کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

زیرو آور

خواجہ اشرف


علی نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں ، پوری کائنات جامدو ساکت کھڑی تھی۔ آسمان پر سورج ایک جگہ ٹھہرا تھا۔ ہوا میں اڑنے والے پرندے اپنی اپنی جگہ معلق تھے۔ اس کا جہاز بھی اڑتے ہوئے اچانک فضا میں معلق ہو گیا تھا۔ جہاز کے انجن بند ہو چکے تھے اور کنٹرول سسٹم کے تمام بٹن حرکت سے بے نیاز اپنے اپنے مقام پر فکس تھے۔

 

اس نے چند لمحوں تک اس انوکھی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن اس کے پلے کچھ نہ پڑا۔ یہ ایک ایسی صورت حال تھی جس کا انسانوں نے اپنی تاریخ میں پہلے کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔ چنانچہ اسے سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

 

علی نے دور بین کی مد د سے جہاز سے زمین پر دیکھا تو اسے اپنی بیگم گاڑی میں بیٹھی دکھائی دی۔ وہ بھی اس کی طرح پریشان نظروں سے اپنے ارد گرد پھیلی جامد و ساکت کائنات کو دیکھ رہی تھی۔

 

"شازو۔۔۔۔ شازو۔۔۔۔"

 

علی نے جہاز کا کاک پٹ اُوپر اُٹھا کر اپنی بیگم کو آواز دی۔

 

"علی۔۔۔۔" وہ جواب میں چلائی۔

 

علی نے بغیر کچھ سوچے سمجھے جہاز سے چھلانگ لگا دی۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ ٹھہری ہوئی کائنات میں زمین پر گر کر زخمی نہیں ہو گا۔

 

اس نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا تھا۔ کیونکہ جہاز سے چھلانگ لگانے کے بعد وہ اس طرح تیزی سے زمین کی طرف نہ لڑھکا جیسے اسے نارمل حالات میں گرنا چاہیئے تھا۔ بلکہ وہ تقریباً نا محسوس رفتار سے ، روئی کے گالے کی طرح، زمین کی طرف سرکتا رہا۔

 

اُس نے ٹھہری ہوئی فضا میں تیرتے ہوئے سوچا۔۔۔۔" یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟" لیکن وہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ ڈھونڈ سکا۔

 

"Entropy۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 

اُسے یونیورسٹی کے زمانے میں فزکس کے استاد ڈاکٹر جمیل "انٹراپی پر دیا ہوا لیکچر یاد آیا۔ "شاید ماہرین طبعیات کا "انٹراپی" کا مفروضہ عملی صورت اختیار کر چکا ہے۔" اس نے سوچا۔

 

"لیکن انٹراپی میں تو کائنات کے 'آرڈر' کو مکمل طور پر 'ڈس آرڈر ' میں تبدیل ہونا تھا۔ جب کہ اس وقت کائنات مکمل جمود اور سکوت کی حالت میں ہے۔ اور ہر چیز کسی "نامعلوم" لمحے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئی ہے۔ "

 

اس کے ذہن میں استدلال اور ردّ استدلال کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔

 

نیچے زمین پر اس کی بیوی گاڑی میں بیٹھی اُس کو ہوا میں آہستہ آہستہ تیرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ علی کی بیگم نفسیاتی علوم کی ماہر تھی۔ وہ مقامی یونیورسٹی مین شعبہ نفسیات کی انچارج تھی۔ اس نے امریکہ کی ایک نامور یونیورسٹی سے نفسیات سے ڈاکٹریٹ کر رکھی تھی۔ وہ خواب و بیداری کی حالت میں ذہنی کیفیات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو خوب اچھی طرح سمجھتی تھی۔ لیکن کائنات کا یہ "جمود" کوئی ذہنی صورت حال نہیں ، بلکہ ایک عملی اور ٹھوس حقیقت تھی۔ اور اس حقیقت کا ڈاکٹر شازیہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ سامنا کر رہی تھی۔

 

"کوما۔۔۔۔"

 

اُس نے ہوا میں روئی کے گالے کی طرح آہستہ آہستہ تیرتے علی پر نظریں جمائے ہوئے سوچا۔" لیکن 'کوما ' تو ایک فرد کے ذہن کے حسّیاتی تعطل کی صورت حال ہے۔ اور یہاں معاملہ ایک فرد نہیں بلکہ پوری وسیع و عریض کائنات کاہے۔'

 

" کیا پوری کائنات 'کوما' کی حالت میں جا سکتی ہے ؟" اس نے سوچا۔

 

"جا کیا سکتی ہے۔ 'کوما' کی حالت میں ہے۔" کسی اجنبی آواز نے "جمود" کی موجودہ صورت حال کے بارے میں اس تشکک پر اُسے سرزنش کی۔

 

ڈاکٹر شازیہ خیالات کے اسی تانے بانے میں الجھی تھی اور اس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل رہی تھیں۔

 

اس ٹھہری ہوئی کائنات میں صرف علی اور شازیہ دو ذی روح وجود حرکت میں تھے۔ باقی ہر چیز جامدو ساکت تھی۔

 

اس کا جہاز ابھی تک فضا میں معلق تھا۔ سڑک پر تمام گاڑیاں اپنی اپنی جگہ رُکی ہوئی تھیں۔ گاڑیوں میں بیٹھے افراد جس حالت میں تھے ، اُسی حالت میں ساکت تھے۔

 

کسی کا ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر اور دوسرا سائڈ ونڈو پر رکھا تھا۔ کوئی منہ میں سکرٹ دبائے اسے آگ دکھانے کو کوشش کر رہا تھا کہ اس کا ہاتھ وہیں ٹھہر گیا تھا۔

 

اسکول سے گھروں کو واپس لوٹتے بچے ، کتابوں کے بستے گلوں میں لٹکائے ، اپنی اپنی جگہوں پر پیوست ہو چکے تھے۔ ان سب کی آنکھیں حیرت سے کھلی مسلسل ایک ہی سمت میں دیکھے جا رہی تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں آئس کریم پکڑی تھی جو اس کے منہ کے پاس ٹھہری تھی۔ اس کے ہونٹ کھلے لیکن ایک ہی پوزیشن میں جامد تھے۔

 

کسی کا ایک پاؤں زمین پر تھا اور دوسرا اوپر ہوا میں معلق۔ کسی کا ایک پاؤں آگے تھا اور دوسرا پیچھے۔ کسی کا ایک بازو آگے تھا اور دوسرا پیچھے۔

 

اس دوران علی ہوا میں روئی کے گالے کی طرح آہستہ آہستہ تیرتے بیگم شازیہ کے پاس پہنچ چکا تھا۔ بیگم شازیہ علی کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی۔

 

"علی یہ سب کیا ہے۔ پوری کائنات کیوں ٹھہر گئی ہے۔ اور صرف ہم دو۔۔۔۔ہم دو۔۔۔۔کیوں حرکت میں ہیں ؟"

 

علی نے ڈاکٹر شازیہ کے گال پیار سے سے تھپتھپاتے ہوئے اسے تسلی دی۔ اور اپنے بیٹے حامد کے بارے میں پوچھا۔

 

"میں اسے سڑک پر ٹرائی سائیکل چلاتے ہوئے چھوڑ آئی تھی۔ " وہ سسکیاں بھرتے ہوئے بولی۔ علی نے آگے بڑھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن گاڑی اسٹارٹ نہ ہوئی۔ اس نے گاڑی کو دھکا لگا کر اس کی جگہ سے حرکت دینا چاہی لیکن اسے لگا اس کے وجود میں دھکا دینے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ وہ بیگم شازیہ کو وہیں گاڑی میں بیٹھے رہنے کی تلقین کر کے گھر کی طرف بھاگا۔ لیکن وہ فقط روئی کے گالوں کی طرح آہستہ آہستہ اپنے گھر کی طرف حرکت کر سکا۔ اس کے گرد ہر چیز اپنی اپنی جگہ رکی ہوئی تھی۔

 

راستہ چلتے لوگ، دوکانوں میں شاپنگ کرتے افراد، دفتروں سے باہر آتے کلرک، ہر کوئی۔۔۔ ہر کوئی۔۔ ایک ہی جگہ جما کھڑا تھا۔

 

وہ آہستہ آہستہ حرکت کرتا گھر کے پاس پہنچا تو اس کا بیٹا حامد گھر کے باہر ٹرائی سائیکل پر ایک جگہ کھڑا مسلسل ایک ہی طرف دیکھ رہا تھا۔

 

" حامد۔۔۔۔حامد۔۔۔۔ کیا تم مجھے سن سکتے ہو۔۔۔۔؟"

 

وہ پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے بولا۔ لیکن حامد ٹھہری ہوئی نگاہوں کے ساتھ مسلسل ایک طرف دیکھتا رہا۔۔۔بے حس و حرکت۔۔۔ساکت و جامد۔۔۔۔اور خاموش۔

 

اپنے ننھے منے بیٹے کی اس حالت پر وہ سسک اُٹھا۔

 

پھر اپنی بیگم شازیہ کا خیال آنے پر اس کے طرف گیا تا کہ جمود کی اس صورت حال کا کوئی حل ڈھونڈا جا سکے۔

 

"شازیہ۔۔۔شازیہ۔۔۔۔ ہمارا حامد بھی 'زیرو آور' میں قید ہو چکا ہے۔"

 

'زیرو آور' کے لفظ نے جیسے اُس کے ذہن میں بجلی کی لہر دوڑا دی۔ "زیرو آور"۔۔۔۔"زیرو آور"۔۔۔

 

"زیرو آور"۔

 

"زیرو آور" کا خیال آتے ہی وہ اپنی بیگم شازیہ اور بیٹے حامد کو بھول کر اسپیس سنٹر کے کنٹرول روم کی طرف بھاگا۔

 

کنٹرول روم میں پہنچ کر اس نے دیکھا بڑے کمپیوٹر کی سوئیاں "زیرو آور" پر رکی تھیں۔ اور "زیرو آور " کا مطلب تھا۔۔۔۔ وقت کی قید سے مکمل آزادی۔

 

اس کی نظریں کمپیوٹر کی "زیرو آور" پر رکی سوئیوں پر اٹک گئیں۔ اسے اپنی نبضیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

٭٭٭