کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اجنبی

خواجہ اشرف


روبینہ کی شادی ہوئی تو اسے لگا کہ اس کے خوابوں کا شہزادہ ہار پہنے ، سہرے سجائے ، سفید گھوڑے پر سوار حقیقت کا روپ دھار کر اس کی زندگی میں چلا آیا ہے۔

 

شادی کے بعد آسماں تلے اگر کوئی اس کی توجہ کا مرکز تھا تو صرف اس کا خاوند اعجاز احمد۔ باپ نے اسے رخصت کرتے ہوے کہا تھا کہ بیٹیاں باپ کے گھر سے سرخ جوڑے میں خاوند کے گھر جاتی ہیں اور سفید کفن میں وہاں سے نکلتی ہیں۔

 

روبینہ کے بابا نے رخصتی کے وقت روتے ہوے یہ بات اس طرح کہی تھی کہ ان کے الفاظ اس کے سینے میں قبر کے کتبے پر کھدے لفظوں کے طرح ہمیشہ کے لیے کندہ ہو گئے تھے۔

 

شادی کے چند ماہ تک اعجاز کا روبینہ کے ساتھ رویہ بہت محبت آمیز تھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا۔ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا۔ باہر گھمانے پھرانے لے جاتا۔ جب بھی دفتر سے چھٹی ہوتی اسے ساتھ لے کر کبھی باغوں اور کبھی ساحل سمندر کی سیر کو نکل جاتا۔ شاپنگ کراتا اور شہر کے اچھے ریستورانوں میں کھانا کھلاتا۔

 

لیکن رفتہ رفتہ بچوں کی پیدائش کے بعد شادی اعجاز کے لیے روزمرہ کا ایک واقعہ بن گئی۔ اس کی توجہ گھر سے زیادہ باہر کے معاملات پر مرکوز رہنے لگی۔ روبینہ اس کے لیے ایک ثانوی چیز بن گئی۔

 

یہ نہیں کہ اعجاز ایک برا آدمی تھا۔ یا اس کے شادی سے باہر کسی اور عورت کے ساتھ تعلقات تھے۔ بس اسے مجلسی زندگی سے زیادہ دلچسپی تھی۔ دوستوں کے ساتھ بیٹھنا ، گپ شپ کرنا، تاش اور کیرم کھیلنا اسے اچھا لگتا تھا۔

 

 اعجاز کی بڑھتی ہوئی بے اعتنائی اور عدم توجہ سے روبینہ کی زندگی میں ایک خلا پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ وہ بہت کوشش کرتی کہ بچوں کے ساتھ اپنے آپ کو مصروف رکھے لیکن دن بھر کی اس مصروفیت میں بھی ایسے چند لمحے ضرور آتے جب اس کا دل اداس ہو جاتا۔ وہ اپنی شادی سے پہلے کی زندگی کے بارے میں سوچنا شروع ہو جاتی۔

 

شادی سے پہلے کی زندگی میں سے اسے ایک دن ہمیشہ یاد رہا۔ وہ کبھی اس دن کو نہ بھلا سکی۔ اس دن کا خیال آتے ہی اس کی اداسی ایک مسکراہٹ میں بدل جاتی۔ اس کے بچے اس کے چہرے پر ساون بھادوں کی دھوپ کی طرح ابھرتی اور ڈوبتی مسکراہٹ کا سبب پوچھتے تو وہ انہیں ششکار دیتی۔ اور پھر روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو جاتی۔

 

وقت کے ساتھ اعجاز احمد کی مجلسی مصروفیات اور زیادہ بڑھتی چلی گئیں۔ روبینہ اور بچے زندگی کی ڈگر پر چلتے ایسے مقام تک آ پہنچے جہاں سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ بچے پڑھ لکھ کر جوان ہوے اور اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔

 

زندگی اتنی تیزی سے گزری کہ اعجاز احمد کی بے اعتنائی سے پیدا ہونے والے خلا کے باوجود روبینہ سمجھتی کہ اس نے ایک عورت ہونے کے ناطے اپنے تمام فرائض پوری دیانت داری کے ساتھ پورے کر دیئے ہیں۔ اعجاز احمد کے خاوند ہونے کی حیثیت سے جتنے حقوق تھے سب پورے کئے۔ بچوں کی جیسی پرورش کرنی چاہیے تھی کی۔ انہیں محبت سے پالا پوسا، پڑھایا لکھایا، جوان کیا اور اچھے انسان بنایا۔ یہاں تک کہ وہ سب اپنی اپنی جگہ سیٹ ہو گئے۔ وہ سب بھی روبینہ کا بہت خیال رکھتے۔

 

روزانہ اسے گھمانے پھرانے لے جاتے۔ کبھی ساحل سمندر پر چلے جاتے۔ کبھی شہر کے معروف ریستورانوں میں ڈنر کے لیے جاتے۔ کبھی کسی گارڈن میں پھولوں کی نمائش دکھانے لے جاتے۔ ایسے میں کبھی اعجاز احمد ان کے ساتھ ہوتے اور کبھی وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ کہیں اور مصروف ہوتے۔

 

اگر اعجاز ان کے ساتھ ہوتے روبینہ کی پوری توجہ ان پر مرکوز ہوتی اور اگر وہ ساتھ نہ ہوتے تو وہ ان کی عدم موجودگی میں ان کی کمی محسوس کرتی۔

 

اس ڈگر پر چلتے چلے زندگی ایسے موڑ پر آ گئی جہاں انسان سب کے ہوتے ہوے بھی تنہا ہو جاتا ہے۔ بھری مجلسوں میں خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔ تب اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ ایک بار انہی راہوں پر لوٹ جائے جہاں کبھی اس نے زندگی کا کوئی ایسا رنگ دیکھا تھا جو ہمیشہ کے لیے اس کے دل میں چراغ بن کر جل اٹھتا ہے اور پھر ساری عم جلتا رہتا ہے یہاں تک کہ انسان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا۔

 

کچھ ایسے ہی حالات میں ، ایک روشن صبح ، دن چڑھے ، روبینہ نے غسل کیا۔ کپڑے بدلے ، سر پر چادر اوڑھی اور جوتے پہن کر اکیلے گھر سے باہر جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ بچوں نے پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہے۔ پھر کہنے لگے کہ وہ جہاں بھی جانا چاہے وہ اسے لے جانے کے لیے تیار ہیں لیکن روبینہ نے محبت سے ان سب کی مد د ٹھکراتے ہوے جواب دیا کہ وہ اکیلے جانا چاہتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ اکیلی گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔

 

گھر سے باہر کا ماحول اس کا دیکھا بھالا تھا۔ وہ کئی بار اس راستے پر سفر کر چکی تھی۔ وہی دکانیں ، ویسی ہی لوگوں کی آمدو رفت، وہی بجلی کے کھمبے ، وہی آوارہ کتے ، اور وہی بدروؤں میں سے باہر بہتا پانی۔

 

چلتے چلتے تھکاوٹ کی وجہ سے وہ کئی بار رکی، تھوڑی دیر سانس لیا، اور پھر چل پڑی۔ یہاں تک کہ وہ چلتے چلتے اپنے ہائی اسکول سے تھوڑی دور واقع بچوں کے ایک پارک کے پاس پہنچ کر رگ گئی۔ پارک میں اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر وہاں نصب لکڑی کے ایک بنچ پر بیٹھ گئی۔ وہ بہت دیر تک اس بنچ پر بیٹھی خلا میں گھورتی رہی۔

 

کئی پہر تک وہاں بیٹھنے اور خلا میں گھورنے کے بعد وہ اٹھی۔ بنچ کے پاس ہی اگے گلاب کے ایک پودے سے ایک پھول توڑا ، اور اسے ہاتھ میں تھامے گھر کی طرف چل دی۔

 

وہ گھر لوٹی تو دن ڈھل چکا تھا اور تقریباً اندھیرا چھا چکا تھا۔ بچوں نے کھانے پینے کے بارے میں پوچھا تو اس نے طبعیت نہ ٹھیک ہونے کا کہہ کر کچھ بھی کھانے سے انکار کر دیا۔ پھر بچوں سے چند باتیں کر کے اپنے کمرے میں جا کر اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ بستر پر لیٹے ہی اس نے آنکھیں موند لیں۔

 

اگلی صبح اس کے بچوں نے دیکھا گلاب کا ایک پھول اس کی چھاتی پر رکھا تھا ، اس کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ پھیلی تھی اور وہ ابدی نیند سور ہی تھی۔ لگتا تھا وہ اب بھی کسی کا انتظار کر رہی ہے۔ لیکن کس کا اس کا کسی کو کوئی پتہ نہیں تھا۔

٭٭٭