کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دہشت گرد

خواجہ اشرف


پر ہجوم جگہ پر بم پھٹا تو کئی لوگوں کے پرخچے اڑ گئے۔ آسمان پر اڑتے چیلوں اور کووں نے بم سے فضا میں بکھرتے انسانی وجودوں کے کچھ چیتھڑے زمین پر گرنے سے پہلے دبوچے اور پھر سامنے بنی اونچی عمارتوں کی ممٹیوں پر بیٹھ کر ضیافت اڑائی۔ ان کے طور اطوار دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بھی دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوے ہیں۔

 

رحمت علی ایک ان پڑھ آدمی تھا۔ نماز روزے اور دینی فرائض سے مکمل طور پر نابلد اور دنیا داری میں عام پاکستانیوں جیسا۔۔ سیدھا سادہ، بھولا بھالا کام سے کام رکھنے والا انسان۔

 

جب سے شہر میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اس کی کوشش ہوتی کی وہ کسی بھی ایسی جگہ کھڑا نہ ہو جہاں لوگوں کا ہجوم ہو۔ اسے اندازہ تھا کہ دہشت گرد ایسی ہی پر ہجوم جگہوں پر کاروائیاں کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر سکیں۔ وہ کیوں اس طرح اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو ہلاک کر رہے تھے اس کا رحمت علی کو کوئی اندازہ نہیں تھا۔

 

وہ نہیں جانتا تھا کہ امریکہ کا صدر کون ہے۔ نہ اسے یہ پتہ تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ نہ اسے اندازہ تھا کہ افغانستان میں پوری دنیا سے آئے نیٹو کے فوجی ان افغانوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں جواس سے پہلے دو سپر پاوروں کو عبرت ناک شکست دے چکے ہیں اور اب تیسری سپر پاور کی فاتحہ خوانی کی تیاری کر رہے ہیں۔

 

جب سے شہر میں دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا تھا اس کا معمول تھا وہ صبح مزدوری کے لیے گھر سے نکلنے سے پہلے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر پورے شہر کی فضا کا جائزہ لیتا۔ اس کی بیوی اور بچے اسے پوچھتے کہ وہ کام پر جانے سے پہلے چھت پر کھڑا ہو کر کس چیز کا جائزہ لیتا ہے تو وہ سادگی سے جواب دیتا کہ وہ دیکھتا ہے کہ آج شہر کے کس حصے میں چیلیں اور کوے پرواز کر رہے ہیں۔ پھر کہتا کہ پولیس والوں کو دہشت گردوں کی کاروائیوں کا پیشگی پتہ نہیں چلتا لیکن آسمان پر اُڑتے چیل اور کوے جانتے ہیں کہ آج شہر کے کس علاقے میں انہیں انسانوں کا گرما گرم گوشت کھانے کو ملے گا۔ چنانچہ وہ صبح ہی صبح اس علاقے میں پرواز شروع کر دیتے ہیں۔ اور جیسے ہی بم پھٹتا ہے یا خود کش حملہ آور کاروائی کرتا ہے وہ فوراً آسمان کی بلندی سے زمین کی طرف غوطہ لگاتے ہیں اور جس کی چونچ میں جو آتا ہے جھپٹ کر کسی عمارت کی ممٹی پر جا بیٹھتا ہے اور پھر مزے لیکر انسانی گوشت کھاتا ہے۔

 

پھر وہ کہتا کہ شہر کے جس حصے میں اسے چیلیں اور کوے پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ ادھر کا رخ کرنے کی بجائے مزدوری کی تلاش میں شہر کے دوسرے حصوں کی طرف نکل جاتا ہے۔

 

وہ کہتا ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ ابھی وہ جوان ہے اور ابھی وہ مرنا نہیں چاہتا۔ ابھی وہ اپنی جوان بیوی، اپنے چھوٹے سے بیٹے اور ننھی منی سی بیٹی کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے۔

 

اس کا تیرہ سالہ بیٹا اور دس سالہ بیٹی اس کی یہ بات سن کر ہمیشہ اس کا مذاق اڑاتے۔

 

"باپو کووں اور چیلوں کو کیا پتہ کہ دہشت گرد شہر کے کس حصے میں حملہ کرنے جا رہے ہیں ؟"

 

وہ پیار سے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا لیتا اور کہتا:

 

"پگلی جانور انسانوں سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔ وہ قبل از وقت اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ان کو خوراک کہاں ملے گی۔ چنانچہ وہ پہلے سے اس جگہ پہنچ جاتے ہیں۔"

 

ایک دن صبح ہی صبح سوکھی روٹی بن چینی چائے کے کپ کے ساتھ کھا کر حسب معمول وہ گھر کی چھت پر گیا تا کہ آسمان پر اڑتے چیلوں اور کووں کی پرواز دیکھ کر اندازہ لگائے کہ آج دہشت گرد کس علاقے میں کاروائی کریں گے۔

 

اسے یہ دیکھ کر پریشانی ہوئی کہ اس روز چیلیں اور کوے اس کے اپنے علاقے میں پرواز کر رہے ہیں۔

 

وہ چھت سے نیچے اترا اور مزدوری کے لیے گھر سے باہر جانے سے پہلے اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج نہ وہ خود گھر سے باہر جائے اور نہ بچوں کو جانے دے۔ بلکہ ہو سکے تو آج گھر کا دروازہ تک نہ کھولے مبادا کوئی دہشت گرد کہیں آس پاس بم نہ پھوڑے یا خود کو دھماکے سے نہ اڑائے۔

 

یہ کہہ کر وہ گھر سے نکلا تو تھوڑی دور ایک پان والے کی دوکان پر رکھے چھوٹے سے ٹی وی سیٹ سے نشر ہونے والی خبریں سننے کے لیے رک گیا۔

 

ٹی وی پر خبریں سنانے والی خاتون کہہ رہی تھی: "حکومت کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ چند دہشت گرد شہر میں داخل ہو چکے ہیں چنانچہ تمام شہری اپنے ارد گرد لوگوں پر نظر رکھیں اور اگر انہیں کسی جگہ کوئی مشکوک آدمی دکھائی دے تو اس کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں۔"

 

یہ خبر سن کر وہ آگے بڑھا تو تھوڑے فاصلے پر ایک چوک میں اسے ایک ٹریفک پولیس والا ٹریفک کنٹرول کرتا دکھائی دیا۔

 

رحمت علی چند لمحوں کے لیے رک گیا تا کہ پولیس والے کو اپنے خدشات سے آگاہ کرے کہ آج بم دھماکہ اس علاقے میں ہو گا۔ پھر کچھ سوچ کر وہ پولیس والے کو کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا۔

 

اس نے سوچا اس کے بچے اس کا چیلوں اور کووں کا مفروضہ سن کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں بھلا پولیس والا اس کی بات کہاں سنے گا۔ بلکہ الٹا کہیں یہ نہ ہو کہ وہ اسے پکڑ کر دہشت گردوں کا ساتھی ہونے کے الزام میں تھانے لے جائے۔

 

چنانچہ وہ پولیس والے کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مزدوری کے اڈوں کی طرف چلا گیا۔

 

وہ ایک کے بعد مزدوری کے دوسرے اور پھر تیسرے اڈے پر گیا لیکن خلاف معمول آج اسے کوئی کام نہ ملا۔ ویسے بھی صبح اپنے علاقے میں چیل اور کوے اڑتے دیکھ کر آج وہ کچھ اچھا محسوس نہیں کر رہا تھا۔

 

وہ ایک فیملی مین تھا اور محنت مشقت پر ایک سچے محنت کش کی طرح ایمان رکھتا تھا۔ مزدوری نہ ملنے پر وہ کوئی نہ کوئی ایسا دھندہ ڈھونڈھ لیتا جو اس کے معمول کے کاموں سے ہٹ کر ہوتا۔ اس سے اگر اسے چند روپے مل جاتے تو وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا اور اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان لے کر گھر لوٹتا۔

 

اس دن روز مرّہ کی مزدوری نہ ملنے پر اس نے کوئی اور دھندہ ڈھونڈھنے کی کوشش نہ کی۔

 

وہ مزدوری کے روزمرّہ اڈوں سے سیدھا گھر کی طرف روانہ ہوا تاکہ آج کا دن عافیت سے اپنے بچوں کے ساتھ گزارے۔

 

خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہوے وہ دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ آج کا دن خیریت سے گزر جائے اور کہیں خون خرابہ نہ ہو۔

 

انہی خیالات میں گم وہ اس چوک کے پاس پہنچا جہاں صبح ٹریفک پولیس والا آتی جاتی ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا۔

 

اس نے دیکھا ٹریفک پولیس والے نے ایک سفید رنگ کی گاڑی روک رکھی تھی اور اس کے ڈرائیور سے کاغذات مانگ رہا تھا۔ پھر شاید پولیس والے کو کوئی شک ہوا تھا کہ اس نے گاڑی والے کو گاڑی سے نیچے اترنے اور گاڑی کی تلاشی دینے کے لیے کہا۔

 

رحمت علی نے دیکھا چیلیں اور کوے عین اس وقت آسمان پر بہت نیچی پرواز کر رہے تھے۔

 

چیلوں اور کووں کو اتنی نیچی پرواز کرتے دیکھ کر اس نے وہاں سے اپنے گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ اس نے دیکھا عین اس لمحے وہ گاڑی ایک دھماکے کے ساتھ اڑ گئی جس سے گاڑی والا، پولیس والا اور ارد گرد کھڑے دسیوں لوگوں کے جسموں کے پرخچے اڑ گئے۔

 

چیلوں اور کووں نے حسب معمول جھپٹ کر ہوا میں اڑتے انسانی گوشت کے ٹکڑے پکڑے اور آس پاس کی عمارتوں کی ممٹیوں پر بیٹھ کر کھانے لگے۔

 

وہ دوڑتا ہوا اپنے گھر پہنچا اور اپنے بیٹے اور بیٹی کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

٭٭٭