کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

غلام

خواجہ اشرف


گارسن صبح اٹھتے ہی پہلا کام یہ کرتا کہ اپنے غلام آبا و  اجداد کی تعریف میں ایک گیت گاتا۔

 

یہ گیت اس نے خود ہی گھڑا تھا۔ عجیب بے ربط اور بے معنی گیت تھا لیکن وہ اس گیت سے اپنے دن کا آغاز مذھبی فریضہ سمجھ کر کرتا۔ جیے ہی اس کی فرینک سناٹرا جیسی دھن بلند ہوتی اس کا انڈین دوست وجے اسے گالی دے کر خاموش ہونے کی تلقین کرتا۔ لیکن گارسن وجے کی گالیاں سننے کے باوجود اپنا راگ جاری رکھتا۔

 

"تم جنہیں جہازوں میں بھر کر

افریقا کے جنگلوں سے

لایا گیا

وہ منڈیاں بھی کیا منڈیاں تھیں

جن میں تمہاری بولی لگی

تمہارے بدصورت موٹے کالے ہونٹ

سسکتے رہے

دام لگتے رہے

تم یونہی برس ہا برس بکتے رہے

تم جنہیں جہازوں میں بھر کر

افریقا کے جنگلوں سے

لایا گیا

تمہاری نظر

آسماں پر چمکتے ستاروں پر

ٹکی رہی

تمہاری جاں

 شکنجوں میں اٹکی رہی

تمہارے بدصورت موٹے کالے ہونٹ

سسکتے رہے

دام لگتے رہے

تم یونہی برس ہا برس بکتے رہے "

 

وجے گالیاں دیتا، کبھی کان سرہانے میں دبا کر سونے کی کوشش کرتا، لیکن گارسن گاتا رہتا جب تک کہ وجے اٹھنے پر مجبور نہ ہو جاتا۔ گارسن اور وجے دونوں یوسی برکلے کے طالب علم تھے۔ گارسن ٹینسی کا رہنے والا تھا جہاں اس کے آبا و اجداد کسی زمانے میں پلانٹیشنز پر غلاموں کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ جبکہ وجے کے ماں باپ انڈیا سے ہجرت کر کے امریکہ آئے تھے۔ لاس ائجلس میں ان کا گروسری اسٹور تھا۔ وجے اور اس کی بہن سپتمی کی پیدائش امریکہ میں ہوئی تھی۔ دونوں پڑھائی لکھائی میں تیز تھے۔ لاس اینجلس ہائی سے گریجویشن کے بعد دونوں کو یوسی برکلے میں داخلہ ملا تھا۔

 

دونوں بہن بھائیوں نے یوسی کے پاس ہی ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا تھا۔ گارسن کو ابھی تک رہنے کے لیے جگہ نہیں ملی تھی اس لیے وجے نے اسے اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی تھی جو اس نے بخوشی قبول کر لی تھی۔

 

ہوٹل سے وجے اور سپتمی کے ساتھ منتقل ہونے سے پہلے گارسن نے انہیں بتا دیا تھا کہ اسے علی الصبح گانے کی عادت ہے۔ اس کی آواز اتنی اچھی نہیں ہے۔ لیکن وہ ہمیشہ اپنے دن کا آغاز اسی گیت سے کرتا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنی اور اپنے آبا و اجداد کی تاریخ کو فراموش کرے۔

 

وجے کے برعکس سپتمی کو گارسن کا گانا اچھا لگتا۔ جیسے ہی علی الصبح گارسن کے گانے کی تان بلند ہوتی سپتمی اٹھ جاتی۔ وہ اٹھ کر اپنے اور گارسن کے لیے چائے بناتی۔ گارسن کے گانے کی تعریف کرتی۔ پھر دونوں چائے پینے کے لیے بیٹھ جاتے۔ اور دونوں میں گپ شپ شروع ہو جاتی۔

 

سپتمی کہتی:

 

"گارسن تمہارے گیت میں بہت درد ہے۔ تمہارا گیت سن کر مجھے ہندوستان کی غلامی کا دور یاد آتا ہے۔ میں امریکہ میں پیدا ہوئی تھی۔ مجھے ہندوستان میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن میرے ماں باپ اور ان کے دوست کبھی کبھار ہندوستان کی طویل غلامی کی بات کرتے ہیں تو ان کی باتوں میں مجھے تمہارے گیت جیسے درد کے احساس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔"

 

گارسن سپتمی کی بات سنتا تو کہتا: " میں یہ گیت گا کر خود کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ دنیا سے غلامی کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ میرے آبا و اجداد سے زیادہ بدتر غلامی میں مبتلا ہیں۔ میرے آبا و اجداد کو افریقا سے زنجیریں ڈال کر امریکہ اور یوروپ لایا گیا تھا لیکن اب پوری دنیا سے لوگ خود بخود غلامی کرنے کے لیے یوروپ اور امریکہ کھنچے چلے آتے ہیں۔ پہلے یہاں آنے کے لیے سو سو طرح کے جتن کرتے ہیں پھر کوشش کرتے ہیں کہ جس حد تک ممکن ہو یوروپی اور امریکی رنگ ڈھنگ اپنائیں۔ اگر خود نہ اپنا سکیں تو اپنے بچوں کو یوروپی اور امریکی کلچر کا شاہکار بنا دیتے ہیں۔"

 

وجے گارسن اور سپتمی کی گفتگو سنتا تو سرہانہ ایک طرف پھینک کر اسے ہندی میں الٹی سیدھی گالیاں دینی شروع ہو جاتا۔

 

گارسن اس کی گالیاں سن کر ہنس دیتا۔ وجے اور سپتمی کے امریکی لب و لہجے سے گارسن کو اندازہ تھا کہ یہ بھی ان غلاموں کی اولاد ہیں جو غلامی کی خاطر خود بخود امریکہ کھنچے چلے آتے ہیں اور یہاں اپنی شکل و صورت کے علاوہ ہر چیز بدل لیتے ہیں۔

 

وہ ہنستے ہوے وجے سے کہتا: " وجے اور کچھ نہیں تو کم از کم اپنے ماں باپ سے ٹھیک طرح سے ہندی گالیاں ہی دینا سیکھ لو۔ جب تم امریکی لہجے میں مجھے ہندی گالیاں دیتے ہو مجھے اپنے آبا و اجداد کے دکھ یاد آ جاتے ہیں۔"

 

وجے اسے ترکی بترکی جواب دیتا:

 

"میری بگڑی ہوئی ہندی گالیوں کا تمہارے آبا و اجداد کے دکھوں سے کیا تعلق ہے۔"

 

گارسن کہتا: " ان گالیوں کا میرے آبادو اجداد کے غلامی میں اٹھائے گئے دکھوں سے وہی تعلق ہے جو میرے گیت کا ہے۔ میں امریکی انگریزی میں گیت گاتا ہوں تو مجھے اپنی بدقسمتی کا احساس ہوتا ہے کہ میں زنجیروں میں جکڑے ، شکنجوں میں کسے ، اپنے آبا و اجداد کی غلامی کے دکھوں کا اظہار بھی ان کی زبان میں کرتا ہوں جنہوں نے ان پر غلامی کی ذلت مسلط کی تھی۔ کاش مجھے اپنے آبا و اجداد کی زبان آتی۔ کاش میں یہ گیت انہی کی زبان میں گا سکتا۔ تا کہ ان کی روحیں جان جاتیں کہ ان کا کوئی بیٹا اب بھی ان کے افریقا سے امریکہ تک پر مصائب سفر کی کہانی دنیا کو سنا رہا ہے "۔

 

گارسن یہ بات کچھ ایسی دردمندی سے کہتا کہ اس کی آواز جذبات کی شدت سے بھرا جاتی۔

 

سپتمی اسے تسلی دیتی۔ اس کی دلجوئی کرتی۔ اسے بتاتی کہ اب اسے اپنے آبا و اجداد کی غلامی کے مسئلے پر اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ صدیوں قبل گزرے واقعات پر آدمی کو اس طرح دکھی نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا حال بے حال ہو جائے۔

 

وجے گارسن سے اتنی ہمدردی دکھانے پر بہن کو ششکارتا۔

 

انہی باتوں میں اسکول جانے کا وقت ہو جاتا۔ وہ تینوں بیک پیک کندھوں پر ڈال کر اپارٹمنٹ سے کیمپس جانے کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔ گارسن اور وجے کی کلاسیں ایک ہی تھیں اس لیے وہ اکھٹے اپنی کلاسوں میں پہنچتے جبکہ سپتمی مختلف کلاسوں میں ہونے کے باعث کیمپس کے گیٹ پر ان سے جدا ہو جاتی۔

 

جاتے جاتے وہ گارسن کو تلقین کرتی کہ وہ دن بھر اپنے آبا و اجداد کی غلامی کے بارے میں سوچنے کی بجائے اپنے لیکچروں پر توجہ دے تا کہ وہ پڑھائی لکھائی سے اپنے حال کو اپنے آبا و  اجداد کی زندگیوں سے بہتر بنا سکے۔

 

گارسن نے انتہائی ملائمت سے سپتمی کا شکریہ ادا کیا۔ جب کہ اس نے بھی مسکراتے ہوے اپنی راہ لی۔

 

کلاس روم کی طرف جاتے ہوے وجے پھر گارسن کی دکھتی رگ چھیڑی۔

 

"گارسن یہ جو تم صبح اٹھ کر گیت گاتے ہو اس کے بارے میں تمہیں میرا ایک مشورہ ہے۔

 

گیت گانے کے علاوہ اگر تم گٹار بجانی سیکھ لو اور یہ گیت صبح صبح اپارٹمنٹ میں گانے کی بجائے گٹار کے ساتھ ٹیلیگراف پر گایا کرو تو اپنے لیے چند سکے بھی اکھٹے کر سکتے ہو۔"

 

گارسن نے وجے کا منہ چڑاتے ہوے جواب دیا کہ اسے گٹار بجانی آتی ہے۔ لیکن سکے اکھٹے کرنے کے لیے اسے گٹار بجانے کی ضرورت نہیں۔

 

گارسن اور وجے کلاس روم میں پہنچے تو سوشیالوجی کے پروفیسر جیمز اپنا لیکچر شروع کر چکے تھے۔ ان کے لیکچر کا موضوع تھا جنس اور کلچر۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جنس اگرچہ زندگی کا ایک بنیادی وظیفہ ہے لیکن انسانی سماج میں یہ کئی ایسی ثقافتی شکلیں اختیار کرتی ہے جس پر مختلف دلچسپیوں کے حامل گروپ طرح طرح کے لیبل اس طرح چڑھاتے ہیں کہ اصل موضوع غائب ہو جاتا ہے۔

 

جدید انسان نے جس طرح غلامی کو جاری رکھنے کے لیے ایسے معاشی سسٹم ایجاد کئے ہیں کہ انسان خود بخود رضامندی سے انتہائی خوشی کے ساتھ غلامی کی غیر مرئی زنجیریں پہن لیتا ہے اور پھر ساری عمر کتے کی طرح سسٹم کی خدمت سرانجام دیتا ہے اسی طرح جنس غیر محسوس رضامندی سے کئی ایسے ثقافتی روپ اختیار کرتی ہے کہ اس کا اصل وظیفہ غائب ہو جاتا ہے اور تجارتی مقاصد ٹیک اوور کر لیتے ہیں۔

 

پروفیسر صاحب بول رہے تھے اور گارسن اور وجے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔

 

وجے نے گارسن سے دھیمے لہجے میں کہا:

 

"سالے صبح غلامی پر تمہارا گیت سنا تھا یہاں پروفیسر صاحب بھی اسی موضوع پر گفتگو فرما رہے ہیں۔"

 

پروفیسر جیمز نے وجے کو گارسن سے کانا پھوسی کرتے دیکھا تو انہوں نے اسے پوچھا کہ وہ گارسن سے کیا کہہ رہا ہے۔

 

وجے نے پروفیسر صاحب کو بتایا کہ گارسن ہر صبح اپنے آبا و اجداد کی روح کو سکون پہنچانے کے لیے ایک گیت گاتا ہے اس کے گیت اور آپ کے لیکچر کا موضوع ایک ہی ہے۔

 

پروفیسر جیمز کا تعلق بھی افریقی امریکن کمیونٹی سے تھا۔ وجے کی بات سن کر انہوں نے گارسن سے درخواست کی کیا وہ بھی ان کے اور اپنے دیگر ہم جماعتوں کے لیے وہ گیت گانا پسند کرے گا۔ پروفیسر صاحب کا حکم بجا لاتے ہوے گارسن نے سر کلاس صبح والا گانا اپنے ہم جماعتوں کی ضیافت طبع کے لیے پیش کیا:

 

کلاس میں ایک لڑکے کے پاس اس کی گٹار تھی۔ گارسن نے گانا شروع کیا تو اس طالب علم نے گٹار باکس سے نکال کر بجانا شروع کر دی۔

 

"تم جنہیں جہازوں میں بھر کر

افریقا کے جنگلوں سے

لایا گیا

وہ منڈیاں بھی کیا منڈیاں تھیں

جن میں تمہاری بولی لگی

تمہارے بدصورت موٹے کالے ہونٹ

سسکتے رہے

دام لگتے رہے

تم یونہی برس ہا برس بکتے رہے

تم جنہیں جہازوں میں بھر کر

افریقا کے جنگلوں سے

لایا گیا

تمہاری نظر

آسماں پر چمکتے ستاروں پر

ٹکی رہی

تمہاری جاں

 شکنجوں میں اٹکی رہی

تمہارے بدصورت موٹے کالے ہونٹ

سسکتے رہے

دام لگتے رہے

تم یونہی برس ہا برس بکتے رہے "

 

گارسن کے گیت اور ساتھی طالب علم کی گٹار سے کلاس روم کا ماحول تبدیل ہو گیا۔

 

گارسن کا گیت ختم ہوا تو پروفیسر صاحب نے اپنا چشمہ اتار کر اپنی آنکھوں میں تیرتے آنسووں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔ پھر انہوں نے طالب علموں کو دعوت دی کہ وہ غلامی، جنس اور کلچر کے موضوع پر اپنے اپنے تاثرات پیش کریں۔

 

پروفیسر صاحب کی دعوت عام سن کر ایک چینی لڑکی کھڑی ہوئی۔ اس نے کہا کہ اس کا اصل نام جن یی ہے لیکن اس نے اپنی اور امریکیوں کی سہولت کے لیے اپنا نام جینی رکھ لیا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ اس کا تعلق امریکہ میں آباد چوتھی نسل کے چینیوں سے ہے۔ اس کے پردادا ریلوے لائن بچھانے کے لیے امریکہ آئے تھے اور پھر یہیں رہ گئے تھے۔

 

لیکن آج بھی اسے اس کی چینی ثقافتی وراثت بعض اوقات حزن کا شکار کر دیتی ہے۔

 

صبح کے وقت اسکول آنے سے پہلے کبھی کبھار جب وہ آئنے میں اپنے سراپا کا جائزہ لیتی ہے تو وہ اپنے بارے میں کنفیویزن کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسے اکثر یہ سوال تنگ کرتا ہے کہ وہ کون ہے ؟ کیا وہ چینی ہے یا امریکن؟

 

جب وہ اپنی شکل کو دیکھتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ چینی ہے۔ لیکن پھر اسے یاد آتا ہے کہ اسے چینی زبان نہیں آتی۔ چینی رسم و رواج اور کلچر کے ساتھ اس کا وہ تعلق نہیں جو چین میں رہنے والے چینیوں کاہے۔ تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ جسمانی طور پر وہ ایک چینی لڑکی ہے لیکن اس میں امریکی جن حلول کر گیا اور اب وہ میرے جسم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

 

وجے نے جینی کی بات سنی تو گارسن سے کہا:

 

"میں سمجھتا تھا تیرا گیت ایک بکواس کے سوا کچھ نہیں لیکن جینی کی بات سن کر لگتا ہے کہ یہ مسئلہ کچھ زیادہ گھمبیر ہے "۔

 

"گارسن نے کہا:

 

"مجھے لگتا ہے تم اپنے بزرگوں کی بات توجہ سے نہیں سنتے۔ ہندوستان صدیوں تک غلام رہا ہے۔ ہندوستان کی روح میں چھپا درد تمہارے لب و لہجے سے بھلے غائب ہو لیکن مجھے یقین ہے کہ تمہارے بزرگ اب بھی اس غلامی کی صدیوں طویل رات کو یاد کر کے ضرور ملول ہوتے ہوں گے۔"

 

پروفیسر جیمز نے وجے اور گارسن کو باہمی گفتگو کرتے دیکھا تو وجے سے کہا کہ فقط گارسن سے بات کرنے کی بجائے وہ اپنے ہم جماعتوں سے اپنے خیالات شیر کرے تو زیادہ مناسب رہے گا۔

 

پروفیسر جیمز کے کہنے پر وجے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ عہد حاضر کے ہندوستان کی ساخت میں اتنی تہذیبوں نے اپنی اچھائیوں اور برائیوں کے جراثیم داخل کئے ہیں کہ ہم تقریباً بھول گئے ہیں کہ اصل ہندوستان کیسا تھا۔

 

ہمارے آبا و اجداد کا رہن سہن کیسا تھا۔ رسم و رواج کیسے تھے۔ بول چال کیسی تھی۔

 

تاہم انگریزوں کے ہندوستان آنے سے پہلے ہمارے بزرگوں نے پوری کوشش کی کہ وہ ہندوستان کی روح کو زندہ رکھیں۔ ہندوستان میں یونانی آئے ، ایرانی آئے ، افغانی آئے لیکن ان کی غلامی میں جانے کے باوجود ہماری روح آزاد رہی۔

 

انگریزوں نے ہمارے ساتھ وہی کیا جو جینی کے ساتھ امریکہ نے کیا ہے۔ اب ہم ہندوستانی کم اور گورے زیادہ ہیں۔

 

ہماری زبان، ہمارا کلچر، ہمارے رسم و رواج، ہماری سوچیں ، ہمارا طرز استدلال، ہمارا طرز زندگی ہندوستانی کم اور امریکی و برطانوی زیادہ ہے۔

 

ہماری روایتوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ہم اپنی روایتوں کا دفاع کرنے کی بجائے برطانوی اور امریکی روایتوں کا دفاع زیادہ کرتے ہیں۔

 

انگریزوں نے ہمارے اخلاقی، سماجی، تاریخی اور سیاسی معیار بدل دیے ہیں۔ اب ہم نہیں جانتے ہمارا کیا ہے۔ ہم نے ہر وہ چیز اپنا لی ہے جو برطانیہ اور امریکہ نے ہم پر مسلط کی۔

 

ہندوستان ایک ارب سے زیادہ انسانوں کا ملک ہے لیکن ان ارب انسانوں کے ملک میں چند کروڑ انسانوں کا ایک جزیرہ ہے جو برطانوی اور امریکی قدروں کا ہو بہو عکس ہے۔ اس جزیرے کی حقیقت باقی ایک ارب ہندوستانیوں کی حقیقت سے مختلف ہے۔ لیکن یہ چند کروڑ ہندوستانی جدید ہندوستان کا چہرہ مہرہ ہیں جبکہ باقی کروڑوں ہندوستانی اس سارے بندوبست میں کوئی حثیت نہیں رکھتے۔

 

وجے بول رہا تھا اور ساری کلاس پورے انہماک سے سن رہی تھی۔ خود گارسن کو اندازہ نہیں تھا کہ صبح صبح اس کے گیت پر اسے گالیاں دینے والا وجے جدید طرز غلامی کی باریکیوں کو اس طرح سمجھتا ہے۔

 

سوشیالوجی کی کلاس ختم ہوئی تو گارسن اور وجے ٹیلیگراف پر واقع ایک کیفے میں جا بیٹھے۔

 

تھوڑی دیر میں اپنی کلاس سے فارغ ہو کر سپتمی بھی وہیں آ گئی۔ اس نے گارسن اور وجے کو کیفے میں بیٹھے دیکھا تو وہ بھی ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔

 

وجے اور گارسن نے اپنے لیے کیپوچینو آرڈر کیا تھا جبکہ سپتمی نے موکا کی خواہش ظاہر کی۔

 

گارسن نے سپتمی کے لیے موکا آرڈر کیا اور پھر اس سے بولا:

 

"سپتمی آج تمہارے بھولے بھالے بھائی وجے نے سوشیالوجی کی کلاس میں کمال کر دیا ہے۔ پہلے میں اسے ایک گھامڑ ہندوستانی سمجھتا تھا۔ اب مجھے اس میں چھپا ایک دانشور دکھائی دیتا ہے جو جدید دنیا کی غلامی کی غیر مرئی زنجیروں کو اسی طرح پہچانتا ہے جیسے میں اپنے آبا و اجداد کی مرئی زنجیروں کو پہچانتا ہوں اور آج بھی ان کی بے چین روحوں کو سکون پہنچانے کے لیے ہر صبح ان کے لیے گیت گاتا ہوں۔"

 

سپتمی نے گارسن سے پروفیسر جیمز کی کلاس کی کہانی سنی تو موکے کے چسکی لگاتے ہوے کہنے لگی۔

 

"گارسن یہ تمہارے گیت کا اثر ہے ورنہ وجے ایسی چیزوں پر کم ہی توجہ دیتا ہے۔"

 

گارسن نے کیپوچینو کا کپ دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور پھر کپ منہ تک لاتے ہوے بولا:

 

"لیکن مجھے افسوس ہے کہ اب اسے صبح صبح میرا گیت سننے کو نہیں ملے گا کیونکہ ہاوسنگ آفس نے میرے لیے ڈام میں ایک کمرے کا بندوبست کر دیا ہے۔"

 

وجے جو اب تک خاموش بیٹھا گارسن اور سپتمی کی گفتگو سن رہا تھا کہنے لگا:

 

"گارسن تمہارے گیت نے میری روح کر دکھی کر دیا ہے۔ کیا اب تم مجھے میری ہزاروں سال کی غلامی کے درد سے آشنا کر کے ڈام میں منتقل ہو جاؤ گے ؟"

 

اس سے پہلے کہ گارسن کچھ کہتا سپتمی بولی:

 

"میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک میوزک گروپ بنانا چاہیے۔ گارسن تم اپنے آبا و اجداد کی بھٹکتی روحوں کو سکون پہنچانے کے علاوہ ایک نیا گیت لکھو جس میں عہد حاضر کے بھٹکے ہوے زندہ غلاموں کی روحوں کو جھنجوڑو اور انہیں بتاؤ کہ امریکہ اور یوروپ کی اندھا دھند فکری و ثقافتی و سیاسی و معاشی غلامی کے بجائے اپنی اصل کو پہچانیں۔ جدید غلامی کی زنجیریں پوری انسانیت کو تباہی کی ایسی منزل کی طرف لے جا رہی ہیں جہاں کچھ نہیں بچے گا۔ "

 

گارسن نے سپتمی کی بات سنی تو کہنے لگا کہ یہ ایک بہت اچھا آئیڈیا ہے۔ یہ گیت وہ تنہا نہیں لکھے گا۔ یہ گیت افریقہ اور ایشیا کے غلاموں کی اولاد مل کر لکھے گی۔

 

پھر گارسن نے اپنے پہلے کی گیت کی طرز پر مصرعہ اٹھایا:

 

"ہم جو جہازوں میں بھرکر

افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سے

یوروپ اور امریکہ کی منڈیوں میں

بکنے کے لیے

ہجوم در ہجوم چلے آتے ہیں "

 

سپتمی نے اگلی چند لائنیں الاپیں

 

"ہم جن کی شکلیں

چینی، جاپانی، اور ہندوستانی ہیں

لیکن روحیں

برطانوی اور امریکی ہیں "

 

وجے نے گارسن اور سپتمی کے گیت کو آگے بڑھایا:

 

"ہم غلام ابن غلام ابن غلام

نہیں جانتے

آزادی کا مفہوم کیا ہے۔

ہم جن زنجیروں سے بندھے ہیں

یہ ہمارے جسموں کو نہیں

ہماری روحوں کو زخمی کرتی ہیں "

 

تینوں نے اپنا اپنا ڈرنک ختم کیا اور پھر یہ گاتے ہوے اکھٹے اپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہوئے :

 

"ہم جو جہازوں میں بھرکر

افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سے

یوروپ اور امریکہ کی منڈیوں میں

بکنے کے لیے

ہجوم در ہجوم چلے آتے ہیں

ہم غلام ابن غلام ابن غلام

نہیں جانتے

آزادی کا مفہوم کیا ہے۔"

٭٭٭