کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مکرم درزی

غلام شبیر رانا


           مکرم درزی ایک دور دراز گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ لکھنا پڑھنا جانتا تھا اور سلائی کی تربیت اس نے شہر کے مشاق درزی ماسٹر نور سے حاصل کی تھی۔ مکرم درزی  ایک با ضمیر، بے ضرر، با حوصلہ اور با وقار انسان تھا۔ اس کا گاؤں جو دریائے چناب کے کنارے پر  واقع تھا، ایک نزدیک قصبے کھورواہ  سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ اس نے گاؤں کی لڑکیوں کو سلائی کڑھائی کا ماہر بنا دیا اور یہ  بچیاں نہ صرف اپنے لباس کی سلائی کے قابل تھیں بل کہ وہ دوسری عورتوں اور بچوں کا لباس سی کر اچھی خاصی رقم جمع کر لیتیں اور اس طرح گھر کی آمدنی میں اضافہ کر کے ماں باپ کا ہاتھ بٹاتیں۔ مکرم درزی روزانہ صبح کی نماز با جماعت پڑھ کر اپنی سلائی مشین اپنے سر پر اٹھا کر نواحی قصبے کھوروا کا رخ کرتا اور بازار میں ایک کلاتھ مر چنٹ کی بڑی دکان کے تھڑے پر بیٹھ کر سارا دن کپڑوں کی سلائی میں مصروف رہتا۔  اس کے پاس ایک ہی سلائی مشین تھی اور دوسری سلائی مشین کی خریداری کی اس میں سکت ہی نہ تھی۔ شام کو مشین اس لیے گھر لاتا تھا کہ وہ رات کو بھی اپنے گھر میں سلائی کے کام میں مصروف رہتا تھا۔ قصبے کی اس سب سے بڑی دکان کے تھڑے پر بیٹھنے کی اجازت سرمایہ دار سیٹھ کی کئی شرائط سے جڑی ہوئی تھی۔ موہن کلاتھ ہاؤس کے مالک سیٹھ موہن داس نے اس غریب درزی کو جن کاموں کا ذمہ دار بنا رکھا تھا ان میں دکان کے سامنے جھاڑو دینا، چھڑکاؤ کرنا،  دن کے دس بجے سیٹھ کے گھر سبزی اور پھل وغیرہ پہنچانا اور وہاں سے دوپہر کو کھانے کا ٹفن دکان پر لانا۔ مکرم درزی یہ سب خدمات  بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتا۔ صبح سے شام تک وہ اپنے کام میں مصروف رہتا۔ دکان سے کپڑوں کی خریداری کے لیے آنے و الے مرد اور عورتیں اس کے کام کی نفاست کو پسند کرتے تھے۔ وہ کپڑوں کی سلائی اور فٹنگ پر خاص توجہ دیتا۔ میرے ساتھ مکرم درزی کا ایک تعلق سا بن گیا تھا۔ میں اس کے کام اور دیانت داری سے متاثر تھا۔ جو بھی اس سے کپڑے سلواتا وہ اس کے ناپ کے مطابق کٹائی اس کی موجودگی میں کرتا اور جو کپڑا بچ جاتا وہ مالک کو اسی وقت واپس کر دیتا۔ موہن داس اسے سبزی اور پھلوں کے لیے جو رقم دیتا وہ اس کا پائی پائی کا حساب سیٹھ کو لکھ کر دیتا۔ سیٹھ موہن داس اور اس کے گھر کے تمام افراد مکرم کی دیانت، شرافت اور خوش اخلاقی کے معترف تھے۔

        بچپن کی شادی نے مکرم کی زندگی کو متعدد مسائل کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس کی سات بچیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ ایک بڑے کنبے کا واحد کفیل ہونے کی وجہ سے مکرم معیشت کے افکار میں بری طرح الجھ کر رہ گیا تھا۔ چالیس سال کی عمر میں وہ ستر برس کا بوڑھا دکھائی دیتا تھا۔ مکرم کی پہلی بچی پیدا ہوئی تو اس وقت مکرم کی عمر سولہ سال تھی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے بارہ سال کے عرصے میں اس کی سات بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ بیٹا سب سے چھوٹا تھا اور سب کی آنکھ  کا تارا تھا۔ مکرم جو کچھ کماتا وہ اس کی اولاد کے لباس، غذا اور دیگر ضروریات پر خرچ ہو جاتا۔ تقدیر کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں۔ مکرم کے ساتھ بھی مقدر نے عجب کھیل کھیلا۔ بیٹے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی اہلیہ پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور وہ مستقل طور پر چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی۔ مفلسی میں آٹا گیلا ہونا کی مثل ان پر صادق آتی ہے۔ مکرم کی تمام جمع پونجی اپنی اہلیہ کے علاج پر خرچ ہو گئی مگر وہ چارپائی پر ایسے گری کے پھر زمین پر چلنا اسے نصیب نہ ہو سکا۔ سیٹھ موہن داس نے بھی اس کی امداد کی مگر اس کی اہلیہ ٹھیک نہ ہو سکی۔ مکرم کے گھر کے در و دیوار پر حسرت، یاس، مجبوری، محرومی، افلاس اور بیماری کے سائے روز بہ روز گمبھیر ہوتے چلے گئے۔ ان آلام کے باعث یوں محسوس ہوتا ہے کہ چاروں جانب جان لیوا اداسی بال کھولے گریہ و زاری میں مصروف ہے۔

          وقت گزرتا رہا اور ساتھ ہی مسائل بھی بڑھتے چلے گئے۔ مسائل کے ساتھ ساتھ بچوں کی عمر بھی بڑھنے لگی۔ مکرم کی بیٹیاں اب جوانی کی حدود میں قدم رکھ چکی تھیں۔ جہاں دو وقت کی روٹی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہو وہاں تعلیم اور دیگر مسائل  پر توجہ کیسے دی جا سکتی ہے ؟مکرم کی سات بیٹیاں صرف دینی تعلیم، خانہ داری  اور سلا ئی  کڑھائی ہی کو اپنی متاع حیات سمجھتی تھیں۔ یہ بچیاں بڑی صابر اور شاکر تھیں۔ انھوں نے اپنے والدین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ مکرم نے دن رات ایک کر کے ان بچیوں کے جہیز کا انتظام کیا۔ اس کام میں سیٹھ موہن داس کی دست گیری بہت کام آئی۔ اس نے  مناسب رشتے تلاش کر کے ان کے ہاتھ پیلے کرنے میں عافیت سمجھی۔ اس کی بیٹیوں کے لیے مناسب رشتوں کی تلاش میں علاقے کے معززین اور پورے شہر کے  لوگوں نے بھر پور تعاون کیا۔ اب مکرم قدرے مطمئن دکھائی دیتا تھا۔

          میرے والد صاحب فریضہ حج ادا کرنے کے لیے ارض مقدس روانہ ہونے لگے تو مکرم بھی انھیں ملنے کے لیے آیا اور دیر تک بیٹھا رہا۔ وہ اپنے بارے میں تفصیل سے بتاتا رہا اور اپنے مصائب کے حل کے لیے دعا کی استدعا کی۔ رخصت ہوتے وقت والد صاحب نے اسے گلے لگا لیا اور کہا:

         ’’مکرم ! اگر ارض مقدس سے تم کوئی چیز منگوانا چاہو تو بے جھجھک کہہ دو۔ میں وہ ضرور لاؤں گا۔ ‘‘

       یہ سن کر مکرم زار و قطار رونے لگا اور اس کی ہچکیاں نکلنے لگیں۔ والد صاحب نے اس پیار کیا اور اس کی ڈھارس بندھائی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ روتے ہوئے کہنے لگا :

         ’’میرے لیے تو آپ مدینے، مکے، طائف، غار حرا، غار ثور اور جنت البقیع کی مٹی لیتے آنا۔ یہ مٹی میری آنکھ  کا سرمہ بنے گی اور قبر میں بھی یہی مٹی  میرے ساتھ جائے گی۔ ‘‘

      مکرم کی باتیں سن کر میں اور میرے والد صاحب اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے اور  والد صاحب  کا گریہ گلو گیر ہو گیا۔ انھوں نے مکرم کی باتیں بڑی توجہ سے سنیں۔ میں سوچنے لگا کہ یہ شخص کس قدر مثبت سوچ رکھتا ہے۔ کاش ہم اپنی سوچ کو اسی انداز میں بدل سکیں۔ والد صاحب نے مکرم سے کہا :

        ’’تمھاری اس خواہش کا مجھے بہت احترام ہے۔ میں ارض مقدس سے ان مقامات کی مقدس مٹی ضرور حاصل کروں گا جہاں پر حضور ﷺ نے قدم مبارک رکھے۔ کوئی اور چیز جو تمھیں درکار ہے وہ بھی بتاؤَ۔ میری کوشش ہو گی کہ تمھاری دلی تمنا کو پوری کرنے کی کوشش کروں۔ ‘‘

      ’’ہاں ایک تمنا دل میں ضرور ہے ‘‘مکرم نے کہا ’’میرے لیے کفن کا ایک ٹکڑا  خریدنا۔ اسے آب زم زم سے دھوکر حرم پاک اور روضہ اقدس سے مس کر کے لانا۔ میرے لیے سفر آخرت میں کام آئے گا۔ ‘‘

    والد صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ مکرم کی ان خواہشات کی تکمیل کی سعی کریں گے۔ مکرم مطمئن ہو گیا اور دعا دے کر چلا گیا۔ اس کے بعد وہ مجھے اکثر ملتا رہا اور مجھ سے میرے والد صاحب اور دوسرے حاجی صاحبان کی خیریت معلوم کرتا رہا۔ ایک مرتبہ تو اس نے میرے ٹیلی فوں پر والد صاحب سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی جو میں نے پوری کر دی۔ اس وقت اس کی حالت دیدنی تھی، وہ بہت خوش تھا، کہنے لگا :

’’ میری آواز ارض مقدس تک جا پہنچی ہے اور وہاں کی فضا سے مجھے آواز سنائی دے رہی ہے۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔ تمھارے احسان کے سامنے میری گردن ہمیشہ خم رہے گی۔ آپ لوگوں سے مل کر تو زندگی سے پیا ر ہو جاتا ہے۔ ‘‘

             والد صاحب  فریضۂ حج کی ادائیگی کے بعد گھر پہنچے تو مکرم بھی پھولوں کے ہار لیے ہمارے گھر آیا۔ والد صاحب نے اس کے مطلوبہ تبرکات اس کے حوالے کیے۔ اس موقع پر اس نے کہا:

        ’’میں نے اب مرنے کی سب تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ آپ میرے لیے دعا کریں۔  آلام روزگار کے مہیب بگولوں نے میری امیدوں کے سب دئیے ایک ایک کر کے گل کر دئیے ہیں۔ اب میں بھی

 کوئی دن کا مہمان ہوں۔ میں اب چراغ سحر ہوں نا معلوم کس وقت اجل کے ہاتھوں زندگی کی یہ شمع بجھ جائے۔ تقدیر کے چاک کو سوزن تدبیر سے رفو کرنا قطعی نا ممکن ہے۔ ‘‘

اس کا چہرہ پیلا ہو رہا تھا اور اس کے ہاتھوں اور جسم پر رعشہ طاری تھا۔ آخر وہ ایک انسان  تھا۔ مسموم حالات اور مصائب کی گردش مدام نے اسے یاس وہراس میں مبتلا کر دیا تھا۔ ہجوم یاس میں وہ اس قدر گھبرا گیا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ اس کا سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا ہے۔ وہ دنیا کے ستم حرف حرف کہنا چاہتا تھا مگر یہاں تو ہر شخص اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے۔ اس شہر نا پرساں میں ایک غریب اور بے بس محنت کش کی چشم تر پر نگاہ التفات ڈالنے کی فرصت کس کو ہے ؟مکرم کی زندگی تو کسی مفلس کی قبا  کے مانند تھی جس میں درد کے اس قدر پیوند لگ چکے تھے کہ اس کی شکل ہی بدل چکی تھی۔

          مکرم کا بیٹا نسیم  بھی اب اس کے ساتھ مل کر سلائی کے کام میں لگ گیا۔ موہن داس کی دکان کے تھڑے پر تو مکرم ہی بیٹھتا جب کہ نسیم اب گھر میں رہ کر سلائی کے کام میں مصروف رہتا۔ نسیم بھی اپنے باپ کی طرح بہت محنتی اور صابر نو جوان تھا۔ ایک تبدیلی یہ ہو ئی کہ مکرم نے اب گاؤں چھوڑ کر اسی قصبے میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ اس کی  وجہ  یہ تھی کہ مکرم کی فالج زدہ معذور اہلیہ کی دیکھ بھال کرنے والا اب کوئی نہیں تھا۔ اس کی بیٹیاں تو کب کی اپنے گھروں کو سدھار چکی تھیں۔ بیٹیاں بھی چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ نہایت مختصر عرصے کے لیے اپنے والدین کے آنگن میں چہچہاتی ہیں اور اس کے بعد جب اپنا گھر بسا لیتی ہیں تو پھر اپنے نئے گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ اس قدر گھل مل جاتی ہیں کہ بیتے دنوں کی یاد انھیں ایک خواب کے مانند محسوس ہوتی ہے۔ بچپن کے لمحات کبھی لوٹ کر نہیں آسکتے، ان بیٹیوں کے لیے ان کی یادیں ہی ان کے لیے ایک سرمایہ ہوتا ہے۔ سیرجہاں کا حاصل حیرت و حسرت کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ مکرم جب بھی اپنی بیٹیوں کو یاد کرتا اس کے منہ سے حرف دعا کے علاوہ کچھ نہ نکلتا۔ اس قصبے میں وہ ایک نیا مکین تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ جو بھی اس کٹھن مرحلے میں اس کے کام آیا وہی اس کا حقیقی مونس و غم خوار ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کے دیرینہ کرم فرما موہن داس نے اس کی قدر افزائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس کی کوششوں سے مکرم کو ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر مل گیا۔ اب اس کی بیوی بھی چارپائی پر بیٹھ کر کپڑے سیتی اور اس طرح یہ تین افراد دن رات ایک کر کے محنت کرتے اور رزق حلال کماتے۔

             سیل زماں کے تھپیڑوں سے مکرم کو کبھی کوئی شکوہ نہ رہا۔ وہ دیانت داری سے یہ محسوس کرتا تھا کہ اس کی  نا آسودگی اور معاشی تشنگی کا موج حوادث کی تند و تیز موجوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ سب کچھ تو نوشتۂ تقدیر ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔ مکرم نے اب اپنے بیٹے کی شادی کے انتظامات پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔ اس کی دلی خواہش تھی کہ جس قدر جلد ممکن ہو وہ اپنے گھر میں اپنی بہو لے آئے اور اس اداس، خاموش اور سونے آنگن میں بہار آ جائے۔ اس کی اپنی زندگی کا سفر تو جیسے تیسے کٹ گیا مگر اس مسافرت میں اس کا پورا وجود کرچیوں میں بٹ گیا۔ زندگی کے اس سفر میں طویل مسافت طے کرنے کے بعد اسے یو ں لگا کہ جیسے سفر کی دھول ہی اب اس کا پیرہن بن چکا ہے۔ اس کے بیٹے کی زندگی  کی رنگینی و رعنائی بھی جیسی اس کی توقع تھی اس کہیں کم محسوس ہوتی تھی۔ ہر گھڑ ی اس کو یہ کھٹکا  لگا رہتا کہ اس کے بیٹے کو کسی کمی کا احساس نہ ہو۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہر انسان زندگی کے سفر میں صدائے جرس کی جستجومیں آبلہ پا دیوانہ وار پھرتا ہے مگر اس کی تمام جد و جہد رائیگاں چلی جاتی ہے اور وہ سرابوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے اور جب وہ خود کو   بے بسی کے عالم میں سکوت کے صحرا میں بھٹکتا ہو ا پاتا ہے تو اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مکرم بھی اب حالات سے بہت مایوس ہوتا چلا جا رہا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کی شادی کے لیے جہاں بھی جاتا اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس کی غربت ہی ا س کی راہ میں سد سکندری بن گئی۔ مکرم کی بیوی موہن داس کی بیٹی لاجونتی  کو للچائی نگاہوں سے دیکھتی تو مکرم اسے غصے سے ٹوکتا۔

          سیٹھ موہن داس بھی اب ضعیفی کی حدود میں داخل ہو چکا تھا۔ وہ اولاد نرینہ سے محروم تھا۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی جس کے لیے موزوں رشتے کی تلاش میں اب تک وہ کامیاب نہ ہو سکا تھا۔ گزشتہ رات اسے دل کا شدید دورہ پڑا اور اسے ایمرجنسی میں پہنچا دیا گیا۔ وہ ایک ہفتہ ہسپتال میں داخل رہا اس دوران میں ا س کی دکان مسلسل بند رہنے کی وجہ سے اسے بہت نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کا المیہ یہ تھا کہ اسے کوئی قابل اعتماد ملازم نہ مل سکا۔ دو تین بارا س نے ملازمین کو کیش پر بٹھایا مگر ہر بار وہ اسے لوٹ کر چلتے بنے۔ موہن داس جب ہسپتال سے واپس آیا تو اس نے مکرم کو بلایا اور کہا:

        ’’میں چاہتا ہوں کہ میری علالت کے دوران تم اور تمھارا بیٹا میرا کاروبار سنبھال لو اور تمام خرچ اور آمد پر کڑی نظر رکھو۔ تمھارا بیٹا میٹرک پاس ہے وہ یہ کام کر سکتا ہے تمھاری مدد کے لیے ایک ملازم جو پہلے سے کام کر رہا ہے وہ بھی موجود رہے گا۔ زندگی نے وفا کی تو میں تمھارے لیے ہر خدمت بجا لاؤں گا، اگر چل بسا تو یہ سب کچھ اپنی نگرانی میں میری بیوی اور بچی کے لیے بہ طور امانت سنبھال رکھنا۔ ‘‘

ابھی مکرم سوچ رہا تھا کہ موہن داس کی اکلوتی بیتی لاجونتی نے روتے ہوئے کہا ’’چچا مکرم آپ بے فکر ہو کر اس کام کو اپنے ذمے لے لیں۔ ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے۔ میں آپ کی بیٹی کی طرح ہوں دیکھیں میرا دل نہ توڑیں ہماری دکان کو اب کوئی اور نہیں سنبھال سکتا۔ آپ کے ساتھ ہمارا درد کا رشتہ ہے۔ جب بھی آپ نے ہمیں پکارا ہم آپ کے نام پہ چلے آئے۔ اب ہم آپ کو مدد کے لیے بلا رہے ہیں ، آپ کیسے انکار کر سکتے ہیں ؟کیا عجب درد کا یہ رشتہ دونوں خاندانوں کی قسمت بدل دے  اور خوش حالی اور خوش نصیبی دونوں کا مقدر بن جائے۔ ‘‘

       مکرم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور  اس کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ تھڑے پر بیٹھ کر وقت گزارنا تو بہت آسان ہے مگر اتنے وسیع کاروبار کو سنبھالنا اور تجوری کی حفاظت اور سب سے بڑھ کر اپنی دیانت کا بھرم قائم رکھنے کے لیے بڑی تپسیا کی ضرورت ہے۔ مال و دولت کی ہوس انسان کو کسی وقت بھی بے حسی کی بھینٹ  چڑھا سکتی ہے۔ یہ سوچتا تو وہ کانپ اٹھتا۔

  لاجونتی کی ماں نے مکرم سے مخاطب ہو کر کہا ’’دیکھو مکرم تم گزشتہ چالیس برس سے ہمارے گھر آ رہے ہو۔ اس عرصے میں تم نے ہمارا ایک پائی کا نقصان نہیں کیا۔ تم نے ہر حال میں ہماری عزت اور وقار کاخیال رکھا ہے۔ آج ہم پر بہت کٹھن وقت آ گیا ہے۔ میرے شو ہر کو معالج نے ایک برس مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ ہم سخت مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ اب تم جانو اور دکان جانے یہ میرا حکم ہے۔ ‘‘

      لاجونتی نے دکان کی چابیاں مکرم کے حوالے کرتے ہوئے کہا ’’ آج سے دکان کے تمام معاملات کی نگرانی تمھارے ذمے ہے۔ تمھارے گھر کے تمام اخراجات ہم پورے کریں گے ‘‘

’’ آپ سب سچ کہہ رہے ہیں۔ ہم غریب لوگ درد کے رشتے کو خوب سمجھتے ہیں ‘‘مکرم نے روتے ہوئے کہا ’’میری بیٹیوں کی شادی کا تمام جہیز موہن داس نے بنایا۔ میری بیوی کے علاج کے لیے موہن داس نے  میری مالی مدد کی۔ میں آپ کی خدمت ضرور کروں گا لیکن اس کے بدلے کوئی مالی مفاد حاصل نہ کروں گا۔ ہم لوگ غریب ضرور ہیں مگر آپ کے احسانات کے سامنے ہماری گردن خم رہے گی۔ ‘‘

         ’’جو کچھ ہم نے کیا وہ ہمارا فرض تھا ‘‘لاجونتی کی ماں بولی ’’تمھاری بیٹیاں  ہماری اپنی بیٹیاں ہی تو تھیں ہم نے کوئی احسان نہیں کیا۔ اب تم ہم پر یہ احسان کرو کہ اس مشکل گھڑی میں کاروبار کو ڈوبنے سے بچاؤ۔ موہن داس ٹھیک ہو جائے گا تو سب کچھ سنبھال لے گا۔ تمھاری اس نیکی کا صلہ ہم کبھی نہیں دے سکتے۔ کیا عجب مقدر کے اس کھیل میں حالات کوئی نیا اور مثبت