کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تک شک

راجندر سنگھ بیدی


مجھے بہت جلدی تھی۔ کچہری میں کاغذ داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ شام کے ساڑھے چار کا وقت تھا اور پانچ بجے سب دفتر بند ہو جاتے ہیں۔ میرا چھوٹا بھائی ٹائپسٹ کے پاس بیٹھا ہوا حلف نامہ ٹائپ کرا رہا تھا۔ وقت بچانے کے لیے اُس نے کہا ’’بھائی صاحب آپ جلدی سے کوئی وکیل ٹھیک کر دیجیے، ورنہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔‘‘ میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اُٹھا اور [وکیل؟] صاحب کو ٹھیک کرنے جا رہا تھا کہ بائیں طرف کچہری کے میدان میں مجھے ایک بھیڑ سی نظر آئی۔ اِس ویران آبادی میں کوئی کسی سے ملنا نہیں چاہتا۔ اس لیے جب بہت سے لوگ مل کر کچھ دیکھتے ہیں تو ضرور کوئی بات ہے، کوئی حادثہ، کوئی سانحہ۔ جس پیڑ پر بہت سے گدھ بیٹھے ہوں ،ضرور اُس کے نیچے کوئی لاش ہوتی ہے، جسے دیکھنے کی دل چسپی پیدا ہوتی ہے۔ سب کچھ بھول کر، میں اُس بھیڑ میں داخل ہو گیا۔ ایک آدمی نے مجمع لگا رکھا تھا۔ اُسے میں مداری ، ماندری ، حکیم یا وید اِس لیے نہیں کہہ سکتا کیوں کہ اُس نے کہا تھا جو بھی ان خطابات اور انتسابات سے مجھے یاد کرے گا وہ اپنے باپ کا نہ ہو گا۔ جن ٹھاکر صاحب کو میں ٹھیک کرنے گیا تھا، اتفاق سے وہ بھی اُسی مجمع میں موجود تھے۔ ’’ٹھاکر صاحب‘‘ میں نے کہا ’’یہ آدمی کون ہے؟‘‘ اُنھوں نے میری طرف دیکھا اور بولے ’’یہ مداری نہیں ہے۔‘‘ ’’مجھے آپ سے بڑا ضروری کام ہے۔‘‘ ٹھاکر صاحب نے کچھ توقّف کا اشارہ کیا۔ میں بھی یہی چاہتا تھا کہ کچھ دیر کے لیے دیکھوں، آخر ہو کیا رہا ہے۔ چنانچہ میں اُس آدمی کی تقریر سُننے لگا، جو بہ قول اُس کے اچھّے خاندان کا چشم و چراغ تھا، اور بہت سے لوگوں کی طرح سے انسانی فلاح کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اُس نے نہایت درست لہجے میں اردو کا شعر پڑھا ـ؎ آؤ حُسنِ یار کی باتیں کریں زُلف کی، رخسار کی باتیں کریں مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے کہا ’’ٹھاکر صاحب جانتے ہیں اِس شعر میں کیا سُقم ہے؟‘‘ ٹھاکر صاحب شعر بھی کہتے تھے اور کیف ؔ تخلص کرتے تھے۔ اُنھوں نے گویا وزن سے شعر کو تولا اور کہنے لگے۔ ’’ٹھیک تو ہے۔‘‘ ’’جی نہیں آپ دوبارہ غور فرمائیں۔‘‘ کچھ غور کرنے کے بعد اُنھوں نے پوچھا۔ ’’الِف گرتا ہے؟‘‘ ’’الِف؟‘‘ میں نے محض [اتنا؟] کہا ’’الف کی تو بات ہی نہیں۔‘‘ ’’تو پھر؟…آؤ حسنِ یار کی باتیں کریں، زلف کی رخسار کی باتیں کریں‘‘ اُنھوں نے دُہرایا۔ ’’ٹھیک تو ہے۔‘‘ ’’جی نہیں۔ اِس میں ایک ہی بات غلط ہے۔ باتیں کریں۔‘‘ ٹھاکر صاحب ہنس دیے اور ہم دونوں مل کر اُس شخص کی باتیں سننے لگے، جس نے دو سانپ زمین پر رکھے ہوئے تھے اور ہمارے بہت سے شاعروں کی طرح کھینچ کھانچ کر اُن کا زلف و رخسار سے رشتہ پیدا کر لیا تھا۔ ایک سانپ مٹیالے رنگ کا تھا اور کوئی بالشت بھر لمبا۔ دوسرا سلیٹی تھا اور پہلے سے بھی چھوٹا۔ کہتے ہیں سانپ جتنا چھوٹا ہوتا ہے اُتنا ہی کھوٹا ہوتا ہے۔ چنانچہ میری دل چسپی بڑھ گئی۔ شاید اس کی وجہ ڈر کا وہ جذبہ تھا جو ہم سب میں مشترک ہوتا ہے۔ کیوں کہ سانپ ایک معقول اور جری عدو کی طرح سامنے سے تو آتا نہیں، اندھیرے میں آپ کو دیکھے بوجھے بغیر اپنا کام کر جاتا ہے۔ اس کا کاٹنا، پیار کی چٹکی سے زیادہ نہیں ہوتا، البّتہ نتیجہ پیار سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اگر کہیں پتہ چلتا کہ وہ سانپ بہت زہریلے تھے تو مزا آتا ،لیکن اُس شخص نے صاف کہہ دیا کہ وہ ہماری طرح مینڈک، مچھلی سے زیادہ نہ تھے۔ میں نے سوچا شاید اُس کے پاس الگ سے کوئی پٹارا ہو جس میں سے کوئی ایسا سانپ نکالے جو تین فٹ اونچا پھن اٹھا لے، لیکن اُس کے پاس پونڈس کریم کی ڈبیا کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور اِس پہ اُس شخص نے ایک لمبا چوڑا لیکچر دینا شروع کر دیا۔ وہ اُن سانپوں کے بارے میں ایسے کوائف بتا رہا تھا جو واجبی علم کا آدمی پہلے ہی جانتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا۔ لوگ اِس کے زہر سے کم اور دہشت سے زیادہ مرتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے کہ سانپ بین کی آواز پر مست ہو جاتا ہے، وہ نِپٹ بہرا ہوتا ہے۔ صاحبو! صرف آواز کی تھرتھراہٹ مساموں کے راستے سے اِس کے بدن میں داخل ہوتی ہے جس سے اِس کا پورا عصبی نظام چوکنّا ہو جاتا ہے۔ خدا معلوم سانپ اور انسان میں کیا مماثلت ہے جو انسان اسے دیکھے اور مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کا ذکر سننے کے بعد شاید اس لیے بھی کہ انسان کی ریڑھ کی ہڈّی سانپ ہی کی سی ہوتی ہے اور کُنڈلی کا پورا فلسفہ اس سے متعلق ہے۔ دنیا بھر کے لوگ ناگ کی پوجا کرتے ہیں۔ ایک قوم کی قوم اس کے نام سے آباد تھی۔ اور اب بھی ہے۔مصری فرعون حتّٰی کہ قلوپطرہ کے تاج پر بھی ناگ ہی کا موٹِف تھا اور وہ سانپ ہی کی عنایت سے مری تھی۔ جاسوسی کہانیوں اور بھوت [پریت؟] کے قصّوں کا نمبر سانپ کی حکایت کے کہیں بعد لگتا ہے اور پھر سانپ کے بارے میں یہ حقیقت ہے کہ نر کو مار دو تو مادہ بدلا لینے کے لیے آتی ہے، چاہے آپ رائیوڈی جیز و جا بیٹھیں۔ سانپ کا ذکر کرو تو ضرور کہیں نہ کہیں دکھائی دے جاتا ہے۔ مثلاً اُسی دن کی بات لیجیے، اُس آدمی نے سانپ کا ذکر کیا تھا کہ وہ سامنے موجود، ایک نہیںدو اور تیسرا شاید پونڈس کریم کی شیشی میں تھا، ورنہ اُس شیشی کے وہاں ہونے کا کیا مطلب؟ کس قدر چھوٹا اور فتنہ ہو گا وہ سانپ، جو کریم کی شیشی میں آ جاتا ہے۔ چنانچہ وہی بات ہوئی۔ کاغذ داخل کروانے میں پندرہ ہی منٹ رہ گئے تھے۔ میں نے پیچھے دیکھا، میرا بھائی ابھی تک مصروف الٹائپ تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔ یہاں سانپ ہیں اور جب اُس کے چہرے پر برہمی کے آثار دیکھے تو الزام ٹھاکر صاحب پر ٹال [ڈال؟] دیا، جو وہیں موجود تھے اور یوں بھائی کے چہرے پر کے خطوط سیدھے کیے۔ جب میں نے دیکھا کہ سانپ والا بے کار کے لکچر سے باز نہیں آتا ، تو میں نے اپنے لہجے میں من ڈیڑھ من مِنّت ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’ٹھاکر صاحب ! ابھی مجھے حلف نامے کی تصدیق کروانا ہے اور پھر کاغذات داخل کرنا ہیں۔‘‘ ٹھاکر صاحب ذرا تلخ لہجے میں بولے۔ ’’چلتا ہوں‘‘ جس کا مطلب تھا کہ تمھاری لاکھوں کی جائداد کی خاطر میں اپنا سانپ چھوڑ دوں۔ میں نے اپنا فیصلہ کر لیا کہ وہاں سے چلا جاؤں اور کسی ٹٹ پونجیے وکیل کو ٹھیک کر لوں اور اِس عمل میں خود میں ٹھیک ہو جاؤں۔ میں پھر رُک گیا کہ شاید اِس آخری منٹ، آخری لمحے میں وہ شخص سانپوں کے بارے میں کوئی پتے کی بات کہہ دے ،لیکن جب اُس شخص نے وہی میٹھی اور بے نمک باتیں جاری رکھیں تو میں نکلنے لگا۔ جبھی میرے کانوں میں آواز آئی ’’اِس میں تک شک ناگ ہے دوستو!‘‘ میں نے اُسی وقت اُس آدمی کو پیچھے کی طرف ڈھکیل دیا ،جو میری جگہ لے کر ابھی ٹھیک سے خوش بھی نہ ہوا تھا۔ میں نے مُڑ کر اُس کے چہرے کی طرف [نہ؟] دیکھا کہ نہ معلوم کیسا لگے؟ باقی لوگ بھی تک شک ناگ کو دیکھنے کے لیے ایک دوسرے کو دھکّے دے رہے تھے۔ جو پیچھے کھڑے تھے، اُن کی گردنیں کُلنگ کی گردنیں ہو رہی تھیں۔ شاید وہ بھی جانتے تھے کہ تک شک ایک کلاسیکی ناگ ہے جس کا ذکر وید مالا میں تو آتا ہے، لیکن اُن میں سے کسی کو آج تک اُس کے نیاز حاصل نہیں ہوئے۔ سانپ والے نے پونڈس کریم کی شیشی ہاتھ میں اُٹھا رکھی تھی اور آہستہ آہستہ اُس کا ڈھکنا ڈھیلا کر رہا تھا۔ ’’اِس میں وہ ظالم ناگ ہے دوستو! جس نے تریتا یُگ کے آخری راجا پریکشت کی جان لی تھی اور جس کے مرتے ہی کل جُگ شروع ہو گیا تھا۔ جیوتشیوں نے پریکشت کو کہا تھا۔ ’’ہے راجن ! تیری موت سانپ کے کاٹنے سے ہو گی۔‘‘ سانپ والا داستان گوئی میں طاق تھا۔ کیوں کہ پُرانے زمانے کے رِشی مُنی، براہمن اور جیوتشی وغیرہ قسم کے لوگ بادشاہ تک کو صیغۂ واحد حاضر میں خطاب کرتے تھے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانے میں علم و فنون کو ذوق [فوق؟] حاصل تھا۔ ورنہ آج کل تو اپنے بیٹے کو بھی جمع حاضر اور خود کو جمع [واحد؟] متکلّم میں خطاب کرنا پڑتا ہے۔ سانپ والے نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا ’’راجاپریکشت نے ایک ایسا محل بنایا تھا ، جسے ایک ہی چٹان اور ایک ہی پتھّر سے کاٹا گیا تھا۔ اُس میں نالی تو ایک طرف درز تک نہ تھی۔ سانپ تو کجا اُس میں دال کھانے والی چیونٹی بھی نہ گھُس سکتی تھی۔ لیکن صاحبو! کرم گتی ٹالے نہیں ٹلتی اور نہ جیوتش ٹلتا ہے۔ تھوڑا پیچھے ہٹ جائیے۔ ایک انگ رکھشک نے پھول بھینٹ کیے تو پریکشت ایک پھول میں بیٹھا چلا آیا اور سانپ کو ڈس لیا۔‘‘ لوگ حیران ہوئے لیکن میں جو لوگوں کے جوش اور اُس کی اساس کو سمجھنے کے قابل ہوں، جان گیا کہ پھول میں ناگ بیٹھا تھا اور اُس نے پریکشت کو ڈس لیا۔ ’’عین اُسی لمحے کل جُگ شروع ہوا اور ہم نے مرنا اربند [آرمبھ؟] کر دیا۔‘‘ چھوٹے بھائی عام طور پر خفا نہیں ہوتے لیکن اُس دن میرا چھوٹا بھائی خفا ہو گیا۔ جھلاّ کر اُس نے مجھے آواز دی ’’بھائی صاحب آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے مجمع سے گردن باہر نکالی اور کہا ’’سانپ دیکھ رہا ہوں۔‘‘ میں جھوٹ تھوڑے ہی کہہ رہا تھا؟ لیکن میں نے تو اُسے بھی کہا کہ ’’تو آ جا‘‘ وہ نہ آیا تو اُس کی اپنی عقل مندی، فہم و فراست تھی، میرا کیا قصور تھا؟ مڑتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ سانپ والے نے کریم کی شیشی کا ڈھکنا کس دیا اور اُسے پھر سے زمین پر رکھ دیا۔ وہ کہنے لگا ’’پہلے اِن [اِس؟] سانپوں کے سانپ، تک شک ناگ کی شکل کے بارے میں آپ کو بتا دوں۔ یہ بِنّی کے دھاگے سے بھی زیادہ باریک ہوتا ہے۔ دوستو! اِس کا رنگ سیندوری ہوتا ہے۔ سر پر کلغی اور تاج ہوتے ہیں۔ جو تاج اور کلغی نہیں ہوتے، صرف ایک سفید اور سیاہ نشان ہوتے ہیں، جنھیں سانپوں کے بارے میں جاہل آدمی تاج اور کلغی کہتے ہیں۔ صرف ایک بات ٹھیک کہتے ہیں کہ تک شک سانپوں کا بادشاہ ہوتا ہے۔‘‘ بادشاہ ؟ میں نے سوچا۔ خیر چھوڑو کوئی کوبرے کو سانپوں کا بادشاہ کہتا ہے۔ کوئی رسل وائپر اور ہمدریا کو اور کوئی کڑندیئے کو، اور وہ اجگر اپنی ڈیڑھ من کی لاش کے ساتھ کیا ہوا؟ میکس کہاں گیا جو چلتا ہے تو راستہ سیاہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ سانپ جو کاٹے بھی نہیں، آدمی مر جاتا ہے۔ بادشاہ تو ہم ایسے ہی کہتے رہتے ہیں۔ جیسے فلاں آدمی کہانی کا بادشاہ ہے اور فلاں شعر کا شہنشاہ۔ شاید آج کل کے بادشاہوں کی طرح سے اِن غریبوں کے القاب و آداب بھی وافر ہو گئے ۔ خیر، اب صرف سات منٹ رہ گئے تھے… جبھی سانپ والے نے بیویوں کی طرح کچھ ایسی بات نکالی کہ میں بھونچکّا رہ گیا۔ اگلے ساڑھے تین منٹ وہ اکبر اور بیربل کی کہانی سُناتا اور ہمارا صبر آزماتا رہا۔ وہ کہانی اکبر اور بیربل کی لڑکی سے متعلق تھی اور نہایت ہی فحش سی۔ بظاہر اُس کا سانپ سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن صاحب تمام کہانیاں، خاص طور پر فحش کہانیاں، سانپ کی کہانی کی طرح ہی دل کش ہوتی ہیں۔ اب ہم کہیں نہیں جا سکتے تھے۔ سانپ والے نے زلف اور سانپ کا رشتہ پیدا کر دیا تھا۔ ٹھاکر صاحب نے میری طرف دیکھا اور میں نے اُن کی طرف۔ اُن کا خیال تھا ،میں بے وقوف معلوم ہوتا ہوں۔ میں بے وقوف ہوتا تو ٹھاکر صاحب کی طرح سے وہیں کھڑا رہتا۔ میں اُسی دم مجمع سے باہر نکل گیا۔ دل میں کہتے ہوئے: تک شک کی ایسی کی تیسی۔ بھائی کے پاس پہنچا تو حلف نامہ ٹائپ ہو چکا تھا۔ میں نے اُسے غور سے دیکھا تو مجھے بہت تاؤ آیا۔ میں بھائی پر برس پڑا۔ ’’تم تو کہتے تھے، ختم ہو گیا۔‘‘ ’’مقدمہ یا کاغذ؟‘‘ اُلٹا وہ مجھ سے سوال کرنے لگا۔ میں نے جواب دیا ’’کاغذ، بھائی کاغذ۔‘‘ ’’یہ ختم نہیں ہوا تو اور کیا ہوا؟‘‘ ’’جاہل ہونا‘‘ میں نے ٹائپ کیے ہوئے کاغذ کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ’’ابھی تو اِس پرYOURS FAITHFULLY ٹائپ ہونا ہے۔ تم اِسے کراؤ، میں ابھی آتا ہوں۔ میرے دستخط کے لیے جگہ چھوڑ دینا۔‘‘ اور میں پھر اُس مجمع میں پہنچ گیا۔ ٹھاکر صاحب سے پوچھا ’’دیکھا تک شک؟‘‘ ’’کہاں؟‘‘ ٹھاکر صاحب افسوس اور غم و غصّے کے لہجے میں بولے۔ ’’مجمع میں سے کسی اُلّو کے پٹھّے نے کہہ دیا، اِس کے پاس کوئی تک شک و کشک نہیں ہے۔ ایسے ہی آپ کو اُلّو بنا رہا ہے۔‘‘ ’’پھر؟‘‘ ’’پھر کیا؟ اُس نے شیشی نیچے رکھ دی۔‘‘ ’’آدمی غیرت مند ہے۔‘‘ ’’ہاں ‘‘ ٹھاکر صاحب متفق ہوئے ’’اُس نے دُہرایا، وہ اچھّے خاندان کا چشم و چراغ ہے، صرف سانپوں کے شوق نے اُسے کہیں کا نہ رہنے دیا۔‘‘ ’’ٹھیک کہتا ہے‘‘ میں نے کہا ’’یہ شوق ہی ایسا ہوتا ہے‘‘ اور یہ کہنے میں ایک بار پھر میں نے بھائی کی طرف دیکھا اور ٹھاکر صاحب سے پوچھا ’’اور کیا بولا؟‘‘ ’’بس تقریر کا لُبّ لباب تھا ——سانپوں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے۔‘‘ پہلی بار ٹھاکر صاحب ہنسے۔ مجمع میں سے آواز آئی ’’سُنو، سُنو۔‘‘ ’’منتر [سنتے؟] ہیں بھائی‘‘ میں نے جواب دیا ’’دیکھتے بھی ہیں۔‘‘ میں نے دیکھا ،سانپ والے نے پھر کریم کی شیشی اُٹھا لی اور باتیں کرتے کرتے اُس کا ڈھکنا ڈھیلا کرنے لگا۔ میں نے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر دی اور سامنے کھڑے ایک تماشائی نے کس لی، اِس قدر کہ اُس کی آنکھیں باہر آنے لگیں اور گردن لمبی ہو گئی۔ جیسے پھانسی پانے والے کی ہوتی ہے۔ سانپ والے نے تقریر کرتے ہوئے بیچ میں کہا ’’جو اپنے باپ کا ہے، چار قدم پیچھے ہٹ جائے‘‘ پورے مجمع میں کوئی نہ تھا جو دو قدم سے زیادہ پیچھے ہٹا ہو۔ میں تین قدم پیچھے ہٹا تھا۔ لیکن جب اُس نے ڈھکنا تھوڑا اور ڈھیلا کیا تو بے اختیار چار قدم آگے بڑھ گیا۔ سانپ والا کہہ رہا تھا ’’یہ ناگ پھُنکار ہی سے مار ڈالتا ہے۔ دوستو، کاٹنے کی نوبت ہی نہیں آتی…‘‘ اُس کا مطلب تھا کہ اگر تک شک کہیں کاٹ لے تو آپ کیا ،آپ کا پورا خاندان گُل ہو جائے، چاہے آپ یہاں ہوں، آپ کے گھر والے فورٹ میں، پھر وہ کہنے لگا۔ ’’باقی کے سانپ کاٹتے کیسے ہیں؟ تک شک کو سمجھنے کے لیے اس کا دیکھنا ضروری ہے۔‘‘ اور شیشی کا ڈھکنا کستے ہوئے اُس نے پھر اُسے زمین پر رکھ دیا۔ پھر وہ نیچے پڑے ہوئے سانپ کو ایک میلے سے ڈسٹر سے چھیڑنے، تاؤ دینے لگا۔ مجھے بہت تاؤ آیا ،کیوں کہ میں آخر پنجابی ہوں لیکن اٹھّارہ سال اپنے وطن سے دور بمبئی میں رہنے کی وجہ سے دنگا فساد تو ایک طرف، منھ سے گالی بھی نہ نکلی۔ اُس کے چھیڑنے سے مٹیالے رنگ کا سانپ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور کنڈلی سا بن گیا۔ پھر اُس نے تھوڑا سا سر اُٹھایا جیسے وہ حملہ کرنے، کاٹنے ہی والا ہو، اُٹھتے ہی پلک میں، موت کے چھبن سے [کذا] ، سانپ والے کی انگلی سے خون کے قطرے بہہ رہے تھے۔ جسے وہ اپنے ہی منھ میں ڈال کر، اپنا ہی خون چوس رہا تھا۔ یہ میرے صبر کی حد تھی۔ میں نے گھڑی دیکھی، پانچ بج کر پانچ منٹ ہو چکے تھے۔ میں بھاگ کر چھوٹے بھائی کے پاس پہنچا۔ اگر وہ مجھ پر خفا ہوتا تو کوئی بات نہ تھی، اُس کے ہونٹ بھِنچے ہوئے تھے اور وہ سخت چُپ تھا۔ اُس سے کچھ کہنے کی بجاے، میں نے ٹائپ شدہ کاغذ اُس سے لے لیے اور نوٹیری پبلک کے پاس بھاگا۔ اُس کے پیر پکڑ کر میں نے تصدیق کرائی، یہ لالچ دے کر کہ میں اُسے اپنے ہوٹل میں کھانے پر بلاؤں گا، اور شراب پلواؤں گا۔ ورنہ نوٹیری پبلک کی بھتیجی بیمار تھی اور میرے کاغذوں پر تصدیق [اُس کے لیے؟] مہلک ثابت ہو سکتی تھی۔ میں پھر بھاگتا ہوا کچہری پہنچا۔ پیادے، کلرک، سب جا      پروہت—گذپوچ سے کانا تھا،اؤ چکے تھے۔ قُرقیاں لینے والا کلرک بائیسکل کے پیڈل پر پیر رکھ چکا تھا۔ یہ میں ہی جانتا ہوں کہ میں نے اُسے اُس کے تختِ طاؤس سے کیسے اُتارا۔ میں نے کہا ’’میں ایک ہزار میل دور بمبئی سے آیا ہوں اور وہ بھی ہوائی جہاز سے، صرف دہلی تک آنے جانے کا پانچ سو روپئے کرایہ لگتا ہے۔ پھر میں نے وجینتی مالا کی، مینا غکماری کی باتیں کیں، لیکن اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ آخر میں نے اُس کی مُٹھّی دبائی، جیسے ہر ہندستانی دوسرے کی دباتا ہے۔ وہ منھ میں کچھ مِنمِنایا، لیکن میرے کاغذ لینے کے لیے تیار ہو گیا۔ اندر پہنچ کر اُس نے صندوقچی کھولی۔ رجسٹر نکالا اور اِندراج کرتے ہوئے چِٹ پر مجھے رسید کا نمبر دے دیا اور شُنوائی کی تاریخ۔ اور اب اُس نے میری مُٹھّی دبائی۔ وہ مجھے بے نقط سُنا رہا تھا لیکن کر کیا سکتا تھا، عرضی تو داخل ہو ہی چکی تھی۔ جب عرضی داخل ہو گئی تو میرے چھوٹے [بھائی] نے یوں [ہی؟] بکنا شروع کر دیا… تسکین محض تسکین کے احساس