کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سگرٹ کی بو

خواجہ اشرف


اس رات دوکان بند کر کے سلیمی صاحب گھر آئے تو بہت خوش تھے۔ بیگم نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے آج میر صاحب اپنے بیٹے کے لیے سدرہ کا ہاتھ مانگنے آئے تھے۔ لڑکا اچھا ہے۔ پڑھا لکھا ہے۔ کھاتا کماتا ہے۔ میں نے ہاں کر دی ہے۔

 

لیکن آپ نے ہاں کرنے سے پہلے سدرہ سے پوچھ تو لیا ہوتا۔ سدرہ سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ کیا اپنے بابا کے پسند کردہ لڑکے سے شادی سے انکار کرے گی۔

 

انہوں نے بہت اعتماد کے ساتھ بیگم کو جواب دیا۔ ابھی سلیمی صاحب اور ان کی بیگم یہ بات کر ہی رہے تھے کہ سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔ سلیمی صاحب نے پیار سے بیٹی کو چمکارتے ہوے اپنے پاس بلایا اور کہا:

 

" سدی بیٹی آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میر صاحب آئے تھے۔ اپنے بیٹے حماد کے لیے تمہارا ہاتھ مانگ رہے تھے۔ میں نے ہاں کر دی ہے۔ "

 

" ابو یہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔ میں حماد سے شادی نہیں کروں گی۔"

 

بیٹی کے منہ سے حرف انکار سنتے ہی سلیمی صاحب بھڑک اٹھے۔ انہیں توقع نہیں تھی کہ سدی اس طرح اس رشتے سے صاف انکار کر دے گی۔ پھر بھی ضبط دکھاتے ہوے انہوں نے کہا:

 

"سدی تم اپنے بابا کے سامنے کہہ رہی ہو کہ تم ان کے پسند کئے ہوے لڑکے سے شادی نہیں کرو گی۔"

 

"ہاں بابا، میں حماد سے شادی نہیں کروں گی۔"

 

اس بار سدی کے انکار پر سلیمی صاحب واقعتاً  آپے سے باہر ہو گئے۔ " دیکھو سدی میں سیدھے سبھاؤ تم سے کہتا ہوں کہ میں میر صاحب کو زبان دے چکا ہوں۔ اب تمہیں ہر حال میں ان کے بیٹے سے شادی کرنا ہو گی ورنہ۔۔۔"

 

"ورنہ کیا۔۔۔؟ سدرہ نے باپ کے روبرو آتے ہوے کہا۔

 

"ورنہ۔۔" یہ کہہ کر انہوں نے سدی کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ والے کمرے کے اندر دھکیلا اور باہر کنڈی لگا کر تالہ لگا دیا۔

 

"ورنہ تم اس وقت تک یہاں قید رہو گی جب تک تم میر صاحب کے بیٹے سے شادی کے لیے ہاں نہیں کر دیتی۔ اور تب تک تمہارا کھانا پینا سب بند۔ اگر تمہاری ماں ، بہن یا بھائی نے تمہیں کھانا دینے کی کوشش کی تو ان کو بھی تمہارے ساتھ اس کمرے میں بند کر دوں گا۔" یہ کہہ کر انہوں نے تالے کی چابی جیب میں ڈالی اور پاوں چٹختے ، بغیر کچھ کھائے پئے ، باہر چلے گئے۔

 

اب بیٹی کمرے کے اندر قید تھی اور باہر اس کی ماں ، بہن اور بھائی رو رہے تھے اور اس سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ حماد سے شادی کر لے۔ حماد اچھا لڑکا ہے۔ شکل و صورت کا اچھا ہے۔ پڑھا لکھا ہے۔ اچھے پیسے کماتا ہے۔ اور میر صاحب کی شہرمیں ایک عزت ہے۔ سب لوگ ان کو جانتے ہیں۔ اور دل سے ان کا احترام کرتے ہیں۔ اگر وہ ہاں کر دے گی تو اس کے ابا کا غصہ کم ہو جائے گا۔ اور وہ تالہ کھول دیں گے۔ اور یہ مصیبت ٹل جائے گی۔

 

لیکن سدی اپنی ضد پر اڑی رہی۔ وہ بھی کمرے کے اندر دروازے کے پیچھے کھڑی رو رہی تھی لیکن یہی کہے جا رہی تھی کہ وہ مر جائے گی لیکن حماد سے شادی نہیں کرے گی۔

 

سلیمی صاحب بیٹی کو کمرے میں بند کر کے گھر سے چلے تو آئے تھے اور انہیں بیٹی کے میر صاحب کے بیٹے سے شادی سے انکار پر غصہ بھی آ رہا تھا لیکن ساتھ ہی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک کرنے پر ان کے دل میں مسلسل ٹیسیں بھی اٹھ رہی تھیں۔ انہوں نے جس محبت کے ساتھ اپنی دونوں بیٹیوں اور ایک بیٹے کو پالا تھا ان کے جاننے والوں میں اس کی مثال دی جاتی تھی۔

 

شاید ہی کبھی بچوں کی کوئی خواہش ہو گی جو انہوں نے پوری نہ کی ہو۔ خاص طور پر سدی ان کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور اس سے وہ بے پناہ محبت کرتے تھے۔

 

زندگی میں یہ پہلی بار تھا کہ انہوں نے اس کو ناراضگی سے کمرے میں اس طرح بند کیا تھا اور تالہ لگا کر گھر سے چلے آئے تھے۔

 

عام طور پر وہ بعد از شام گھر سے نکلتے تھے تو اپنے دوست ملک صاحب کے ریستورانٹ پر جا کر بیٹھ جاتے ، جہاں ان کے دوسرے دوست بھی آ جاتے اور اس وقت تک وہاں بیٹھے گپ شپ کرتے رہتے اور گھر نہ جاتے جب تک ملک صاحب ڈنر سے فارغ ہو کر رستورانٹ بند نہیں کر دیتے تھے۔

 

لیکن یہ پہلی بار تھی کہ ان کے قدم رستورانٹ کی طرف اٹھنے کی بجائے شہر کے وسط میں واقع نہر کی طرف جا رہے تھے۔ ان کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ کسی سے ملیں یا بات کریں۔

 

ان کے سر میں سارا وقت میر صاحب کی ان کی دوکان پر آمد سے لے کر، ان کی بیٹی کا عاجزانہ اور محبت بھرے انداز میں اپنے بیٹے کے لیے ہاتھ مانگنا ، ان کے بیٹے حماد کا چہرہ، اور پھر گھر میں ہونے والی اپنی بیگم اور بیٹی سے گفتگو اور بیٹی کا حماد سے شادی کرنے کا صاف انکار اور پھر اسے کمرے میں بند کر کے تالا لگانا ایک ٹیپ کی طرح چل رہا تھا۔ وہ افسوس کے ساتھ سوچ رہے تھے اور مسلسل سوچے چلے جا رہے تھے کہ آخر سدرہ نے حماد سے شادی کرنے سے کیوں انکار کر دیا تھا۔ انہیں اس بات پر اور بھی تعجب تھا کہ آخر ایسی کیا بات تھی کہ اس نے سزا کے طور پر کمرے میں بند ہو جانا قبول کر لیا تھا لیکن اس سے شادی کی حامی نہیں بھری تھی۔

 

انہوں نے سوچا شاید اسے کوئی اور لڑکا پسند ہو جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہو اور اس نے انہیں کسی وجہ سے اعتماد میں نہ لیا ہو۔ لیکن انہیں کوئی ایسا واقعہ یاد نہیں تھا کہ کبھی ان کی بیگم نے ان کے ساتھ ایسی کوئی بات کی ہو جس میں سدرہ کے کسی لڑکے کو پسند کرنے کا حوالہ ہو۔

 

وہ انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں ہلکے ہلکے قدم اٹھاتے نہر کی طرف چل رہے تھے۔ ان کو سدرہ کی پیدائش سے لیکر اس روز انکار تک اس کی زندگی کے سب واقعات یاد آ رہے تھے۔

 

انہیں یاد آیا کہ جب وہ پیدا ہوئی تھی تو کتنی دیر تک وہ اسے اپنے بازوں میں تھام کراس کے ننھے منے ہاتھوں اور پیروں کو محبت سے چومتے رہے تھے۔

 

وہ جب بھی شام کو دوکان سے واپس لوٹتے تو وہ ہمک کر ان کے بازوں می آ جاتی اور وہ دیر تک اسے اٹھائے اس کے ساتھ محبت سے کھیلتے اور باتیں کرتے رہتے۔

 

اور پھر جب وہ اور ان کی بیگم پہلے دن اسے اسکول چھوڑنے گئے تھے تو کس طرح بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ گھر لوٹے تھے۔ تب ان کی بیگم نے انہیں تسلی دیتے ہوے کہا تھا کہ ابھی تو اسے اسکول چھوڑا ہے کسی دن ان کو اس کا ہاتھ کسی اجنبی کے ہاتھ میں تھمانا ہو گا تب وہ کیا کریں گے۔

 

سلیمی صاحب ان خیالات میں کھوئے تھے اور ادھر گھر میں سدرہ کا کمرے کے اندر اور اس کی ماں اور بہن اور بھائی کا کمرے سے باہر رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔

 

سدرہ کا بھائی شکیل ماں سے روتے ہوے کہہ رہا تھا کہ امی بابا بہت برے ہیں۔ انہوں نے دیدی کو کمرے میں بند کر دیا ہے اور رولایا ہے۔ میں کبھی ان سے بات نہیں کروں گا۔

 

بہن طاہرہ جو کہ سدرہ سے کئی سال چھوٹی تھی روتے ہوے ماں سے کہہ رہی تھی کہ ماں دیدی کو باہر نکالو ورنہ وہ اندر   ہی بھوک اور پیاس سے مر جائے گی۔

 

شکیل اور طاہرہ کی باتوں سے سدرہ اور اس کی ماں کے جذبات اور بھی بے قابو ہو رہے تھے۔

 

ماں اب بھی سدرہ سے کہہ رہی تھی کہ وہ فل الحال بابا سے ہاں کر دے وہ بعد میں انہیں سمجھا بجھا کر ان کو اپنا فیصلہ بدلنے کے لیے کہے گی۔ لیکن اس کے جواب میں سدرہ نے ایک ناں پکڑ رکھی تھی اور مسلسل روتے ہوے کہے جا رہی تھی کہ میں مر جاؤں گی لیکن حماد سے شادی نہیں کروں گی۔

 

اسکول چھوڑنے والے دن کا واقعہ یاد کر کے سلیمی صاحب کی آنکھیں پھر آنسوؤں سے نم ہو گئیں اور وہ چلتے چلتے سسکیاں بھرنے لگے۔ سدی جان میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ زندگی میں ایک ایسا دن بھی آئے گا کہ مجھے تمہارے ساتھ یہ سلوک کرنا پڑے۔ کاش میری زندگی میں یہ دن کبھی نہ آتا۔ کاش تم حماد کے ساتھ شادی کرنے سے اس طرح انکار نہ کرتی۔ کاش میں تمہارے ساتھ اس وقت تمہاری شادی کی بات نہ کرتا تو شاید یہاں تک نوبت نہ آتی کہ مجھے تمہیں اس طرح کمرے میں بند کر کے تالا لگانا پڑتا۔

 

جیسے جیسے شاید کی گھنٹی کی آواز ان کے ذہن میں تیز ہو رہی تھی ان کی آنکھوں کی نمی برکھا میں بدل گئی۔ مون سون کے بادل کی طرح روتے روتے ان کے قدم گھر نہر کی طرف جانے کی بجائے گھر کی طرف اٹھنے لگے۔

 

اسی حال میں وہ گھر پہنچے اور اپنے ہاتھوں سے تالا کھول کر بیٹی کو گلے سے لگایا تو بیٹی بھی رونا شروع ہو گئی۔ پھر روتے روتے بولی: بابا حماد مجھے بھی پسند ہے۔ میں بھی اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ میری اس سے بات بھی ہوئی تھی۔ لیکن۔۔۔۔

 

بولو بولو بیٹی لیکن کیا؟ ماں نے بے قراری سے پوچھا۔ بتاؤ ناں دیدی لیکن کیا؟ طاہرہ اور بھائی نے سدرہ سے لپٹتے ہوے کہا:

 

"لیکن یہ کہ وہ سگریٹ پیتا ہے اور مجھے سگرٹوں کی بو سے سخت نفرت ہے۔ میں نے اسے کہا تھا وہ سگریٹ پینا چھوڑ دے لیکن وہ کہتا ہے وہ مر جائے گا لیکن سگریٹ پینا نہیں چھوڑے گا۔ اس لیے میں بھی مر جاؤں گی لیکن اس سے شادی نہیں کروں گی۔ "

 

"اچھا یہ بات ہے "، سلیمی صاحب نے بیٹی کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوے کہا، " تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ میں کل ہی میر صاحب سے کہہ دوں گا کہ وہ حماد کے لیے کوئی اور لڑکی دیکھ لیں سدرہ کی شادی ان کے بیٹے سے نہیں ہو سکتی۔

 

"بابا آپ نے مجھے بتانے کا موقع ہی کب دیا تھا۔" سدرہ نے روتے ہوے جواب دیا۔

٭٭٭