کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دستخط

خواجہ اشرف


علی اکبر نے بی اے کیا تو اس کے والد نے اس کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے وہ دنیا دیکھنا چاہتا ہے۔وہ ملکوں ملکوں گھومنا پھرنا چاہتا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کرنا چاہتا ہے کہ اسے زندگی میں کیا کرنا ہے۔

 

ملک اکبر نے بیٹے کی بات سنی تو ہنس کر کہنے لگے " ان کی بہت خواہش تھی کہ وہ پاکستان سے باہر سفر کرتے ، ہر ملک کی سیر کرتے ، لیکن زندگی نے انہیں فرصت دی تو صرف اتنی کہ ایک بار وہ سعودی عرب حج کے لیے گئے اس کے علاوہ انہیں کہیں جانے کا موقع نہیں ملا۔ انہیں خوشی ہو گی اگر ان کا بیٹا ملکوں ملکوں جائے۔ ہر ملک کے لوگوں سے ملے۔ ہر کلچر کا مشاہدہ کرے اور پھر پاکستان میں سیٹل ہو۔"

 

علی اکبر نے باپ کی بات سنی تو اسے حوصلہ ملا۔ چنانچہ اس نے اگلے ہفتے چند ہزار روپے جیب میں ڈالے اور بذریعہ کابل یورپ کی طرف روانہ ہو گیا۔

 

لاہور ، پشاور، کابل، زاہدان ، تہران اور انقرہ استنبول ہوتے ہوے اورینٹیل ایکسپرس پر و ہ پیرس پہنچا تو اسے لگا کہ وہ دنیا کے کلچرل سنٹر میں پہنچ گیا ہے۔

 

چند دن پیرس میں گزارنے کے بعد وہ لندن چلا آیا۔ لندن میں اس کے جاننے والے کئی پاکستان رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے اسے کشاد ہ دل اور کھلے بازوں کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ سب کی خواہش تھی کہ علی اکبر لندن میں رک جائے اور باقی زندگی وہیں گزارے۔ لیکن چند دن لندن کے گلی کوچوں میں آوارگی کرنے کے بعد اس نے امریکہ کا ٹکٹ خریدا اور جہاز پر بیٹھ کر نیویارک پہنچ گیا۔

 

نیویارک اسے پیرس اور لندن سے مختلف لگا۔ بطور شہر نیویارک کی شخصیت اسے اس اوور کوٹ اور ہیٹ میں ملبوس شخص جیسی لگی جس نے اپنا سب کچھ اپنے اوور کوٹ کے نیچے چھپا رکھا ہو۔ اس کی پھٹی پرانی پینٹ، مختلف رنگوں کی جرابیں ، میلی کچیلی شرٹ سب کچھ اس اوور کوٹ کے نیچے چھپا تھا۔

 

لیکن اس سب کے باوجود نیویارک میں ایک ایسا حسن تھا جو لندن اور پیرس میں نہیں تھا۔ یہ حسن اس سوئی ہوئی حسینہ سے مشابہ تھا جو سوتے میں بھی اپنے حسن کے بارے میں باخبر رہتی ہے۔ اور اپنے طرف بڑھنے والے کسی بھی آشنا ہاتھ کو پہلے جھٹکتی ہے پھر اسے تھام لیتی ہے۔

 

چند دن نیویارک میں گزارنے کے بعد علی اکبر نے ایک عدد گاڑی خریدی اور یو ایس کے ٹرپ پر نکل کھڑا ہوا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس ملک کو اندر باہر سے اچھی طرح دیکھے اور جانے۔

 

امریکہ میں وہ شہروں شہروں گھومتا پھرتا سین فرانسسکو پہنچا تو اسے محسوس ہوا یہی وہ شہر تھا جس کی اسے تلاش تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سین فرانسسکو میں ہمیشہ کے لیے قیام کرے گا۔ یہیں اپنی باقی تعلیم پوری کرے گا۔ گھر بنائے گا، شادی کرے گا اور بچے پیدا کرے گا۔

 

اس فیصلے کے بعد اس نے سین فرانسسکو میں پہلے تعلیمی مواقع کا جائزہ لیا۔پھر ایک اپارٹمنٹ رینٹ کیا اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔

 

رہائش کا فیصلہ اور اہتمام کرنے کے بعد اس نے اسکول میں ایم بی اے میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ایک امپورٹ ایکسپورٹ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ جب تک اس نے ایم بی اے کی ڈگری لی۔ اس کی کمپنی پہلے ہی لاکھوں ڈالرز ماہانہ کا بزنس کر رہی تھی۔ کاروبار کی وجہ سے اسے اکثر چین، جاپان، پاکستان اور کئی ایک دیگر ممالک کا سفر کرنا پڑتا۔

 

وہ اپنی زندگی سے بہت مطمئن تھا۔ ایک طرف اس کی تعلیم مکمل ہو چکی تھی اور دوسری طرف امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار سیٹ ہو چکا تھا۔

 

ان کامیابیوں کے بعد سین فرانسسکو ہی میں اسے ایک خوبصورت ، نیک دل ، نیک سیرت پاکستانی لڑکی مل گئی جس کے ساتھ اس نے شادی کر لی۔

 

شادی ہوئی تو بچے بھی پیدا ہونے تھے۔ چنانچہ یکے بعد دیگرے ان کے ہاں پانچ بچے پیدا ہوے۔ بچوں کی پیدائش کے بعد اس نے اور اس کی بیوی نے اس طرح بچوں کی تربیت کی کہ وہ پاکستانی ماحول میں پاکستانیوں کی طرح اور امریکی ماحول میں امریکیوں کی طرح فٹ ہو جاتے۔ انہیں نہ پاکستانیوں میں اور نہ امریکیوں میں اجنبیت کا احساس ہوتا۔

 

علی اکبر اپنی ان کامیابیوں پر بہت خوش تھا۔ جب وہ امریکہ آیا تھا اس نے ابھی جوانی کی دہلیز میں قدم رکھا تھا۔

 

لیکن امریکہ میں پڑھائی لکھائی، کاروبار، شادی، بچوں اور بچوں کی تربیت میں زندگی اتنی تیزی سے گزری کہ اسے اپنے باپ سے بی اے پاس کرنے کے بعد کی گئی گفتگو گزشتہ کل کی بات محسوس ہوتی۔ اس کی جوانی ادھیڑ عمر ، اور ادھیڑ عمر بڑھاپے میں اتنی تیزی کے ساتھ ڈھلی کہ اسے عمر گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔

 

اس دوران پاکستان میں اس کے ماں باپ فوت ہوے ، پھر بہن بھائی اور ایک ایک کر کے کئی ایک رشتے دار فوت ہوے۔

 

شہر میں اس کے سارے خاندان کی قبریں ایک جگہ تھیں۔ اس کا پردادا، پردادی، دادا، دادی ، والدین، بہن بھائی اور دوسرے عزیزو اقارب کی قبریں ایک جگہ تھیں۔

 

اب وہ زندگی کے طویل سفر کے بعد خود عمر کے اس حصے میں آ پہنچا تھا جہاں انسان زندگی کے آخری لمحوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ خاص طور پر جب بہن بھائی فوت ہو جائیں تو پھر انسان اپنی باری کا انتظار کرنے لگتا ہے۔

 

بچوں نے جوان ہونے کے بعد علی اکبر کا کاروبار سنبھال لیا تھا اور اب وہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا۔ صبح اٹھ کر اخبار پڑھتا، ناشتہ کرتا، ٹی وی دیکھتا اور پھر طویل سیر کے لیے باہر نکل جاتا۔ کبھی کبھار اس کی بیوی اس کے ساتھ ہو لیتی۔اگر کسی وجہ سے اس کی بیوی ساتھ جانے سے معذرت کرتی تو وہ اکیلا سیر کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔

 

جب کبھی وہ اور اس کی بیوی اکٹھے سیر کے لیے جاتے ان کی اپنی زندگی کی آخری رسومات کے بارے میں بات چل نکلتی۔

 

اس کی بیوی کا خیال تھا کہ وہ اس سے پہلے فوت ہو گی۔ لیکن علی اکبر کا خیال تھا کہ پہلے وہ فوت ہو گا۔ پہلے میں پہلے میں کے بعد وہ اکثر سوچتے کہ انہیں پاکستان میں دفن ہونا چاہیے یا امریکہ میں ؟ اس کی بیوی کا خیال تھا کہ چونکہ ان کے خاندان کے سارے افراد پاکستان میں دفن ہیں اس لیے انہیں وہیں دفن ہونا چاہیے۔ علی اکبر اس بارے میں رائے دینے سے گریز کرتا۔ کہتا بھی تو اتنا کہ یہ کام بچوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جو وہ فیصلہ کریں گے ٹھیک ہو گا۔

 

پھر یوں ہوا کہ ایک دن علی اکبر کی طبعیت اچانک بگڑ گئی۔ ایمبولینس آئی۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں ہسپتال آتے کافی دیر ہو چکی ہے۔ انہیں بلڈ کینسر ہے۔ اور وہ زیادہ دن نہیں جی پائیں گے۔ اس خبر سے اس کی بیوی اور بچوں کی آنکھو ں میں آنسو آ گئے۔ لیکن انہوں نے رخ پھیر کر آنسو صاف کئے تا کہ علی اکبر انہیں دیکھ نہ پائے۔

 

لیکن علی اکبر نے ان کے آنسو دیکھ لیے تھے۔ وہ اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوے بولے۔ زندگی اور موت ایک ہی پیالے سے پانی پیتے ہیں۔ جس طرح زندگی ایک حقیقت ہے۔ اس طرح موت بھی ایک حقیقت ہے۔ پھر بیوی سے بولے "انہیں افسوس ہے کہ وہ اس سے جدا ہو رہے ہیں۔ اور پھر کہنے لگے۔ انہوں نے اپنی آخری رسومات کے بارے میں کپڑوں کی الماری میں ایک لفافے میں ہدایات لکھ رکھی ہیں۔ اگر ہو سکے تو ان پر عمل کیا جائے۔"

 

علی اکبر نے اتنا کہا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ ہسپتال والوں نے اس کے مردہ جسم کو ہسپتال کے فریزر میں رکھوا دیا۔

 

بیوی اور بچے روتے ہوے گھر آئے۔ بیوی نے کپڑوں کی الماری میں دیکھا تو وہاں واقعتاً ایک لفافہ رکھا تھا۔ لفافہ کھولا تو اس میں سے ایک سفید کاغذ نکلا جس پر لکھا تھا:

 

"یو ایس اے میرا ملک ہے۔ مجھے اس ملک سے محبت ہے۔ اگر میں کسی دوسرے ملک میں فوت ہو جاؤں تو میرے مردہ جسم کو یہاں واپس لایا جائے اور یہاں رولنگ ہلز قبرستان میں دفنا یا جائے۔ میری پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی لیکن امریکہ نے مجھے اتنی محبت دی کہ میں چاہتا ہوں میرا جسم مرنے کے بعد اس مٹی کا حصہ بنے۔"

 

علی اکبر کی تحریر دیکھ کر اس کی بیوی کے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ پھر وہ بچوں کے ساتھ رولنگ ہلز قبرستان گئی۔ وہاں دفتر میں قبر کے لیے فارم بھرا تو ایک کی بجائے دو قبروں کا خانہ بھرا۔ بچوں نے بغیر سوال کئے استفہامیہ انداز میں دو قبروں کے بارے میں پوچھا تو تر آنکھوں کے ساتھ کہنے لگی:

 

"جہاں علی اکبر وہاں میں۔ اگر وہ یہاں دفن ہونا چاہتا ہے۔ تو میں بھی یہیں دفن ہوں گی۔ امریکہ صرف علی اکبر کا ہی نہیں میرا بھی ملک ہے۔ اور تمہارا بھی اور تمہاری آئندہ نسلوں کا بھی۔" اور پھر اس نے فارم پر دستخط کر دئیے۔

٭٭٭