تھا اور کسی مظلوم کی چشم تر کی جانب نگاہ کرنے کی اسے بالکل فرصت ہی نہ تھی۔ سب سے بڑھ کر طرفہ تماشا یہ تھا کہ ایک رذیل طوائف  اس کے اعصاب پر سوار تھی وہ اس بد اندیش جنسی جنونی کو چلو میں الو بنا کر اپنی انگلیوں پر نچاتی تھی۔ فیکٹری کے تمام وسائل کو انھوں نے شیر مادر سمجھ رکھا تھا۔ لوگ اس طوائف کو ڈاکو حسینہ کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ ڈاکو حسینہ رات کی تاریکی میں گھروں میں گھس جاتی اور خواتین کو دولت اور زر و مال سے محروم کر دیتی۔ یہ ڈاکو حسینہ گھاسو مل کی داشتہ تھی اور اس نے پوری فیکٹری میں جنگل کا قانون نافذ کر رکھا تھا۔ ورکنگ ویمن ہاسٹل میں ہونے والی چوری کی تمام وارداتوں میں یہی ڈھڈو ملوث تھی۔ ا اس نے خواتین کو نشے کی لت میں مبتلا کر دیا تھا۔ منشیات فروشی  اور خرچی کے ذریعے اس نے بہت مال کمایا۔ شہر کے تمام جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ اس کا گٹھ جوڑ تھا۔

         ڈاکو حسینہ اور گھاسو مل نے مجبوروں پر ظلم و ستم ڈھانے کی انتہا کر دی۔ ایک رات ڈاکو حسینہ نے ورکنگ ویمن  ہاسٹل کے ایک کمرے میں مقیم ایک نو جوان عورت کے کمرے میں دھا ا بول دیا۔ نقاب پوش حسینہ نے پستول نکال کر کہا:’’ خبردار اگر حرکت کی یا کوئی آواز نکال کر چیخ پکار کی اور کسی کو مدد کے لیے پکارا۔ یہاں کوئی تمہاری مدد کو نہیں آ سکتا۔ کس کی مجال ہے جو ڈاکو حسینہ کا مقابلہ کرے ؟۔ یہ جو تم نے سونے کی آٹھ چوڑیاں ہاتھوں میں پہن رکھی ہیں اور کانوں میں جو سونے کی بالیاں سجا  رکھی ہیں وہ اتار کر میرے حوالے کر دو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمھیں گولی مار دوں گی اور یہ بھی سن لو اگر تمھارے پاس کوئی نقد رقم ہے تو  اپنی تمام رقم بھی نکال کر مجھے دے دو۔ ‘‘

       نوجوان اور تنومند لڑکی نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کہا: ’’یہ  تو نقلی زیور ہیں۔ میرے اصلی زیور تو میری الماری میں پڑے ہیں۔ تم آرام سے بیٹھو میں وہ سب خالص سونے کے زیور  تمھارے حوالے کر تی ہوں۔ میرے پاس بیس ہزار روپے  نقد بھی ہیں جو میں نے کل اپنے کالج کی فیس جمع کرانی ہے۔ ‘‘

         ڈاکو حسینہ نے یہ سن کر اطمینان کا سانس لیا وہ یہ جان گئی کہ اس نو جوان لڑکی سے زر و  مال ہتھیانے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اس نے خود ہی اپنے پاس موجود نقد  رقم کا راز بھی  اگل دیا ہے۔ یہ سوچا اور پستول اپنے کوٹ کی  جیب میں ڈال کر کہا ’’ کیسی فیس اور کیسی پڑھائی۔ آج میں تم کو ایسا سبق پڑھاؤں گی کہ تمھیں چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ اب جلدی کرو مجھے تمام نقدی اور خالص سونے کے زیورات دے دو۔ میں نے ابھی اور کمروں میں بھی جانا ہے َ۔ آ جاتی ہیں بن سنور کر اب معلوم ہوا کہ یہاں کیسے کیسے طاقت ور ڈاکو پھرتے ہیں جو حسن اور آتش سے لیس ہیں۔ ‘‘

       نوجوان لڑکی الماری کی طرف بڑھی وہاں سے کچھ نکالا اور ڈاکو حسینہ کی طرف  بڑھی اور ایک جست لگا کر اسے دبوچ لیا، اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اس کے کوٹ کی جیب سے پستول نکال کر اس پر تان لیا اور ٹھیک نشانہ لگا یا۔ گولیاں ڈاکو حسینہ کی کھو پڑی کو چیرتی ہوئی نکل گئیں اور وہ اسی جگہ ڈھیر ہو گئی۔ اس کے بعد چاقو سے اس کی ناک اور کان کاٹ کر باہر گندے نالے میں پھینک دئیے۔ اس مکار طوائف  کی لاش کو گھسیٹ کر باہر گلی میں  پھینک دیا جسے  آوارہ کتے ساری رات بھنبھوڑتے رہے۔ ڈاکو حسینہ کی ہلاکت پر خواتین نے سکھ کا سانس لیا۔ گھاسو مل کے لیے یہ واقعہ بہت پریشان کن تھا لیکن اس مکار نے  ڈاکو حسینہ  سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا تا کہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اس کا نام نہ آئے۔

         نورے اور گامے کی آنکھیں اس وقت ساون کے بادلوں کی طرح  برسنے لگتیں جب وہ اپنے ان ساتھیوں کو یاد کرتے جنھیں گھاسو مل نے اپنی شقاوت آمیز نا انصافیوں سے جیتے جی ما ر ڈالا۔ کئی بے گناہ تو اپنی زندگی کی بازی ہار گئے اور کئی گھر بے چراغ ہو گئے۔

   ’’تمھیں یاد ہے وہ رات جب ایک سال قبل  فیکٹری میں ہڑتال ہوئی تھی اور مزدوروں نے گھاسو کے دفتر کا گھیراؤ کر لیا تھا‘‘ نورے نے آہ بھر کر کہا’’اس رات گھاسو مل نے اجرتی دہشت گردوں۔ پیشہ ور بد معاشوں اور کرائے کے قاتلوں کو بلایا اور اندھا دھند فائرنگ کرائی گئی جس سے بیس مزدور لقمۂ اجل بن گئے۔ ان کی لاشیں بھی غائب کر دی گئیں۔ ‘‘

       ’’ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے جب اس درندے نے مظلوم مزدوروں کے خون سے ہولی کھیلی تھی۔ ‘‘گامے نے روتے ہوئے کہا ’’لوگ کہتے ہیں کہ  اس فرعون کو لاٹ صاحب کی آشیر باد بھی حاصل تھی۔ اگلے دن یہ خونخوار بھیڑیا دندناتا پھرتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ ‘‘

        ’’ہر فرعون کو یہی زعم ہوتا ہے کہ اس کی طاقت اور ہیبت  پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ ‘‘نورے نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ’’گھاسو  مل عبرت کی مثال ضرور بنے گا۔ دارا، سکندر اور شداد کی شان اب کہاں ہے ؟ایک وقت آئے گاجب یہ ابلیس اپنے عبرت ناک انجام کو ضرور پہنچے گا۔ ‘‘دونوں بوڑھے ملازم اپنے دل کا بوجھ اتارنے کے لیے تزکیہ نفس کرتے رہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خالق کائنات کے ہاں دیر تو ہو سکتی ہے مگر اندھیر کا وہاں کوئی گماں نہیں کر سکتا۔  طاقت پر گھمنڈ کرنے والے نامیوں کے نشاں تک باقی نہیں رہتے۔ خالق کی منشا ہو تو سینۂ صحرا سے حباب اٹھ سکتا ہے اور رود نیل میں فرعون غرقاب ہو سکتا ہے۔ وہ نار نمرود کو گلزار میں بدل کر اپنے خلیل کو بچا سکتا ہے۔ تبدیلی کے یہ نشان دنیا والوں کے لیے مقام  عبرت ہیں۔

            سیل زماں کے تند و تیز تھپیڑے سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ جاہ و منصب، قوت و ہیبت ، مال و زر، سطوت و حشمت اور کر و فر سب کچھ سیل زماں کی مہیب موجوں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا ہے۔ اس کے بعد ان تمام امور کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں اور انسان بے بسی کے عالم میں ان کی نوحہ خوانی کے لیے رہ جاتا ہے۔ وقت جس برق رفتاری سے گزر جاتا ہے اس کا کسی کو مطلق احساس نہیں ہوتا۔ جب قوت کا نشہ اترتا ہے اور ہاتھ سے دولت چلی جاتی ہے تو انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ گھاسو مل نے جب فیکٹری کی باگ ڈور سنبھلی تو تو وہ فرعون بن بیٹھا۔ اس نے مجبوروں ، مظلوموں اور لاچار ملازموں کے چام کے دام چلائے۔ اس نے فیکٹری کو عقوبت خانے، چنڈو خانے اور قحبہ خانے میں بدل کر اسے پاتال کی پستی تک پہنچا دیا۔ جہاں پہلے سر و صنوبر کی فراوانی ہوا کرتی تھی اب وہاں زقوم، حنظل، پوہلی، کریروں ، جنڈ اور بھکڑا کے جھنڈ دکھائی دیتے تھے۔ رہائشی کالونی ویران ہو چکی تھی۔ اس کالونی کے غیرت مند مکین اپنی عزت اور جان بچا کر کہیں دور چلے گئے تھے۔ جن  رہائشی  کوارٹروں میں سر شام چراغ فروزاں ہو جاتے تھے اب وہاں چراغ غول کے سو ا کچھ نہ تھا۔ ان ویران کمروں میں بڑے بڑے چمگادڑ  شہتیروں سے الٹے لٹکے رہتے تھے۔ فیکٹر ی کے باغیچوں کے  سب درخت سوکھ گئے ان ٹنڈ منڈ درختوں کو ایندھن کے لیے فروخت کر دیا گیا۔ قاتل تیشوں اور آروں نے ان سوکھے اشجار کے جسموں کو چیر کر رکھ دیا۔ گھاسو مل نے نادر شاہی حکم دیا کہ ان تمام سوکھے درختوں پر منحوس پرندوں کے جو گھونسلے ہیں انھیں آگ لگا دی جائے۔ ساتا روہن نے اس حکم کی تعمیل کی  جس کے نتیجے میں بہت سے طیور اس آگ کی زد میں آ کر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ آگ سے بچ جانے والے طیور نے اسی عمارت کی منڈیروں پر مستقل ڈیرے ڈال لیے    دیکھنے والوں کو یہ گمان گزر تا تھا کہ یہ طیور اپنے بے گناہ ساتھی  پرندوں کے بے بسی کے عالم میں جل کر ہلاک ہو جانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ رات کی تاریک میں کئی پر اسرار سائے دکھائی دیتے  ایسا محسوس ہوتا کہ یہ پوری فیکٹری آسیب زدہ ہے اور کئی بد روحیں یہاں موجود ہیں۔ بعض لوگوں کی یہ رائے تھی کہ جو لوگ گھاسو مل کے مظالم کی وجہ سے عدم کی بے کراں وادیوں کو سدھار گئے ان کی روحیں اب بھی یہاں انصاف طلب پھرتی ہیں اور اس وقت تک یہاں رہیں گی جب تک گھاسو مل اور اس کے ساتا روہن کیفر کردار کو نہیں پہنچ جاتے۔

            عمارت کے در و بام پر بوم و شپر اور زاغ و زغن اور گدھ بڑی تعداد میں منڈلاتے تو دیکھنے والے ڈر جاتے کہ جلد ہی کوئی سانحہ رونما ہونے والا ہے۔ ایک دن گھاسو مل ایک فٹ پاتھ پر سے گزر رہا تھا کہ  سامنے والے بلند کمروں کی منڈیروں  پر بیٹھی چیلیں اچانک اڑیں اور گھاسو مل کی گنجی کھوپڑی پر جھپٹ کر چونچ اور پنجوں سے حملہ کر دیا۔ یہ چیلیں اپنی تیز چونچ سے اس کے سر، چہرے اور گردن پر جھپٹ پڑیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس فرعون کو لہو لہان کر دیا۔ گھاسو مل کو گہرے زخم آئے تھے۔ اسے اسی وقت ہنگامی طبی امداد کے لیے نزدیک شفا خانے لے جایا گیا۔ سب معالج اس بات پر متفق تھے کہ یہ موذی فطرت  کی  تعزیروں کی زد میں آ گیا ہے ا س کا جانا ٹھہر گیا ہے یہ اب صبح گیا کہ شام گیا۔

                گھاسو مل دو ہفتے ز یر علاج رہا۔ اس کے بعد جب یہ فیکٹری میں واپس پہنچا تو اس نے سفید لباس پہن رکھا تھا اس بگلا بھگت کی یہ ہیئت کذائی دیکھ کر سب لوگ کسی نا معلوم اندیشے میں مبتلا ہو گئے۔ یہ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا کہ عمارت کی منڈیروں پر بڑی تعداد میں زاغ و زغن   بدستور موجود ہیں۔ اس نا ہنجار کو دیکھتے ہی ان تمام طیور نے ایک نیچی اڑان بھری اور اس پر اپنا فضلہ اور بیٹ اس طرح گرائی جیسے ہوائی حملے میں جنگی طیارے دشمن پر جھپٹتے ہیں۔ یہ بد نہاد  درندہ  ان طیور کے ضماد میں لت پت ہو گیا اس نے اپنے محافظ دستے کو اسی وقت فائرنگ کا حکم دیا لیکن پرندے تو پلک جھپکتے میں لمبی اڑان بھر چکے تھے وہ کس پر فائرنگ کرتے۔ یہ طائر تو ابابیل کے طیور جیسا کردار ادا کر رہے تھے۔ گھاسو مل اس اچانک حملے سے بو کھلا گیا اس کے جسم سے عفونت اورسڑاند کے بھبوکے نکل رہے تھے۔ اس کے حفاظتی عملے کو شدید الٹیاں آ رہی تھیں۔ سب نے اپنی ناک پر رومال رکھ لیے اور اس بد بو سے بچنے کے لیے دور چلے گئے۔ گھاسو مل اب اکیلا کھڑا تھا۔ اس کے منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور اس کی آنکھیں بوٹی کی طرح سرخ ہو رہی تھیں۔ اب اس نے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کی کو شش میں اپنا پستول نکالا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ سب لوگوں نے بھاگ کر بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی۔

           گھاسو مل اپنا ذہنی توازن کو چکا تھا۔ وہ اول فول بکتا فائرنگ کرتا ہر طرف  دوڑتا پھرتا تھا۔ سب لوگ چھپ گئے تھے۔ اچانک گھاسو مل کا پاؤں  پھسلا اور وہ منہ کے بل ایک گٹر میں جا گرا۔ اس کے منہ، ناک، کانوں اور آنکھوں میں بد رو کا متعفن اور آلودہ پانی بھر گیا۔ اس کی چیخ نکلی اور اس کے ساتھ ہی وہ تڑپ تڑپ کر ٹھنڈ ا ہو گیا۔ نا معلوم کس جانب سے سیکڑوں کی تعداد میں گدھ وہاں آ گئے جنھوں نے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لی اور اڑ گئے۔ گھاسو مل کا ڈھانچہ گڑ کے باہر دو دن پڑا رہا۔ اسے  خشک پتوں سے ڈھانپ دیا گیا۔ رنگو خاکروب نے تیسرے دن خشک پتوں کے اس  بہت بڑے  ڈھیر کو  جس کے نیچے گھاسو مل کا ڈھانچہ پڑا تھا اسے آگ لگا دی۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے اور تمام ملازمین آپس میں سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ سب کے چہرے کھل اٹھے تھے۔ اچانک نورے نے کہا :

         ’’وہ دیکھو سامنے ایک کونپل پھوٹ رہی ہے ایک  سوکھے تنے سے جہاں سے شاخ ٹوٹی تھی وہیں سے نئی شاخ پھوٹی ہے اور  ہریالی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ ‘‘

     ’’  ہاں !اور یہ بھی دیکھو کمرے کی منڈیر پر طائران خوش نوا  پھر لوٹ کر آ گئے ہیں۔ گدھ، بوم اور زاغ و زغن کا کہیں اتا پتا  اب معلوم نہیں۔ بلبل کو چہچہاتے ہوئے سنو ‘‘گامے نے خوشی سے کہا  سال2006 کا آغاز ہو چکا ہے۔ عرصے کے بعد  یہ پرندے لو ٹ کر آئے ہیں۔ حبس کے ماحول میں تو یہاں سے خوش الحان  پرندے بھی کوچ کر گئے تھے۔ اور اب تو رات کے وقت پر اسرار سائے بھی دکھائی نہیں دیتے۔ نہ کوئی بھوت رہا اور نہ ہی کسی چڑیل کا خوف اب باقی ہے۔ ایک بھیانک دور اپنے انجام  پہنچا۔ نظام کہنہ کی عمارت اب دھڑام سے زمیں بوس ہو چکی ہے۔ کالے دھن والوں کے کالے کرتوت سب جان گئے ہیں۔ گھاسو مل اور ڈاکو حسینہ کے گھناؤنے کردار کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مجبور نے صعوبتوں کا جو سفر طے کیا ہے وہ اب کسی منزل تک پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ ‘‘

       ’’اب حقیقی تبدیلی سامنے آئے گی۔ ظلم کا جھنڈا  ہمیشہ کے لیے سر نگوں ہو چکا ہے ‘‘نورے نے کہا’ ’اب تمام فرعون فطرت کی تعزیروں کی زد میں آ کر  اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ‘‘

       گامے نے کہا ’’ہاں اگر خنجر کی زباں چپ بھی رہے تو آستین کا لہو پکار اٹھتا ہے۔ مظلوم کا خون ہمیشہ تبدیلی لاتا ہے۔ یہ خون جبر کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اسی کا نام تو مکافات عمل ہے اور اس کے نتیجے میں جو تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ دائمی ہوتی ہے۔ ‘‘