کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

صدر محترم

خواجہ اشرف


سڑک پر جہاں تک نظر جاتی تھی لوگ ہی لوگ تھے۔ انسانی سروں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ مرد، عورتیں ، لڑکیاں ، لڑکے ، بچے اور بوڑھے تھے کہ چلے آ رہے تھے۔ آج اتنے لوگ کہاں سے سڑکو ں پر نکل آئے تھے کسی کو اندازہ نہیں تھا۔

 

نہ انہیں کسی نے سڑکوں پر آنے کی دعوت دی تھی۔ نہ ان کا کوئی لیڈر تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ ایک تار ہے جس میں وہ سب پروئے ہیں اور جانتے ہیں کہ انہیں کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے۔

 

وہ سب ملک کے دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دارالحکومت جا کر انہیں کیا کرنا تھا اس کا بھی انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ بس وہ چل رہے تھے۔ چل رہے تھے۔ اور چلتے جا رہے تھے۔

 

وزارت داخلہ کے وزیر نے صدر محترم کو بتا یا کہ سارے ملک سے لوگ دارالحکومت کی طرف بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں روکنے کے لیے ہمارے پاس کوئی فورس نہیں۔ ہم کچھ بھی کر لیں ان کے سامنے کتنی بھی رکاوٹیں کھڑی کر لیں وہ رکنے والے نہیں۔ وہ دارالحکومت پہنچ کر رہیں گے۔

 

وزارت داخلہ کے وزیر کی رپورٹ سن کر صدر محترم کی بتیسی کھل اٹھی۔ اپنے میلے دانتوں ، اور ہوس سے بھری آنکھوں کے ساتھ ، ہنستے ہوئے صدر محترم نے فرمایا کہ جو بھی ہو لوگوں کے اس طوفان کو دارالحکومت نہیں پہنچنا چاہیئے۔

 

"صدر محترم میں نے سارے ملک کے پولیس کے انسپکٹروں سے درخواست کی ہے کہ وہ لوگوں کو دارالحکومت کی طرف سے بڑھنے سے روکیں لیکن سب نے معذرت کر لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام کے اس بپھرے ہوئے سمندر کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں۔ "

 

وزارت داخلہ کے وزیر نے خوف زدہ لہجے میں مصنوعی اعتماد پیدا کرتے ہوئے جواب دیا۔

 

میلے دانتوں اور ہوس بھر ی آنکھوں سے ہنستے ہوئے وزارت داخلہ کے وزیر سے کہا :"اگر سارے ملک کے پولیس انسپکٹر انسانوں کے اس امڈتے سیلاب کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو فوج کے چیف کو کال کرو۔ اسے کہو کہ وہ فوجیوں کو حکم دے کہ وہ کروڑوں انسانوں کو دارالحکومت کی طرف بڑھنے سے روکیں۔"

 

"صدر محترم میں نے کوشش کی تھی کہ فوج کے کمانڈر انچیف سے رابطہ کروں لیکن کمانڈر انچیف کا پرائیوٹ سیکرٹری، کوئی کرنل ہے ، مجھے اس کا نام یاد نہیں ، کہتا ہے کہ میں کمانڈر انچیف سے بات نہیں کر سکتا۔ " وزارت داخلہ کے وزیر نے پھر اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔

 

"کیا تم نے اسے بتایا تھا کہ کروڑوں لوگ دارالحکومت کی طرف بڑھے آ رہے ہیں ؟" صدر محترم نے وزارت داخلہ کے وزیر سے پوچھا۔ پھر خود کلامی کرتے ہوئے بولے : "نہ جانے وہ دارالحکومت آ کر کیا کریں گے۔ اتنے لوگوں کو یہاں آنے کیا ضرور ت تھی۔ ہم ہیں ناں یہاں پر۔ ان کے نمائندے۔ ان کو دارالحکومت کا راستہ کس نے دکھایا ہے ؟" ان کی خود کلامی میں بھی ان کی ناراضگی عیاں تھی۔ وزیر داخلہ نے صدر محترم کی خود کلامی کا جواب دیتے ہوئے کہا:

 

"ہم نہیں جانتے صدر محترم انہیں دارالحکومت کی طرف کس نے بھیجا ہے۔ ظاہراً کوئی ان کی قیادت نہیں کر رہا۔ کچھ سیاست دانوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ طرح طرح سے انہیں دارالحکومت آنے سے روکا لیکن وہ رکتے دکھائی نہیں دیتے۔ بس بڑھے چلے آ رہے ہیں۔"

 

"اچھا مجھے فوج کے کمانڈر انچیف سے ملاؤ۔ میں اسے خود حکم دوں گا کہ وہ جائے اور جا کر اتنے گنوار اور جاہل لوگوں کو دارالحکومت کی طرف آنے سے روکے۔" صدر صاحب نے غصے سے چلاتے ہوئے وزارت

 

داخلہ کے وزیر کو ہدایت کی۔

 

صدر صاحب کے کہنے پر وزیر داخلہ نے فون کے نمبر دبائے تو دوسری طرف سے اسی کرنل کی پھر آواز سنائی دی:"میں نے تمہیں پہلے منع کیا تھا کہ کمانڈر انچیف صاحب تم سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ تم پھر ہمیں کال کر رہے ہو۔"

 

وزیر داخلہ نے صدر محترم کی موجودگی میں تھوڑا حوصلہ دکھاتے ہوئے کہا: "کرنل صاحب اب میں نہیں صدر محترم کمانڈر انچیف صاحب سے بات کرنا چاہتے ہیں۔"

 

"یہ صدر محترم کون ہے۔ اس ملک میں صرف ہم محترم ہے۔ ہمارے علاوہ یہ دوسرا محترم کون پیدا ہو گیا ہے۔" کرنل صاحب نے دھاڑتے ہوئے وزیر داخلہ کو جواب دیا۔

 

"کرنل صاحب ، صدر محترم آرمڈ فورسز کے سپریم کمانڈر ہیں۔" وزیر داخلہ نے وضاحت کی۔

 

"ہم کسی ایسے عہدیدار کو نہیں جانتے۔ ہم صرف اپنے کمانڈر انچیف کو جانتے ہیں۔ اور وہ اس وقت کسی اور محترم سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں۔"

 

وزیر داخلہ کی جب فوج کے کمانڈر انچیف کے سیکرٹری ،جسے بعض اوقات رعب و دبدبے کے اظہار کے لیے چیف آف اسٹاف بھی کہا جاتا ہے ، بات ہو رہی تھی صدر محترم پاس ہی کھڑے تھے۔ گفتگو سن کر ان کے چہرے پر کچھ مایوسی کے تاثرات ابھرے۔ ان کی بتیسی کچھ لٹک سی گئی۔ اور ہوس بھری آنکھوں سے بھی مایوسی ٹپکنے لگی۔ انہوں نے و وزیر داخلہ سے پوچھا : " لوگ کہاں تک پہنچے ہیں ؟"

 

وزیر داخلہ نے جواب دیا : " وہ ابھی دارالحکومت سے کچھ فاصلے پر ہیں۔ اگر اسی طرح چلتے رہے تو آج رات سے پہلے دارالحکومت پہنچ جائیں گے۔ "

 

صدر محترم نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ پھر وزیر داخلہ سے کہا: "ہماری پارٹی کے لوگ کہاں ہیں۔ کیا ہم انہیں متحرک نہیں کر سکتے۔ وہ آئیں اور آ کر انسانوں کے اس سیلاب کو دارالحکومت کی طرف بڑھنے سے روکیں ؟"

 

"صدر محترم۔ ہماری پارٹی کے لوگ بھی انہی میں شامل ہیں جو دارالحکومت کی طرف بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ اب وہ سب ایک ہی پارٹی کے لوگ ہیں۔ ان میں کوئی تقسیم نہیں۔ کسی کے پاس کوئی پرچم نہیں جو ایک کو دوسرے سے جدا کرے۔ وہ سب ایک ہیں اور بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ " وزیر داخلہ نے کپکپاتی آواز میں جواب دیا۔

 

"کوئی آئیڈیا ہے کہ وہ سب یہاں آ کر کیا کریں گے ؟ " صدر محترم نے خوف زدہ آواز میں وزیر داخلہ سے پوچھا۔

 

"صدر محترم اس کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں۔ وہ کوئی نعرہ بلند نہیں کر رہے۔ کوئی مطالبہ نہیں کر رہے۔ بس دارالحکومت کی طرف چل رہے ہیں ، مسلسل چل رہے ہیں ، اور چلتے ہی آ رہے ہیں۔ یہاں آ کر وہ کیا کریں گے اس کے بارے کچھ کہنا مشکل ہے۔"

 

صدر صاحب نے وزیر داخلہ سے کہا : "لو مجھے آخری کوشش کرنے دو۔ میں انٹر کام پر کمانڈر انچیف سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تا کہ وہ فوج کو حکم دے کر انہیں دارالحکومت کی طرف بڑھنے سے روکے۔"

 

یہ کہہ کر صدر محترم نے انٹر کام پر کمانڈر انچیف کو فون کیا۔ دوسری طرف کمانڈر انچیف نے ہیلو کہا تو صدر محترم نے کمانڈر انچیف سے کہا: " میں صدر مملکت بول رہا ہوں۔ "

 

"جی بولیں۔۔۔۔" کمانڈر انچیف نے پرسکون لہجے میں صدر مملکت کو جواب دیا۔

 

" مجھے وزیر داخلہ نے بتا یا ہے کہ کروڑوں لوگ دارالحکومت کی طرف بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ ملک بھر کے پولیس انسپکٹروں نے اتنی بڑی تعداد میں دارالحکومت کی طرف بڑھتے ہوئے لوگوں کو روکنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ فوج ان لوگوں کو دارالحکومت آنے سے روکے۔"

 

کمانڈر انچیف نے صدر محترم کی بات سنی تو کھنکھناتی ہوئی آواز میں جواب دیا: " صدر محترم ، دارالحکومت ان کاہے اگر وہ دارالحکومت آ رہے ہیں تو ہم انہیں یہاں آنے سے کیسے روک سکتے ہیں ؟ میں معذرت چاہتا ہوں۔ فوج اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ اگر سرحدو ں پر دشمن فوج ہمارے ملک کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہم ابھی جا کر ان کو روکتے ہیں۔ لیکن اگر اپنے لوگ اس طرف آ رہے ہیں تو ہم انہیں یہاں آنے سے نہیں روک سکتے۔ یہ دارالحکومت ان کاہے۔ وہ جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں۔"

 

کمانڈر انچیف کا جواب سن کر صدر محترم نے اپنے دانت کٹکٹائے لیکن اس قدر آہستگی کے ساتھ کہ کمانڈر انچیف تک ان کی آواز نہ پہنچے۔

 

اس سے پہلے کہ صدر محترم کمانڈر انچیف کو خدا حافظ کہتے اس نے خود فون بند کر دیا۔ صدر محترم اور وزیر داخلہ نے ایک دوسرے کو نظروں ہی نظروں میں کمانڈر انچیف کی گستاخی کی خاموش اطلاع دی اور پھر اس گستاخی کو نظرانداز کرتے ہوئے دارالحکومت کی طرف بڑھتے لوگوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے لگے۔

 

"وزیر داخلہ۔"

 

"جی صدر محترم۔"

 

"تمہارا کیا خیال ہے۔ مجھے نیوی چیف سے انٹر کام پر بات کرنی چاہیئے۔" انہوں نے اپنی بتیسی کٹکٹاتے ہوئے وزیر داخلہ سے پوچھا۔

 

"صدر محترم ، اگر کمانڈر انچیف فوج کے ذریعے انسانوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے تیار نہیں تو نیوی چیف کے پاس تو ایسی کوئی نفری نہیں ہوتی۔ ویسے بھی وہ سمندروں میں کاروائی کرتے ہیں۔ خشکی پر وہ کیا کر سکتے ہیں۔"

 

"تو پھر کچھ سوچو۔ دارالحکومت کی طرف بڑھتے ہوئے ان انسانوں کو کیسے روکنا ہے۔ اگر اتنے سارے لوگ یہاں پہنچ گئے تو نہ جانے کیا ہو جائے۔"

 

دارالحکومت میں وزیر داخلہ اور صدر محترم میں ڈائیلاگ چل رہا تھا اور ادھر دارالحکومت کی طرف بڑھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ جس گاؤں یا شہر سے گزرتے اس کے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔

 

وہ چل رہے تھے ، اور مسلسل چل رہے تھے ، اور چلتے ہی چلے آ رہے تھے۔ کوئی انہیں روکنے والا نہیں تھا۔ وہ چلتے چلتے دارالحکومت پہنچے تو سورج مغرب میں غروب ہو رہا تھا۔ دارالحکومت میں انہیں داخل ہونے سے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔

 

دارالحکومت میں داخلے کے بعد اچانک ان میں جوش و خروش پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ ان کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ ان کے گھسٹتے قدموں میں سختی آنا شروع ہو گئی۔ وہ ایک ساتھ قدم اٹھانے اور زمین پر رکھنے لگے۔ کروڑوں انسانوں کے ایک ساتھ قدم زمین سے اٹھانے اور زمین پر رکھنے سے دلوں کو دہلا دینے والی ایک مارچ کی صدا پیدا ہونے لگی۔

 

وہ سب ایوان صدر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کے قدموں کی چاپ ایوان صدر میں سنائی دینے لگی تھی۔ جیسے جیسے وہ ایوان صدر کے قریب آر ہے تھے ان کے قدموں کی چاپ بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی تھی۔ یہ چاپ اتنی بلند تھی کہ صدر محترم اور وزیر داخلہ کے کانوں کے پردے قدموں کی اس چاپ سے تھر تھرانے لگے تھے۔ صدر محترم اور وزیر داخلہ نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونسی ، پھرائیر پلگ ٹھونسے ، لیکن کروڑوں انسانوں کے قدموں کی صدا بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔ ان کے کانوں میں ٹھنسی روئی اور ائیر پلگ بھی اس آواز کو روکنے میں ناکام ہو گئے۔

 

اب صورت حال یوں تھی کہ وزیر داخلہ اور صدر محترم ایوان صدر میں بند تھے۔ کروڑوں لوگ ایوان صدر کے باہر جمع زور زور سے قدم اٹھا کر زمین پر رکھ رہے تھے۔ ان کے قدموں سے ایوان صدر کے ارد گرد کی ساری زمین لرز رہی تھی۔ پھر کروڑوں انسانوں نے مکھیوں کی طرح آہستہ آہستہ بھنبھنانا شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ ان کی بھنبھناہٹ میں تیزی آتی گئی۔

 

ان کے قدموں کی چاپ سے زمین دہل رہی تھی۔ان کے شور سے ایوان صدر میں وزیر داخلہ اور صدر محترم خوف سے سمٹنا شروع ہو گئے۔ وہ سمٹتے چلے گئے ، سمٹتے چلے گئے ، یہاں تک کہ وہ دونوں سانپو ں میں تبدیل ہو گئے۔

 

سانپوں میں تبدیل ہو کر انہوں نے ایوان صدر سے رینگتے ہوئے فرار ہونا چاہا لیکن لوگوں کے قدموں تلے چلے گئے۔

 

لوگ جس طرح سارے ملک سے مارچ کرتے آئے تھے۔ سانپوں کے کچلے جانے کے بعد ویسے ہی واپس چلے گئے۔

 

اب ایوان صدر خالی ہے۔ اور لوگ اپنے معاملات خود چلاتے ہیں۔ بغیر کسی صدر اور وزیر داخلہ کے۔ ان کی زندگیاں ان کے بغیر زیادہ بہتر انداز میں چل رہی ہیں۔

٭٭٭