کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پنشن

خواجہ اشرف


وہ دیر تک سڑک پر کھڑا آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہا۔ اسے لگا کہ یہ لوگ پہلے ایسے نہیں تھے۔ اب ان میں کچھ مختلف تھا۔ لیکن کیا مختلف تھا اس کا اندازہ لگانے کے لئے اسے کچھ انتظار کرنا پڑا۔

 

اس انتظار میں اس کا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا۔ یہ بھول بھلیاں کہاں سے شروع ہوتی تھیں اور کہاں ختم اس کا اسے کوئی اندازہ نہیں تھا۔

 

وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا تھا۔ گاؤں کیا تھا چند سو گھروں کا مجموعہ تھا۔ جس کے ارد گرد چاروں طرف کھیت تھے۔ دو طرف سیلابی ندیاں تھیں اور دو طرف نہریں۔

 

یہ نہریں اور سیلابی ندیاں گوروں نے بنائی تھیں۔ گوروں کا خیال آتے ہی اس کا ذہن مال روڈ کی طرف مڑ گیا۔ مال روڈ بھی تو گوروں نے بنایا تھا۔ اور مال روڈ کے ارد گرد پھیلی عمارتیں۔ ہائی کورٹ، گورنمنٹ کالج، جی پی او اور میوزیم۔ کتنی عمارتیں تھیں جو گوروں کے جانے کے بعد بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ مال روڈ پر آتے جاتے لوگوں کو اپنے بنانے والوں کی یاد دلاتی رہتی تھیں۔

 

مال روڈ کی عمارتوں کے بعد اس کا ذہن پھر گاؤں کی طرف چلا گیا۔ چاچا کریم دارے میں چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ وہ چاچے کریم کے پاس نیچے سروٹ کی بنی ایک چٹائی پر بیٹھا تھا۔

 

"بیٹا گورے بہت اچھے لوگ تھے۔ وہ ہمیشہ ایسے کام کرتے تھے جن سے عا م لوگوں کی بھلائی ہوتی تھی۔ ان کے برعکس مسلمان بادشاہ ہمیشہ اپنے لئے محلات اور بارہ دریاں بناتے تھے۔"

 

چاچا کریم ان پڑھ آدمی تھا۔ جوانی میں ریلوے میں ملازم تھا۔ اب اسے ریلوے سے پینتیس روپے پنشن ملتی تھی۔ اس کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ سب کے سب شادی شدہ تھے۔ بیٹے تو اس کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ لیکن بیٹی قریبی گاؤں میں بیاہی تھی۔

 

وہ سردیوں گرمیوں میں سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ گھر سے چارپائی اٹھائے دارے میں آتا اور سورج کی آخری کرنوں تک وہیں بیٹھا حقہ پیتا اور آنے جانے والوں کے ساتھ گپ شپ کرتا۔

 

سردیوں میں وہ اپنی چارپائی ایسی جگہ جماتا جہاں دھوپ براہ راست پڑتی۔ جیسے جیسے دن گرم ہوتا اس کی چارپائی دھوپ سے درختوں کے سائے کی طرف سرکتی جاتی۔

 

گرمیوں میں وہ اپنی چارپائی درختوں کی چھاؤں میں بچھاتا۔ زیادہ گرمی ہوتی تو اپنا کرتا اتار لیتا۔ ورنہ کھلے میں ہونے کی وجہ سے کرتے میں ہونے کے باوجود ٹھنڈی ہوا کے مزے لوٹتا اور حقہ گڑگڑاتا رہتا۔

 

کاما صبح سکول جاتا تو دور سے چاچے کریمے کو سلام کرتا۔ چاچا بہتیرا کہتا کہ وہ چند لمحے اس کے پاس رک جائے لیکن وہ بغیر چاچے کریمے کے پاس رکے سکول چلا جاتا۔ تاہم سکول سے واپسی پر وہ فوراً سکول سے ملے گھر کے کام والی کتابیں اٹھا کر دارے میں چاچے کریمے کے پاس چلا آتا۔

 

وہ چاچے کے پاس بچھی چٹائی پر اپنی کتابیں رکھ کے سکول کا کام کرنا شروع ہو جاتا۔ کام کے ساتھ ساتھ اس کی چاچے کے ساتھ گفتگو چلتی رہتی۔

 

چاچا جب بھی گوروں کی بات کرتا وہ ہمیشہ چاچے کو تنگ کرتا:

 

"چاچا اگر گورے اتنے اچھے تھے تو تم گوروں کے ساتھ ان کے دیس کیوں نہ چلے گئے۔ یہاں دارے میں بیٹھنے کی بجائے لندن میں کسی پارک میں بیٹھ کر حقہ پیتے۔"

 

"اوئے کامے۔ تمہیں کیا پتہ کہ گورے کتنے اچھے لوگ۔ اب دیکھو ناں۔ انہوں نے کیسا انتظام کیا تھا۔ میں ریلوے میں معمولی ملازم تھا۔ ریل کی پٹریوں پر صاحب کی ٹرالی دوڑاتا تھا۔ ساری عمر ٹرالی دوڑائی۔ ہمیشہ صحت مند رہا۔ کوئی بیماری قریب نہیں آئی۔ اب پچاسی برس کا ہو کر بھی نوجوانوں سے پنجہ لڑاتا ہوں۔ دن بھر حقہ پیتا ہوں۔ عزت سے بڑھاپا کاٹ رہا ہوں۔ پنتیس روپوں میں میرا اور تمہاری چاچی کا اب بھی اچھا گزارہ ہوتا ہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے اور گوروں کی جگہ کالے انگریز حکمران ہوئے ہیں کوئی چیز ٹھیک نہیں۔ "

 

پھر سڑک پر کھڑے کھڑے اس کا ذہن چاچے کریمے سے سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کی طرف مڑ جاتا۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں ، ویگنیں ، رکشے ، موٹر سائیکلیں اور انسانی ٹانگوں سے چلتے سائیکل اندھا دھند سڑک پر دوڑتے چلے جاتے۔ وہ سب پریشان حال کسی نہ کسی سمت بھاگتے دکھائی دیتے۔

 

"یہ سب کیوں پاگل ہوئے جا رہے ہیں۔آخر یہ تھوڑی دیر رک کر، بس تھوڑی دیر، کہیں بیٹھ کیوں نہیں جاتے۔ کہیں بیٹھ کر حقہ کیوں نہیں پیتے۔ گپ شپ کیوں نہیں کرتے۔"

 

حقے کے نے کی گڑگڑاہٹ کے پیچھے اسے پھر چاچے کریمے کی آواز سنائی دیتی۔

 

"اگر گورے ہندوستان نہ آتے۔ تو نہ ریلوے لائن ہوتی۔ نہ اسکول ہوتے۔ نہ کالج بنتے۔ نہ لڑکے لڑکیاں تعلیم پاتے۔ اور نہ مجھے پینتیں روپے ماہانہ پنشن ملتی۔ میں فراغت سے دارے میں بیٹھ کر حقہ پینے کی بجائے کسی آڑھت پر بوریاں اٹھاتے اپنی کمر تڑوا کر کب کا مر کھپ چکا ہوتا۔ "

 

چاچے کریمے کی باتیں سن کر اسے لگتا کہ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ لیکن گورے غیر ملکی حکمران تھے۔ وہ ہندوستان پر قابض تھے۔ انہوں نے ہندوستان فتح کیا تھا۔ سارے ہندوستانی ان کے غلام تھے۔ گوروں کے جانے کے بعد ہندوستانی بھی آزاد تھے اور پاکستانی بھی۔

 

ہندوستانی کس حال میں تھے۔ اس کا تو اسے کوئی اندازہ نہیں تھا۔ لیکن پاکستانی بیمار تھے۔ سب کے سب۔ اوپر سے نیچے تک۔ اوپر والے زیادتیاں کرتے تھے اور نیچے والے زیادتیاں برداشت کرتے تھے۔ اوپر والوں کو زیادتیاں کرتے شرم نہیں آتی تھی اور نیچے والوں کی زیادتیاں سہتے غیرت نہیں جاگتی تھی۔

 

عزت اور غیرت کی اوٹ سے اسے پھر چاچے کریمے کے حقے کی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔

 

ایک دن دارے میں بیٹھے چاچے کریمے نے اسے اپنے ہی گاؤں کا ایک واقعہ سنایا تھا۔ گاؤں کے چوہدری نے اپنے ہی ایک کمی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

 

کمی نے گورے صاحب سے روتے ہوئے انصاف کی درخواست کی تھی۔ گورے صاحب نے گاؤں آ کر سارے گاؤں میں پنچایت لگائی۔ اس نے سارے گاؤں والوں سے پوچھا تھا کہ چوہدری کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔

 

سارے گاؤں کا فیصلہ تھا کہ چوہدری کی کمی کی بیٹی سے شادی کر دی جائے۔ ساری زمین اس کے نام کی جائے اور وہ باقی کی ساری زندگی اس کا وفادار شوہر بن کر کاٹے۔

 

گورے صاحب نے وہیں پٹواری کو بلا کر چوہدری کی ز مین کمی کی بیٹی کے نام کی۔ مولوی صاحب کو بلا کر چوہدری کا اس کا نکاح اس کے ساتھ پڑھوایا۔ چوہدری کی ساری اولاد اسی کمی کی بیٹی سے پیدا ہوئی۔ کسی نے علی گڑھ سے بی اے کیا اور اب اپنے نام کے ساتھ علیگ لکھتا ہے اور کسی نے کے ای ایم بی بی ایس کیا اور اب وہ ڈاکٹر ہے۔

 

اب کالے انگریزوں کے زمانے میں روز لوگ مر رہے ہیں۔ کوئی بھوک سے۔کوئی ننگ سے۔ نہ مرنے والوں کو شرم آتی ہے۔ نہ ان کو جن کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

 

وہ سڑک کے کنارے کھڑا آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ گاڑیاں ، ویگنیں ، رکشے اب بھی پوری رفتار سے بھاگے جا رہے تھے۔ ہر کوئی دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن اس دوڑ میں بھی منظر میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی تھی۔ اس قدر تیز رفتاری کے باوجود منظر اسی طرح ایک جگہ ٹھہرا تھا۔ گاڑیاں ، ویگنیں اور رکشے بدل رہے تھے لیکن منظر۔۔۔آخر منظر کے ٹھہراؤ سے اس کی آنکھیں پتھرانا شروع ہو گئیں۔ اس نے چند لمحوں کے لئے ادھر ادھر دیکھ کر اپنی آنکھوں کو پتھرانے سے روکنا چاہا لیکن اس فضول حرکت سے اسے کچھ حاصل نہ ہوا۔ گاڑیاں ، ویگنیں او ر رکشے اسی طرح بھاگتے رہے لیکن منظر اسی طرح ٹھہرا رہا۔ اس کی آنکھیں اسی طرح پتھرائی رہیں۔ جامد و ساکت کسی تبدیلی کے احساس کے بغیر۔

 

ایک دھواں چھوڑتی ویگن کا دھواں اس کے نتھنوں میں گھسا تو اسے پھر چاچا کریما یاد آیا:

 

"یہ بد بخت کوئی کام ٹھیک نہیں کر سکتے۔ کامے ہم تو گاؤں میں رہتے ہیں۔ تم لاہور جاؤ گے تو دیکھو گے کہ گوروں نے کتنا خوبصورت شہر بنایا تھا اور اب ان کالے انگریزوں نے اس شہر کا کیا حال کیا ہے۔ "

 

"لیکن چاچا لاہور میں تو شاہی قلعہ ہے۔ بادشاہی مسجد ہے۔ شالیمار ہے۔ بارہ دریاں ہیں۔ سب مغلوں نے بنائی تھیں۔" اس نے چاچے کریمے کو لقمہ دینے کی کوشش کی۔

 

چاچے نے حقہ گڑگڑاتے ہوئے اسے جواب دیا: "قلعہ بادشاہوں نے اپنے لئے بنایا تھا۔ لیکن اب یہ مختلف سوچ رکھنے والوں کی دماغی اصلاح کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بارہ دریاں اور شالیمار بھی انہوں نے اپنے لئے بنائے تھے۔ اور بادشاہی مسجد لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لئے بنائی تھی کہ بادلوں سے اوپر، ستاروں کے اس پار، آسمانوں سے ماورا ایک عرش ہے اور عرش پر ایک خدا بیٹھا ہے جس کا سایہ بادشاہ سلامت ہے۔ پانچ وقت اس عرش پر بیٹھے خدا کے لئے زمین پر سر رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا سر ہمیشہ بادشاہ کے سامنا جھکا رہے جو اس زمین پر اس خدا کا سایہ ہے۔ "

 

اس کی پتھرائی آنکھیں ٹھہرے منظر میں سڑک پر دوڑتی گاڑیاں ، ویگنیں ، رکشے اور سائیکلیں دیکھتی رہیں لیکن اس کا ذہن مسلسل چاچے کریمے کے ساتھ مکالمے میں مصروف رہا۔ چاچا مسلمان بادشاہوں سے پھر گوروں کی طرف لوٹ آیا تھا۔

 

"گورے اب بھی اپنے ملکوں میں ہر کام کرنے سے پہلے اپنے عوام کا مفاد دیکھتے ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو، سوچ بچار، بحث مباحثہ اس لئے ہوتا ہے کہ اپنے لوگوں کو کیسے فائدہ پہنچایا جائے۔ ان کی زندگی میں کیسے بہتری لائی جائے لیکن ان کے یہ کالے نائبین ہر کام کرنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ اس میں ان کا کتنا فائدہ ہے۔ "

 

"چاچا۔ پلیز تم گوروں کو یاد کرنا چھوڑ دو۔ اب تمہاری پنشن کے پینتیس روپے لندن سے نہیں آتے۔ حکومت پاکستان کے خزانے سے آتے ہیں۔"

 

"خزانہ۔۔۔"

 

اس کے منہ سے خزانے کا لفظ سن کر چاچے کے حقے کی گڑگڑاہٹ تیز ہو گئی۔ دارے میں ہوا تیزی کے ساتھ چلنا شروع ہو گئی۔ چاچے نے اپنی قمیض پہن لی۔

 

سڑک پر گاڑیاں ، ویگنیں ، رکشے اور سائیکلیں پوری رفتار سے دوڑ رہے تھے لیکن منظر اسی طرح ٹھہرا رہا۔ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

 

اس نے پتھرائی آنکھوں سے دیکھا اس کے گاؤں کا ایک شخص اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ وہ گامے موچی کا بیٹا للّو تھا۔

 

"للّو تم۔۔۔کب آئے ہو گاؤں سے ؟" کامے نے گامے موچی کے بیٹے للّو کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "کیا گاؤں میں سب ٹھیک ہے ؟"

 

"سب ٹھیک ہے۔ صرف چاچا کریما فوت ہو گیا ہے۔ دارے میں بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ ڈاکیئے نے خط لا کر دیا۔ اس نے پڑھنے کے لئے کہا۔ سرکاری خط تھا۔ خط میں لکھا تھا۔ حکومت کا خزانہ خالی ہو چکا ہے۔ اب اس کو ادا کرنے کے لئے حکومت کے پاس پینتیں روپے نہیں۔ اس نے خط سنا۔ حقے کا لمبا کش لیا۔ اور یہ کہہ کر چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں کہ جن کالے گوروں کے دیس کے خزانے میں ادا کرنے کے لئے پنشن کے پینتیس روپے نہ ہوں وہاں جی کے کیا کرنا۔"

 

گاڑیاں ، ویگنیں ، رکشے اور سائیکلیں سڑک پر ویسے ہی دوڑ رہی تھیں۔ لیکن منظر اسی طرح ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ للّو کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا چل دیا۔

 

اس کا دل بوجھل تھا۔ چاچے کریمے کے بغیر گاؤں کا دارہ کتنا خالی ہو گا۔ وہ سوچ رہا تھا۔ پھر اس نے دیکھا چاچا کریما اب بھی دارے میں چارپائی پر بیٹھا حقہ گڑگڑا رہا تھا۔

 

"گورے کتنے اچھے لوگ تھے۔ ہر کام لوگوں کے لئے کرتے تھے۔ اور یہ کالے انگریز۔۔۔۔" وہ کہہ رہا تھا۔

٭٭٭