کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آئینے میں قید لڑکی

خواجہ اشرف


دن چڑہے رشید کی آنکھ کھلی تو اسے محسوس ہوا کہ کوئی لڑکی اس کے آس پاس سسکیاں بھر رہی ہے۔

 

وہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ اس لیے سسکیوں کی آواز پر اسے تعجب ہوا جو رفتہ رفتہ خوف بن کر اس کی ریح کی ہڈی میں سرسرانے لگا۔ اس نے سوچا اس کے علاوہ اس گھر میں اور کوئی موجود نہیں تو پھر یہ سسکیاں کون بھر رہا ہے ؟

 

اس نے اپنے کمرے کا بغور جائزہ لیا لیکن وہاں اس کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا۔

 

ڈرائنگ روم اور کچن کا جائزہ لیا وہاں بھی کوئی نہیں تھا لیکن سسکیوں کی آواز مسلسل آ رہی تھی۔

 

آخر اس نے پوری توجہ سے سسکیوں کی آواز سن کر اس کے ماخذ تک پہنچنا چاہا تو اسے محسوس ہوا کہ سسکیوں کی آواز اس کے کمرے اور باتھ روم کی مشترکہ دیوار پر آویزاں قد آدم آئینے سے آ رہی تھی۔

 

آئینے سے سسکیوں کی آواز آتے سن کر رشید کے ہوش و حواس خوف سے شل ہونا شروع ہو گئے۔ اس کو ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ آئینے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے اور جاننے کی کوشش کرے کہ آخر آئنے سے سسکیوں کی آواز کیوں آ رہی ہے۔ تھوڑی دیر تک خوف میں مبتلا رہنے کے بعد رشید کے حواس کچھ کچھ نارمل ہوے تو اس نے ہمت کر کے آئنے کی طرف دیکھا۔ اسے آئینے کے اندر سفید کپڑوں میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان لڑکی دکھائی دی جو زانوں پر سر نیوڑھائے بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی۔

 

آج سے پہلے جب بھی رشید نے آئینہ دیکھا اسے ہمیشہ آئینے میں اپنا عکس دکھائی دیا۔ وہ روزانہ نہا دھوکر فارغ ہونے کے بعد گھر سے روانہ ہونے سے پہلے قد آدم آئنے کے سامنے اپنے سراپا کا جائزہ لیتا۔

 

آج صبح جو وہ سو کر اٹھا، کمرے میں مسلسل آنے والی سسکیوں کی آواز نے اس کے روز مرہ کے معمولات منتشر کر دیے۔ اسے نہ باتھ روم جانا یاد رہا، نہ دانت صاف کرنا، نہ شیو بنانا، نہ غسل کرنا، اور نہ دفتر جانے کے لیے کپڑے تبدیل کرنا۔ اس کی ساری توجہ پہلے سسکیوں پر مرکوز تھی اور پھر آئینے میں بیٹھی، سفید کپڑوں میں ملبوس، زانوں پر سر رکھے بیٹھی خوبصورت لڑکی پر۔ وہ پریشان تھا کہ آخر آئینے میں بیٹھی لڑکی کون تھی، آئینے کے اندر کیسے پہنچی تھی۔ اور آئینے میں حقیقی عمق کے نہ ہونے کے باوجود وہ کیسے وہاں ایک جیتی جاگتی لڑکی کی طرح بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی۔ ان سوالوں سے پریشان وہ ہمت کر کے آئینے کے سامنے پہنچا اور چند لمحوں تک آئینے کے سامنے کھڑے ہو کراس لڑکی کی سسکیوں کی آواز سنتا رہا اور اسے پر تجسس نگاہوں سے دیکھتا رہا۔

 

وہ لڑکی اس کے وجود سے بے خبر اسی طرح زانوں پر سر جھکائے سسکیاں بھرتی رہی۔

 

وہ سوچتا رہا اس لڑکی سے بات کرے تو کیسے ؟اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائے تو کیسے ؟ وہ لڑکی آئینے کے اندر تھی اور اس تک اس کی آواز پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

 

کچھ سوچ کر اس نے اپنی انگلیوں سے آئینے پر ٹھک ٹھک کی لیکن آئینے کے اندر لڑکی اسی طرح اس کی آمد سے بے خبر زانوں پر سر رکھے سسکیاں بھرتی رہی۔ لڑکی کا چہرہ زانوں میں چھپا ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک اس کی صورت نہیں دیکھ پایا تھا لیکن اس کے کومل بازوں اور پیروں سے اوپر تھوڑی سی نظر آتی سفید ٹانگوں اور سر کے چمکتے زندگی سے بھرپور سیاہ بالوں سے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ایک نوجوان لڑکی ہے جو آئینے میں قید ہے۔

 

اس کی سسکیوں کی آواز کا کنوار پن بھی اس کے اندازے کی تائید کر رہا تھا۔ اس کی آواز کی نرماہٹ اور رسیلا پن صاف بتا رہا تھا کہ وہ لڑکی عورت پن سے دور ابھی نو عمری کی دہلیز پر کھڑی ہے

 

رشید کی اپنی عمر بھی ابھی زیادہ نہیں تھی۔ حال ہی میں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اس نے ایک انٹرنیشنل کمپیوٹر کمپنی میں کام شروع کیا تھا۔ جس گھر میں وہ آئینے میں قید لڑکی کے روبرو کھڑا تھا یہ بھی کمپنی کا فراہم کردہ تھا۔ گھرکے علاوہ کمپنی نے اسے گاڑی بھی دے رکھی تھی جسے عام طور پر وہ کام پر آنے جانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔

 

گھر اگرچہ چھوٹا تھا لیکن اسے اس طرح سے ڈیزاین کیا گیا تھا کہ یہاں رہنے والے کو زندگی کا تمام آرام میسر ہو اور وہ اپنے قیام سے لطف اندوز ہو سکے۔ گھر تقریباً تمام جدید سہولیات سے مزین تھا۔

 

گھر کے بیرونی گیٹ سے داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا۔ گیٹ کے اندر گاڑی پارک کرنے کی جگہ تھی۔ سامنے ڈرائنگ روم تھا۔ جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا ڈائننگ روم تھا جو دیکھنے میں ڈرائنگ روم کا ہی حصہ دکھائی دیتا تھا۔ اس کے ساتھ کچن اور کچن کے ساتھ آگے مختصر سے ہال وے کے بعد بیڈ روم تھا جس کے ساتھ ایک کشادہ باتھ روم تھا جسے گھر کا مکین اور ڈرائنگ روم میں آنے والے مہمان مشترکہ طور پر استعمال کر سکتے تھے۔

 

اسی جگہ خواب گاہ اور باتھ روم کی مشترکہ دیوار پر ہال وے میں آویزاں وہ آئینہ تھا جس میں قید وہ اجنبی لڑکی زانوؤں پر سر رکھے مسلسل سسکیاں لے رہی تھی۔

 

جب آئینے پر بار بار ٹھک ٹھک کرنے سے لڑکی رشید کی طرف متوجہہ نہ ہوئی تو اس نے ہمت کر کے لڑکی کو مخاطب کیا۔

 

"محترمہ آپ کون ہیں اور یہاں بیٹھی سسکیاں کیوں بھر رہی ہیں ؟"

 

آئینے پر ٹھک ٹھک کا جواب نہ دینے والی لڑکی نے رشید کا سوال سن لیا تھا۔ اس کے سوال پر اس نے سر اٹھا کر رشید کی طرف دیکھا تو اس کے حسن کی چمک سے رشید کے اوسان اس طرح خطا ہوے کہ وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔

 

آج تک اس نے اتنی خوبصورت، زندگی سے ایسی بھرپور نوجوان لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی۔

 

لڑکی نے بظاہر رشید کا سوال سن لیا تھا لیکن اس نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔

 

وہ یونہی بیٹھی، زانوؤں پر دونوں ہاتھ رکھے ، سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھتی رہی۔ اس کی دید میں ایک سحر تھا، ایک بات تھی، اور ایک راز تھا۔ آئینے میں قید تنہا نوجوان لڑکی جو تھوڑی دیر پہلے سسکیاں بھر رہی تھی اب خاموش بیٹھی گہری نظروں سے رشید کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔

 

رشید نے پھر اپنا سوال دہرایا:

 

" محترمہ آپ کون ہیں اور اس آئینے میں کیا کر رہی ہیں ؟ "

 

اس بار لڑکی رشید کا سوال سن کر آہستگی سے اپنے پیروں پراس طرح کھڑی ہوئی کہ رشید کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اس کے لیے لڑکی کے خوبصورت سراپا کو نظر بھر دیکھنا ناممکن ہو گیا۔

 

" میں اس آئینے کی قیدی ہوں۔ " لڑکی کے جواب کے کرب سے رشید سسکیاں بھرتے لگا۔

 

اب تک اس نے کئی طرح کے قیدی دیکھے تھے ، قیدیوں کی کہانیاں پڑھی تھیں لیکن آئینے کے کسی قیدی کے بارے میں نہ اس نے کبھی سنا نہ ایسے قیدی سے اس کا کبھی سامنا ہوا۔

 

"محترمہ میں اس بات کے ادراک سے قاصر ہوں کہ کوئی شخص آئینے میں قید ہو سکتا ہے۔ "

 

"ہاں جب تک میں آئینے میں قید نہیں ہوئی تھی یہ بات میرے ادراک سے بھی باہر تھی۔"

 

" لیکن اس آئینے کے اندر آپ کیسے پہنچیں۔؟"

 

رشید نے اظہار تعجب کرتے ہوے آئینے میں قید لڑکی کی صورت حال سمجھنے کی کوشش کی۔

 

"آپ چونکہ آئینے سے باہر ہیں اس لیے آپ آئینے کی اندر کی دنیا کا شعور حاصل نہیں کر سکتے۔ "

 

لڑکی نے رشید کا تعجب کم کرنے کے لیے جواب دیا۔

 

"لیکن محترمہ کیا آپ زندہ ہیں ؟" رشید نے مزید متعجب ہوتے ہوے سوال کیا۔

 

"آپ کا کیا خیال ہے ؟"

 

"مجھے تو آپ زندہ دکھائی دیتی ہیں۔ بلکہ زندگی اس طرح آپ کے انگ انگ سے پھوٹ رہی ہے کہ میرا جی چاہتا ہے میں آگے بڑھ کر آپ کو تھام لوں اور آپ کے وجود کو محسوس کروں۔"

 

"یہ آپ نہیں کر سکتے کیونکہ میرے اور آپ کے درمیان آئینہ حائل ہے۔ نہ میں آئینے سے باہر آ سکتی ہوں نہ آپ اس کے اندر آ سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ چاہنے کے باوجود میرے وجود کو تھام کر اس کا احساس نہیں کر سکتے۔" لڑکی نے مترنم آواز سے جواب دیا۔

 

آئینے میں قید لڑکی سے باتیں کرتے رشید کو وقت گزرنے کا کچھ احساس نہیں ہوا۔

 

وہ صبح اٹھنے کے بعد روز مرہ کے معمولات سے فارغ ہونے کے بعد دفتر جانے کی بجائے اسی طرح آئینے کے سامنے کھڑا اس لڑکی سے باتیں کر رہا تھا۔

 

اسی چکر میں نہ وہ دفتر گیا نہ دفتر کال کر کے اس نے کسی کو بتایا کہ وہ آج دفتر نہیں آئے گا۔

 

جیسے جیسے رشید آئینے میں قید لڑکی سے گفتگو کر رہا تھا۔ وہ اس کے حسن کے سحر میں گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔

 

اس میں رشید کا کوئی قصور بھی نہیں تھا۔ وہ تھی ہی اتنی جاذب نظر اور خوبصورت کہ اگر کوئی اور بھی اسے دیکھتا تو اسی طرح اس کے حسن میں گرفتار ہو جاتا۔

 

رشید اس سے ایک سوال کرتا تو وہ ایسے دلکش انداز میں اتنی سادگی کے ساتھ ایسا تہہ دار جواب دیتی کہ اس میں سے سو سوال اور جنم لیتے۔

 

آئینے میں قید لڑکی کے ساتھ انہی سوالوں اور جوابو ں میں رشید کے گھنٹے پہروں میں اور پہر دنوں میں تبدیل ہو گئے۔

 

اس کے کئی دن دفتر نہ جانے کی وجہ سے اس کے دفتر کے ساتھیوں کو اس کے بارے میں تشویش ہوئی۔ پہلے انہوں نے اس سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی- لیکن کئی دن تک اس سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے پولیس میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دی۔

 

یہاں کئی راتیں اور دن گزرنے کے باوجود آئینے میں قید لڑکی اور رشید کے درمیاں سوالوں اور جوابوں کا ایک سلسلہ تھا جو پھیلتا چلا جا رہا تھا- نہ رشید کے سوال ختم ہو رہے تھے نہ آئینے میں قید لڑکی کے جواب۔

 

رشید اس سے سوال پر سوال کئے جا رہا تھا اور وہ انتہائی آرام سے اس کے سب سوالوں کا جواب دے رہی تھی۔

 

اس کے چہرے پر نہ تھکن تھی اور نہ بوریت۔ رشید سے گفتگو کرنے کی وجہ سے اب اس کی سسکیاں بھی رک چکی تھیں۔ اور وہ رشید کے ساتھ گفتگو میں اس طرح مگن تھی جیسے وہ رشید کی زندگی کا حصہ ہو اور وہ اس کی زندگی کا۔

 

"آپ آئینے میں قید ہیں تو آپ کھاتی پیتی کیا ہیں ؟"

 

"آئینے کی قید ایک عجیب و غریب قید ہے۔ جیسے ہی ایک شخص اس قید میں پہنچتا ہے وہ کھانے پینے کے ضرورتوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ نہ اسے بھوک لگتی ہے نہ پیاس۔ نہ اسے تھکن کا احساس ہوتا ہے اور نہ سونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ وہ جس حالت میں ہوتا ہے اسی حالت میں رہتا ہے۔

 

میں اس وقت جیسی آپ کو نظر آ رہی ہوں۔ اس قید میں آتے وقت ایسی ہی تھی۔ یہی لباس زیب تن تھا۔ ایسے ہی بال بنے ہوے تھے۔ بالکل اب بھی اسی طرح ہوں جیسے یہاں لائی گئی تھی۔"

 

"لیکن آپ کب سے اس آئینے میں قید ہیں ؟ "

 

"مجھے وہ لمحہ صحیح طور پر یاد نہیں جب مجھے آئینے کی اس قید میں دھکیل دیا گیا تھا۔ بس اتنا یاد ہے کہ رات کا وقت تھا۔ آسمان پر پورا چاند چمک رہا تھا۔ میں نے چاند کی طرف دیکھا اور چاند مجھے اچھا لگا۔ میں نے چاند کی طرف اپنے بازو پھیلا ے تا کہ اسے تھام لوں۔ عین اس لمحے مجھے اس قید میں دھکیل دیا گیا۔"

 

"اور تب سے اب تک آپ ویسی ہی ہیں جیسی اس قید میں آئی تھیں۔"

 

"ہاں۔ وقت کو اس آئینے کے اندر رسائی حاصل نہیں۔ اس لیے یہاں کسی چیز پر مرور ایام کا اثر نہیں ہوتا۔ گزرتے شب و روز کے اثرات اس آئینے  سے باہر کی چیزیں ہیں۔"

 

"اگر یہ بات ہے تو پھر آپ زانوؤں پرسر رکھے سسکیاں کیوں بھر رہی تھیں ؟"

 

"اسے آپ احساس تنہائی کہہ لیں یا اس قید سے نجات پانے کی خواہش۔"

 

"میں اس سلسلے میں آپ کی کیسے مد د کر سکتا ہوں ؟" رشید نے آئینے میں قید لڑکی سے پوچھا۔

 

"میری مدد کرنے کے لیے آپ کو آئینے کے اندر آنا ہو گا یا مجھے آئینے سے باہر۔ میں خود بخود آئینے سے باہر نہیں آ سکتی۔ یہاں سے مجھے باہر لے جانے کے لیے آپ کو آئینے کے اندر آنا ہو گا "

 

"لیکن میں آئینے کے اندر کیسے آ سکتا ہوں۔ اگر میں نے کسی طرح آئینے میں گھسنے کی کوشش کی تو آئینہ ٹوٹ جائے گا۔ اور آئینہ ٹوٹ گیا تو آپ آئینے کے ساتھ بکھر جائیں گی۔ نہیں۔ نہیں۔ یہ اچھا خیال نہیں۔ کسی طرح آپ کو آئینے سے خود باہر آنا ہو گا۔"

 

" میں آئینے میں قید ہوں۔ قیدی کو قید سے باہر آنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ کسی نہ کسی کو اسے قید سے رہائی دلانی پڑتی ہے۔ اگر میں خود رہا ہو سکتی تو آپ مجھے یہاں سسکیاں بھرتے نہ پاتے۔ اس لیے آپ کسی طرح آئینے کے اندر آنے کی ترکیب کریں۔ اور مجھے اپنے ساتھ یہاں سے باہر نکال لے جائیں۔" لڑکی نے رشید سے التجا کی۔

 

" لیکن آپ یہ بھی تو بتائیں کہ میں آئینے کے اندر آؤں کیسے ؟"

 

"کاش میں یہ جانتی کہ آپ آئینے کے اندر کیسے آ سکتے ہیں۔ لگتا ہے آئینے کی قید سے رہائی میری قسمت میں نہیں۔ اور پھر وہ ہلکے ہلکے دوبارہ سسکیاں بھرنے لگی۔"

 

"نہیں۔ نہیں۔ پلیز آپ دوبارہ سسکیاں نہ بھریں۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ " یہ کہہ کر وہ اٹھا اور آئینے کے اندر جانے کی تدبیر کرنے لگا۔

 

یہاں رشید اور آئینے میں قید لڑکی انہی تدبیروں میں گم تھے اور ادھر پولیس رشید کی بازیابی کے لیے اسے ادھر ادھر ڈھونڈھنے سے تھک کر اس کے گھر پہنچی تا کہ وہاں سے اس کی گمشدگی کی تحقیقات کا سلسلہ شروع کر سکے۔

 

پولیس افسر بہت دیر تک اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ جب کسی نے گھر کے اندر سے جواب نہیں دیا تو وہ دروازہ کھول کر اندر چلے گئے۔

 

گھر میں کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے گھر میں ہر جگہ کوئی نشان ڈھونڈھنے کی کوشش کی جس سے انہیں کوئی نقطہ آغاز مل سکے۔ لیکن انہیں کہیں کوئی نشان نہ ملا۔

 

تھک ہار کر جانے لگے تو ایک پولیس افسر کی باتھ روم اور خواب گاہ کی مشترکہ دیوار پر آویزاں قد آدم آئینے پر نظر پڑی۔ اس نے دیکھا آئینے پر چند قدموں کے نشاں تھے جو کہیں نہیں جا رہے تھے۔

٭٭٭