کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شہزادی

خواجہ اشرف


کہانیاں بہت ہیں اور وقت کم۔ کس کی کہانی پہلے سنوں اور احاطہ تحریر میں لاؤں اور کس کی بعد میں۔ وہ پہاڑی لڑکی جس نے مری کی پہاڑیوں میں مال روڈ پر چلتے ہوئے مجھ سے مد د کی درخواست کی تھی یا گھانا سے اغوا کی کئی اس نوجوان لڑکی کی جسے پہلے ساؤتھ افریقا میں بیچا گیا اور بعد میں امریکہ لا کر غلام کی طرح خادمہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔

 

یا اس نومولود ایرانی بچے کی جس کو اس کی ماں سمیت اس لئے سنگ زنی سے ہلاک کر دیا گیا کہ اس نے اس مہذب انسانوں کی دنیا میں محبت کے ایک وقتی کی ابال کے سہارے داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ کئی کہانیاں آنسوؤں سے پر ہیں اور کئی قہقہوں سے۔

 

دنیا بھر کے دکھی انسانوں کو دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ صرف قہقہوں کی گونج پر تیرتی کہانیوں کو احاطہ تحریر میں لاؤں لیکن پھر پاکستان میں ایک عیسائی عورت میرا دامن پکڑ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے نبی اسلام کی توہین کی ہے۔ چنانچہ اس الزام میں اُسے پھانسی دی جا رہی ہے۔ میں ابھی اس کی مکمل بات سن نہیں پاتا کہ ایک مفلوک الحال شاعر اپنی آزاد نظم سنانے کی درخواست کرتا ہے۔

 

"یار میں شاعری کے ذوق سے بالکل محروم ہوں۔ کیا تم اپنی نظم کسی اور آدمی کو نہیں سنا سکتے۔ " وہ میرا جواب سن کر آزردہ ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرے لگتے ہیں۔

 

"میرے ساتھ زندگی نے نا انصافی کی ہے اور تم بھی مجھ سے بے اعتنائی برت رہے ہو۔ میری نظم نہیں سننا چاہتے تو نہ سنو لیکن بات تو ٹھیک طرح سے کرو۔"

 

ابھی میں اپنے شاعر دوست کو جواب نہیں دے پاتا کہ ایک سیاہ فام بھکارن میرے پاس پہنچ جاتی ہے۔ وہ مجھ سے فالتو سکوں کے بارے میں پوچھتی ہے۔

 

میں اُس سے اُس کا نام پوچھتا ہوں۔ وہ اپنے لباس سے ٹپکتی غربت کے باوجود مجھے کہتی ہے کہ اُس کا نام "شہزادی " ہے۔

 

اُس کا نام سن کر میں ایک لمبی ٹھنڈی سانس بھرتا ہوں۔ اپنی جیب سے نکال کر تمام سکے یہ کہتے ہوئے اُس کے حوالے کر دیتا ہوں کہ اگر وہ شہزادی ہے تو اُسے زندگی میں کسی نہ کسی شہزادے کو ڈھونڈنا چاہئے۔ لیکن وہ میری بات سنے بغیر سکے لے کر چل پڑتی ہے۔

 

شاعر عجیب نظروں سے میری طرف دیکھتا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اُسے بھکارن کے میری بات سنے بغیر چلے جانے سے خوشی ہوئی ہے۔

 

آخر وہ اپنی آنکھوں میں چھپی بات اپنی زبان پر لے آتا ہے۔

 

"دیکھا تم نے میری نظم سننے سے جس بے دردی سے انکار کیا تھا اُ سے سیاہ فام بھکارن نے کس طرح تم سے چند سکے لے کر تمہاری بات سنے بغیر فوراً کس طرح برابر کر دیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ اُس نے تمہاری بات نہیں سنی۔ "

 

میں شاعر کے طنزیہ جملے کا جواب دیئے بغیر آگے چل پڑتا ہوں۔ مری کی پہاڑیوں پر چلتی مد د مانگنے والی لڑکی کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ گھانا سے اغوا ہونے والی لڑکی بھی کہیں ہجوم میں گم ہو چکی ہے۔ میں نیویارک میں پارک ایونیو پر آوارگی کر رہا ہوں۔

 

برفباری کی وجہ سے میں نے سر پر ٹوپی ، آنکھوں پر ڈارک شیشوں کی عینک، ہاتھوں پر اونی دستانے اور اپنے نحیف و نزار جسم پر سیاہ رنگ کا اوور کوٹ پہن رکھا ہے۔

 

گھر سے نکلتے وقت میں نے سردی سے بچنے کا پورا انتظام کیا تھا لیکن اس کے باوجود ٹھنڈ میری ہڈیوں میں سرائت کر رہی ہے۔

 

میں ایک میکڈانلڈ میں داخل ہو جاتا ہوں۔ میرے ذہن میں ہے کہ میکڈانلڈ سے چائے کا یک کپ خریدوں گا اور گھنٹہ بھر یہیں بیٹھ کر ٹی وی دیکھوں گا۔ برفباری میں کمی واقع ہو گی تو زیر زمین ٹرین پکڑ کر گھر واپس جاؤں گا۔

 

میکڈانلڈ میں داخل ہونے کے بعد مجھے یاد آتا ہے کہ میں اپنا بٹوا گھر بھول گیا تھا۔ میری جیب میں وہی چند سکے تھے جو میں نے سیاہ فام "شہزادی" کو دے دیئے تھے۔

 

میں تھوڑا سا پریشان ہوتا ہوں اور پھر میکڈانلڈ کے باتھ روم میں پیشاب کرنے کے لئے داخل ہو جاتا ہوں۔ پیشاب کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو پہلے مجھے اپنے دستانے اتارنے پڑتے ہیں۔ دستانوں سمیت انگلیوں سے اوور کوٹ کے بٹن کھولنا خاصہ مشکل کام ہے۔ دستانے اتار کر اوور کوٹ کے بٹن کھولتا ہوں۔ پھر پینٹ کی زپ کھولنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن انگلیاں اس حد تک سرد ہو چکی ہیں کہ مجھے پینٹ کی زپ پکڑنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔

 

پیشاب کا دباؤ بڑھ جاتا ہے لیکن مجھ سے زپ کھل نہیں پاتی۔ آخر بہت مشکل کے ساتھ زپ کھولتا ہوں۔ پیشاب کرتا ہوں تو مجھے کچھ راحت محسوس ہوتی ہے۔ میں زپ بند کر کے اوور کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ہاتھوں پر اونی دستانے پہنتا ہوں۔ باتھ روم سے نکلتا ہوں تو مجھے "شہزادی " دکھائی دیتی ہے۔ وہ خواتین کے باتھ روم سے باہر نکل رہی ہے۔

 

میں اُسے دیکھ کر ہاتھ ہلا کر اُسے پکارتا ہوں : "ہائے شہزادی۔" وہ میرے مخاطب کرنے پر مجھے گھور کر دیکھتی ہے

 

میں پھر ہاتھ ہلا کر اُسے پکارتا ہوں : "ہائے شہزادی۔" وہ مجھے جواب دیئے بغیر آگے بڑھ کر کاؤنٹر پر لگی لائن میں کھڑی ہو جاتی ہے۔

 

میں بھی اُس کے پیچھے جا کر لائن میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔ اُسے اپنے پیچھے میرا لائن میں کھڑا ہونا اچھا نہیں لگتا۔ میں پھر اُسے "شہزادی "کہہ کر پکارتا ہوں لیکن وہ کہتی ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہے اور اُس کا نام "شہزادی " نہیں ہے۔

 

میں اُسے یاد دلاتا ہوں کہ اُس نے ابھی سڑک پر مجھ سے ایک بھکارن کی طرح چند سکے مانگے تھے۔ میں نے اپنی جیب سے سارے سکے نکال کر اُسے دے دیئے تھے۔ میرے استفسار پر اُس نے مجھے اپنا نام "شہزادی " بتایا تھا۔

 

وہ خشمگیں نگاہوں سے میری طرف دیکھتی ہے۔ "تم مجھے تنہا چھوڑو گے یا میں بلاؤں پولیس کو۔" میں پولیس کا نام سن کر اُسے لائن میں چھوڑ کر میکڈانلڈ سے باہر نکل آتا ہوں۔

 

باہر ابھی تک برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی فٹ برف گر چکی ہے لیکن تا حال برفباری رکنے کا نام نہیں لے رہی۔

 

لیکن برفباری کے باوجود نیویارک متحرک ہے۔ گاڑیاں چل رہی ہیں۔ لوگ سڑکوں پر آ جا رہے ہیں۔ میں جدھر دیکھتا ہوں کہانیاں میرے ارد گرد بکھری ہیں۔ کئی کہانیاں میں نے جیبوں میں اُڑس لی ہیں کہ مناسب وقت پر انہیں لکھوں گا۔

 

کہانیاں بہت ہیں اور وقت بہت کم۔ لیکن میں ابھی تک مری میں مال روڈ پر ملنے والی اس پہاڑی لڑکی کی تلاش میں ہوں۔ وہ مجھے کچھ کہنا چاہتی تھی۔ لیکن میں اس کی بات سنی ان سنی کر کے آگے بڑھ گیا تھا۔ پھر گھانا سے اغوا ہو کر ساؤتھ افریقا اور وہاں سے امریکہ اسمگل ہونے والی لڑکی۔ شاید میں اُسے غلامی کی مشقت سے نجات دلا سکوں۔ اور وہ بے چاری عیسائی عورت جس پر نبی اسلام کی توہین کا الزام لگا کر اُسے موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یا وہ نومولود ایرانی بچہ جسے اس کی ماں سمیت سنگسار کر دیا گیا تھا۔ اُس کی ماں بہت چیخی چلائی تھی۔ ہر پتھر پر اُس کی دلدوز صدائیں فضا میں بلند ہوتی تھیں۔ لیکن اُس نومولود نے تو ایک چیخ بھی بلند نہیں کی تھی۔

 

آنسوؤں سے بھری کہانیاں۔ قہقہوں سے شرابور کہانیاں۔ کونسی پہلے لکھوں۔ اور کسے کسی اور وقت کے لئے موخر کر دوں۔

 

وہ شاعر ابھی تک برفباری میں پھر رہا ہے۔ میں اسے آواز دیتا ہوں۔ فی الحال اُس کی نظم سننا سب سے آسان کام ہے۔

 

میں اُسے آواز دیتا ہوں لیکن وہ سنی ان سنی کر کے چلا گیا ہے۔ "شہزادی " چائے کا کپ پکڑے میکڈانلڈ سے ابھی ابھی باہر آئی ہے۔ وہ کسی اور راہگیر سے فالتو سکے مانگ رہی ہے۔ میری آنکھوں سے آنسو گر کر میرے گالوں پر جمتے جا رہے ہیں۔ میں شاعر کی بے رخی دیکھ کر خود ہی کچھ لائنیں گھڑ لیتا ہوں۔

 

"اسے زندگی میں تجھ سے شرمسار ہوں

 

انسان اتنے بے ضمیر اور بے حس بھی ہو سکتے ہیں۔

 

کیا یہ سب تیرے بیٹے بیٹیاں ہیں ؟ "

 

"شہزادی " راہگیر سے چند سکے لے کر میرے قریب سے گزرتی ہے۔ وہ میری نظم سن کر رک جاتی ہے۔ مجھے پوچھتی ہے :

 

"تم رو کیوں رہے ہو؟"

 

"تم نے مجھے دکھی کر دیا ہے۔" میں اُسے جواب دیتا ہوں۔

 

"دیکھو اجنبی۔ یہ زندگی ہے۔ اسے جینا سیکھو۔ اس طرح دکھی ہو گے تو کیسے چلے گا۔ میں ایک بھکارن ہوں۔ سڑک پر سوتی ہوں۔ لوگوں سے پیسے مانگ کر گزارہ کرتی ہوں۔ کل کی فکر نہیں کرتی۔ نہ گزرے کل کی نہ آنے والے کل کی۔

 

میں گھانا میں پیدا ہوئی تھی۔ اغوا کاروں نے مجھے اغوا کر کے کئی ملکوں میں کئی ہاتھوں میں بیچا۔ مجھ سے مشقت لی۔ میرے ساتھ زیادتیاں کیں۔ مجھے اپنا پیدائشی نام بھی یاد نہیں۔ کوئی پوچھتا ہے تو کہہ دیتی ہوں میرا نام شہزادی ہے۔ "

 

میں اُس کی کہانی سن کر آگے چل پڑتا ہوں۔

 

وہ مجھے پوچھتی ہے کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ میں اُس بتاتا ہوں کہ میں گھر جار ہا ہوں۔ وہ پوچھتی ہے کہ میں کہیں قریب ہی رہتا ہوں۔ میں کہتا ہوں نہیں میں وہاں سے بہت دور رہتا ہوں۔ وہ کہتی ہے ٹرین کیوں نہیں پکڑتے۔ میں کہتا ہوں کرائے کے پیسے نہیں۔

 

وہ اپنی جیب سے چند سکے نکال کر میری ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہتی ہے :

 

"لو اتنے پیسوں سے نیویارک میں تم زیر زمین ٹرین پر کہیں بھی جا سکتے ہو۔ " میں نہیں نہیں کرتا ہوں لیکن شہزادی پیسے میری ہتھیلی پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

 

برفباری ابھی تک جاری ہے۔ کہانیاں میرے ارد گرد بکھری ہیں۔ میں سب کچھ بھول کر زیر زمین ٹرین اسٹیشن کے لئے بنی سیڑھیاں اُتر رہا ہوں۔

 

ٹرین میں بیٹھ کر مری میں مال روڈ پر ملنے والی لڑکی کے بارے میں سوچوں گا۔ گھانا سے اغوا ہونے والی شہزادی سے ملاقات تو ہو گئی ہے۔ شاید مری والی پہاڑی لڑکی سے بھی کہیں ملاقات ہو جائے۔

 

 باقی رہی ایران میں سنگسار ہونی والی لڑکی اور اس کا نومولود بیٹا اور پاکستان میں نبی اسلام کی توہین کر کے سزائے موت پانے والی عیسائی عورت۔

 

ان کی کہانیاں میری جیب میں اُڑسی ہیں۔ کبھی نہ کبھی وقت ملا تو وہ بھی لکھوں گا۔ وقت کم ہے اور کہانیاں بہت زیادہ۔

٭٭٭