کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کھڑکی سے باہر سورج

خواجہ اشرف


پھر یوں ہوا کہ میرے سارے وجود پر کیکٹس اُگ آئے۔ میں نے اپنے اوپر کمبل اوڑھ لیا اور آنکھیں موندھ کر لیٹ گیا۔

 

وہ کمبل سیاہی کی انت رات میں بدل گیا جس میں سے دو بڑی بڑی مونچھوں نے جنم لیا جن کے عقب سے ایک چہرہ مجھے شعلہ بار نظروں سے گھور رہا تھا۔

 

میں ان شعلہ بار نظروں سے خوف زدہ ہو گیا۔ کہیں یہ خفیہ والا تو نہیں۔ میرے ذہن میں خوف کے سائے سرسرانے لگے۔

 

اس نے مجھے خوف زدہ دیکھا تو مسکراتے ہوے بولا:

 

"تمہارا المیہ یہ ہے۔۔۔"

 

اس نے اچانک ایک کیکڑا کہیں سے نکال کر مجھ پر پھینکا اور پھر قہقہہ لگاتے ہوے بولا:

 

"معاف کرنا میں نے یہ جملہ اس لیے کہا ہے کہ آج کل تمام تنقیدی مضامین کا آغاز اسی جملے سے ہوتا ہے۔" اس کی بات سن کر میں بھی ہنس دیا۔

 

"ہاں میرا المیہ۔۔۔"

 

ابھی میں نے اتنا کہا تھا کہ اس نے میرا جملہ کاٹتے ہوے مجھ سے پوچھا: " کیا تم نے کبھی عشق کیا ہے ؟" پھر اس نے لعل حسین پر مجھے پورا لیکچر پلا دیا۔

 

میرے اندر چھناکے سے لاکھوں گلاس ٹوٹ گئے۔

 

مجھے اپنا ایک طالب علم یاد آیا جس نے کلاس روم میں مجھ سے پوچھا تھا: "سر آزادی کا مفہوم کیا ہے ؟"

 

میں نے بے دردی سے اسے ڈانٹتے ہوے کہا: "بیٹھ جاؤ ، اور آئندہ کلاس میں ایسا بیکار سوال مت کرنا۔" پھر میں واشنگٹن چلا آیا۔

 

میرے چھوٹے بیٹے نے مجھے خط لکھا:

 

"ابو ، اگر آپ کو وہاں وہ پنجرہ دکھائی دے ، جس میں وہ طوطا قید ہے ، جس میں اس دیو کی جان ہے ، جس نے شہزادی کو قید کر رکھا ہے ، تو اسے ضرور مار دیں تا کہ بے چاری شہزادی اس دیو کی قید سے رہا ہو سکے۔"

 

مجھے لگا یہ میرے بیٹے کی نہیں بلکہ اس کی ماں کی تحریر ہے۔

 

"تمہارا  بیٹا تم سے زیادہ عقلمند دکھائی دیتا ہے۔" مونچھوں والے نے خط پر نظریں دوڑاتے ہوے کہا۔

 

"تم فقط شہری بابو ہو۔ ننانوے لفظوں کے ہیر پھیر سے ساری گفتگو کرتے ہو۔ اگر میں تم سے ننانوے لفظ چھین لوں تو تم گونگے ہو جاؤ گے۔"

 

میں نے مونچھوں والے کی نظریں بچا کر اِدھر اُدھر ہونے کی کوشش کی لیکن اس نے عین وقت پر مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔

 

" تم کیا لفظوں سے۔۔۔ ؟ پھر اس نے ایک اور کیکڑا مجھ پر پھینکا۔

 

میں نے اپنی تمام جسمانی قوت بروئے کار لاتے ہوے اس کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی لیکن میں اپنا جواب خود بھی نہ سن سکا۔ ننانوے لفظوں کی دیوار میرے اور اس کے بیچ حائل تھی۔ اس نے مجھے متذبذب دیکھ کر کہا:

 

"لفظ لمحہ موجود کو آواز بخشتا ہے۔ "

 

"لمحہ موجود کی آواز۔۔۔؟ "

 

میرے اندر حیرت و استعجاب کے لاکھوں قمقمے جل اٹھے۔

 

"ہاں لمحہ موجود کی آواز۔۔۔" بڑی مونچھوں والے نے ہر لفظ پر زور دے کر کہا۔ "لیکن تم نے اپنی دنیا کو صرف ننانوے لفظوں تک محدود کر رکھا ہے۔ ہر چیز کو ان ننانوے لفظوں میں دیکھتے ، پرکھتے اور تولتے ہو۔ یہ ننانوے لفظ تمہارے اور لمحہ موجود کے درمیان ایک ایستادہ دیوار ہیں۔ جو تم تک لمحہ موجود کا پیغام نہیں پہنچنے دیتے۔ کیونکہ اس سے خود ان کی موت واقع ہو نے کا امکان ہے۔ " مونچھوں والے نے اپنی بات جاری رکھی۔

 

اس کی بات سن کر میں نے اپنے اندر اس طرح جھانکا جیسے مجھے اندھیرے کمرے میں چھپے کسی چور کی تلاش ہو۔ پھر میں خود کو سنبھالتے ہوے بولا:

 

" لیکن بھائی میں تو ایک پروفیسر آدمی ہوں۔ لفظوں سے میرا دانہ پانی چلتا ہے۔ میں لفظوں کے ہیر پھیر سے کیسے نکل سکتا ہوں ؟"

 

میرے جواب پر اس نے بغیر کچھ کہے ایک زبردست قہقہہ لگایا۔ مجھ پر شرم سے گھڑوں پانی گر گیا۔ مجھے لگا میری چوری پکڑی گئی ہے۔

 

پھر اس نے رات کی تاریکی میں اونچی آواز میں بلہے شاہ کو گانا شروع کر دیا:

 

"راتیں جاگیں شیخ سداویں

تے راتیں جاگن کُتے

تیں تھی اُتے۔

 

پھر نہ جانے اس کے جی میں کیا آئی کہ اس نے بلہے شاہ کو ادھورا چھوڑ کر مجھ پر ایک اور کیکڑا پھینکا:

 

"یہ جو تم سیاست کی بات کرتے ہو۔ تمہاری سیاست بھی ننانوے لفظوں کی سیاست ہے۔ تم زندہ رہنے کی سیاست نہیں کرتے۔"

 

"لفظوں کی سیاست۔۔۔"

 

لفظ میرے ہونٹوں پر کپکپائے۔ میں نے بے بس ہوتے ہوے ترحم آمیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ جیسے میری بے بسی تاڑ گیا تھا۔

 

"لیکن اصل چکر تو وہ چلاتا ہے۔۔۔"

 

" وہ کون؟"

 

وہ جس کا نام تمہارے ہونٹوں تک آتے آتے کبوتر بن کر اُڑ جاتا ہے اور پولیس والے تم پر بندوقیں تان لیتے ہیں۔

 

وہ اپنی مونچھوں کو بل دینا شروع ہو گیا۔

 

میں نے دیکھا بہت سے پولیس والے بندوقیں تانے پھانسی کا پھندہ لہراتے میری طرف بڑھ رہے ہیں۔ میری پیشانی پسینے کے قطروں سے بھیگ گئی۔

 

بڑی بڑی مونچھوں والے نے میری پیشانی پر خوف سے تیرتے پسینے کے قطرے دیکھ کر قہقہے لگانے شروع کر دیے۔

 

"میں نے کہا تھا ناں کتابیں پڑھنے والے ٹھوس سچائی کا سامنا نہیں کر سکتے۔ "

 

"کیا تم سچائی کے نام پر پھانسی کا پھندا میرے گلے میں فٹ کروانا چاہتے ہو؟" میں غصے سے چیخنے لگا۔ مجھے ناراض دیکھ کر اس نے اپنی انگور کی طرح پکی ہوئی ناک کھجانا شروع کر دی۔

 

میں نے اس کو ناک کھجاتے دیکھ کر اس پر چڑھائی کر دی۔ " جانتے ہو تمہارا مسئلہ کیا ہے۔ تم ہر چیز پر بغیر اس کا حصہ بنے تنقید کرنا چاہتے ہو۔ لیکن پھر بھی تم مجھے معقول آدمی دکھائی دیتے ہو۔ بولو چائے پیو گے ؟ اس نے میر ی چائے کی پیشکش قبول کر لی۔

 

میں نے چائے کی کیتلی چولہے پر رکھی تو وہ کھلی ہوئی کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو کر سیاہی مائل نیلگوں آسماں کی طرف دیکھنے لگا۔ شاید وہ ستاروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

 

اس دوران چائے دم ہو گئی تو میں نے اسے دو پیالیوں میں انڈیل کر سامنے بچھی میز پر رکھ دیا۔ وہ کچھ دیر تک گرم گرم چائے سے اٹھتی بھاپ کے مرغولے دیکھتا رہا اور پھر چائے کی پیالی ہونٹوں تک لے جاتے ہوے بولا:

 

" کیا تم دیوار پر آویزاں وہ نقشہ دیکھ رہے ہو۔"

 

اس نے دیوار پر آویزاں نقشے کی طرف انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ہوے کہا۔

 

"کیا تمہیں اس میں نئی ابھرتی ہوئی لکیریں دکھائی دے رہی ہیں ؟"

 

مونچھوں والے نے ا فسردہ اور دکھی لہجے میں مجھ سے کہا۔

 

"لیکن ان تبدیل ہوتی ہوئی لکیروں کے باوجود تمہیں یہیں رہنا ہے۔"

 

میں نے دیکھا آسمان پر ایک تارا ٹوٹا اور دور تک روشنی کی لکیر کھینچتا فضاؤں میں معدوم ہو گیا۔ میں پاگلوں کی طرح چیخنے لگا۔

 

" ہاں ، ہاں ، مجھے یہیں رہنا ہے۔"

 

میں نے دیکھا تب تک بڑی بڑی مونچھوں والا چائے ختم کر کے جا چکا تھا۔ میں نے دوبارہ کھڑکی سے باہر جھانکا۔ میں نے دیکھا میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نے سورج کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ اس کے عقب میں بہت سے کبوتر فضا میں پرواز کر رہے تھے۔

٭٭٭